aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "OPuR"
ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گےوہ دن کہ جس کا وعدہ ہےجو لوح ازل میں لکھا ہےجب ظلم و ستم کے کوہ گراںروئی کی طرح اڑ جائیں گےہم محکوموں کے پاؤں تلےجب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گیاور اہل حکم کے سر اوپر
کچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ لعل و زمرد سیم و زرجب پونجی باٹ میں بکھرے گی ہر آن بنے گی جان اوپرنوبت نقارے بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکرکیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھترسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
یہ جیون اک راہ نہیںاک دوراہا ہےپہلا رستہبہت سہل ہےاس میں کوئی موڑ نہیں ہےیہ رستہاس دنیا سے بے جوڑ نہیں ہےاس رستے پر ملتے ہیںریتوں کے آنگناس رستے پر ملتے ہیںرشتوں کے بندھناس رستے پر چلنے والےکہنے کو سب سکھ پاتے ہیںلیکنٹکڑے ٹکڑے ہو کرسب رشتوں میں بٹ جاتے ہیںاپنے پلے کچھ نہیں بچتابچتی ہےبے نام سی الجھنبچتا ہےسانسوں کا ایندھنجس میں ان کی اپنی ہر پہچاناور ان کے سارے سپنےجل بجھتے ہیںاس رستے پر چلنے والےخود کو کھو کر جگ پاتے ہیںاوپر اوپر تو جیتے ہیںاندر اندر مر جاتے ہیں
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
تم نے ایک سمندر ہاتھ میں لے کر مجھ پر ڈھیل دیامیں نے نوح کی کشتی کے اوپر رکھ دیکال چلا تم نے اور میری جانب دیکھامیں نے کال کو توڑ کے لمحہ لمحہ جینا سیکھ لیا
دانشور کہلانے والوتم کیا سمجھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںتھل کے ریگستان میں رہنے والے لوگوتم کیا جانوساون کیا ہےاپنے بدن کورات میں اندھی تاریکی سےدن میں خود اپنے ہاتھوں سےڈھانپنے والوعریاں لوگوتم کیا جانوچولی کیا ہے دامن کیا ہےشہر بدر ہو جانے والوفٹ پاتھوں پر سونے والوتم کیا سمجھوچھت کیا ہے دیواریں کیا ہیںآنگن کیا ہےاک لڑکی کا خزاں رسیدہ بازو تھامےنبض کے اوپر ہاتھ جمائےایک صدا پر کان لگائےدھڑکن سانسیں گننے والوتم کیا جانومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںدھڑکن کیا ہے جیون کیا ہےسترہ نمبر کے بستر پراپنی قید کا لمحہ لمحہ گننے والییہ لڑکی جوبرسوں کی بیمار نظر آتی ہے تم کوسولہ سال کی اک بیوہ ہےہنستے ہنستے رو پڑتی ہےاندر تک سے بھیگ چکی ہےجان چکی ہےساون کیا ہےاس سے پوچھوکانچ کا برتن کیا ہوتا ہےاس سے پوچھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںسونا آنگن تنہا جیون کیا ہوتا ہے
بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیںجھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیںپڑتے ہیں پانی ہر جا جل تھل بنا رہے ہیںگلزار بھیگتے ہیں سبزے نہا رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
یہ جھیل وہ ہے کہ جس کے اوپرہزاروں انساںافق کے متوازی چل رہے ہیںافق کے متوازی چلنے والوں کو پار لاتی ہیںوقت لہریںجنہیں تمنا، مگر، سماوی خرام کی ہوانہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہیںوقت لہریںانہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!تمام ملاح اس صدا سے سدا ہراساں، سدا گریزاںکہ جھیل میں اک عمود کا چور چھپ کے بیٹھا ہےاس کے گیسو افق کی چھت سے لٹک رہے ہیںپکارتا ہے: ''اب آؤ، آؤ!ازل سے میں منتظر تمہارامیں گنبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوںدرخت مینار برج زینے مرے ہی ساتھیمرے ہی متوازی چل رہے ہیںمیں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیراسمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارااب آؤ، آؤ!تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے ان کےابد کے آغوش میں اتارا''تمام ملاح اس کی آواز سے گریزاںافق کی شاہراہ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماںمگر سماوی خرام والےجو پست و بالا کے آستاں پر جمے ہوئے ہیںعمود کے اس طناب ہی سے اتر رہے ہیںاسی کو تھامے ہوئے بلندی پہ چڑھ رہے ہیں!
ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئیگلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہےگماں گزرنے لگا ہم کھڑے ہیں صحرا میںفریب کھانے کی جا رہ گئی، نہ سپنے رہےنظر اٹھا کے کبھی دیکھ لیتے تھے اوپرنہ جانے کون سے اعمال کی سزا ہے کہ آجیہ واہمہ بھی گیا سر پہ آسماں ہے کوئی
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائےجرموں کو ٹھیک تولےایسا نہ ہو کہ کل کا اتہاس کار بولےمجرم سے بھی زیادہمنصف نے ظلم ڈھایاکیں پیش اس کے آگے غم کی گواہیاں بھیرکھیں نظر کے آگے دل کی تباہیاں بھیاس کو یقیں نہ آیاانصاف کر نہ پایااور اپنے اس عمل سےبد کار مجرموں کے ناپاک حوصلوں کوکچھ اور بھی بڑھایاانصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھاتےیہ بات یاد رکھےسب منصفوں سے اوپر
میں بھی گیند تمہاری لے کرپھینکوں گی اب چھت کے اوپر
دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ توساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیںچاہے ان کا برج کوئی ہوعقرب ہی لگتے ہیںتیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہاپنی یرقانی سوچوں سےاور بھی زردی ملتے رہتے ہیںمالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹلکہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتےاوپر سے اس عمل کوفقرے بازی کہتے ہیںجس کا پہلا نشانہ عمومابل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے!
قبلہ خان تم ہار گئے ہو!اور تمہارے ٹکڑوں پر پلنے والا لالچی مارکوپولوؔ.....جیت گیا ہےاکبر اعظم! تم کو مغرب کی جس عیارہ نے تحفے بھیجے تھےاور بڑا بھائی لکھا تھااس کے کتے بھی ان لوگوں سے افضل ہیںجو تمہیں مہا بلی اور ظل اللہ کہا کرتے تھےمشرق کیا تھا؟جسم سے اوپر اٹھنے کی اک خواہش تھیشہوت اور جبلت کی تاریکی میںاک دیا جلانے کی کوشش تھی!میں سوچ رہا ہوں، سورج مشرق سے نکلا تھا(مشرق سے جانے کتنے سورج نکلے تھے)لیکن مغرب ہر سورج کو نگل گیا ہے
کبھی پونچھ اوپر اٹھاتا تھا جبتو پنچھی بھی پیڑوں پہ ڈر جاتے تھےنکلتا تھا جب غار سے اور غراتا تھاتو جنگل میں سب ڈر کے چھپ جاتے تھےبہت سہمے سہمے سے رہتے تھے سب
میں نے اپنی آپ مدد کیمیں نے اپنے آنسو پونچھےمیں نے اپنے زخموں پر خود پٹی باندھیمیں نے اپنے ٹوٹے دل کے ہر ٹکڑے کو ٹھیک طرح سے جوڑ لیا ہےمیں نے کچھ فلموں کے سہارے پھر سے ہنسنا سیکھ لیا ہےمیں نے خود کو وقت دیا ہےمیں نے اپنی الماری میں پڑی کتابوں کے اوپر سے دھول ہٹائیبال کٹائے شیو بنائیمیں اپنے ہر شوق کو پھر سے زندہ کر کے ان کو پورا کرنے کا بھی سوچ رہا ہوںاب میں اکیلا نہیں رہا ہوںاب میں اپنے ساتھ کھڑا ہوں
پھوڑے پھنسیاں پھوٹیں گے تو کھجلاؤ گےروتے دھوتے ٹیں ٹیں کرتے گھر آؤ گےاوپر سے پھر کڑوے تیل کی مالش ہوگیبارش بارش بارش ہوگی
چلو محبت کی بات کریںابمیلے جسموں سے اوپر اٹھ کربھولتے ہوئے کہ کبھیگھٹنے ٹیک چکے ہیں ہماور دیکھ چکے ہیںاپنی روح کو تار تار ہوتےجھوٹے فخر کے ساتھچلو محبت کی بات کریںزندگی کے پیروں تلےبے رحمی سے روندے جانے کے بعدمرہم لگائیں زخمی وجود پرجو شرم سے آنکھیں جھکا کربیٹھا ہے سپنوں کے مزار پہاس سے بری کوئی بات نہیں کر سکتےہم اپنی ہی ضد میںدھوکا دے چکے ہیں اپنے آپ کوکھیل چکے ہیں خود اپنی عزت سےبھوگ چکے ہیں جھوٹ کو سچ کی طرحابان حالات میںکوئی غیر ضروری بات ہی کر سکتے ہیں ہمآؤ محبت کی بات کریں
اتنے گھراتنے سیارےکنکر پتھر کون گنےدس سے اوپر کون گنے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books