aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".bof"
تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہترتعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھاوہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکناسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھیجب فکر دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہےہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہےہر صبح کی لو تیر سی سینے میں لگی ہے
کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے ان گونوں بھاری بھاری کےجب موت کا ڈیرا آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کےکیا ساز جڑاؤ زر زیور کیا گوٹے تھان کناری کےکیا گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کےسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
میں بوجھ کاندھوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوںتمہارا جیسے جنازہ اٹھا کے چلتا تھایہاں پہ میری پریشانی صرف میری ہےوہاں کوئی نہ کوئی کاندھا تو بدلتا تھا
جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےمیں تو ڈر جاتا ہوں لیکنکمرے کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیںوہ اک ایسی آگ ہے جس کو صرف دہکنے سے مطلب ہےوہ اک ایسا پھول ہے جس پر اپنی خوشبو بوجھ بنی ہےوہ اک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہےاس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکنپانی کون پکڑ سکتا ہےوہ رنگوں سے واقف ہےبلکہ ہر اک رنگ کے شجرے تک سے واقف ہےاس کو علم ہے کن خوابوں سے آنکھیں نیلی پڑ جاتی ہیںہم نے جن کو نفرت سے منسوب کیاوہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہےکبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پنسل لے کر ایسی سطریں کھینچتی ہےسب کچھ سیدھا ہو جاتا ہےوہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہےصرف اسی کے ہاتھوں سے دنیا ترتیب میں آ سکتی ہےہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ ہےلیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہےہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیںہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہےمیری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تومحسوس نہیں ہونے دیتیلیکن اپنے ہونے سے اکتا جاتی ہےاس کو وقت کی پابندی سے کیا مطلب ہےوہ تو بند گھڑی بھی ہاتھ میں باندھ کے کالج آ جاتی ہے
ساری قوموں کے گناہوں کا کڑا بوجھ لئےعمر بھر صورت عیسیٰ جو سر دار رہا
تیرے نازک سے پروں پر یہ زر و سیم کا بوجھتیری پرواز کو آزاد نہ ہونے دے گاتو نے راحت کی تمنا میں جو غم پالا ہےوہ تری روح کو آباد نہ ہونے دے گا
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنومرد ہو تم کسی کے کام آؤورنہ کھاؤ پیو چلے جاؤجب کوئی زندگی کا لطف اٹھاؤدل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤپہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاککرو دامن سے تا گریباں چاککھانا کھاؤ تو جی میں تم شرماؤٹھنڈا پانی پیو تو اشک بہاؤکتنے بھائی تمہارے ہیں نادارزندگی سے ہے جن کا دل بیزارنوکروں کی تمہارے جو ہے غذاان کو وہ خواب میں نہیں ملتاجس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہوواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کوکھاؤ تو پہلے لو خبر ان کیجن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑیپہنو تو پہلے بھائیوں کو پہناؤکہ ہے اترن تمہاری جن کا بناؤایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمرہے کوئی ان میں خشک اور کوئی ترسب کو ہے ایک اصل سے پیوندکوئی آزردہ ہے کوئی خورسندمقبلو! مدبروں کو یاد کروخوش دلو غم زدوں کو شاد کروجاگنے والے غافلوں کو جگاؤتیرنے والو ڈوبتوں کو تراؤہیں ملے تم کو چشم و گوش اگرلو جو لی جائے کور و کر کی خبرتم اگر ہاتھ پاؤں رکھتے ہولنگڑے لولوں کو کچھ سہارا دوتندرستی کا شکر کیا ہے بتاؤرنج بیمار بھائیوں کا ہٹاؤتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیرہو مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہموجعفری ہووے یا کہ ہو حنفیجین مت ہووے یا ہو ویشنویسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کوملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آبادہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کرقوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہات دھو بیٹھیایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی پڑنے تم پہ نگاہپھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئیپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگےکبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹاکبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیاسب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کییہ بھی تم پر خدا کا تھا انعامکہ پڑا تم کو ایسی قوم سے کامورنہ دم مارنے نہ پاتے تمپڑتی جو سر پہ وہ اٹھاتے تمملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہے غیروں سے
کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہےاتنا تو کڑا سفر نہیں تھاوہ چار قدم کا فاصلہ کیاپھر راہ سے بے خبر نہیں تھالیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹیہ حال تو عمر بھر نہیں تھا
زندگی کے پیڑ سےایک پتا اور گر کرڈھیر میں گم ہو گیا ہےڈھیر ان پتوں کا جو پہلے گرے تھےہنس رہا ہےزندگی کا پیڑ خوش ہےجیسے اس کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے
اک پرندہ کسی اک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیںایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانبپوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسےاک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئیآمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچےگوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہےنازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میںاور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلےکوئلیں کوکتی ہیںجامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہےارغنوں بجتا ہے یکجائی کانیم کے پیڑوں میں جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھرساونی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سواور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساریمیں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوںایک ہی کم ہے، وہی چہرہ نہیںآخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کرکیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ ناملو یہ سپنے میں ہیں، اک کہتی ہےباؤلی سپنا نہیں، شہر سے آئے ہیں ابھیدوسری ٹوکتی ہےبات سے بات نکل چلتی ہےٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہابینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولیاور دلہن پہ ہوا کتنا بکھیرکچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرفاتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی، کہ نہیںجس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟کیوں نہیں بہتی، چنبیلی نے کہااور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟وہ بھی قائم ہے ابھی تک یونہیوعدہ کر کے جو حبیبہؔ نہیں آتی تھی کبھیآنکھیں دھوتا تھا ندی میں جاکراور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا
سنگ دل رواجوں کییہ عمارت کہنہاپنے آپ پر نادماپنے بوجھ سے لرزاںجس کا ذرہ ذرہ ہےخود شکستگی ساماںسب خمیدہ دیواریںسب جھکی ہوئی گڑیاں
کندھے جھک جاتے ہیں جب بوجھ سے اس لمبے سفر کےہانپ جاتا ہوں میں جب چڑھتے ہوئے تیز چڑھانیںسانسیں رہ جاتی ہیں جب سینے میں اک گچھا سا ہو کراور لگتا ہے کہ دم ٹوٹ ہی جائے گا یہیں پر
گر ترے شہر میں آئے ہیں تو معذور ہیں ہموقت کا بوجھ اٹھائے ہوئے مزدور ہیں ہمایک ہی جاب پہ مدت سے بدستور ہیں ہمبشؔ سے نزدیک مشرفؔ سے بہت دور ہیں ہم
اب مرا ہاتھ کون تھامے گاکون اب میرا بوجھ اٹھائے گا
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنوتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیرہوں مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہموسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کوملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آبادہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیونکرقوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھیایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی تم پہ پڑنے نگاہپھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئیپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگےکبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹاکبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیاسب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کیملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہی غیروں سے
بام و در خامشی کے بوجھ سے چورآسمانوں سے جوئے درد رواںچاند کا دکھ بھرا فسانۂ نورشاہراہوں کی خاک میں غلطاںخواب گاہوں میں نیم تاریکیمضمحل لے رباب ہستی کیہلکے ہلکے سروں میں نوحہ کناں
یہ عزت بوجھ ہے شایدجہاں پر دب گئی ہوں میںہر اک شب جاگتے گزریکہ سونے کب گئی ہوں میں
بوجھ سے اپنے اس کی کمر جھک گئیقد مگر اور کچھ اور بڑھتا رہاخیر و شر کی کوئی جنگ ہوزندگی کا ہو کوئی جہادوہ ہمیشہ ہوا سب سے پہلے شہیدسب سے پہلے وہ سولی پہ چڑھتا رہا
بہتامیدوں کا بوجھکاندھوں پہ لے کے پڑھناسبھی کےخوابوں کواپنی آنکھوں میںبھر کے پڑھنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books