aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".ajrt"
تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسیدو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعثترے ہاتھ ہیںجن کو تو نے ہمیشہ لبوں پر رکھا مسکراتے ہوئےتو نہیں جانتینیند کی گولیاں کیوں بنائی گئیںلوگ کیوں رات کو اٹھ کے روتے ہیں سوتے نہیںتو نے اب تک کوئی شب اگر جاگتے بھی گزاریتو وہ باربی نائٹ تھیتجھ کو کیسے بتاؤںکہ تیری صدا کے تعاقب میںمیں کیسے دریاؤں صحراؤں اور جنگلوں سے گزرتا ہواایک ایسی جگہ جا گرا تھاجہاں پیڑ کا سوکھنا عام سی بات تھیجہاں ان چراغوں کو جلنے کی اجرت نہیں مل رہی تھیجہاں لڑکیوں کے بدن صرف خوشبو بنانے کے کام آتے تھےجہاں ایک معصوم بچہ پرندے پکڑنے کے سارے ہنر جانتا تھامجھ کو معلوم تھاتیرا ایسے جہاں ایسی دنیا سے کوئی تعلق نہیںتو نہیں جانتیکتنی آنکھیں تجھے دیکھتے دیکھتے بجھ گئیںکتنے کرتے ترے ہاتھ سے استری ہو کے جلنے کی خواہش میں کھونٹی سے لٹکے رہےکتنے لب تیرے ماتھے کو ترسےکتنی شہراہیں اس شوق میں پھٹ گئی ہیںکہ تو ان کے سینے پہ پاؤں دھرےمیں تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈھتے تھک گیا ہوںاب مجھے تیری موجودگی چاہیےاپنے ساٹن میں سہمے ہوئے سرخ پیروں کو اب میرے ہاتھوں پہ رکھمیں نے چکھنا ہے ان کا نمک
سیلف میڈ لوگوں کا المیہروشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہےزندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کوراہ سے ہٹانے میںایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میںخوشبوئیں پکڑنے میں گلستاں سجانے میںعمر کاٹ دیتے ہیںعمر کاٹ دیتے ہیںاور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیںکیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیںدرگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیںصبر کے سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیںیہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی کاہش کاکچھ صلہ نہیں ملتامرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتازندگی کے دامن میں جس قدر بھی خوشیاں ہیںسب ہی ہاتھ آتی ہیںسب ہی مل بھی جاتی ہیںوقت پر نہیں ملتیں وقت پر نہیں آتیںیعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہےلیکن اس طرح جیسےقرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائےاصل جو عبارت ہو پس نوشت ہو جائےفصل گل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیںان کے صحن میں سورج دیر میں نکلتے ہیں
اس کی دانائی کا حاصل ناخن عقدہ کشاتابناکئ ضمیر و زیرکی کا آفتابچاہنے والوں کا اس کی ذکر ہی کیا کیجیےاس کے دشمن بھی سرہانے رکھتے ہیں اس کی کتابمادی تاریخ عالم جس کی تالیف عظیمتاس کیپٹال ہے یا زیست کا لب لبابپڑھ کے جس کے ہو گئیں ہشیار اقوام غلاماشتراکی فلسفہ کا کھل گیا ہر دل میں بابکتنے دوزخ اس کے اک منشور سے جنت بنےکتنے صحراؤں کو جس نے کر دیا شہر گلابمارکس نے سائنس و انساں کو کیا ہے ہمکنارذہن کو بخشا شعور زندگانی کا نصاباس کی بینش اس کی وجدانی نگاہ حق شناسکر گئی جو چہرۂ افلاس زر کو بے نقاب''غصب اجرت'' کو دیا ''سرمایہ'' کا جس نے لقببے حساب اس کی بصیرت اس کی منطق لا جوابآفتاب تازہ کی اس نے بشارت دی ہمیںاس کی ہر پشین گوئی ہے برافگندہ نقابکوئی قوت اس کی سد راہ بن سکتی نہیںوقت کا فرمان جب آتا ہے بن کر انقلاباہل دانش کا رجز اور سینۂ دہقاں کی ڈھاللشکر مزدور کے ہیں ہم صفیر و ہم رکابکاٹتی ہے سحر سلطانی کو جب موسیٰ کی ضربسطوت فرعون ہو جاتی ہے از خود غرق آبآج کی فرعونیت بھی کچھ اسی انداز سےرفتہ رفتہ ہوتی جائے گی شکار انقلابلڑ رہا ہے جنگ آخر کیسۂ سرمایہ دارجوہری ہتھیار سے کرتا نہیں جو اجتناباپنے مستقبل سے طاغوتی تمدن کو ہے یاسدیدنی ہے دشمن انسانیت کا اضطرابحضرت اقبالؔ کا ابلیس کوچک خوف سےلرزہ بر اندام یوں شیطاں سے کرتا ہے خطابپنڈت و ملا و راہب بے ضرر ٹھہرے مگرٹوٹنے والا ہے تجھ پر اک یہودی کا عتابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
چار باغ اسٹیشن دیکھوشہر میں ایک نیا پن دیکھوسجی سجائی دلہن دیکھوقدم قدم پر فیشن دیکھوآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںکتنا اچھا چڑیا گھر ہےشیر ہرن بھالو بندر ہےمور کبوتر اور تیتر ہےاندر مردہ عجائب گھر ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںحضرت گنج کی سیر کرائیںقیصر باغ کی لاٹ دکھائیںاور امین آباد گھمائیںشام اودھ رنگین بنائیںآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںیہ پوری یوپی کا دل ہےاس میں ایک چھتر منزل ہےآرٹ اسکول لب ساحل ہےندوہ دیکھنے کے قابل ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںچوک نخاس حسین آبادگولا گنج نظیر آبادپیار محبت میں آزادمرد و زن شیریں فرہادآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںآؤ شہد اسمارک دکھائیںجھنڈے والے پارک میں جائیںبیلی گارد کو سمجھائیںمیڈیکل کالج دکھلائیںآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںیہ سب شہروں میں نیارا ہےنام اس کا کتنا پیارا ہےسب کی آنکھوں کا تارا ہےامن و سکوں کا گہوارا ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیں
وہ پرودرۂ عشوہ بازیکنکھیوں سے یوں دیکھتی تھیکہ جیسے وہ ان سرنگوں آرزوؤں کو پہچانتی ہوجو کرتی ہیں اکثر یوں ہی روشناسیکبھی دوستی کی تمناکبھی علم کی پیاس بن کر!وہ کولہے ہلاتی تھی ہنستی تھیاک سوچی سمجھی حسابی لگاوٹ سےجیسے وہ ان خفیہ سرچشمہ گاہوں کے ہر راز کو جانتی ہووہ تختے کے پیچھے کھڑی قہقہے مارتی لوٹتی تھیکہا میں نے خالد سے:بہروپئے!اس ولایت میں ضرب مثل ہے''کہ اونٹوں کی سوداگری کی لگن ہوتو گھر ان کے قابل بناؤاور اس شہر میں یوں تو استانیاں ان گنت ہیںمگر اس کی اجرت بھلا تم کہاں دے سکو گے!''وہ پھر مضطرب ہو کے بے اختیاری سے ہنسنے لگی تھی!وہ بولی ''یہ سچ ہےکہ اجرت تو اک شاہی بھر کم نہ ہوگیمگر فوجیوں کا بھروسہ ہی کیا ہےبھلا تم کہاں باز آؤ گےآخر زباں سیکھنے کے بہانےخیانت کرو گے''وہ ہنستی ہوئیاک نئے مشتری کی طرف ملتفت ہو گئی تھی!
یہ دعویٰ ہےجہاں میں چند لوگوں کاکہ ہم نے زندگی کو جیت رکھا ہےہمارے پاس یعنی ایٹمی ہتھیار ہیں اتنےہمارا دوست ننھا ایلین بھی ہےکروڑوں سال کی تاریخ کو اب جانتے ہیں ہمکہ ہم نے موت پر اب فتح پا لی ہےپلینٹ مارس پر پانی بھی ڈھونڈا ہےیہ سب کہتے ہوئے اکثروہ شاید بھول جاتے ہیںابھی اک چیز باقی ہے کہ جو ان میپڈ ہے اب تکجسے ہم ذہن کہتے ہیںہمارے سائنس دانوں نے بھی مانا ہےکہ اب تک کچھ ہی حصہ ذہن کاہم جان پائے ہیںبہت کچھ ہے جسے اب بھی ہمیں ڈیکوڈ کرنا ہےمیں اکثر سوچتا ہوںسوچ کر حیران ہوتا ہوںفقط کچھ گرام کے اس ذہن سے یہ ساری ہلچل ہےستارے چاند سورج تتلیاں جگنو بھری راتیںیہ سارہ آرٹ اور اس آرٹ پر تنقید جو کچھ ہےکتابوں سے بھری ہر لائبریریاور انسانوں کے دل میں بڑھ رہی دوریکہیں ناراضگی آنکھوں میں بھر کر خود میں ہی گھٹناکہیں پر بھوک بیماری یا پالیٹکس کی پاوریہ ایف بی اور ٹوئیٹر پر جو جاری ہیں سبھی بحثیںاور انسٹاگرام پر ہر پل کی تصویریںیہ دنیا بھر کی فلمیں اور فیسٹیولیہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے پھولوں سے نازک لوگمرے ہونٹھوں سے ایک اک نظم کا یوں ٹوٹتے رہنافقط کچھ گرام کے اس ذہن سے ہی ساری ہلچل ہےنگاہیں موڑ کر یہ دیکھنا میراتمہارا مسکرانا بھیفلک کو دیکھ کر یوں روٹھ جانا بھیکہ اپنی زندگی میں روشنی کے نام پرکچھ بھی نہیں ہےاور یہ کیا کھیل ہےجس میں محض ماتیں ہی ماتیں ہیںمحض گھاتیں ہی گھاتیں ہیںمگر یہ دکھ جو ہم کو رات دن محسوس ہوتا ہےہمارے ذہن سے اٹھتا دھواں ہے بساگر ہم غور سے دیکھیں تو ڈھیروں راز کھلتے ہیںکہ میں تم سے اگر کہتا ہوںتم سے عشق کرتا ہوںتو یہ سن کر تمہاری سانس کی لے تیز چلتی ہےیہی انفاس کا پردہجو اٹھتا ہےجو گرتا ہےاسی انفاس کے پردہ کے پیچھے سےہمارا ذہن سب کچھ دیکھتا ہےسوچتا ہے بات کرتا ہےصدی سے بند دروازوں کے پیچھے سےکوئی آواز آتی ہےہمیں لگتا ہے یہ سب کچھ ہمیں تو کر رہے ہیںپر حقیقت اور ہی کچھ ہےہمیں معلوم کرنا ہےکہ جلتے ذہن کے جنگل کا راجہ کون ہے آخرہمیں معلوم کرنا ہےہمارے ذہن میں چھپ کر اشارہ کون کرتا ہےیہ کس کے حکم پر ہم روز مرتے اور جیتے ہیںیہ کس کے واسطے ہم زندگی کا زہر پیتے ہیں
یہ تیسری شکست ہے اکیس سال میںاک اور بار مجھ کو محبت نہیں ملیجیسے کسی اجیر کو محنت کے باوجوداس کے عظیم کام کی اجرت نہیں ملی
جون کی گرمی کڑکتی دھوپ لو چلتی ہوئیہر گھڑی مزدور کے سر سے قضا ٹلتی ہوئیسر پہ گارے کی کڑھائی اور دیوار بلندہانپتا وہ چڑھ رہا ہے لے کے ہمت کی کمندپاڑ پر پہنچا تو اک گالی سنی معمار سےجی میں آیا سر کو ٹکرا دے اسی دیوار سےہائے اس مظلوم کی مجبوریاں نا چاریاںجان کا آزار ہیں افلاس کی بیماریاںدل میں کہتا ہے کہ یہ معمار بھی مزدور ہےپھر یہی جان حزیں کیوں اس قدر مقہور ہےاس کی اجرت مجھ سے دگنی ہے مگر کم ہے شعورتمکنت کس بات پر کس چیز پر اتنا غرورمیں اگر نادار ہوں یہ بھی نہیں سرمایہ داربھوت وہ ہے کس بڑائی کا جو اس پر ہے سواراینٹ گارا میں نہ دوں اس کو تو یہ کس کام کااصل میں معمار میں ہوں یہ فقط ہے نام کامیری ہمت کہہ رہیں ہیں کاخ دیوان بلندآہ اس پر بھی میں دنیا میں ہوں اتنا مستمندلگ گیا پھر کام میں یہ سوچ کر وہ بد نصیباے خدا دنیا میں اتنا بھی نہ ہو کوئی غریبدن ڈھلا جس وقت مالک بھی مکاں کا آ گیااک سکوت مرگ سا دیوار و در پر چھا گیاکانپتا رہتا ہے ہر مزدور جس کے نام سےسب اسی دھن میں تھے وہ خوش ہو ہمارے کام سےاس کی پیشانی پہ لیکن بل ذرا آنے لگےپھن اٹھا کر تمکنت کے سانپ لہرانے لگےسب سے پہلے اس نے گالی دی اسی معمار کواپنی ملکیت جو سمجھا تھا ہر اک دیوار کوجوش نخوت سے کہا اس نے کہ اے پاجی لعیںکل جہاں تک تھی گئی دیوار اب بھی ہے وہیںکیا کیا ہے تو نے دن بھر میں ذرا مجھ کو بتایوں تکبر میں وہ آ کر جائزہ لینے لگادل میں وہ مزدور پھر کہنے لگا اف رے غضبجو بھی اس دنیا میں ہیں فرعون ہیں وہ سب کے سبجس کا جس پر بس چلے پامال کرتا ہے اسےخود اگر خوش حال ہے بد حال کرتا ہے اسےکیا کہوں سرمایہ داروں کے ستم کی داستاںدیدۂ مزدور ہے مزدور سے بھی خونفشاںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اس مثل کو صادق سمجھیہ سمجھ کر اس خدائے پاک کو رازق سمجھ
مصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیںاور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہےفغان خلق اہل طائفہ کی نذر ہو گئیمتاع صبر وحشت دعا کی نذر ہو گئیامید اجر بے یقینیٔ جزا کی نذر ہو گئینہ اعتبار حرف ہے نہ آبروئے خون ہےسکون ہی سکون ہےمصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤںسمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں اور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہےخلیج اقتدار سرکشوں سے پاٹ دی گئیجو ہاتھ آئی دولت غنیم بانٹ دی گئیطناب خیمۂ لسان و لفظ کاٹ دی گئیفضا وہ ہے کہ آرزوئے خیر تک جنون ہےسکون ہی سکون ہےمصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیںاور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہے
جاتی ہوں، گھبراتے کیوں ہو؟ کیا اندھیاری گھور نہیں؟دو دل راضی کے بارے میں قاضی کا کچھ زور نہیںلو۔۔۔ یہ دس کا نوٹ۔۔۔ تمہاری ''اجرت'' ہے انعام نہیں
ایبسٹریکٹ آرٹ کی دیکھی تھی نمائش میں نےکی تھی از راہ مروت بھی ستائش میں نےآج تک دونوں گناہوں کی سزا پاتا ہوںلوگ کہتے ہیں کہ کیا دیکھا تو شرماتا ہوںصرف کہہ سکتا ہوں اتنا ہی وہ تصویریں تھیںیار کی زلف کو سلجھانے کی تدبیریں تھیںایک تصویر کو دیکھا جو کمال فن تھیبھینس کے جسم پر اک اونٹ کی سی گردن تھیٹانگ کھینچی تھی کہ مسواک جسے کہتے ہیںناک وہ ناک خطرناک جسے کہتے ہیںنقش محبوب مصور نے سجا رکھا تھامجھ سے پوچھو تو تپائی پہ گھڑا رکھا تھابولی تصویر جو میں نے اسے الٹا پلٹامیں وہ جامہ ہوں کہ جس کا نہیں سیدھا الٹااس کو نقاد تو اک چشمۂ حیواں سمجھامیں اسے حضرت مجنوں کا گریباں سمجھاایک تصویر کو دیکھا کہ یہ کیا رکھا ہےورق صاف پہ رنگوں کو گرا رکھا ہےآڑی ترچھی سی لکیریں تھیں وہاں جلوہ فگنجیسے ٹوٹے ہوئے آئینے پہ سورج کی کرنتھا کیوب ازم میں کاغذ پہ جو اک رشک قمرمجھ کو اینٹیں نظر آتی تھیں اسے حسن بشربولا نقاد نظر آتے یہی کچھ ہم تم!خلد میں حضرت آدم جو نہ کھاتے گندمایبسٹریکٹ آرٹ کے ملبے سے یہ دولت نکلیجس کو سمجھا تھا انناس وہ عورت نکلیایبسٹریکٹ آرٹ کی اس چیز پہ دیکھی ہے اساس''تن کی عریانی سے بہتر نہیں دنیا میں لباس''اس نمائش میں جو اطفال چلے آتے تھےڈر کے ماؤں کے کلیجوں سے لپٹ جاتے تھے
میں نے انٹرویو کیا کل ایک روزہ خور سےمیں زباں سے بولتا تھا وہ شکم کے زور سےمیں نے پوچھا آپ نے روزہ یہ کیوں رکھا نہیںپیٹ دکھلانے لگا بولا کہ یوں رکھا نہیںروزہ یوں رکھا نہیں چلتی نہیں باد صباموسم گرما میں روزے آئے ہیں اس مرتبہجاب کرنی ہے ضروری کام کرنا ہے مجھےکوک پزّا کے سہارے شام کرنا ہے مجھےمیں نے لسی کے گلاسوں میں پیا کچھ اور ہےدوپہر میں مرغ کھانے کا مزا کچھ اور ہےدن میں کھانے کے لیے اقرار کر لیتا ہوں میںشام کو مسجد میں بھی افطار کر لیتا ہوں میںکوئی شے کھاتے ہوئے میں نے چھپائی ہی نہیںآج تک میری ہوئی روزہ کشائی ہی نہیںروزہ خوری پر مری دنیا کو حیرانی نہیںروزہ یوں رکھا نہیں بجلی نہیں پانی نہیںمیں جو بے روزہ ہوں یہ بھی تاجروں کا ظرف ہےسو روپے اجرت ہے میری سو روپے کا برف ہےروح افزا کے بنا دنیا کی حوریں رہ گئیںروزہ داروں کے لیے سوکھی کھجوریں رہ گئیںروزہ یوں رکھا نہیں ہو جائے گا کھانا خرابلنچ پر آئے گی کل ہوٹل میں رشک ماہتابمیں ہوں شاعر مہرباں ہے مجھ پہ خلاق ازلپیش کرنی ہے مجھے محفل میں اک تازہ غزلاجر روزہ کیا ہے یہ شعروں میں بتلاؤں گا میںلنچ میں افطار کی تشریح بن جاؤں گا میںبھوک اور شاعر کا چوں کہ چولی دامن کا ہے ساتھمجھ سے بڑھ کے جانتا ہے کون روزہ کی صفاتپندرہ گھنٹے کا روزہ ہر جوان و پیر کاشام کرنا صبح کا لانا ہے جوئے شیر کا
اے مبارز طلب زندگیدن بھی ڈھل ہی گیاشام بھی تھک گئیروح عمر رواںہو رہی ہے اذاںشام ڈھلنے سے پہلے ہمیں اجر دےیوں ہمیں اجر دےجاں رہے ہی نہیںخستہ تن میں کہیںہم کہیں الوداعالوداعاے مبارز طلب زندگیعشق کی تند خیزی کے اوقات آخر ہوئےزندگی تیرے لمحات آخر ہوئے
دیکھا تو نے کچھ مالکآرٹ گیلری تیریاور یہ اس کی تصویریںبے رحم رواجوں کیمکڑیوں کے جالوں میںنیم جاں مناظر کیڈھیر پر سے کوڑے کےروٹی چنتے بچوں کیشہر کے سلم نامیبے نصب ٹھکانوں کیکتنی بے وقعت ہیں یہجب تلک پکاسو ساکوئی اک مصور انبھوک کھائے ڈھانچوں کوپینٹنگ میں نا جڑ دےکیمرا کوئی جب تکان سلم ٹھکانوں کواوسکر میں نا دھر دےآج کی نمائش میںنامور مصور کےفن پہاونچی بولی کاوہ جو اک تماشہ تھاتو نے دیکھا تھا مالک؟میرے بھوکے ہاتھوں میںکوڑے والی روٹی کاوہ جو ایک ٹکڑا تھاسوکھے پھول کے جیساوہ جو میرا چہرہ تھاآج کی نمائش میںکتنا قیمتی تھا وہآج اک مصور نےکتنا مہنگا بیچا تھااوسکر کے میلے میںمیری گندی بستی کےغم زدہ سلم نے جوصرف چند لمحوں کوافتخار جیتا تھاتو نے دیکھا تھا مالک؟تو بھی تھا وہاں مالک؟تو بھی رویا تھا مالک؟
سوچ لوہے وقت اب بھیورنہ پھر اےبانوئے معصوم و زیرکرنجشیں کتنی کھڑی ہیں راہ میںپھر نہ ساحل تھانہ وہ ساحل کا پتھرجو نظر آیاوہ تا حد نظر پھیلا ہوااک پر آشوب و پر اسراربحر نا پیدا کنارہم نے انساں کا جنم پایاستارے گا رہے تھےکس عمل کے اجرا میںپایا ستاروتم نے انساں کا جنمہم تو انساں کے جنم میں بھی ستارے ہی رہےبے کراں نیلاہٹوں میںرو جھمک اٹھتی ہے رہ رہ کراناکہکشاں در کہکشاں بکھرے ثوابتاور سیاروں کے بیچفاصلے جذب و کشش کےان کی پیمودہ حدیںبڑھتے بڑھتے زاری دائمبنات النعش کیگھٹتے گھٹتے ورطہ دام فنادھوم کیتو بے مہاری میں مگنایک جھالا سا برس کر کھل گیا چنگاریوں کاکتنی تہذیبیں شہابی ٹمٹما کر بجھ گئیں
کیا اس نظام کو جاگیر دار بدلے گا؟جومیرے ووٹ سے منتخب ہوتا ہےاورمیرے خوابوں پر ٹیکس لگاتا ہےکیااس نظام کو سرمایہ دار بدلے گا؟جومجھ سے بارہ گھنٹے کی بیگار لیتا ہےمگرآٹھ گھنٹے کی اجرت دینے پر بھی تیار نہیں!کیا دانشور اس نظام کو بدل سکتا ہے؟مگر وہ توایک پلاٹ یا غیر ملکی دورے کے عوضحکمرانوں کے لیے لغت میں سے ستائشی الفاظجمع کرتا رہتا ہے!تاجر اس نظام کو کیسے بدلے گا؟وہ تو بجٹ کی تمام مراعات سمیٹ کرساری مہنگائیمیرے کھاتے میں درج کر دیتا ہےسیاست دان اس نظام کا محافظ کیوں نہ ہو!کہ اس کی برکت سےوہ سرکاری اسکول اور ڈسپنسری میں اپنی بھینس باندھ سکتا ہےاورسایہ دینے والے غیر سرکاری درخت کے نیچےکلاس لینے والے ضدی ٹیچر کواپنی پجارو سے باندھ کر گھسیٹے جانے کی دھمکی دیتا ہےمیں نےصحافی سے اس نظام کو بدلنے کی درخواست کیمگر وہتھانہ محرر کے پاس بیٹھ کر چائے پینے اور خبریں لکھنے میں مگن تھایہ سب جانتے ہوئےمیں اگلے پانچ سال کے لیےاپنا چہرہ اپنے حلقے کے پٹواری کو دے دوں گاجو اسےعکس شجرہ میں لپیٹ کر رکھ لے گااورووٹ کی پرچی پر میرا انگوٹھا خود ہی لگا لے گا
میں عورت ہوں تخلیق جہاں کا اک سبب بھی ہوںمیں بالکل بے طلب ہوں اور زمانے کی طلب بھی ہوںمیں دیوی پیار کی ہوں حسن ہی میرا وسیلہ ہےخلوص و سادگی زیور وفا میرا قبیلہ ہےہنر جینے کا بخشا علم کا پرچم بھی لہرایاپلے ہیں گود میں میری جنہوں نے مرتبہ پایاوفاداری محبت ہی فقط میرا حوالہ ہےمری اقدار کا ہمسر فقط کوہ ہمالہ ہےپڑھا ہے میرؔ و غالبؔ عصمتؔ و منٹوؔ کو بھی میں نےیہ رنگوں میں بسی ہر داستاں گویا لکھی میں نےبہت فرسودہ رسموں پر جلائی بھی گئی ہوں میںقدامت کے طریقوں سے ستائی بھی گئی ہوں میںتجارت بھی مری ہوتی رہی تہمت سہی میں نےگزاری ہے بہت مرمر کے گویا زندگی میں نےانا کی بھینٹ چڑھ کر آگ کے شعلوں میں جلتی ہوںزمیں میں دفن ہو جاتی ہوں اور بے موت مرتی ہوںبیاہی جاتی ہوں قرآن سے بھی میں یہاں اب تککہ زندہ ہے یہاں پر کاروباری کا جہاں اب تکبہت ہی پست ہوں اور لائق دشنام ہوں میں ہیزنا بالجبر میں بھی مورد الزام ہوں میں ہیمیں انساں ہوں فرشتہ اور ولی میں بھی نہیں کوئیخطا کرتی ہوں گنگا کی دھلی میں بھی نہیں کوئیکہ صبر و شکر سے معمور ہے ایثار سے بھی دلمگر آخر کو تھک جاتا ہے یوں آزار سے بھی دلنہیں درکار کوئی مرتبہ دولت نہ زر مجھ کوخداوندا مری قربانیوں کا دے اجر مجھ کو
لوگ کاغذ سے میرے خواب چاٹتے ہیںاور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہتے ہیںآج بھی نمک ذرا کم رہ گیا ہےیہی ایک جملہ میری اجرت ہےیہ میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوںجو خود خواب نہیں دیکھ سکتےجو دیکھ سکتے ہیںان کا رویہ قدرے بہتر ہے
دکھتی ہڈیاں کہتی ہے آرام کرو ابدل کہتا ہے ابھی نہیں ابھی تو کام پڑا ہے سبمگر ایک اور ہی بولی بولتا ہے دماغپہلے کون سا تیر مار لیا تھا آپ نے جو اب پھر چلے ہیں جوہر دکھانےسرونٹے کا ڈان کھوتے اور سرشار کا خدائی فوجداری بھیتڑپتے ہوں گے قبر میں پڑے پڑےآپ کی بے قراریاں دیکھ کردنیا ہی تو بدل ڈالی آپ نے اپنی تحریروں اور تقریروں سےاور کیا کہنے ہیں آپ کی سیاست کےسوتوں کو جگا دیا آپ نےزیر دستوں کو اٹھا دیا زبردستوں کو گرا دیا آپ نےسچ مچ کا انقلاب ہی تو برپا کر کے رکھ دیا آپ نےچھوڑ جانے دیجیے بہت ہو گئی جنابسنہرے حرفوں میں لکھا جا چکا ہے آپ کا نام ان لکھی تاریخ میںآپ وہ ہیرو ہیں کوئی گیت نہیں گاتا جس کےوہ گمنام سپاہی ہیں جسے صرفآسمان کی آنکھ نے دیکھا ہوتا ہے داد شجاعت دیتےاگر آپ کے ہاتھوں واقعی کوئی اچھا کام سرزد ہو گیا تھا تویقیناً پتا ہوگا اس کا خدا کووہ اس کا ضرور اجر دے گا آپ کواور صبر سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے اجرصبر کیجیے ذرادکھتی ہڈیوں کی بھی سن لیجیے ذرااس خانہ خراب دل کی مان کر ہی تو آپ ہوئے ہیں خانہ خرابہمیشہ بہکایا ہے اس نے آپ کوغلط سلط راستوں پر چلایا ہے آپ کوجہاں چپ رہنے میں مصلحت تھی وہاں بولنے پر اکسایا ہے آپ کوجب ہاتھ بڑھا کر جام اٹھانے کا وقت تھا توانکساری کے چکر میں پھنسایا ہے آپ کوذرا اپنے بدن سے پوچھیے اپنی عمر اور پھر پوچھ کر دیکھیے دل سےآپ ستر کے ہیں نا مگر بدن کہے گا سالاور دل بتائے گا چالیس سالاس دل پر خون کی گلابی نےحلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے اچھے بھلے انسان کاپڑھے لکھے شریف آدمی کو دھکیل دیا ہےسیاست کے قصاب خانے میںبھئی جس کا کام اسی کو ساجے اور کرے تو ٹھینگا باجےآپ کیوں پریشان ہوتے ہیں ہر بری خبر پرویسے کبھی خیر کی خبر بھی آئی ہے وطن عزیز سےیاد نہیں رہا آپ کے تو مرشد بھی کہتے تھے بار باروہ کام ہماری ذمہ داری نہیں ہوتا جس کی انجام دہی کا سامان نہ دے خداعمر فاروق کو زیب دیتا تھا فکر مند ہونافرات کے کنارے بھوک سے مر جانے والے کتے کے لیےاس لیے کہ وہ تھے خلیفۂ وقتتو کن میں خواہ مخواہآپ تو کوتوال بھی نہیں کسی شہر کےاور چلے ہیں پورے ملک کی فکر کرنےبلکہ ساری انسانیت کا غم پال رکھا ہے آپ نے تومیں نے پہلے بھی کہا شاعروں کی بک بک نہ سنا کریں آپ زیادہبقول خدا وہ تو عادی ہیں غلط بیانی کےہاہا کانٹا چبھے کسی کو تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہےآپ کو اوروں کی پڑی ہیں پہلے اپنی تو نبیڑ لیں آپچیرٹی بگنس ایٹ ہوم جنابآئیے سکون سے بیٹھے دو گھڑیزیادہ دیر کھڑے رہنے سے اور بڑھ جائے گا گھٹنے کا دردکیا خیال ہے سبز چائے کے بارے میںیا پھر پی لیجئے ٹھنڈا میٹھا روح افزاسینے آسمانی موسیقی باخ اور موتزارٹ کیڈھیلا چھوڑیئے ذرا اعصاب کوسو جائیے سو جائیے نیند آ جائے اگرلوری دوں آپ کورات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میںبولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہےاور کسی کی نظر نہیں ہےدور سفر پر گئے ہوؤں کے رستوں پر ان گنت دعائیں بچھی ہوئی ہیںاور کسی کو خبر نہیں ہےسب دیکھے ان دیکھے دکھآسیب زدہ تحریروں کو چہرے پر ملتے پھرتے ہیںاور کئی برس سے یوں ہوتا ہےدریا سونا مٹی پیچھے چھوڑ آتے ہیںصحرا کو آبادی کے ساحل پر پھیلاتے آگے بڑھ جاتے ہیںرزق کے پیچھے بھاگتی آنکھیں جسموں کے ڈھانچوں میں الجھ گئی ہیںکوئی بساط وقت پہ رکھے مہروں کو چلنے سے پہلےایک نظر ان سب چہروں پر ڈالتا ہےپھر اک مہرہ چل دیتا ہےدور پہاڑوں کے اس جانب جلتا سورج رات کے خیموں میں چپ بیٹھاآنے والے کل کی بابت سوچ رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books