aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",XxNe"
ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کےمجھے وہ قرض چکانے کا موقع تو دیتے
تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہےکہنیوں سے ہمیں اپنا منہ ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا
کہ میں چوسنے والی گولی کی طرحاپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوں
ہاتھی کی آنکھوں پر پھبتی کسنے لگے ہیں
وہ گڑیا مگر اور بھی ڈر گئیلگی چیخنے ''ہائے میں مر گئی''
کیوں اٹھا ہے جنس شاعر کے پرکھنے کے لیےکیا شمیم سنبل و نسریں ہے چکھنے کے لیے
نگاہ چیخنے لگی،کون ہے، یہ کون ہے؟
کہاں پہ ہاتھ سے کچھ چھوٹ گیا یاد نہیںنہ جانے کس کے چیخنے کی یہ آواز آئی
قرض آئینہ چکانے کے لئے عکس سے محروم ہوئےاور انساں سے محبت کا صلہ
تم کیوں اکھاڑتے ہو وہ مردے جو ہیں گڑےدیکھے نہیں ہیں تم نے جو چکنے تھے وہ گھڑے
یہ تجھ پر آوازے کسنے والےتمام ہیں میرے دیکھے بھالے
کوئی چیخنے بین کرنے کی آواز ہم تک نہ آئےکوئی خون کی چھینٹ دامن پہ آکر نہ بیٹھے
اک قرض چکانے کی خاطریہ کچھ لمحوں کی چوری ہے
کل شب میں شہر عشق سے لوٹا جو اپنے گھردروازے طعنے کسنے لگا میرے حال پر
بچوں کو سیڑھیاں چڑھا چکنے کے بعددہلیز پر بیٹھ کر
مجھے پیار سے آ کر وہ کوسنے لگےبے جان شریر کو پھر وہ نوچنے لگے
دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہوشدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر
لو بھری دوپہر میںکوکنے کا تقاضہ کر رہے ہیں کوئل سے
تمہیںچیخنے چلانے کا کوئی حق نہیں
جہاں آزادی ہو خون چوسنے کیجہاں بڑی بے باکی سے ایک جھوٹ دوسرے جھوٹ سے مقابلہ کر سکے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books