aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sattaavan"
وہ دھرتی جس کو اٹھارہ سو ستاون میں چھوڑ آئےسنا ہے آج بھی چائے وہاں گڑ والی چلتی ہے
کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیںساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں
بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیںلیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں
کیا ہمارا نہیں رہا ساونزلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئےپھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے
تم چھت پہ نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلایہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں
ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔاب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے
یہ ہوا کیسے اڑا لے گئی آنچل میرایوں ستانے کی تو عادت مرے گھنشیام کی تھی
مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہےاسی لیے تو سمندر پہ رحم آتا ہے
کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیںعظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں
تنہا مرے ستانے کو رہ جائے کیوں زمیںاے آسمان تو بھی اتر آ مزار میں
یہ جدائی کی گھڑی ہے کہ جھڑی ساون کیمیں جدا گریہ کناں ابر جدا یار جدا
گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستےفضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی
محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھےسب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے
یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیاساون کے دن چلے گئے ساون نہیں گیا
اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میںآ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ
تو ہی میرا سوال ازل سے ہےاور ساجن ترا جواب نہیں
دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ میں ساون ہےٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے
سر باطن کو فاش کر یا رباہل ظاہر بہت ستانے لگے
تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیےیہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books