aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".uzza"
ہدف ہوں گے تمہارا کون تم کس کے ہدف ہوگےنہ جانے وقت کی پیکار میں تم کس طرف ہوگےہے رن یہ زندگی اک رن جو برپا لمحہ لمحہ ہےہمیں اس رن میں کچھ بھی ہو کسی جانب تو ہونا ہےسو ہم بھی اس نفس تک ہیں سپاہی ایک لشکر کےہزاروں سال سے جیتے چلے آئے ہیں مر مر کےشہود اک فن ہے اور میری عداوت بے فنوں سے ہےمری پیکار ازل سےیہ خسروؔ میرؔ غالبؔ کا خرابہ بیچتا کیا ہےہمارا غالبؔ اعظم تھا چور آقائے بیدلؔ کاسو رزق فخر اب ہم کھا رہے ہیں میرؔ بسمل کاسدھارت بھی تھا شرمندہ کہ دو آبے کا باسی تھاتمہیں معلوم ہے اردو جو ہے پالی سے نکلی ہےوہ گویا اس کی ہی اک پر نمو ڈالی سے نکلی ہے
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کاجو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہےمرا قلم نہیں اس دزد نیم شب کا رفیقجو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
اردو کا غم مرگ سبک بھی ہے گراں بھیہے شامل ارباب عزا شاہ جہاں بھیمٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھییہ میت غم دہلی مرحوم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
جہاں زاد میں نے حسن کوزہ گر نےبیاباں بیاباں یہ درد رسالت سہا ہےہزاروں برس بعد یہ لوگریزوں کو چنتے ہوئےجان سکتے ہیں کیسےکہ میرے گل و خاک کے رنگ و روغنترے نازک اعضا کے رنگوں سے مل کرابد کی صدا بن گئے تھےمیں اپنے مساموں سے ہر پور سےتیری بانہوں کی پہنائیاںجذب کرتا رہا تھاکہ ہر آنے والے کی آنکھوں کے معبد پہ جا کر چڑھاؤںیہ ریزوں کی تہذیب پا لیں تو پا لیںحسن کوزہ گر کو کہاں لا سکیں گےیہ اس کے پسینے کے قطرے کہاں گن سکیں گےیہ فن کی تجلی کا سایہ کہاں پا سکیں گےجو بڑھتا گیا ہے زماں سے زماں تکخزاں سے خزاں تکجو ہر نوجواں کوزہ گر کی نئی ذات میںاور بڑھتا چلا جا رہا ہے!وہ فن کی تجلی کا سایہ کہ جس کی بدولتہمہ عشق ہیں ہمہمہ کوزہ گر ہمہمہ تن خبر ہمخدا کی طرح اپنے فن کے خدا سر بسر ہمآرزوئیں کبھی پایاب تو سریاب کبھیتیرنے لگتے ہیں بے ہوشی کی آنکھوں میں کئی چہرےجو دیکھے بھی نہ ہوںکبھی دیکھے ہوں کسی نے تو سراغ ان کاکہاں سے پائےکس سے ایفا ہوئے اندوہ کے آداب کبھیآرزوئیں کبھی پایاب تو سریاب کبھی
وہ وقت کبھی تو آئے گا جب دل کے چمن لہرائیں گےمر جاؤں تو کیا مرنے سے مرے یہ خواب نہیں مر جائیں گےیہ خواب ہی میری دولت ہیں یہ خواب تمہیں دے جاؤں گااس دہر میں جینے مرنے کے آداب تمہیں دے جاؤں گاممکن ہے کہ یہ دنیا کی روش پل بھر کو تمہارا ساتھ نہ دےکانٹوں ہی کا تحفہ نذر کرے پھولوں کی کوئی سوغات نہ دےممکن ہے تمہارے رستے میں ہر ظلم و ستم دیوار بنےسینے میں دہکتے شعلے ہوں ہر سانس کوئی آزار بنےایسے میں نہ کھل کر رہ جانا اشکوں سے نہ آنچل بھر لیناغم آپ بڑی اک طاقت ہے یہ طاقت بس میں کر لیناہو عزم تو لو دے اٹھتا ہے ہر زخم سلگتے سینے کاجو اپنا حق خود چھین سکے ملتا ہے اسے حق جینے کالیکن یہ ہمیشہ یاد رہے اک فرد کی طاقت کچھ بھی نہیںجو بھی ہو اکیلے انساں سے دنیا کی بغاوت کچھ بھی نہیںتنہا جو کسی کو پائیں گے طاقت کے شکنجے جکڑیں گےسو ہاتھ اٹھیں گے جب مل کر دنیا کا گریباں پکڑیں گےانسان وہی ہے تابندہ اس راز سے جس کا سینا ہےاوروں کے لیے تو جینا ہی خود اپنے لیے بھی جینا ہے
ہڈیاں جسم کی نکلی ہوئی پچکے ہوئے گالمیلے سر میں جوئیں، اعضا سے ٹپکتا ہوا کوڑھروح بیمار، بدن سست، نگاہیں پامالہاتھ پھیلائے پڑے رہتے ہیں روگی انسان
سوم رس میں نے پیارات دن رقص کیاناچتے ناچتے تلوے مرے خوں دینے لگےمرے اعضا کی تھکنبن گئی کانپتے ہونٹوں پہ بھجنہڈیاں میری چٹخنے لگیں ایندھن کی طرحمنتر ہونٹوں سے ٹپکنے لگے روغن کی طرح''اگنی ماتا مری اگنی ماتاسوکھی لکڑی کے یہ بھاری کندےجو تری بھینٹ کو لے آیا ہوںان کو سویکار کر اور ایسے دھدھککہ مچلتے شعلے کھینچ لیں جوش میںسورج کی سنہری زلفیںآگ میں آگ ملےجو امر کر دے مجھےایسا کوئی راگ ملے''
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
تیرے بستر پہ مری جان کبھیبے کراں رات کے سناٹے میںجذبۂ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوشاور لذت کی گراں باری سےذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کیاور کہیں اس کے قریبنیند، آغاز زمستاں کے پرندے کی طرحخوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیےاپنے پر تولتی ہے، چیختی ہےبے کراں رات کے سناٹے میں!تیرے بستر پہ مری جان کبھیآرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میںظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!
میرے اعضا پر اعتبار کرمیں حیرتوں کا انکار ہوںمختلف رنگ کے چراغاور پانیوں کی زبانیںآدمی انسان ہونے چلا تھا کہ کنواں سوکھ گیاکیا آدمی نے کنویں میں نفرت پھینک دی تھینہیںوہ صدا گنبد کو توڑتی ہوئیتھوڑا سا آسمان بھی توڑ لائی تھیچادر اور آواز کو تہہ کر کے رکھ دولوٹنے تک میری آواز دھرتی پہ گونجتی رہےجیسے جیسے تم جاؤ گےختم ہوتے جاؤ گےتم دو آنکھیں رکھنا مگر فاصلے کو بیدار مت کرناآنکھوں کی ٹک ٹک سارا جنگل جانتا ہے
ہمارے اس محلے میںخدا کے فضل سے ہر سمت ڈھیروں ڈھیر بچے تھےکبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ سب عثمان بابا پراچانک ساتھ ہی یلغار کرتے تھےمگر پھر بھی برابر سےنہ جانے کس طرح ہم سب میں وہ جنگل جلیبی بانٹ دیتا تھا
دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑباتیں ان کی ساری گڑبڑراہ چلیں تو رستہ بھولیںبس میں جائیں تو بستہ بھولیںپورب جائیں پچھم پہنچیںمنزل پر اپنی کم پہنچیںٹوپی ہے تو جوتا غائبجوتا ہے تو موزہ غائبپیالی میں ہے چمچہ الٹاپھیر رہے ہیں کنگھا الٹاکام ہے ان کا سارا الٹااور تو اور پجامہ الٹالوٹ پڑیں گے چلتے چلتےچونک اٹھیں گے بیٹھے بیٹھےسودا دے کر دام نہ دیں گےدام دئے تو چیز نہ لیں گےکوئی پکارے دام تو لاؤکوئی کہے بنڈل تو اٹھاؤتیرنے جائیں گھڑی بھول آئیںباغ میں جائیں چھڑی بھول آئیںوہ تو یہ کہئے کہ خدا نےجوڑ دئے ہیں اعضا تن سےباندھ رکھے ہیں سب کل پرزےورنہ ہر روز آپ یہ سنتےگر گئی میری داہنی چھنگلیڈھونڈ رہا ہوں بیچ کی انگلیکیا کہئے اوسان ہیں غائبکل سے دونوں کان ہیں غائبایک تو صابن دان میں پایاایک نہ جانے کس نے اڑایاران ایک لپٹی شال سے نکلیناک بندھی رومال میں نکلیتم نے تو نہیں دیکھی بھائیکھونٹی پر تھی کھال ہماریبھولے کہیں سر اور کہیں دھڑہائے بچارے بھائی بھلکڑ
بیست و شش سال در خدمت فن بسر کردہ امبہ چشم نم اوراق تر کردہ امدر فقیری گزر کردہ امحرف سر کردہ امیہ جو لفظوں کی پیغمبری ہے نہ ہوتی تو عبرتسرا میں بھلا کون جیتامیں لفظوں میں سسکارتا ہوںسنا تم نے سرنغمۂ تازہ کا یہ کتنے قرنوں سے دل میں کسیسل کی صورت جما تھایہ جوئے رواں تم تک آئی مگر کتنےخورشید و مہتاب آہنگبنتے ہوئے بجھ گئےکتنے دن گل ہوئےکتنی راتیں ڈھلیںخیر کیسا حسابایسے نغموں میں خوں اور چراغوں کے روغن کا ایکپرسہ کسے دوںبھلا کوئی عزا دار ہےپرسہ داروں کی تمثیل میں کوئی وقفہ نہیں
کچھ نہیں کچھ بھی نہیں آج عزا خانے میںآج خس خانۂ خواہش میں فقط راکھ ہے راکھوہ کسی دست ہنر ور کا تراشا ہوا تلکف ضو ریز کو شرماتا تھا ماہ کاملوہ تری ساعد سیمیں کا زمرد بھی خجل
شہید جور گلچیں ہیں اسیر خستہ تن ہم ہیںہمارا جرم اتنا ہے ہوا خواہ چمن ہم ہیںستانے کو ستا لے آج ظالم جتنا جی چاہےمگر اتنا کہے دیتے ہیں فرداے وطن ہم ہیںہمارے ہی لہو کی بو صبا لے جائے گی کنعاںملے گا جس سے یوسف کا پتہ وہ پیرہن ہم ہیںہمیں یہ فخر حاصل ہے پیام نور لائے ہیںزمیں پہلے پہل چومی ہے جس نے وہ کرن ہم ہیںسلا لے گی ہمیں خاک وطن آغوش میں اپنینہ فکر گور ہے ہم کو نہ محتاج کفن ہم ہیںبنا لیں گے ترے زنداں کو بھی ہم غیرت محفللیے اپنی نگاہوں میں جمال انجمن ہم ہیںنہیں تیشہ تو سر ٹکرا کے جوئے شیر لائیں گےبیابان جنوں میں جانشین کوہ کن ہم ہیںزمانہ کر رہا ہے کوششیں ہم کو مٹانے کیہلا پاتا نہیں جس کو وہ بنیاد کہن ہم ہیںنہ دولت ہے نہ ثروت ہے نہ عہدہ ہے نہ طاقت ہےمگر کچھ بات ہے ہم میں کہ جان انجمن ہم ہیںترے خنجر سے اپنے دل کی طاقت آزمانا ہےمحبت ایک اپنی ہے ترا سارا زمانہ ہےفدائے ملک ہونا حاصل قسمت سمجھتے ہیںوطن پر جان دینے ہی کو ہم جنت سمجھتے ہیںکچھ ایسے آ گئے ہیں تنگ ہم کنج اسیری سےکہ اب اس سے تو بہتر گوشۂ تربت سمجھتے ہیںہمارے شوق کی وارفتگی ہے دید کے قابلپہنچتی ہے اگر ایذا اسے راحت سمجھتے ہیںنگاہ قہر کی مشتاق ہیں دل کی تمنائیںخط چین جبیں ہی کو خط قسمت سمجھتے ہیںوطن کا ذرہ ذرہ ہم کو اپنی جاں سے پیارا ہےنہ ہم مذہب سمجھتے ہیں نہ ہم ملت سمجھتے ہیںحیات عارضی صدقے حیات جاودانی پرفنا ہونا ہی اب اک زیست کی صورت سمجھتے ہیںہمیں معلوم ہے اچھی طرح تاب جفا تیریمگر اس سے سوا اپنی حد الفت سمجھتے ہیںغم و غصہ دکھانا اک دلیل ناتوانی ہےجو ہنس کر چوٹ کھاتی ہے اسے طاقت سمجھتے ہیںغلامی اور آزادی بس اتنا جانتے ہیں ہمنہ ہم دوزخ سمجھتے ہیں نہ ہم جنت سمجھتے ہیںدکھانا ہے کہ لڑتے ہیں جہاں میں با وفا کیوں کرنکلتی ہے زباں سے زخم کھا کر مرحبا کیوں کر
دل پذیریٔ اذاں دل داریٔ ناقوس دیرصحن مسجد کا تقدس پرتو فانوس دیر
درخت آسیب زادگاں دیو پیکراںچہچہے کراہیںیہ پات نوحے پہ سینہ کوبی میں گم عزا دارشاخچے برچھیوں کے پھلغنچے زخم نا آشنائے مرہم
عندلیبوں کو ملی آہ و بکا کی تعلیماور پروانوں کو دی سوز وفا کی تعلیمجب ہر اک چیز کو قدرت نے عطا کی تعلیمآئی حصے میں ترے ذوق فنا کی تعلیمنرم و نازک تجھے اعضا دیئے جلنے کے لیےدل دیا آگ کے شعلوں پہ پگھلنے کے لیےرنگ تصویر کے پردے میں جو چمکا تیراخود بہ خود لوٹ گیا جلوۂ رعنا تیراڈھال کر کالبد نور میں پتلا تیراید قدرت نے بنایا جو سراپا تیرابھر دیا کوٹ کے سوز غم شوہر دل میںرکھ دیا چیر کے اک شعلۂ مضطر دل میںتو وہ تھی شمع کہ پروانہ بنایا تجھ کوتو وہ لیلیٰ تھی کہ دیوانہ بنایا تجھ کورونق خلوت شاہانہ بنایا تجھ کونازش ہمت مردانہ بنایا تجھ کوناز آیا ترے حصے میں ادا بھی آئیجاں فروشی بھی، محبت بھی، وفا بھی آئیآئی دنیا میں جو تو حسن میں یکتا بن کرچمن دہر میں پھولی گل رعنا بن کررہی ماں باپ کی آنکھوں کا جو تارا بن کردل شوہر میں رہی خال سویدا بن کرحسن خدمت سے شگفتہ دل شوہر رکھاکہ قدم جادۂ طاعت سے نہ باہر رکھاتیری فطرت میں مروت بھی تھی غم خواری بھیتیری صورت میں ادا بھی طرح داری بھیجلوۂ حسن میں شامل تھی نکو کاری بھیدرد آیا ترے حصے میں، تو خودداری بھیآگ پر بھی نہ تجھے آہ مچلتے دیکھاتپش حسن کو پہلو نہ بدلتے دیکھاتو وہ عصمت کی تھی او آئینہ سیما تصویرحسن سیرت سے تھی تیری متجلا تصویرلاکھ تصویروں سے تھی اک تری زیبا تصویرتجھ کو قدرت نے بنایا تھا سراپا تصویرنور ہی نور ترے جلوۂ مستور میں تھاانجم ناز کا جھرمٹ رخ پر نور میں تھالب میں اعجاز حیا چشم فسوں ساز میں تھیکہ قیامت کی ادا تیرے ہر انداز میں تھیشکل پھرتی جو تری دیدۂ غماز میں تھیبرق بے تاب تری جلوہ گاہ ناز میں تھییہ وہ بجلی تھی قیامت کی تڑپ تھی جس میںشعلۂ نار عقوبت کی تڑپ تھی جس میںیہ وہ بجلی تھی جو تیغ شرر افشاں ہو کرکوند اٹھی قلعہ چتورؔ میں جولاں ہو کریہ وہ بجلی تھی جو سوز غم حرماں ہو کرخاک سی لوٹ گئی تیری پشیماں ہو کریہ وہ بجلی تھی، تجھے جس کے اثر نے پھونکارفتہ رفتہ تپش سوز جگر نے پھونکاآہ و عشوہ و انداز و ادا کی دیویآہ او ہند کے ناموس وفا کی دیویآہ او پرتو انوار صفا کی دیویاو زیارت کدۂ شرم و حیا کی دیویتیری تقدیس کا قائل ہے زمانہ اب تکتیری عفت کا زباں پر ہے فسانہ اب تکآفریں ہے تری جاں بازی و ہمت کے لیےآفریں ہے تری عفت تری عصمت کے لیےکیا مٹائے گا زمانہ تری شہرت کے لیےکہ چلی آتی ہے اک خلق زیارت کے لیےنقش اب تک تری عظمت کا ہے بیٹھا دل میںتو وہ دیوی ہے، ترا لگتا ہے میلہ دل میں
اس کے بعد:بھیگی رات کا نشہ ٹوٹا ڈوب گیا ہے چڑھتا چاندتھکے تھکے ہیں اعضا سارے اور ہوئیں پلکیں بوجھلشبنم کا رس پی گئیں کرنیں دن کا رنگ چمک اٹھاگونج ہے بھنوروں کی کانوں میں پر ہیں آنکھوں سے اوجھلحسن اور عشق کی اس دنیا میں کس نے کس کا ساتھ دیامیں اپنے رستے جاتا ہوں اور تو اپنی ڈگر پر چل!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books