aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "asaase"
کس نے دنیا کو بھی دولت کی طرح بانٹا ہےکس نے تقسیم کئے ہیں یہ اثاثے سارے
خدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس انفس و آفاق ہےاور خیر کی تاریخ کا وہ باب اول ہے
یہ چند اثاثے نکلے ہیں۔۔۔۔!!!کچھ پھول کی سوکھی پتیاں ہیں،
فغاں کہ ''جنبش اعضا'' وہاں اساس نمازخوشا کہ لرزش دل ہے یہاں قیام و قعود
پھر یہ دیکھا کہ تن و جاں کے اثاثے کے عوضمٹی ہم جس پہ قدم رکھتے ہیں
تمہارے ہر اک بیش قیمت اثاثے کی قیمتاس سرخ مٹی سے ہے جس میں میرا لہو رچ گیا ہے
اپنے اثاثے میںاپنے پرانے صندوق میں
اثاثے اور بڑھ جائیں
اس کے دامن میں ڈال جاتے ہوجس کو میں تمہاری گلیوں کی دریوزہ گر کسی قیمتی اثاثے کی طرح
ہمارے سر کاٹ کر اساس فلک میں جب تک دھرے نہ جائیںکھڑا نہ رہ پائے ایک پل بھی
قلندران وفا کی اساس تو دیکھوتمہارے ساتھ ہے کون آس پاس تو دیکھو
کوئی ان کو احساس ذلت دلا دےکوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے
گرچہ مل بیٹھیں گے ہم تم تو ملاقات کے بعداپنا احساس زیاں اور زیادہ ہوگا
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
آدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہے
سحر عیش میں اس کی اثر شام نہیںزندگی اس کے لیے زہر بھرا جام نہیں
گو ہم سے بھاگتی رہی یہ تیز گام عمرخوابوں کے آسرے پہ کٹی ہے تمام عمر
تعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں
دور ماضی کی بد انجام روایات لئےنیچی نظریں وہی احساس ملاقات لئے
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتاہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books