aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".ienf"
اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچاپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگااور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ
مگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئے
گو آگ سے چھاتی جلتی تھی گو آنکھ سے دریا بہتا تھاہر ایک سے دکھ نہیں کہتا تھا چپ رہتا تھا غم سہتا تھا
کب تلک آنکھ نہ کھولے گا زمانے کا ضمیرظلم اور جبر کی یہ ریت چلے گی کب تک
پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہےاور مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںتم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
گلی کے موڑ پہ سونا سا کوئی دروازہترستی آنکھ میں رستہ کسی کا دیکھے گا
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیںجب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سےتیرے انفاس ترے جسم کی آنچ آتی ہے
لاکھ فضا میں گیت سے گونجےلیکن میں نے آنکھ نہ کھولی
جو ہاتھ بڑھے یاور ہے یہاںجو آنکھ اٹھے وہ بختاور
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھابات اس دئے کی ہے
پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھےآنکھ کھلی تو دیکھا گھر میں کوئی نہیں تھا
تیری آنکھ کے آنسو میرےتیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری
نہ کسی آنکھ کی آہٹ، نہ کسی چہرے کا شوردور تک کوئی نہیں، کوئی نہیں، کوئی نہیں
کی آنچ میں تو یہی شرر ہےہر اک سیہ شاخ کی کماں سے
وہ دل کہ تیرے لیے بے قرار اب بھی ہےوہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books