aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "miqdaar"
یہ مری موت کے اسباب میں لکھا ہوا ہےخون میں عشق کی مقدار زیادہ نکلی
نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہےمری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
آپ کی باتوں میں آ کر جان سے تو جا چکےاب تو ان میں زہر کی مقدار کم کر دیجیے
نشہ نہیں پیمانہ آنکھیں نہیں دل دیکھومقدار سلامت ہے معیار سلامت ہے
جفا ان کی دل زود آشنا پربہ مقدار محبت ہو رہی ہے
حاصل ہوئی بھی عقل فلاطوں اگر تو کیاچلتی نہیں کسی کی مقدر کے روبرو
دل جلا پھر خود جلے پھر ساری دنیا جل اٹھیسوز لائے تھے بمقدار پر پروانہ ہم
یہ مری موت کے اسباب میں لکھا ہو گاخون میں عشق کی مقدار زیادہ نکلی
یہ قرب و بعد بہ مقدار شوق سالک ہیںجسے تو دور سمجھتا ہے دور کچھ بھی نہیں
میسر آج سروکار سے زیادہ ہےدیے کی روشنی مقدار سے زیادہ ہے
اس عہد میں ہے پیار کی مقدار بڑھ گئیاک شخص پیار کرنے لگا چار چار سے
وہاں ہم آرزوئے خواب عیش کیا کرتےجہاں قیام بمقدار خواب ہو نہ سکا
زہر اک مقدار میں اس نے دیا ہے اس لیےتقویت مجھ کو ہمیشہ نیم جاں رہ کر ملی
جھوٹ کی مقدار کم ہے اور سچائی بہتصاف گوئی سے ہوئی ہے میری رسوائی بہت
ذرا محبت کی میں نے مقدار کیا بڑھائیوہ تنگ دل تھا سو اس کا جلدی سے بھر گیا دل
بلب بہت کمزور ہے میرے کمرے کابجلی کی مقدار زیادہ مت کرنا
میں چھینک چھینک کر ہوا بیمار دیکھنانسوار وعظ دیتے ہو مقدار دیکھنا
اضافہ کرنا ہے مقدار میں آہستہ آہستہکہ ایسا کام ہو سکتا ہے پہلی بار اتنا ہی
میرا قصور کیا ہے صانع کو چاہئے تھامقدار حسن دیتا صبر و قرار مجھ کو
بندوں کے تصرف میں سہی رزق خدایاآئے تو یہ ہم تک کسی مقدار میں آئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books