aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "phaa.ndne"
دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میراجب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میرا
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھاوہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتےساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتےخلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہےوہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے
جو اپنے طور سے ہم نے کبھی گزارے تھےوہ صبح و شام تو جیسے فسانے ہو گئے ہیں
مجھے پھونکنے سے پہلے مرا دل نکال لینایہ کسی کی ہے امانت مرے ساتھ جل نہ جائے
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کونہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو
خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائیلوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسانے میرے
ہم کو پھنسنا تھا قفس میں کیا گلہ صیاد کابس ترستے ہی رہے ہیں آب اور دانے کو ہم
زاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیںمے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں
میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہےوقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہے
جس کی باتوں کے فسانے لکھےاس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید
اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئےوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑاسولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیںنگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی نہیں
الجھ پڑنے میں کاکل ہو بگڑنے میں مقدر ہوپلٹنے میں زمانہ ہو بدلنے میں ہوا تم ہو
رخ بدلنے لگا فسانے کالوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
جہاں تنہا ہوئے دل میں بھنور سے پڑنے لگتے ہیںاگرچہ مدتیں گزریں کنارے سے لگے ہم کو
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میںپھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books