aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",wAWF"
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہمیں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروںروح کو اس کی اسیر غم الفت نہ کروںاس کو رسوا نہ کروں وقف مصیبت نہ کروں
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیںہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیںشباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیںوقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیںادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباںبیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباںسیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجومطویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوموہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائےزبان شعر کو تعریف کرتے شرم آئےوہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوشگداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرےدراز قد جسے سرو سہی نماز کرےغرض وہ حسن جو محتاج وصف و نام نہیںوہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیںکسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھابصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھااور اب یہ راہگزر بھی ہے دل فریب و حسیںہے اس کی خاک میں کیف شراب و شعر مکیںہوا میں شوخیٔ رفتار کی ادائیں ہیںفضا میں نرمیٔ گفتار کی صدائیں ہیںغرض وہ حسن اب اس رہ کا جزو منظر ہےنیاز عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
ہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرقہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرقہم ہیں نام وطن کے دیوانےوہ تھے اہل وطن کے پروانےجس نے یوسف کی داستاں ہے سنیجانتا ہوگا روئداد اس کیمصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطرکر دیا وقف ان پہ بیت الماللب تک آنے دیا نہ حرف سوالکھتیاں اور کوٹھے کھول دیےمفت سارے ذخیرے تول دیےقافلے خالی ہاتھ آتے تھےاور بھرپور یاں سے جاتے تھےیوں گئے قحط کے وہ سال گزرجیسے بچوں کی بھوک وقت سحر
وہ فلسفے جو ہر اک آستاں کے دشمن تھےعمل میں آئے تو خود وقف آستاں نکلے
آج کی رات بہت راتوں کے بعد آئی ہےکتنی فرخندہ ہے شب کتنی مبارک ہے سحروقف ہے میرے لیے تیری محبت کی نظرآج کی رات نہ جا
حسن ہو جائے گا جب اوروں کا وقف خاص و عامدیدنی ہوگا ترے خلوت کدے کا اہتمام
آسماں جان طرب کو وقف رنجوری کرےصنف نازک بھوک سے تنگ آ کے مزدوری کرے
کوئی دیکھے یہ مجبوریاں دوریاںایک ہی شہر میں ہم کہاں تم کہاںدوستوں نے بھی چھوڑی ہیں دال داریاںآج وقف غم الفت رائیگاںہم جو پھرتے ہیں وحشت زدہ سرگراںتھے کبھی صاحب آبرو شہر میںلوگ طعنوں سے کیا کیا جتاتے نہیںایسے راہی تو منزل کو پاتے نہیںجی سے اک دوسرے کو بھلاتے نہیںسامنے بھی مگر آتے جاتے نہیںاور جائیں تو آنکھیں ملاتے نہیںہائے کیا کیا نہیں گفتگو شہر میں
تمہارے دم سے ہری زمینیںخوشی سے دامن بھری مشینیںہیں اس کے با وصف بھیگی بھیگیتمہاری اشکوں سے آستینیںمیں سوچتا ہوں رہیں گی کب تکستم کے آگے جھکی جبینیں
شاعر ہے تو ادنیٰ ہے، عاشق ہے تو رسوا ہےکس بات میں اچھا ہے کس وصف میں عالی ہے
یوں وقت گزرتا ہےفرصت کی تمنا میںجس طرح کوئی پتابہتا ہوا دریا میںساحل کے قریب آ کرچاہے کہ ٹھہر جاؤںاور سیر ذرا کر لوںاس عکس مشجر کیجو دامن دریا پرزیبائش دریا ہےیا باد کا وہ جھونکاجو وقف روانی ہےاک باغ کے گوشے میںچاہے کہ یہاں دم لوںدامن کو ذرا بھر لوںاس پھول کی خوشبو سےجس کو ابھی کھلنا ہےفرصت کی تمنا میںیوں وقت گزرتا ہے
نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کااس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کاگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کاکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کاکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کاجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کاساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیاواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھاپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کااس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہامہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کایہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمنہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمنحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلونجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگنواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کاواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑالال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطااس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدامیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکانکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کاواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسادر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگاواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کاعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کاروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرااور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتاخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیادل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑاموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کاجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمودہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبودخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درودجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجوددیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کاپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہاجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنواحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیااس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھااس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کاناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہےحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہےربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہےغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہےروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کادام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیراس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریرجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیرجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا
صدا آ رہی ہے مرے دل سے پیہمکہ ہوگا ہر اک دشمن جاں کا سر خمنہیں ہے نظام ہلاکت میں کچھ دمضرورت ہے انسان کی امن عالمفضاؤں میں لہرائے گا سرخ پرچمصدا آ رہی ہے مرے دل سے پیہمنہ ذلت کے سائے میں بچے پلیں گےنہ ہاتھ اپنے قسمت کے ہاتھوں ملیں گےمساوات کے دیپ گھر گھر جلیں گےسب اہل وطن سر اٹھا کے چلیں گےنہ ہوگی کبھی زندگی وقف ماتمفضاؤں میں لہرائے گا سرخ پرچم
تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمروہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفرپوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبراور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پرآنکھ وقف دید تھی لب مائل گفتار تھادل نہ تھا میرا سراپا ذوق استفسار تھا
دیوالیرگھبر کی پاک یاد کا عنواں لیے ہوئےظلمت کے گھر میں جلوۂ تاباں لیے ہوئےتاریکیوں میں نور کا ساماں لیے ہوئےآئی ہے اپنے ساتھ چراغاں لیے ہوئےاللہ رے یہ تاب یہ تنویر یہ جمالخورشید کی نظر بھی ہے جمنی یہاں محالطاری ہے زاہدوں پہ بھی عالم سرور کااب کس لیے خیال ہو حور و قصور کاعالم تو دیکھیے شب یلدا پہ نور کاجلتے ہیں یہ چراغ کہ جلوہ ہے طور کامنظر بہشت کا ہے یہ شب ہے شب براتتنویر آفتاب کا پرتو ہے آج راتوہ رام جو کہ کامل صدق و صفا رہاوہ رام جو کہ سالک راہ ہدیٰ رہاوہ رام جو کہ آئینۂ حق نما رہاوہ رام جو کہ قاطع جور و جفا رہایہ رات یادگار ہے اس نیک ذات کیاس پیکر خلوص کی والا صفات کیچودہ برس کے بعد جو آیا وطن میں رامہر لب تھا وقف نغمہ تو ہر دل تھا شاد کامتھی رشک نور صبح بنارس اودھ کی شاماہل اجودھیا کی زباں پر تھا یہ کلامہم بے بسوں کا قافلہ سالار آ گیابن باسیوں کی فوج کا سردار آ گیا
بہ ایں انعام وفا اف یہ تقاضائے حیاتزندگی وقف غم خاک نشیناں کر دےخون دل کی کوئی قیمت جو نہیں ہے تو نہ ہوخون دل نذر چمن بندئ دوراں کر دے
راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جارونق بزم ہے او جام کہاں ہے آ جازینت جلوہ گہ عام کہاں ہے آ جااے امید دل نا کام کہاں ہے آ جاتیری فرقت خلل انداز سکون پیہمتیری فرقت دل مایوس پہ اک طرفہ ستمتیری فرقت سبب کاوش و بیداریٔ غمتو نہیں ہے تو پھر آرام کہاں ہے آ جاشاہد دور سیہ بخت و شب تار ہوں میںخوگر نالۂ لذت کش آواز ہوں میںدام طوفان حوادث میں گرفتار ہوں میںروز و شب منتظر دید رخ یار ہوں میںدل ہے وقف غم آلام کہاں ہے آ جاشعلۂ بر کف گل داغ جگر تیرے بغیرخار بردوش ہے دامان نظر تیرے بغیرخوں فشاں ہے شب غم دیدۂ تر تیرے بغیرچلن آتا ہی نہیں شام و سحر تیرے بغیرمنتظر ہوں سحر و شام کہاں ہے آ جادور تاریکیٔ غم سے شب تنہائی سےدم بدم جوش جنوں کی ستم آرائی سےکعبہ و دیر و کلیسا کی جبیں سائی سےخوف مجبوری و ناکامی و رسوائی سےعشق ہے لرزہ بر اندام کہاں ہے آ جامنتشر ہونے لگی انجمن ناز حیاتبن گیا خواب ہر اک منظر آغاز حیاتدم شکستہ سا نظر آنے لگا ساز حیاتاب کوئی دم میں ہوا جاتا ہے وا راز حیاتآ گیا نزع کا ہنگام کہاں ہے آ جا
حب قومی کا زباں پر ان دنوں افسانہ ہےبادۂ الفت سے پر دل کا مرے پیمانہ ہےجس جگہ دیکھو محبت کا وہاں افسانہ ہےعشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہےجب کہ یہ آغاز ہے انجام کا کیا پوچھنابادۂ الفت کا یہ تو پہلا ہی پیمانہ ہےہے جو روشن بزم میں قومی ترقی کا چراغدل فدا ہر اک کا اس پر صورت پروانہ ہےمجھ سے اس ہمدردی و الفت کا کیا ہووے بیاںجو ہے وہ قومی ترقی کے لیے دیوانہ ہےلطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاںبر خلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہےنخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میںقابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہےہے گل مقصود سے پر گلشن کشمیر آجدشمنی نااتفاقی سبزۂ بیگانہ ہےدر فشاں ہے ہر زباں حب وطن کے وصف میںجوش زن ہر سمت بحر ہمت مردانہ ہےیہ محبت کی فضا قائم ہوئی ہے آپ سےآپ کا لازم تہ دل سے ہمیں شکرانہ ہےہر بشر کو ہے بھروسا آپ کی امداد پرآپ کی ہمدردیوں کا دور دور افسانہ ہےجمع ہیں قومی ترقی کے لیے ارباب قومرشک فردوس ان کے قدموں سے یہ شادی خانہ ہے
تجھے بہار کا اک مرغ خوش نوا سمجھوںکہ درد مند دلوں کی کوئی صدا سمجھوںسوا اک آہ کے سامان ہست و بود ہے کیاتو ہی بتا ترا سرمایۂ وجود ہے کیاوہ نقد جاں ہے کہ ہے نالۂ حزیں تیرانشان ہستیٔ موہوم کچھ نہیں تیرااسے بھی وقف تمنائے یار کر دینا!نثار جلوۂ گل جان زار کر دینا!
ماتحت کی ضعیف آنکھوں میںایک بجھتی ہوئی ذہانت تھیافسروں کے لطیف لہجے میںقہر تھا، زہر تھا، خطابت تھییہ ہر اک دن کا واقعہ، اس دنصرف اس اہمیت کا حامل تھاکہ شرافت کے زعم کے با وصفمیں بھی ان افسروں میں شامل تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books