aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".ynb"
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میںقاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہےہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہوکہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہےاس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہیظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قومظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہےپھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پرتاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہےکچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہییہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہےیہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطےجو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کووہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطےپھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پردیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئےدولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھاخوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئےجو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تکوہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئےکیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کامرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئےبے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیبوہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئےجمہوریت نواز بشر دوست امن خواہخود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئےمذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہےوہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئےہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہیکجہتئ حیات کے آداب کیا ہوئےصحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگیابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئےمجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہواے رہبران قوم خطا کار تم بھی ہو
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
اس ایک دن کو جو ہے عمر کے زوال کا دنانہیں دنوں میں نمویاب کون دیکھے گا
مارکس کے علم و فطانت کا نہیں کوئی جوابکون اس کے درک سے ہوتا نہیں ہے فیض یاب
میں تری کھوئی ہوئی عظمت کو واپس لاؤں گااور ترے مرقد پہ نصرت یاب ہو کر آؤں گا
صبح فرغانہ میں تھی اور ہوئی رنگوں میں شامآل تیمور کی آشفتہ سری تجھ کو سلاملمعۂ آخر خورشید سراج الدین تھامقطع درد فزا غزل رنگیں تھاوہ شہ نیک نفس نیک نسب نیک نژادوہ شہ نیک نظر نیک نشاں نیک نہادپیکر خلق و وفا خوگر اعمال حسنخسرو فکر رسا بادشہ فہم و فطنصاحب طرز نوی مالک انداز کہنفخر دیں فخر زمیں فخر زماں فخر زمنلال قلعے کا وہ صوفی وہ محبت کا امیںجس کی مٹی سے بھی محروم ہے دلی کی زمیںمرتبہ دان ادیبان و حکیمان وطنقدر دان شعر اے ہمہ دان و ہمہ فنغالبؔ و ذوقؔ کے افکار کا وہ قدر شناسجس کو تھا مومنؔ و آزردہؔ کی عظمت کا پاسارض دلی نے بغاوت کا جب اعلان کیاسرخ رو ہو گیا اولاد کو قربان کیاجب بدیسی کی حکومت سے زمیں تنگ ہوئیاسی قاعد کی قیادت میں بڑی جنگ ہوئیجس کا دربار تھا اک مجمع عالی نفساںجس جگہ کوثر و تسنیم سے دھلتی تھی زباںساز ہندی کی نوا نغمۂ اردو کی صداجس کے اشعار سے آتی ہے اخوت کی ندامرد درویش شرافت کا گنہ گار بھی تھاپارسا رند بھی تھا شاعر دیندار بھی تھاجس کو کہتے ہیں زمینوں کا شہ عرش نشاںمشکل اصناف سخن جس کے لئے تھے آساںنہ ہو اگرچہ ظفر مند و ظفر یاب مگرفلک شعر پہ تابندہ ہے از نام ظفر
قضا سے بات کروقضا سے بات مگر کیاکہ ہر قبیلۂ درداک ایسے جبر ازل یاب کا حوالہ ہےجو پہلے دن کی گواہی سند میں لاتا ہےاگر جواب سے پھر اک سوال بنتا ہےفنا کے واسطے کیوں باب حرف باز رہےبہا جہان کی لا ہے تو لا سے بات کروابتدا سے بات کرو
اس نے سوچایاد گاری چوک میں چاروں طرفیہ بولتے بازار ہیںاس لیے افسردگی میں گم کھڑےاس بید مجنوں پرنظر پڑتی نہیںجو اکیلا رہ گیا ہے قصہ خوانوں میں یہاںبے رنگ اکھڑتی چھال پرچاقو سے کندہ نام پھیکا پڑ گیا ہےکندہ کاری جا ملی ہے خاک سےوقت کی غفلت نے کیا ثابت کیازخم کھانے اور لگانے والوں میںکون فتح یاب ہیں
آج بھی بھیڑ تھی لوگوں کی مرے چاروں طرفمیں نے ہر ایک کو باتوں میں سکوں یاب کیاپھر کوئی دور سے دیتا ہے صدا کون ہو تمآئے ہو کون سی نگری سے ذرا نام تو لو
زندگی کے شور میںوقت کا فتور ہےحق شکست یاب ہےباطلوں کا راج ہےظلمتوں کے دور میںچل پڑا ہے اک ہجوممنزلوں کی جستجوراستے ہیں پر خطرلڑکھڑاتے یہ قدمہاتھ میں لیے قلمشاعروں کا قافلہشہر حسن چھوڑ کرنور کی تلاش میں
وہاں ہوں میںجہاں چاروں طرف میرےسمندر آنسوؤں کے بہہ رہے ہیںاگر میں بھاگنا چاہوںتو ان میں ڈوب جاؤں گامفر کا راستہ کوئی نہیں ہےتو میں اک جیل میں رکھے گئےاک ایسے قیدی کی طرح ہوںکہ جس کو کاٹنی ہوگی سزائے قید عمرمگر کس جرم کی پاداش میںایسی سزا کاٹوںہر اک قیدی سزائے عمر دوراں کاٹ کرآزاد سمتوں میں روانہ ہو چکا ہےمگر میں آج بھی انجانے جرموں کا سزا یابصلیب غم اٹھائے پھر رہا ہوںمیں اپنی ذات کے تنہا جزیرے میں رہوں کب تک
میں نے کب عشق کے آداب سکھائے تم کوکب کہا ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دومیں مسافر تھی ترے شہر میں اک روز فقطرات آنکھوں میں بسر کرنے چلی آئی تھیتو نے اس جسم مجسم کو اشارہ دے کراپنی بے لوث وفاؤں کا سہارا دے کرحسن کو عشق کے پیکر میں بدل ڈالا تھامیں جو الفت کو گراں یاب سمجھتی تھی کبھیلعل و گوہر جسے نایاب سمجھتی تھی کبھیتو نے وہ قیمتی پتھر مری جھولی میں بھرےتو مری سوچ سے آگے مرے خوابوں سے پرےمجھے الفت کے کئی شہر گھما لایا تھامیں جو تتلی کے تعاقب میں پھرا کرتی تھیپھول در پھول ہواؤں میں اڑا کرتی تھیتو نے اک روز جو ہولے سے چھوا تھا مجھ کواسی لمحے میں یہ احساس ہوا تھا مجھ کومیں ہی تتلی ہوں ہوا ہوں میں وفا کی خوشبومیں ہی نازک سی کلی ہوں میں حیا کی خوشبومیری آنکھوں سے جہاں بھر کے ستارے روشنصرف دو چار نہیں سارے کے سارے روشنپر اچانک ہی مجھے چھوڑ کے جانے والےمیری آنکھوں کو بھی پتھر کا بنانے والےوہ ترا عشق سرابوں کی طرح ہی تھا ناتو حقیقت میں بھی خوابوں کی طرح تھا جاناںاب یہ سوچوں تو مجھے یہ بھی گماں ہوتا ہےیار یہ روگ محبت بھی ہے ساحر کی طرحجس کو لگ جائے پریتم ہی بنا دیتا ہےپہلے عاشق کو دکھاتا ہے کئی خواب حسیںپھر انہیں چھین کے آنکھوں کو سزا دیتا ہے
سب میں شامل ہےلب ساحل پہ اجلے سنگریزوں کا وجودجگمگاتی سی جبینوں سےیہ اندازہ بھی کر سکتے ہیںوہ مطمئن سے ہیں مگرتشنگی کا کربہونٹوں سے بیاں ہوتا نہیںآتی جاتی موج دریایہ سمجھتی ہے ہمیشہسنگریزے بھی ہیں اس سے فیض یابجب بھی چھوٹی سنگریزوں سے ردائے احتیاطان کی صف پردھوپ کا حملہ ہواتشنگی کا ماجرا رسوا ہوا
فنا ہونے لگتا ہے جس وقت دھرممسیحا نفس بن کے آتا ہوں میںعطا کر کے اس کو نئی زندگیتباہی کی زد سے بچاتا ہوں میںمٹا کر زمانے سے باطل کا نامصداقت کا ڈنکا بجاتا ہوں میںکمر بستہ ہوتے ہیں جو جنگ پرانہیں راہ الفت دکھاتا ہوں میںسنیں جو نہ پھر بھی نصیحت مریزمانے سے ان کو مٹاتا ہوں میںجو لڑتے ہیں دنیا میں حق کے لئےظفر یاب ان کو بناتا ہوں میںبجا کر کبھی تو مدھر بنسریمحبت کے نغمے سناتا ہوں میںکبھی گرم کرتا ہوں میدان جنگشجاعت کے جوہر دکھاتا ہوں میںکبھی جنگ میں بہر عرفان حقفصاحت کے دریا بہاتا ہوں میںسکھا کر بشر کو رموز حیاتفرشتوں کا ہمسر بناتا ہوں میںجو لاتے ہیں ایماں مری ذات پرگناہوں سے ان کو بچاتا ہوں میںانہیں بخشتا ہوں بقائے دوامجنہیں معتقد اپنا پاتا ہوں میںشرن میں جو آتے ہیں صابرؔ مریتناسخ سے ان کو چھڑاتا ہوں میں
ہزاروں دوانے تری راہ میںسر کٹانے کو تیار بیٹھے ہوئے ہیںتیری زلفوں کی ہلکی سی جنبش پہیہ رات کی تیرگیکہکشاؤں کی جھرمٹفلک در فلک اور جہاں در جہاںعالم وجد میں آ گئے ہیںتیری آنکھوں کی مستی کے آگےاہل مشرق و مغرب کے سب میکدےپھیکے پڑے ہیںتیری ہونٹوں کی لالی کی بس اک جھلک دیکھ کرگل و لالہ و یاسمن و نرگس و حناباغ کے ایک گوشے میں حیرت سے مرجھا گئیں ہیںیہ سب ٹھیک ہیں اور بجا ہےمگر ایک عاشق سوختہ بختسوختہ دل لیےاپنے کمرے کے کونے میںچپ چاپ تیری جدائی میں نوحہ کناں ہےوہ عاشق درد کی چارپائی پہ لیٹا ہواموت اور زندگی سے الجھتا ہوارات بھر جاگتا ہےتجھے کچھ خبر ہےوہ عاشقتری ایک بس ایکچشم کرم سے شفا یاب ہو گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books