aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "grahan"
چندرما کو گرہن لگ گیا تھا فقطمجھ کو لگتا تھا میں اس کا سنسار ہوں
سنا ہے تتلی کا استعارہ غزل میں تو تھیجو چاند گرہن کا استعارہ تھا یعنی میں تھا
دن کو گرہن لگ سکتا ہےدھوپ میں سایہ جا سکتا ہے
ہمارے گرہن کو سورج لگانا کب تھا ممکنبہت ڈھونڈا مگر عصر رواں میں دن نہیں تھا
بے وجہ تھک کر نہیں بیٹھے ہیں کچھ طائر یہاںلگ گیا ہے کوئی گرہن ان کی بھی پرواز میں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کیسو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراقاے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا
نطق حیوان پر گراں ہے ابھیگفتگو کم سے کم کیا کیجے
نظر میں رکھنا کہیں کوئی غم شناس گاہکمجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے
یہ ہے لمحوں کا ایک شہر ازلیاں کی ہر بات ناگہانی ہے
چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ دیں اپنی مرضی تککوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو
اے مے فروش بھیڑ ہے تیری دکان پرگاہک ہیں ہم بھی مال دکھانا سہی سہی
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمامایک مرگ ناگہانی اور ہے
ایک پیغام زندگانی بھیعاشقی مرگ ناگہانی بھی
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہےداد بیداد رہو شب کو کہ فریاد رہو
حسرتوں کی پناہ گاہوں میںکیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو
ایسا گاہک کون ہے جس نےسکھ دے کر دکھ مول لیا ہے
جان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میںآگے مرضی گاہک کی ان داموں تو سستی ہے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیمتو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books