aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "abas"
نشہ چڑھنے لگا ہے اور چڑھنا چاہئے بھی تھاعبث کا نرخ تو اس وقت بڑھنا چاہئے بھی تھاعجب بے ماجرا بے طور بیزارانہ حالت ہےوجود اک وہم ہے اور وہم ہی شاید حقیقت ہےغرض جو حال تھا وہ نفس کے بازار ہی کا تھاہے ''ز'' بازار میں تو درمیاں زریونؔ میں اولتو یہ عبرافنیقی کھیلتے حرفوں سے تھے ہر پلتو یہ زریونؔ جو ہے کیا یہ افلاطون ہے کوئیاماں زریونؔ ہے زریونؔ وہ معجون کیوں ہوتاہیں معجونیں مفید ''ارواح'' کو معجون یوں ہوتاسنو تفریق کیسے ہو بھلا اشخاص و اشیا میںبہت جنجال ہیں پر ہو یہاں تو ''یا'' میں اور ''یا'' میں
یہ بینک کار منیجر یہ اپنے ٹیکنوکریٹکوئی بھی شبہ نہیں ہیں یہ ایک عبث کا ٹھٹھولمیں خود بھی ان کو کرومیگنن سمجھتی ہوںیہ شاندار جناور ہیں دفتروں کا مخول
عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہوایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہووہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوااس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہوزندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنیخود کو خاکستر خاموش بناتی کیوں ہومیں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائلمیری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہوکون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاججان کو اپنی عبث روگ لگاتی کیوں ہوایک سرکش سے محبت کی تمنا رکھ کرخود کو آئین کے پھندوں میں پھنساتی کیوں ہومیں سمجھتا ہوں تقدس کو تمدن کا فریبتم رسومات کو ایمان بناتی کیوں ہوجب تمہیں مجھ سے زیادہ ہے زمانے کا خیالپھر مری یاد میں یوں اشک بہاتی کیوں ہوتم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دوورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو
کسی کے بعداپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہمجھے کہتی ہے تابشؔ! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کوبرے ہیں ناں؟اگر یہ خوب صورت تھے تو ان میں کوئی بوسہ کیوں نہیں ٹھہرا''عجب لڑکی ہےپورے جسم سے کٹ کر فقط ہاتھوں میں زندہ ہےصراحی دار گردن نرم ہونٹوں تیز نظروں سے وہ بد ظن ہےکہ ان اپنوں نے ہی اس کو سر بازار پھینکا تھاکبھی آنکھوں میں ڈوبیاور کبھی بستر پہ سلوٹ کی طرح ابھریعجب لڑکی ہےخود کو ڈھونڈتی ہےاپنے ہاتھوں کی لکیروں میںجہاں وہ تھی نہ ہے، آئندہ بھی شاید نہیں ہوگیوہ جب انگلی گھما کرفیضؔ کی نظمیں سناتی ہےتو اس کے ہاتھ سے پورے بدن کا دکھ جھلکتا ہےوہ ہنستی ہے تو اس کے ہاتھ روتے ہیںعجب لڑکی ہےپورے جسم سے کٹ کر فقط ہاتھوں میں زندہ ہےمجھے کہتی ہے ''تابشؔ! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کوبرے ہیں ناں''؟میں شاید گر چکا ہوں اپنی نظروں سےمیں چھپنا چاہتا ہوں اس کے تھیلے میںجہاں سگریٹ ہیں ماچس ہےجو اس کا حال ماضی اور مستقبل!
اداس کیوں ہوہمیں بتاؤتمہیں اداسی کی رنجشوں سے رہا کریں گےاگرچہ ہم ایسے خاک زادوں کی دسترس میں شفا نہیں ہےتمہارے زخموں کو بھر دے ایسی دوا نہیں ہےمگر ہم ایسے خدا پرستوں کی دسترس میں دعائے کن ہےتمہارے حق میں دعا کریں گےاداس کیوں ہوہمیں بتاؤ
وہ کیسی ہےاسے میں نے نہیں دیکھاسنا ہے وہ زمیں زادیدھنک سے اپنے خوابوں کے افق گل رنگ رکھتی ہےمرے خاشاک سے آگے کسی منظر میں رہتی ہےہوا کے گھر میں رہتی ہےوہ کس سورج کا حصہ ہےوہ کس تارے کی مٹی ہےاسے میں نے نہیں دیکھامری آنکھوں سے لے کر اس کی آنکھوں تک کسے معلوم ہےکتنے ستارے ہیںمجھے کیا علم وہ کس رنگ کے کپڑے پہنتی ہےوہ خالی برتنوں میں اپنا دن کیسے بتاتی ہےوہ خوشیاں ڈھونڈتی ہے اور خود کو بند الماری میں رکھ کربھول جاتی ہےوہ گھر کے لان میں بیٹھی بہت کچھ سوچتی ہوگیکہ میرا رنگ کیسا ہےمری آنکھوں کے روشن قمقموں میں تاب کتنی ہےمری شریان میں سہمے ہوئے بچوں پہ کیا گزریوہ کس رستے پہ چل نکلے کہ اپنے گھر نہیں پہنچےوہ اکثر سوچتی ہوگیمرے کمرے میں بوڑھی فاحشہ تنہائی کے ہوتےمرے دن کیسے کٹتے ہیںمری بے خواب راتیں کن خیالوں میں گزرتی ہیںکہاں عشق گریزاں کی کہانی ختم ہوتی ہےوہ گھر کے لان میں بیٹھی یہی کچھ سوچتی ہوگیکہ میرے نام کے پیچھے مری تصویر کیسی ہےمرے خط بھی نہیں اس کے تصرف میںکہ ان کو کھول کر میرے بدن کے راز تک پہنچےمجھے اس نے نہیں دیکھانہ میں نے اس کو دیکھا ہےنہ اس نے مجھ کو دیکھا ہےمگر اپنی محبت میں عجب حسن توازن ہےوہ اکثر سوچتی ہوگیمیں کتنا اپنے دفتر میں ہوں کتنا گھر کی خلوت میںوہ مجھ کو مجھ پہ ہی تقسیم کر کے دیکھتی ہوگیمجھے محسوس ہوتا ہےکوئی دل چیرتی خوشبو مجھے آواز دیتی ہےمگر آواز کے پیچھے کوئی چہرہ نہیں ہوتاوہ مجھ کو دیکھ لیتی ہےمگر میری بصارت میں مہک چہرہ نہیں پاتیکہ خوشبو کس نے دیکھی ہےصدا کو کس نے پکڑا ہےمکانی دوریاں کیسی؟ زمانی قربتیں کیسی؟وہ میرا جسم ہے لیکن اسے میں نے نہیں دیکھا
آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوںآج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہےآج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہےآج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہےیاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے
دل یہ کہتا ہے کہیں اور چلے جائیں جہاںکوئی دروازہ عبث وا ہو، نہ بے کار کوئییاد فریاد کا کشکول لیے بیٹھی ہومحرم حسرت دیدار ہو دیوار کوئینہ کوئی سایۂ گل ہجرت گل سے ویراں
جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیںتا ابد روشن رہیں گیخدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس انفس و آفاق ہےاور خیر کی تاریخ کا وہ باب اول ہےابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گایقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیںتا ابد آتے رہیں گےابوطالب کے بیٹے حفظ ناموس رسالت کی روایت کے امیں تھےجان دینا جانتے تھےوہ مسلم ہوں کہ وہ عباس ہوں عون و محمد ہوں علی اکبر ہوں قاسم ہوں علی اصغر ہوںحق پہچانتے تھےلشکر باطل کو کب گردانتے تھےابوطالب کے بیٹے سر بریدہ ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے پا بجولاں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے صرف زنداں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںمدینہ ہو نجف ہو کربلا ہو کاظمین و سامرہ ہو مشہد و بغداد ہوآل ابوطالب کے قدموں کے نشاںانسانیت کو اس کی منزل کا پتہ دیتے رہے ہیں تا ابد دیتے رہیں گےابوطالب کے بیٹوں اور غلامان علی ابن ابی طالب میں اک نسبت رہی ہےمحبت کی یہ نسبت عمر بھر قائم رہے گیتا ابد قائم رہے گی
میں اکثر سرد راتوں میںزمین خانۂ دل پراکیلے بیٹھ جاتا ہوںپھر اپنا سر جھکا کر یاد عہد رفتگاں دل میں سجاتا ہوںخیال ماضیٔ دوراں مرے اس جسم کے اندر عجب طوفاں اٹھاتا ہےہزاروں میل کا لمبا سفر پیدل کراتا ہےمیں یادوں کے دھندلکوں میں تمہارے نقش پا کو ڈھونڈنے جب بھی نکلتا ہوںتو اک تاریک وادی میں اترتا ہوںجہاں یادوں کی کچھ بے رنگ تصویریں مجھے بکھری پڑی معلوم دیتی ہیںمجھے آواز دیتی ہیںکہ وحشت کا یہ جنگل باہیں پھیلائے بلاتا ہےمرا شوق نظر تھک کر زمین پر بیٹھ جاتا ہےاچانک جب تمہاری یاد کے وحشی جانور آواز دیتے ہیںمیں ڈرتا ہوںکہ جیسے کوئی بچہ اپنے ہی سائے سے ڈر جائےکوئی شیشہ بکھر جائےکوئی فرقت میں گھبرائےمرے تار نفس پر ضرب کرتی مستقل دھڑکنمجھے رکنے نہیں دیتیمجھے تھکنے نہیں دیتییہ بے چینی مجھے پھر اک سفر پر لے کے آتی ہےمیں چلتا ہوںکہ جیسے اک مسافر بعد مدت اپنے گھر جائےٹھٹھرتی سرد راتوں میںکوئی جیسے کہ جم جائےکہ جیسے سانس تھم جائےمگر میرے مقدر میںسکون قلب و جاں کب ہےنگاہ یاس میں مبہم سہی کوئی نشاں کب ہےکہیں پر شورش امواج دریا ہےکہیں آواز قلقل ہےمگس کا شور ہے سرسر صبا کی آہ و گریہ ہےسو دل اپنا مچلتا ہےکسی سے کب بہلتا ہےدھواں اٹھتا ہے دل سے آنکھ میں طوفاں مچلتا ہےطبیعت زور کرتی ہےیہ دھڑکن شور کرتی ہےتمہاری یاد کے یہ چیختے اور پیٹتے لمحےمجھے رونے نہیں دیتےمجھے سونے نہیں دیتے
عین ممکن ہے ڈوب جائیں ہمہم جو کچے مکاں کے باسی ہیںدشت بے آسماں کے باسی ہیںہم جو دامن میں کچھ نہیں رکھتےبے بسی اور بے کسی کے سوااپنے آنگن میں کچھ نہیں رکھتےسختیٔ عمر و مفلسی کے سواہم کہ وہ درد آشنا جن پرعمر بھر وقت مہرباں نہ ہواآج تک بخت مہرباں نہ ہواہم جنہیں زیست کے گلستاں سےراحتوں کی ہوا نہیں آئیہم جنہیں کوچہ ہائے یاراں سےہمدمی کی صدا نہیں آئیہم جنہیں الفتوں کے رستے میںاپنی ہی سادگی نے لوٹا ہےہر نئی دوستی نے لوٹا ہےہم جنہیں زندگی کا پاس تو ہےپر جنہیں زندگی سے پیار نہیںہم جو ہر لحظہ مسکراتے ہیںپر جنہیں ایک پل قرار نہیںاب ترے خواب کو وفا کرنےسوئے ساحل چلے تو ہیں لیکنعین ممکن ہے ڈوب جائیں ہم
میرے سب خواب مری جان حقیقت سے پرےمیرا ہر قول ترے واسطے افسانہ سہیہاں مجھے عمر گزاری کا سلیقہ ہی نہیںہاں مرے طور یہ انداز فقیرانہ سہیپر مری جان میں انداز وفا جانتا ہوںمفلسی میں بھی سخاوت کی ادا جانتا ہوںتیرے رخسار سے ڈھلتی ہوئی لالی سے سواتیرے ان شوخ خد و خال کے مضموں سے پرےتیری پر کیف چھلکتی ہوئی آنکھوں کی قسماک ترے حسن کے اقبال کے مضموں سے پرےمیں نے بے لوث ترے ساتھ محبت کی ہےبے غرض میں نے تہ دل سے تجھے چاہا ہےجس طرح شمع فروزاں کو پتنگا چاہےجس طرح تیز ہواؤں کو پرندہ چاہے
تم جو لفظوں کے گورکھ دھندے میں الجھےبے رس شاعری کرتے ہولغت سے لفظ اٹھاتے ہواور دائیں بائیں ان کو چبا کرشعر اگلتے رہتےتم کو کیا معلومکہ کیا ہے عشق اور اس کی حقیقت کیا ہےپیار ہے کیا اور چاہت کیا ہےتم نے کسی کے ہجر میں کبراتیں کاٹی ہیں...؟کب تم وصل کے نشے سے سرشار ہوئے ہوتم کو کیا معلومکہ ہونٹوں کا رس کیا ہوتا ہےکیسے آنکھ سے گرتے آنسو موتی بن جاتے ہیںتم کو کیا معلوم کہ کیسےبازوؤں میں آ کر محبوب پگھل جاتے ہیں
کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دوکوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سےکہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطرعبث بن رہا ہے ہمارا لہو مومیائیمیں اس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے نان شبینہ نہیں ہےاور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکت باستاں سےاور اب بھی ہے امید فردا کسی ساحر بے نشاں سےمری جاں شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوںمیں اس خشت کوبی سے اکتا گیا ہوںکہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیںجنہوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھاتری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائےجسے پی کے سو جائے ننھی سی جاںجو اک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینۂ مہرباں سےجو واقف نہیں تیرے درد نہاں سےاسے بھی تو ذلت کی پابندگی کے لیے آلۂ کار بننا پڑے گابہت ہے کہ ہم اپنے آبا کی آسودہ کوشی کی پاداش میںآج بے دست و پا ہیںاس آئندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیںمگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھییہ شہنائیاں سن رہی ہویہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائینہیں اس دریچے کے باہر تو جھانکوخدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتےاسی ساحر بے نشاں کاجو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھایہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں سن لویہی ہے نئے دور کا پرتو اولیں بھیاٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میںمل کے دھومیں مچائیںشعاعوں کے طوفان میں بے محابا نہائیں
کیوں ڈراتے ہیں عبث گبرو مسلماں مجھ کوکیا مٹائے گی بھلا گردش دوراں مجھ کو
وہ آتی ہےروز میرے بہت قریبمجھے سہلاتی ہےگدگداتی ہےاٹھو۔۔۔ اٹھو۔۔۔میں حیرت اور خوشی سےاسے دیکھتی ہوںتم کب آئیں؟ابھی۔۔۔ ابھی تو آئی ہوں۔۔۔وہ میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیتی ہےمیرے پستانوں سے کھیلتی ہےمیرے ہونٹوں کو چوستی ہےمیری ناف کے نیچےبہت نیچے۔۔۔میری سانس اوپر کی اوپر رہ جاتی ہےمیں کنواریوں کی طرحتلملاتی ہوںبل کھاتی ہوںوہ مجھے اٹھاتی ہےمیرے کپڑے ایک ایک کر کے اتارتی ہےوہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرہنستی ہےاٹھو۔۔۔میں بڑبڑاتی رہتی ہوںایسی ہی بے سدھحیرت سے اور خوشی سےاٹھو۔۔۔وہ میری گردن میں بانہیں ڈال کرکہتی ہےوہ مجھے دور سے دیکھتی ہےاور کینوس پر مری مادر زادتصویر بناتی ہےمیں بے سدھ پڑی رہتی ہوںاس ڈر سے کہ کہیں وہ چلی نہ جائےمیں اسے ڈبونا چاہتی ہوںایک ہی وار پر اس پر چڑھ دوڑنااس پر بلبلا کر حملہ کرنامیں بھی چاہتی ہوں۔۔۔ اسے ایسے ہیاپنی گرفت میں لے آؤںلیکن اس سے پہلے کہمیں حرکت کروںوہ چھم چھم کرتیکھڑکی یا دروازے سے باہربھاگ جاتی ہےمیں بے سدھحیرت اور خوف سےاور ملامت سےآنکھیں پھاڑے اسے دیکھتیرہتی ہوںوہ چلی جاتی ہےروز ایسا ہی ہوتا ہے
اندھیری شام کے ساتھیادھوری نظم سے زور آزما ہیںبر سر کاغذ بچھڑنے کیسنو ۔۔۔تم سے دل محزوں کی باتیں کہنے والوں کایہی انجام ہوتا ہےکہیں سطر شکستہ کی طرح ہیں چار شانے چتکہیں حرف تمنا کی طرح دل میں ترازو ہیںسنو۔۔۔ ان نیل چشموں سخت جانوں بے زبانوں پرجو گزرے گی سو گزرے گیمگر میں اک ادھوری نظم کی ہیجان میں کھویاتمہیں آواز دیتا ہوںکہ تنہا آدمی تخلیق سے عاری ہوا کرتا ہےجان من!سنو۔۔۔ میرے قریب آؤکہ مجھ کو آج کی رات اک ادھوری نظم پوری کر کے سونا ہے!
صف ماتم بچھی ہےسخن کا آخری در بند ہونے کی خبر نےکھڑکیوں کے پار بیٹھے غمگساروں کویہ کیسی چپ لگا دی ہےیہ کس کی ناگہانی موت پر سرگوشیوں کی آگ روشن ہےکسی کے کنج لب سے کوئی تارا میرے دل پر آن پڑتا ہےبرا ہو موت کا جس نے مرے فریاد رس کی جان لے لی ہےابھی اس کی ضرورت تھیمیں اس دنیا کے اک گوشے میں بیٹھا سوچتا ہوںآج اس ویران منڈلی میںمیں کس کو پرسہ دینے کے لیے آیا ہوںمجھ کو تعزیت تو خود سے کرنا تھیابھی اس گھر سے اک میت سدھاری ہےدم رخصتکسی نے نکہت زلف پریشاں کا نہیں پوچھاکسی نے دکھ کے اندر روشنی کی چھب نہیں دیکھیمکاں سے پھوٹنے والی روش پرایک بچہ رو رہا ہےآج اس کے آنسوؤں کو کون پونچھے گاکہ اس کے ساتھ جو شطرنج کی بازی لگاتا تھاوہ اب زیر زمیں اک چادر سادہ کی خوشبو ہےیہاں صبحیں بھی آئیں گییہاں شامیں بھی اتریں گیمگر اک ہچکیاں لیتا ہوا بچہچراغ آرزو بن کرسر طاق لحد گونگی زمیں کی لب کشائی تک پکارے گابرا ہو موت کا جس نے مرے فریاد رس کی جان لے لی ہے
ہم جنوں ذات ترے حکم پہ نکلے جاناںایسے نکلے ہیں کہ شاید ہی پلٹ کر آئیںدل نے اک خواب جو دیکھا تو پکارا اٹھ کےحکم اترا ہے کہ گھر بار کو تنہا چھوڑیںاپنی وادی سے کسی دشت کو ہجرت پکڑیںاپنے باغات و چمن زار کو تنہا چھوڑیںاس سے پہلے کہ رگ و پے میں سیاہی پھیلےاپنے دربار طرب زار سے باہر نکلیںاس سے پہلے کہ شب زیست کا پہلو بدلےراحتیں ترک کریں اور سفر پر نکلیںاور جب راہ تلاشیں تو سفر میں ایسےکہ قدم درد کے ماروں کے حوالے کر دیںاپنے ہاتھوں کو یتیموں کے سروں پر رکھ دیںاپنی آنکھوں کو بچاروں کے حوالے کر دیںاتنا سننا تھا کہ بس رخت محبت باندھااپنے اندر کی کدورت کے دروں کو توڑااپنی خواہش زدہ عادات پہ تالے ڈالےاپنی خود غرض تمناؤں کو پیچھے چھوڑااور ہم راہ ترے پیار پرندے لے کراپنے ہاتھوں میں تری چاہ کی شمعیں تھامےاپنے ہونٹوں پہ ترے درد کے نغمے لے کراپنے ماتھے پہ ترے شوق کا صحرا باندھےہم جنوں ذات ترے حکم پہ خود سے نکلےایسے نکلے ہیں کہ شاید ہی پلٹ کر آئیں
کیا میرے قدموں کے نیچے بھی جنت ہےپوچھتی ہوں اپنے بچوں سےمیرے سوال پر وہ مجھے حیرت سے دیکھتے ہیںماں یہ جنت کیا ہوتی ہےارے یہ میں نے تم کو نہیں بتایاچلو سنوکہتے ہیں جو ماں اپنے بچوں کو اپنے دل کے قریب رکھتی ہےاسے جنت ملتی ہےماں ہم کیا جانے تمہارے دل میں کیا ہےہم کیا جانے جنت کیا ہےہم تو یہ جانتے ہیںتم ہمارے دل کے قریب ہمیشہ گھومتی ہوکبھی ہنستے ہوئےکبھی ہماری پریشانیوں پر روتے ہوئےتم نے ہمیشہ ہمارے لیےہماری خوشیوں کی جنت بنائیماں بتاؤیہ جنت کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books