aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qasaa.ed"
کہتے ہیں فقیروں کی فضیلت پہ قصائدہم آج بھی حکام کی بیعت نہیں کرتے
ناظمؔ میں پڑھاتا اسے غالبؔ کے قصائدافسوس کہ خاقانیٔؔ مغفور نہیں ہے
وہ مجسم حسن و تمکیں دل سراپا درد و غمجیسے سوداؔ کے قصائد اور تغزل میرؔ کا
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
مانگے تانگے کی قبائیں دیر تک رہتی نہیںیار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو
تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کےدل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
بدن بیٹھا ہے کب سے کاسۂ امید کی صورتسو دے کر وصل کی خیرات رخصت کیوں نہیں کرتے
یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھیاے خسروان شہر قبائیں مجھے نہ دو
جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہےایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا
حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہوجھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو
بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کاخط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں
ہے محبت بھی عجب طرز تجارت کہ یہاںہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہو جائے
کب ہوائیں تہ کمند آئیںکب نگاہوں پہ اختیار رہا
کسے خبر ہے کہ کاسہ بدست پھرتے ہیںبہت سے لوگ سروں پر ہما کے ہوتے ہوئے
جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگوہ شے متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں
اپنے اپنے گھر جا کر سکھ کی نیند سو جائیںتو نہیں خسارے میں میں نہیں خسارے میں
ہارنے میں اک انا کی بات تھیجیت جانے میں خسارا اور ہے
کیا کہے گا کبھی ملنے بھی اگر آئے گا وہاب وفاداری کی قسمیں تو نہیں کھائے گا وہ
کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیایکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کسی کا اپنا محبت میں کچھ نہیں ہوتاکہ مشترک ہیں یہاں سود بھی خسارے بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books