aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "an-mit"
آؤ مل کر چلیںآؤ مل کر چلیںایک دوجے کا اب ہم سہارا بنیں
وہ ایک پتھرکہ جس سے ٹوٹےسمندروں کا سکوت اکثروہ ایک پتھرکہ جس کو پھینکا ہےدوستوں نے ہمارے سر پروہ ایک پتھرکہ جس سے لرزے ہیںسارے شیشہ نگر کے گھر گھروہی ملا سنگ میل بن کر
وہ ایک پتھروہ سخت کالا سیاہ پتھرلہو سے ترجس کی تیرگی ناگ بن کے ڈستی تھیجس کی سختی سے کوہساروں کے دل دہلتے تھےجس کی خوں تشنگی سے کومل شجر فقط ٹہنیوں کی حسرت کے زاویے تھےوہ ایک پتھرجو تو نے پھینکامرے سمندر میں حرکت لا زوال کا ایک تازیانہ بناوہ لہریں اٹھیںکہ خاموش چاندنی کی روپہلی چادر بھی تھرتھرائیوہ جھاگ کا نور تیرگی کے سیاہ پردوں کو چاک کرنے لگاوہ شیشے کی ایک دیوارجس کو تو یہ سمجھ رہا تھاکہ ایک ٹھوکر سے چور ہوگیوہ ایک سونے کا تھال بن کر دمک رہی ہے
مرے خدایابچھڑ نہ جائےجو مجھ سے اب تک ملا نہیں ہےوہ میری راتوں کا رت جگا بھیہے میرے خوابوں کی چاندنی بھیمیں اس کو دیکھوںتو صبح نکھرےمیں اس کو سوچوںتو شام مہکےوہ میرے آنگن میں پاؤں رکھےتو کہکشاں آسماں سے اترےمرے خیالوں سے اس کا رشتہتمام رشتوں کیساری سچائیوں سے برتراٹوٹ ان مٹ عظیم رشتہمری دعا ہےوہ شخصاس شہر آرزو سےجو اب کے جائےعظیم سچ اس کے ساتھ جائے
آؤ مل کر سپنا دیکھیںالٹ پلٹ کر اس دنیا کومنظر کوئی اپنا دیکھیںوقت کی یہ دیوار گرا کروقت سے تھوڑا آگے جا کرہرے بھرے میدانوں والابڑے بڑے دالانوں والادنیا سے دور اک کونے میںشہر خوشی کا بستا دیکھیںجس میں سب کو ہنستا دیکھیں
اگر مجھے ایک زندگیاور مل جائےتو میں اپنے سفر کواپنے اسباب کے ساتھباندھ کر رکھوں
بندر بولا ساتھی آؤہم سب مل کر کھیلیں کھو کھولیکن چوہیا کچھ نہ بولیچپکے چپکے کھیلے گولیبارہ سنگھے کا کہنا ہےکرکٹ سب سے کھیل اچھا ہےگیدڑ بھی ہو گیا نکھٹوچھوڑ پڑھائی کھیلے لٹوبھالو کی مضبوط ہے ہڈیروز کھیلتا خوب کبڈیہاتھی اپنا نام ہے کرتاہے مسٹر خرگوش کا کہنادوڑ بھاگ کا کھیل ہے اچھابلی نے جب کھایا انڈاوہ لے آئی گلی ڈنڈاسارے مل کر کھیل رہے تھےاتنے میں ان کے پیچھے سےشیر جب آیا ان کے آگےسب اپنی دم دبا کے بھاگے
میں ایک سنگ میل ہوںہر مسافر میری جانبدیکھتا ہے لا شعوری طور پراور اپنے ذہن میں رکھے ہوئےہر قدم تسخیر منزل کا خیالبڑھتا جاتا ہے وہ اپنی راہ پربے بسی کا میری عالم دیکھیےجامد و ساکت ہوں میں اپنی جگہکیوں کہمیں ایک سنگ میل ہوںجانے کتنے لوگ گزرےاور گزریں گے اسی اک راہ سےہر کسی کو اپنی منزل کی ہے دھنکوئی ہنستا اور کوئی روتا ہےکوئی اپنی فکر میں ڈوبا ہواتند طوفاں کی طرح بڑھتا کوئیلڑکھڑاتے پاؤں اور تھکن سے چور جسمسب کے چہروں کا تأثردیکھتا رہتا ہوں میںہر مسافر کے تئیںسوچتا رہتا ہوں میں اکثر یہیاس کی منزل اس کو مل پائے گی کیا
آؤ مل کر آج بجائیں آزادی کا باجابھارت دیس پہ راج ہے اپنا گیا فرنگی راجہ
جھٹپٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیاایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیاتاکہ رہگیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیںراہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑایہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سےروشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سداگر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیےہے اندھیرا گھپ در و دیوار پر چھایا ہواسرخ رو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیںروشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں
چلو آؤ مل جل کے بیٹھیں ذرا ہمہے کیوں اتنی نفرت یہ سوچیں ذرا ہم
مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلےسرخ لہو کا تھا اک چھینٹا چکنا گیلا چمکیلا چمکیلامٹی اس پہ گری اور میلی سی اک پیڑھی اس پر سے اتریاور پھر سیندوری سا اک خاکہ ابھراجو اب پکی سڑک پر کالا سا دھبہ ہےپسی ہوئی بجری میں جذب اور جامد ان مٹمجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر مسلا ہوا وہ داغ لہو کامیں نے تو پہلی بار اس دناپنی رنگ برنگی قاشوں والی گیند کے پیچھےیوں ہی ذرا اک جست بھری تھیابھی تو میرا روغن بھی کچھا تھاکس نے انڈیل دیا یوں مجھ کو اس مٹی پراوں اوں میں نہیں مٹتا میں تو ہوں اب بھی ہوںمیں یہ سن کر ڈر جاتا ہوںکالی بجری کے روغن میں جینے والے اس معصوم لہو کی کون سنے گاممتا بک بھی چکی ہے چند ٹکوں میںقانون آنکھیں میچے ہوئے ہےقاتل پہیے بے پہرا ہیں
تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو اک مٹتی ہوئی دنیامری آنکھوں کے آئینے میں پہروں جھلملاتی ہےکہیں دم گھٹ رہا ہے مسکراتے سرخ پھولوں کاکہیں کلیوں کے سینے میں ہوا رک رک کے آتی ہےکہیں کجلا گئے ہیں دن کے چمکائے ہوئے ذرےکہیں راتوں کی ہنستی روشنی غم میں نہاتی ہےوہی دنیا جو کل تک دل کا دامن تھام لیتی تھیاسی دنیا کے ہر ذرے میں اب بے التفاتی ہےتمنا اپنی ناکامی پہ کانپ اٹھتی ہے یوں جیسےبگولے میں کوئی سوکھی سی پتی تھرتھراتی ہےگھنے کہرے میں جیسے ڈھنکتے جاتے ہوں ہرے سبزےیوں ہی بیتے دنوں کی شکل دھندلی پڑتی جاتی ہےجوانی کی اندھیری رات آدھی بھی نہیں گزریمحبت کے دیئے کی لو ابھی سے تھرتھراتی ہے
آسمان کے سینے میں غم چرخا کات رہا ہےسنگ میلپہروں چلتا ہے اور ساکت ہےرات مجھ سے پہلے جاگ گئی ہےلباس پر پڑے ہوئے دھبےمیرے بچوں کے دکھ تھے
اب وقت سفر آ پہنچا ہے آ مل بیٹھیں دو چار گھڑیجب پہلے پہل تم آئے تھے آغاز سحر کا میلہ تھاکچھ کرنیں مدھم مدھم تھیں کچھ اجلا اجلا دھندلکا تھاکچھ ایسی امنگیں تھیں دل میںجو سرکش بھی معصوم بھی تھیںکچھ ہستی بولتی نظریں تھیںجو شوخ بھی بے مفہوم بھی تھیںسورج کی ابھرتی کرنیں بھی یوں کھیل رہی تھیں پہاڑوں پرجس طرح ہوا انگاروں پرنظریں تھیں مری کہساروں پرپھر دھوپ چڑھی موسم بدلاحالات کی گردش تیز ہوئیباہر کی فضا ہیجانی تھیاندر کے تلاطم خیز ہوئیکچھ ایسی بلا کی شدت سے ٹکراؤ ہوا طوفانوں کاجو قدریں تھیں پامال ہوئیںجو خواب تھے چکنا چور ہوئےچند ایک لمحے ہاں لیکنفردا کے جو خد و خال بنےجو حال سے استقبال بنےکچھ یادیں جی کا وبال ہوئیںکچھ زخم کہ جو ناسور بنےکچھ اشک جو غالب آ کے رہے طوفان کے سرکش دھاروں پرطوفاں کے تھپیڑوں میں بھی کبھیجب مڑ کے دیکھا کناروں پرپاؤں تھے انا کی رکابوں میں نظریں تھیں مری کہساروں پراب دن کا میلہ ختم ہوااب دھوپ چڑھی دیواروں پراب اندھیاروں کا میلہ ہے غاروں شہروں کہساروں پراب راکھ چڑھی انگاروں پراب وقت سفر آ پہنچا ہے آ مل بیٹھیں دو چار گھڑی
زمانے میں کوئی برائی نہیں ہےفقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہےیہ میں کہہ رہا ہوںمیں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں تسلسل کا جھولا نہیں ہوںمجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گاکہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہےبرائی بھلائی زمانہ تسلسل یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیںمجھے تو کسی بھی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہےمیں ہوں ایک اور میں اکیلا ہوں ایک اجنبی ہوںیہ بستی یہ جنگل یہ بہتے ہوئے رستے اور دریایہ پربت اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارتیہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاوریہ ہنستے ہوئے ننھے بچے یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافرہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادلیہ کیا ہیںیہی تو زمانہ ہے یہ ایک تسلسل کا جھولا رواں ہےیہ میں کہہ رہا ہوںیہ بستی یہ جنگل یہ رستے یہ دریا یہ پربت عمارت مجاور مسافرہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادلیہ سب کچھ یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہےزمانہ ہوں میں میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہےمگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہےیہ کیسے کہوں میںکہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں
آگے بڑھنے والےبدن کو کپڑوں پر اوڑھتےاور چھریاں تیز کر کے نکلتے ہیںبھیڑ کو چیر کر راستہ بناتےناخنوں سے نوچ لیتے ہیںلباس اور عزتیں-سرخ مرچوں سے ہر آنکھ کو اندھا کر دیتے ہیںاور بڑھ جاتے ہیںرعونت بھری مسکراہٹ کے ساتھچیختے اور چپ کرا دیتے ہیںسر عام رقص کرتے ہیںاور گاڑیاں ٹکرا جاتی ہیںلڑکے لڑ پڑتےمرد، پتلونیں کس لیتےاور بوڑھے، تمباکو میںگڑ کی مقدار بڑھا دیتے ہیںکوئی میز ان کے سامنے جما نہیں رہ سکتااور کوئی محفلان کا داخلہ روک نہیں سکتیوہ ٹھوکر سے دروازہ کھولتے ہیںاور ہر کرسی ان کے لیے خالی ہو جاتی ہےان کے دبدبے سےدیواروں کے پلستر اکھڑ جاتا ہےکاغذ، شور کرنا بھول جاتے ہیںاور موسم، ارادہ تبدیل کر لیتے ہیںآگے بڑھنے والوں سے پناہ مانگتے ہیںان کے ساتھڈرتے ہیںزمین پر جھک کر چلنے والےبوجھل خاموشی سے انہیں دیکھتےاور گزر جاتے ہیںآگے بڑھنے والے نہیں جانتےکہ آگے بڑھا جا ہی نہیں سکتاپھر بھی وہ بڑھتے ہیںپہنچ کر دم لیتے ہیںبے حیائی کی شدتآنکھوں میںموتیا اترنے کی رفتار تیز کر دیتی ہےہر تنے کی چھالبدن پر ان مٹ خراشیں چھوڑ جاتی ہےپھٹکری اور ویزلین سے چکنایا ہوا ماسہڈیوں سے ہمیشہ جڑا نہیں رہ سکتاہر بدن اور ہر کرسی کیایک عمر ہوا کرتی ہےاور پھر ہم انہیں دیکھ سکتے ہیںایک دنلپٹے ہوئے لباس میںخلا کو گھورتے ہوئےکسی نیم تاریک نشیب میںپر کٹے پرندے کی طرحمٹی پر لوٹتے ہوئےآگے بڑھنے کی پیہم کوشش میں
تیری دھرتی کو جھک جھک کے چومے گگن زندہ باد اے وطنتیرے ذروں میں ہیں چاند سورج مگن زندہ باد اے وطنتیری ندیوں میں امرت کی موجیں رواںتیری جھیلوں میں آب شفا کا سماںتیری نہروں میں ہے دولت جاوداںتیرے جھرنوں میں کندن کا نکھرے بدن زندہ باد اے وطنیہ ہمالہ ترا جس کو چومے فلکحسن کشمیر ہے خلد کی اک جھلکتاج کی ضو پہ حیراں ہیں جن و ملکتیری عظمت کی شوبھا اجنتا کا فن زندہ باد اے وطنحسن چرخ بریں تیری پرچھائیاںجنتوں کا یقیں تیری رعنائیاںراحتوں کا امیں تیری پروائیاںتیری انگڑائیاں امن کا بانکپن زندہ باد اے وطنتیری شاموں سے جشن چراغاں کی لوتیری صبحوں کی مسکان میں کیف نوتیری راتوں کے جلوؤں میں فطرت کی ضوتیری تنہائی ہے رشک صد انجمن زندہ باد اے وطنتیری ہونٹوں کو پوجے مدھر بانسریتیری گودی میں کھیلیں کلا راگنیشیام لیلا ادا تیری مسکان کیتیرے نغموں کی لے رادھیکا کی لگن زندہ باد اے وطنتیرے مژگاں پہ کیلاش کا ناز خمتیرے ماتھے کو چومے جمال ارمپاؤں دھوئے ترا حسن رامیشورمتیری بانہوں کا احسان گنگ و جمن زندہ باد اے وطنتیرے بنگال و مدراس فکر و نظرعزم پنجاب گجرات خون جگرتیری یوپی زباں نطق دلی نگربمبئی شان ارمان ارض دکن زندہ باد اے وطنذہن کیرل تو میسور تدبیر ہےراجپوتانہ بازو کی شمشیر ہےمدھیہ پردیش خوابوں کی تعبیر ہےتیرے ان مٹ بہار و اڑیسہ ہیں دھن زندہ باد اے وطنگیت ٹیگور کے ہر غزل میرؔ کییعنی پرچھائیاں حسن تنویر کییا لکیریں حسیں تیری تصویر کیتیرا ہر نقش موضوع شعر و سخن زندہ باد اے وطنتیرے احساس وحدت میں نانک پلےراستے میں اہنسا کے گوتمؔ چلےبزم چشتی میں تیرے ہی دیپک جلےتجھ سے دنیا نے اپنا سنوارا چلن زندہ باد اے وطنموتیوں کی ترے کھیت میں بالیاںتیرے کھلیان ہیروں بھری تھالیاںجھولیں باغوں میں یاقوت کی ڈالیاںتیری مٹی سے لعل اور جواہر کا پن زندہ باد اے وطن
آؤ مل کر پیڑ لگائیںپیڑوں سے ہریالی لائیں
آؤ مل کر قدم بڑھاؤخود جاگو اوروں کو جگاؤ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books