aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHidmat-e-urduu-e-mo.allaa"
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
غزلوں کے اے شہنشاہ میرؔ جہان اردوباقی نہیں جہاں میں نام و نشان اردوخون جگر سے تو نے جس ریختہ کو سینچاعالم میں نزع کے ہے ملتا نہیں مسیحاجس باغ میں پلی تھی اس میں سبھی نے مسلاجس گلستاں کی جاں تھی اس میں بھی اب ہے رسواجس کی زبانوں پر ہے کم ایسے رہ گئے ہیںبہوٹ میں وقت ہی کی سب لوگ بہہ گئے ہیںاہل زباں نے چھوڑا دانشور اٹھ رہے ہیںرسوائی ہے مقدر جس سمت بھی گئے ہیںغزلوں کے اے شہنشاہ میرؔ جہان اردوباقی نہیں جہاں میں نام و نشان اردو
ضو فشاں تو رہے اے شمع زبان اردوتیرا ہر ذرہ چمک کر مہ کامل ہو جائےبول بالا ہو ترا ملک کے ہر گوشے میںتیری لو زیب دہ انجمن دل ہو جائےتیری ہر سطر بنے زلف حسینان جہاںاک زمانہ ترا پابند سلاسل ہو جائےجان دے حسن فصاحت پہ مسیحا نفسیسامری بھی ترے اعجاز کا قائل ہو جائےتیرے ہر لفظ میں ہو درد محبت کی تڑپہر سخن شرح بیان خلش دل ہو جائےہو گیا میں ترے پروانوں کا ہر سال ہجومروز افزوں ترا ہنگامۂ محفل ہو جائےہو کچھ اس طرح گل افشانیٔ ارباب سخنجس سے پامالیٔ گلبانگ عنادل ہو جائےمئے گل رنگ شفق سے رہے رنگیں ترا جامتیری ہر بزم ادب مے کدۂ دل ہو جائےحضرت نوح کا اٹھتا رہے طوفاں یوں ہیغرق سیلاب سخن دامن ساحل ہو جائےہر نو آموز صلہ پائے تری خدمت کاہر مہ نو ترے صدقے مہ کامل ہو جائےزہے تقدیر زہے بخت کہ ناچیز سریرؔترے خدام کی فہرست میں شامل ہو جائے
سونا سونا سا ہے کیوں آج جہان اردواٹھ گیا کہتے ہیں اک پیر مغان اردو
وطن کی خدمت بے لوث ہے ہر شخص پر لازمیہی وہ کام ہے جو آدمی کے کام آتا ہےلگا دی جاتی ہے حب وطن میں سر کی بازی بھیاک ایسا بھی وفور جوش میں ہنگام آتا ہےپلٹنے ہی کو ہے قسمت تمہاری اے وطن والوتمہارے واسطے یہ عرش سے پیغام آتا ہےغلامی دور ہوتی ہے تمہاری اب کوئی دم میںحکومت اور سرداری کا پھر ہنگام آتا ہےمصیبت ہے یہ بالکل عارضی اس پر نہ گھبرانابس اب آتا ہے عہد راحت و آرام آتا ہےوہی پھر بھی بزم ہوگی پھر وہی رنگینیاں ہوں گیوہی پیمانہ آتا ہے وہی پھر جام آتا ہےتم اپنی ناتوانی سے پریشاں اس قدر کیوں ہوکبھی کمزور ہونا بھی بشر کے کام آتا ہےمٹا دیتا ہے دم میں نخوت نمرود اک مچھرکبھی ایسا بھی دور گردش ایام آتا ہےخدا را اس نزاع باہمی کو ختم فرما دوذرا سوچو کہ تم پر کس قدر الزام آتا ہےکبھی چھڑتا ہے گر مذکور، قوموں کی جہالت کاتو سب سے پہلے کانوں میں تمہارا نام آتا ہےیہ نکتہ یاد رکھو اس کو بھولا کہہ نہیں سکتےجو وقت صبح جا کر، گھر پہ وقت شام آتا ہے
وطن کی خدمت بے لوث ہے ہر شخص پر لازمیہی وہ کام ہے جو آدمی کے کام آتا ہےلگا دی جاتی ہے حب وطن میں سر کی بازی بھیاک ایسا بھی وفور جوش میں ہنگام آتا ہےپلٹنے ہی کو ہے قسمت تمہاری اے وطن والوتمہارے واسطے یہ عرش سے پیغام آتا ہےغلامی دور ہوتی ہے تمہاری اب کوئی دم میںحکومت اور سرداری کا پھر ہنگام آتا ہےمصیبت ہے یہ بالکل عارضی اس پر نہ گھبرانابس اب آتا ہے عہد راحت و آرام آتا ہےوہی پھر بزم ہوگی پھر وہی رنگینیاں ہوں گیوہی پیمانہ آتا ہے وہی پھر جام آتا ہےتم اپنی ناتوانی سے پریشاں اس قدر کیوں ہوکبھی کمزور ہونا بھی بشر کے کام آتا ہےمٹا دیتا ہے دم میں نخوت نمرود اک مچھرکبھی ایسا بھی دور گردش ایام آتا ہےخدارا اس نزاع باہمی کو ختم فرما دوذرا سوچو کہ تم پر کس قدر الزام آتا ہےکبھی چھڑتا ہے گر مذکور قوموں کی جہالت کاتو سب سے پہلے کانوں میں تمہارا نام آتا ہےیہ نکتہ یاد رکھو اس کو بھولا کہہ نہیں سکتےجو وقت صبح جا کر گھر پہ وقت شام آتا ہے
کیا جانے اس ظریف کے کیا دل میں آئی تھیکرفیو میں جس نے محفل شعری سجائی تھیاللہ ایسا ذوق جہنم میں ڈال دےکرفیو میں شاعروں کو جو گھر سے نکال دےایسے میں جب کہ شہر کے سب راستے ہوں بندسڑکوں پہ آ گئے تھے یہ با ذوق شر پسندایسے میں جب کہ گھر سے نکلنا محال تھالیکن یہ شاعروں کی انا کا سوال تھاشعری محاذ خانۂ شاعر سے دور تھاکعبہ میں حاجیوں کو پہنچنا ضرور تھاشاعر رواں تھے شعر کے چاقو لیے ہوئےدل میں خیال خدمت اردو لیے ہوئےزور قلم کے ساتھ سپاہ ریاض تھیقانون ہاتھ میں تھا بغل میں بیاض تھیگلیوں میں قتل و خوں تھا سڑک پر فساد تھاشاعر بزور فکر شریک جہاد تھاکیسی نکل رہی تھی صدا گن مشین سےجیسے کسی کو داد ملے سامعین سےشاعر بیاض لائے تھے صندوق کی طرحمصرعے اگل رہے تھے وہ بندوق کی طرحجب فائرنگ اہل سخن کی ہوئی تمامیہ خدمت ادب کا پولس نے صلہ دیاکچھ شاعروں کو روڈ پہ مرغا بنا دیاکچھ کہنہ مشق بھی تھے سجود و رکوع میںجبراً انہیں پڑھایا گیا تھا شروع میںطرحی مشاعرے کا سماں دے رہے تھے وہاک مصرع طرح پہ اذاں دے رہے تھے وہکچھ شاعروں کو نغمہ سرائی کی فکر تھیصدر مشاعرہ کو رہائی کی فکر تھیجب شاعروں کے ہاتھ شریک دعا ہوئےکرفیو کا وقت ختم ہوا تب رہا ہوئےسب اپنے اپنے گھر گئے اس ہاؤ ہو کے بعدشاعر عظیم ہوتا ہے ہر کرفیو کے بعد
کاش میں ایک پیڑ بن جاتاپیڑ بن کر جہاں کے کام آتارات دن اک جگہ کھڑا رہتاگرمی سردی کی شدتیں سہتاخوب بارش میں بھیگ جاتا مگرشکوہ ہرگز نہ لاتا میں لب پردھوپ میں لوگ میرے پاس آتےمیرے سائے میں وہ سکوں پاتےچھاؤں میں آ کے بیٹھ جاتے پرندپھول پھل پتیوں سے سب میریپوری کرتے ضرورتیں اپنیمیں کسی گھر میں ایندھن ہی بنتایا عمارت کے کام میں آتاالغرض جس طرح بھی بن پڑتاخدمت خلق میں لگا رہتا
لٹے ہوئے قدیم قافلوں کے مرثیے ہو تممری ہر ایک سانس میں غزل کی اک کتاب ہےکنویں کے مینڈکوسنومری نظر میں گہرے نیلے پانیوں کے خواب ہیں
وہ پریم چند منشئ بے مثل و بے بدلتھی جس کے دم سے بزم ادب میں چہل پہلافسانے جس کے شمع ہدایت تھے بر محلنا وقت آہ ہو گیا وہ لقمۂ اجلاس سوز جاں گسل سے ہر اک دل کباب ہےفرط تپش ہے آتش غم بے حساب ہےعلمی شغف سے اس کے نہیں کون باخبرہر قلب پر فسانے ہوئے نقش کالحجرہے بحر علم تیری روانی سے سربسردامان و جیب اردو و ہندی ہیں پر گہرطرز بیاں ہر ایک کا تو نے دکھا دیادھبہ ہر اک کا اپنے قلم سے مٹا دیابزم ادب کو خواب میں بھی یہ نہ تھا خیالانیس سو چھتیس کا نحس ہوگا اس کو سالاول وفات برق کا اس کو ہوا ملالپھر چل دیا جہان سے یہ منشی با کمالنقش قرار سیل فنا سے مٹا ہے آجایوان نظم و نثر میں ماتم بپا ہے آجتجھ کو پریم چند یہ شاید نہیں خبرکتنا وفات کا تری دنیا پہ ہے اثرصوفیؔ جہاں میں ڈھونڈھتی ہے اس کو ہر نظراے ماہتاب عشق بتا تو چھپا کدھرکیا شوق سامعیں کا فراموش ہو گیاافسانہ کہتے کہتے جو خود ہائے سو گیا
جب تک ادب برائے ادب کا رہا خیالادبار و مفلسی سے رہے ہم شکستہ حالسائے کی طرح ساتھ نحوست لگی رہیاک روگ بن کے جان سے عسرت لگی رہیگو شاعری کا رنگ نکھرتا چلا گیاشیرازۂ معاش بکھرتا چلا گیالیکن خدا بھلا کرے اک مہربان کاجن کو ادب برائے شکم کا ہے تجربہموصوف نے بتائی ہمیں وہ پتے کی باتاب دن ہے روز عید تو شب ہے شب براتآل انڈیا مشاعرہ مجلس کے نام سےکھولا ہے اک ادارۂ نو دھوم دھام سےکرتے ہیں شاعری کے عوض اب مشاعرہاس روزگار سے ہے ہمیں خوب فائدہہر تین چار ماہ کے وقفے پہ بے خللاپنے پروگرام پہ کرتے ہیں ہم عملیعنی مشاعرے کا چلاتے ہیں کاروبارچھپوا کے روز ناموں میں جھوٹا یہ اشتہارجوشؔ و فراقؔ و ساحرؔ او پرویزؔ شاہدیفیضؔ و خلیلؔ و جذبیؔ او مخدومؔ و جعفریؔکرسی و عرش و لوح و قلم سب ہی آئیں گےتازہ کلام اپنی زباں سے سنائیں گےاس اشتہار میں وہ کشش ہے کہ اہل ذوقلیتے ہیں داخلے کا ٹکٹ دوڑ کر بہ شوقسرکس میں جس طرح سے ہو خلقت کا اژدہامیوں ہی مشاعرے میں پہنچتے ہیں خاص و عامسب لوگ بیٹھ جاتے ہیں فرش زمیں پہ جبمائک پہ جا کے کرتے ہیں اعلان ہم یہ تبافسوس ہے کہ آ نہ سکے جوشؔ اور فراقؔیہ ماسکو روانہ ہوئے وہ گئے عراقجذبیؔ کو اختلاج ہے پرویزؔ ہیں علیلگاڑی ذرا سی چوک سے مس کر گئے خلیلؔبھیجی ہے فیضؔ و ساحرؔ و مخدومؔ نے خبرسیٹ ان کو مل سکی نہ ہوائی جہاز پرگو یہ خبر دلوں کو گزرتی ہے ناگوارہونا ہے جلسہ گاہ میں تھوڑا سا انتشارلے کر مگر ذہانت فطری سے کام ہمدم بھر میں سامعین کو کرتے ہیں رام ہمڈائس پہ تک فروشوں کا رہتا ہے اک ہجومفلمی دھنوں میں گانے کی جن کے بڑی ہے دھومجو خود ٹکٹ خرید کے آتے ہیں بزم میںہم ان سے اپنا کام چلاتے ہیں بزم میںلے لے کے گٹکری جو سناتے ہیں وہ کلاماڑتے ہیں واہ واہ کے نعروں سے سقف و بامبزم نشاط بنتا ہے سارا مشاعرہہوتا ہے کامیاب ہمارا مشاعرہخوش خوش گھروں کو جاتے ہیں حضار اک طرفنوٹوں کا ہم لگاتے ہیں انبار اک طرفیہ خدمت ادب کا طریقہ ہے لا جوابپیشہ یہ وہ ہے جس میں منافع ہے بے حساب
مدتوں سرکار دہلی میں رہی یہ باریاباب تک اردوئے معلیٰ ہے وہی شاہی خطابدور دورہ لکھنؤ میں بھی تھا قبل از انقلابکر لیا تھا نکتہ سنجوں نے اسی کو انتخابہر ادا شیریں مذاق پارسا و رند میںاس کا طوطی بولتا تھا سبزہ زار ہند میں
کہیں نہ کیوں اے قوی تجھے ہم بصدق دل پاسبان اردوبنا ہے تیری ہی سعی و کاوش سے سیفیہ گلستان اردونفس نفس میں ترے یقیناً بسی ہے بوئے زبان اردوتری نوا ہے نوائے اردو ترا بیاں ہے بیان اردودکھائیں بھوپال کو ترے ہی جنوں نے جہد و عمل کی راہیںوگرنہ مایوس ہو چکے تھے یہاں کے چارہ گران اردووجود تیرا سبھی کے حق میں ہے چشمہ و آبشار و دریابجھاتے ہیں پیاس اپنی اپنی تجھی سے سب تشنگان اردواسے زمانہ شناسی تیری نہ ہم کہیں گے تو کیا کہیں گےبنا دیا سیفیہؔ کو تو نے جو ایک دارالامان اردوتجھی سے شہر غزل کو اقبالیات کی منزلیں ملی ہیںترے ہی عزم و عمل سے ہے گامزن یہاں کاروان اردوترا اجالا مٹا رہا ہے شب جہالت کی تیرگی کوچمک رہا ہے تو بن کے بھوپال میں مہ آسمان اردوکھلائے ہیں شاخ شاخ تو نے یہاں پہ نطق و نوا کے غنچےغلط نہیں ہے جو کہہ رہے ہیں سبھی تجھے خوش بیان اردوترے عزائم کی استقامت پہ سر بکف ہیں حریف تیرےخوشا کہ تیرے جوان ہاتھوں میں آج بھی ہے کمان اردوصد آفریں تیری ہمتوں پر صد آفریں تیری جرأتوں پرسنائی ہے بزم غیر میں تو نے بارہا داستان اردویہ کم نہیں ہے کہ معترف ہے تری بصیرت کا یہ زمانہرہا ہے صدہا خلوص دل سے تو شامل عاشقان اردورواں ہیں تقریر اور تحریر سے تری آگہی کے چشمےترا قلم ہے وقار اردو تری زباں ترجمان اردومجلہ غالبؔ پہ کر کے شائع کیا ہے بے شک کمال تو نےجہان علم و ادب کے حق میں ہے خوب یہ ارمغان اردونئے نئے گل کھلا رہا ہے ادب میں تیرے قلم کا جادوتری فراست کے معترف ہیں تمام تر نکتہ دان اردواگرچہ راہوں میں تیری حائل ہوئے ہیں دیوار بن کے اکثرمگر ترے عزم و حوصلہ سے خجل ہیں سب حاسدان اردویہ تیری کوشش حفاظتوں کی یہ تیرا جذبہ سلامتی کانہ ہو تو اردو کو بیچ کھائیں ذرا میں یہ تاجران اردومثال خورشید تو نے بخشی ہے روشنی جن کو علم و فن کیچمک رہے ہیں ادب کے گردوں پہ بن کے وہ اختران اردوجو تیرے فن کے امین بن کر فضائے عالم پہ چھا گئے ہیںبڑی عقیدت سے دیکھتے ہیں تجھے وہ شائستگان اردواجالا کرتے رہیں گے یوں ہی چراغ بن کر رہ طلب میںہر اک قدم پر جو تو نے چھوڑے ہیں جگمگاتے نشان اردوکہا ہے تو نے بھی بارہا خود یہیں پلی ہے یہیں بڑھی ہےکسی زباں کی حریف ہرگز یہاں نہیں ہے زبان اردوترے جہاد و عمل کے صدقے یقین ہے اے قوی یہ ہم کواسی طرح تو بنا رہے گا یہاں سدا پاسبان اردو
دبستان اردو کے گہرے سمندر کیتہہ میں سے اک دنمری نظم غوطہ زنوں کو ملے گیوہی نظم جو میں نے تم پر لکھی ہے
اک اک کتاب اس کی پھولا پھلا چمن ہےگلزار بے خزاں ہے اردو زباں ہماری
ہوگی گواہ خاک ہندوستاں ہماریاس کی کیاریوں سے پھوٹی زباں ہماریہندو ہوں یا مسلماں عیسائی ہوں کہ سکھ ہوںاردو زباں کے ہم ہیں اردو زباں ہماریمرنا بھی ساتھ اس کے جینا بھی ساتھ اس کےہم اس کے ہیں محافظ یہ پاسباں ہماریخسروؔ کبیرؔ تلسیؔ غالبؔ کی ہیں امانتکیا بے نشان ہوگی پیاری زباں ہماریقند و نبات سے ہے بڑھ کر مٹھاس اس کیہر دور میں رہی ہے یہ دلستاں ہماریاس میں ٹنکے ہوئے ہیں کتنے حسیں ستارےقوموں کی کہکشاں ہے اردو زباں ہماریپھر چاہتا ہے اس کو دور جہاں مٹاناہوگی رقم لہو سے پھر داستاں ہماریہیں جاں سے بھی زیادہ ہم کو عزیز دونوںہندوستاں ہمارا اردو زباں ہماریوہ بھی تو ایک دن تھا ہم میر کارواں تھےتقلید کر رہا تھا ہر کارواں ہماریہم تو ہر اک زباں کو دیتے ہیں پیار اپناپھر کس لئے مٹائے کوئی زباں ہماریہم ضبط کی حدوں سے آگے نکل چکے ہیںکب تک یہ آزمائش اے آسماں ہماریاعجازؔ مل کے گائیں اردو کا سب ترانہگونجے فضا میں ہر سو اردو زباں ہماری
نہ سیاہی کا سمندر نہ فلک سا کاغذکیسے لکھے کوئی تعریف زبان اردو
مادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔاپنے فن میں بڑے ہشیار تھے مرزا غالبؔآپ کا نام اسداللہ تھا نو شاہ لقبمرزا غالب سے ہوئے بعد میں معروف ادبآج بھی پڑھ کے کلام آپ کا حیرت میں ہیں سبزلف اردو میں گرفتار تھے مرزا غالبمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالباکبرآباد میں پیدا ہوئے دہلی میں رہےعہد طفلی ہی سے دنیا کے بڑے ظلم سہےاب بھی ہر اہل سخن آپ کو استاد کہےسارے شعرا کے علم دار تھے مرزا غالبمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔتنگ دستی میں بھی چھوڑا نہ وفا کا دامنمفلسی میں بھی نہ اپنائے خوشامد کے چلنخون جذبات سے شاداب کیا باغ سخنفطرتاً شاعر خوددار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبآپ پر فارسی شعرا کا بھی تھا خوب اثرمسئلہ خدمت اردو کا بھی تھا پیش نظراپنے اشعار کی عظمت سے بھی واقف تھے مگرمیرؔ جی کے بھی طرف دار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔخط نویسی کا دیا ایک انوکھا اندازگونج اٹھی بزم ادب میں یہ نرالی آوازآپ میدان سخن میں بھی تھے سب سے ممتازساتھ ہی اک بڑے نثار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔبے نیاز غم و آلام ہر اک فکر سے دورہو مصیبت میں بھی رہتے تھے ہمیشہ مسرورآج بھی جن کے لطیفے ہیں جہاں میں مشہورمسکراتے ہوئے کردار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔ
میرے ہر لفظ میں ہے کوثر و گنگا کا لہوادب و فن ہی ہیں بکھرے ہوئے میرے گیسوچمن شرق میں رقصندہ ہیں میری خوشبودولت علم سے آباد ہے میرا پہلو
چاشنی ہے زبان میں جن کیپاسباں یہ امیر خسرو کےمیرؔ و غالبؔ کے رازدان سخنوارثان زبان اردو ہیںگھولتے ہیں مٹھاس باتوں سےاپنا لہجہ حسین رکھتے ہیںایک تہذیب ہے ثقافت ہےاس کے کھانوں کی اپنی لذت ہےاور پھر حسن کی تمازت ہےدیکھنے والے دیکھتے ہیں کہیںاس کے ساحل پہ رونق دنیاکھیلتی ہنستی غل مچاتی ہوئیمن چلے ہنستے مسکراتے ہوئےزندگی کی غزل سناتے ہوئےرونقوں کے اسیر رہتے ہیںجس کو کہتے تھے لوگ کولاچیاب وہ ساحل کنارے بستا شہرجانا جاتا ہے شہر قائد سےلوگ جس کو کراچی کہتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books