aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",fxHd"
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
ستم تو یہ ہے کہ دونوں کے مرغزاروں سےہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہےالم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہارعدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
ابلیسیہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوںساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوںاس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارسازجس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوںمیں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خوابمیں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوںمیں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کامیں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوںکون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سردجس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروںجس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلندکون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوںپہلا مشیراس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظامپختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوامہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجودان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیامآرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیںہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خامیہ ہماری سعئ پیہم کی کرامت ہے کہ آجصوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمامطبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھیورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلامہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیاکند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیامکس کی نو میدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدیدہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرامدوسرا مشیرخیر ہے سلطانیٔ جمہور کا غوغا کہ شرتو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبرپہلا مشیرہوں مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھےجو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطرہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباسجب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگرکاروبار شہر یاری کی حقیقت اور ہےیہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصرمجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہوہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظرتو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظامچہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک ترتیسرا مشیرروح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطرابہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جوابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتابکیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوزمشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساباس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فسادتوڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طنابچوتھا مشیرتوڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھآل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خوابکون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہواگاہ بالد چوں صنوبر گاہ نالد چوں ربابتیسرا مشیرمیں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیںجس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجابپانچواں مشیر ابلیس کو مخاطب کر کےاے ترے سوز نفس سے کار عالم استوارتو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکارآب و گل تیری حرارت سے جہان سوز و سازابلہ جنت تری تعلیم سے دانائے کارتجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیںسادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگارکام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طوافتیری غیرت سے ابد تک سر نگوں و شرمسارگرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تماماب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتباروہ یہودی فتنہ گر وہ روح مزدک کا بروزہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تارزاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہین و چرغکتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگارچھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پرجس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبارفتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آجکانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبارمیرے آقا وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہےجس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاشہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتےجمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میںبندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنازندگی تلخ سہی زہر سہی سم ہی سہیدرد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہیلیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھظلم کی چھاؤں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑجلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہرہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کے گروہبھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیںتیرہ و تار مکاں مفلس و بیمار مکیںنوع انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضادامن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فسادہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلاب عظیمنت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیملہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماںاور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواںیہ فلک بوس ملیں دل کش و سیمیں بازاریہ غلاظت پہ جھپٹتے ہوئے بھوکے ناداردور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطارسرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گل زاردر و دیوار پہ انوار کا سیلاب رواںجیسے اک شاعر مدہوش کے خوابوں کا جہاںیہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دےکون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دےاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
اہل دولت کا سن چکے تم حالاب سنو روئیداد اہل کمالفاضلوں کو ہے فاضلوں سے عنادپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فسادہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدارہنے دو اہل علم ہیں اس طرحپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرحعیدو والوں کا ہے اگر پٹھاشیخو والوں میں جا نہیں سکتاشاعروں میں بھی ہے یہی تکرارخوشنویسوں کو ہے یہی آزارلاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیکدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایکاس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنردور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھرملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کیاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنسارینسخہ اک طب کا جس کو آتا ہےسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہےجس کو آتا ہے پھونکنا کشتہہے ہماری طرف سے وہ گونگاجس کو ہے کچھ رمل میں معلوماتوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے باتباپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹابھید پاتا نہیں منجم کاکام کندلے کا جس کو ہے معلومہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھومالغرض جس کے پاس ہے کچھ چیزجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیزقوم پر ان کا کچھ نہیں احساںان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساںسب کمالات اور ہنر ان کےقبر میں ان کے ساتھ جائیں گےقوم کیا کہہ کے ان کو روئے گینام پر کیوں کہ جان کھوئے گیتربیت یافتہ ہیں جو یاں کےخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اےبھرتے حب وطن کا گو دم ہیںپر محب وطن بہت کم ہیںقوم کو ان سے جو امیدیں تھیںاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیںہسٹری ان کی اور جیوگرفیسات پردے میں منہ دیے ہے پڑیبند اس قفل میں ہے علم ان کاجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتالیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئےکرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہاکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتااہل انصاف شرم کی جا ہےگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہےتم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤیہ جو دولت تمہارے پاس ہے آجہم وطن اس کے ہیں بہت محتاجمنہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتاکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیاآپ شائستہ ہیں تو اپنے لیےکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیےمیز کرسی اگر لگاتے ہیں آپقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپمنڈا جوتا گر آپ کو ہے پسندقوم کو اس سے فائدہ نہ گزندقوم پر کرتے ہو اگر احساںتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاںکچھ دنوں عیش میں خلل ڈالوپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالوعلم کو کر دو کو بہ کو ارزاںہند کو کر دکھاؤ انگلستاں
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرودہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کروجس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیابھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقاباغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاںہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پرتیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پرسخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکرنوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکرجب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطےنوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھےہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھیسچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھیاپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہےکمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہےلوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواںسر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاںدست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تمسرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تمصنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئیموت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئیاللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آجمیر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔکیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہےیاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہےہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہےشیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہےتیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنےکس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنےیاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاںاب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواںتم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہاآج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صداسچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہآج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھییاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھیپوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہےوہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہےاہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سےپوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سےاب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کاآج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صداآج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوںسخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوںاہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں''بینکی'' اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیںلیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تمہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تماہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیںیہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیںآج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیںکیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیںکیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیںدیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میںکیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میںگونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہےخیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہےآج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہےکچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہےسانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگےنوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگےظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگےلگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگےمجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شینکل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔخیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میںوقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیںاک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کیجس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کیوقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیںموت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں
ہم نے رکھی ہے یہاں امن و اماں کی بنیاداپنی فطرت میں نہیں دہشت و دنگا و فسادہر مسلمان پہ یو ایس اے میں پڑی ہے افتادپھر بھی ہم نے ترے شہروں کو کیا ہے آباد
شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرامجھے تلاش کروجن آندھیوں نے مری سر زمیں ادھیڑی تھیوہ آج مولد عیسیٰ میں گرد اڑاتی ہیںجو ہو سکے تو انہی سے مرا پتہ پوچھومجھے تلاش کروچلی جو مشرق و مغرب سے تند و تیز ہوامرے شجر نے مجھے پیار سے سمیٹ لیامجھے لپیٹ لیا اپنی کتنی باہوں میںیہ بے لحاظ عناصر مگر بضد ہی رہےمیں برگ سبز گرا برگ زرد کی ماننداسی سلگتی ہوئی راکھ سی پتاور میںجو بچھ رہی ہے افق سے افق کے پار تلکمجھے تلاش کروشجر سے کٹ کے زباں کٹ گئی نہ ہو میریمیں چیختا ہوں مگر حرف ناشنیدہ ہوںحیات تازہ ہے میری شجر سے میرا ملاپکہ بس وہی مری بالیدگی کا منبع ہےجو ریگزار میں چھتنار دیکھنے ہیں تمہیںمجھے تلاش کروفلک کے راز تو کھلتے رہیں گے ہم نفسومرے وجود کا بھی اب تو راز فاش کرومجھے تلاش کرو
جہاں آباد یہ ناپاک شہرستاں نہیں ہوتےفسادی فتنہ پرور اور ذلیل انساں نہیں ہوتےیہ انساں ہاں یہ حیواں بد تر از شیطاں نہیں ہوتےفساد و شر جہاں سوتے ہیں خوابوں کے مزاروں میں!مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں نظاروں میں!
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
کیوں حیرت سے تکتی ہے ایک اک چہرے کوکیا تجھ کو شکوہ ہے تیری گویائی کی طاقتچھین کے قدرت نے بے انصافی کی ہے؟کیا تجھ کو احساس ہے تیرے پاس اگر گفتار کی نعمت ہوتیتو اس چاروں جانب پھیلی ہتھیاروں کی دنیاسینہ دہلا دینے والے طیاروں کی انساں کش آوازیںآوازیں جن میں انساں کی روح شبانہ روز دبی جاتی ہےمحشر خیز آوازیں کل پرزوں کی جن سے نفسی نفسی کا عالم پیدا ہو کردن پر دن عفریت کی صورت میں بڑھتا جاتا ہےان آوازوں کی ہیبت ناکی پر واویلا کرتیتو آواز اٹھاتی اس فاشی اور تعصب پھیلانے والے عنصر کو بڑھتا پا کرجو حب الوطنی کے نام پہ انساں کش ہوتا جاتا ہےتو ان رجحانات کی خوب مذمت کرتیان سے لڑتی جو اس دنیا کو پیچھے لے جانے میں کوشاں ہیں'مذہب اور تہذیب''ثقافت' اور 'ترقی' کہہ کر رجعت پرور ہو جاتے ہیںلے میں تجھ کو اپنی گویائی دیتا ہوں!یہ میرے کام نہیں آئی کچھمیں ایسا بزدل ہوں جو ہر بے انصافی کو چپکے چپکے سہتا ہےجس نے 'مقتل' اور 'قاتل' دونوں دیکھے ہیںلیکن دانائی کہہ کراپنی گویائی کو گونگا کر رکھا ہے!
یا خدا ہند پر کرم فرمااس کی تکلیف کالعدم فرماہیں پریشاں بہت حواس اس کےنہیں ہمدرد کوئی پاس اس کےفقر و فاقہ سے پائمال ہے ابقرض میں اس کا بال بال ہے ابنہ ہی صنعت نہ اب تجارت ہےساری آسودگی وہ غارت ہےعلم و فن سے ہے اس کا گھر خالیعقل و ادراک سے ہے سر خالیاچھے اطوار مٹ گئے اس کےنیک کردار مٹ گئے اس کےخلق ہے اب نہ مہر و الفت ہےآتشی ہے نہ اب اخوت ہےرنگ بالکل ہے ملک کا بدلاسارا پانی ہے چاہ کا گدلاہر طرف جہل ہے لڑائی ہےدشمن آپس میں بھائی بھائی ہےنہ محبت ہے اب نہ ہمدردینہ دلیری نہ اب جواں مردینہ روا داری و شرافت ہےنہ اب امن و امان و راحت ہےہر طرف ہے فساد ہنگامہکوئی رستم ہے اور کوئی گامااب کہاں صلح و خیر کی باتیںجب ہیں کانوں میں غیر کی باتیںجان بل کی ہیں سازشیں جاریملک پر ہیں نوازشیں جاریایک سے ہے کبھی شناسائیدوسرے کے لیے کبھی سائیکبھی ان کو لڑا دیا سب سےکبھی ان کو بھڑا دیا سب سےکبھی ان کو پولس و تھانہ ہےاور کبھی ان کو جیل خانہ ہےیہی منظر یہاں ہے شام و سحربس یہی ہو رہا ہے آٹھ پہرجانتا ہے ہر اک یہ سب باتیںپھر بھی خالی نہیں حوالاتیںوہی جنگ و جدل وہی جھگڑےوہی بغض و عناو کے رگڑےیا خدا دے ہمیں وہ عقل سلیمکہ سمجھ ہم سکیں ہر اک سکیمپڑ سکے پھر نہ کوئی زد ہم پرکھل سکیں سارے نیک و بد ہم پرختم کر دیں یہ تفرقہ سازیآگ میں جھونک دیں تبر یازیسب کریں مل کے ملک کی خدمتدور ہو اس کی عسرت و نکبتحکمت و فن وطن میں پھیلائیںشاہراہیں مسل کی کھل جائیںعلم و سائنس ملک میں بھر دیںاس زمیں کو ہم آسماں کر دیںہم پہ کھل جائیں سب وہ عقل کے رازہو اس کا یورپ کے طرۂ اعزازصنعتوں کی ہو گرم بازاریگاؤں گاؤں میں ہوں ملیں جاریریل، موٹر، جہاز ،طیارےخود یہ تیار ہم کریں سارےکبھی صحرا ہو مستقر اپناہو کبھی ٹاپوؤں میں گھر اپنامانچسٹر پہ خاک ڈالیں گےگھر سے جاپان کو نکالیں ہمنہ رہیں ہم کسی کے بھی محتاجملک اپنا ہو اور اپنا راجہم میں گر اتحاد ہو جائےملک آباد شاد ہو جائے
دل پہ کیوں کر فاش ہو جاتے ہیں آزادی کے رازچھیڑتے ہیں کس طرح محفل میں بیداری کا ساز
تمہارا عہد اگر استوار ہی ہوتاتو پھر بھی دامن دل تار تار ہی ہوتاخود اپنی ذات ہی ناخن خود اپنی ذات ہی زخمخود اپنا دل رگ جاں اور خود اپنا دل نشترفساد خلق بھی خود اور فساد ذات بھی خودسفر کا وقت بھی خود جنگلوں کی رات بھی خود
جب دسمبر میں دھند اترتی ہےاپنے اسرار میں لپٹتی ہوئی، تہہ بہ تہہ ہم پہ فاش ہوتی ہوئییہ کسی یاد کے دسمبر سے دل کی سڑکوں پہ آ نکلتی ہےراہ تو راہ دل نہیں ملتا دھند جب ہم میں آ ٹھہرتی ہےکیف کی صبح خوش مقدر میں، یہ در راز ہم پہ کھلتا ہےجیسے دل سے کسی پیمبر کے، رب کی پہلی وحی گزرتی ہےراہ چلتے ہوئے مسافر پر یوں دسمبر میں دھند اترتی ہےباغ بھی، راہ بھی، مسافر بھی راز کے اک مقام میں چپ ہیںدھند ان سب سے بات کرتی ہے اور یہ احترام میں چپ ہیںدھند میں اک نمی کا بوسہ ہےمیری آسودگی کے ہاتھوں پر ایک بسری کمی کا بوسہ ہےایک بھولی ہوئی کمی جیسے، دھند میں یاد کی نمی جیسےمیرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے میری آنکھوں سے بات کرتی ہےاپنے اسرار میں لپٹتی ہوئی جب دسمبر میں دھند اترتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books