aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ashk-e-sahar"
یہ کس دیار میں لے آئی زندگی مجھ کوجہاں پہ پھول سے چہرے ببول لگتے ہیںجہاں پہ سایہ بھی لگتا ہے دھوپ کی مانندنسیم چلتی ہے رک رک کے ایسے سینے میںکہ جیسے پھانس کسی یاد کی اٹکتی ہوجہاں پہ ابر بھی سورج مثال لگتا ہےجہاں کرن کی ضرب زخم دل کھرچتی ہےکھلے جو پھول تو پتی سے چوٹ لگتی ہےیہ دہر وہ ہے جدھر باد خوش گوار سحردریچے کھول کے یادوں کے آہ بھرتی ہےہر ایک چہرے پہ آویزاں آنکھ ہے لیکنکسی نظر میں کوئی رنگ آشنائی نہیںکسی کا لمس بھی پوروں کے راستے دل میںدئے جلاتا نہیں اس قدر اندھیرا ہے
بسا چکی تھی دماغوں کو رات کی رانیاڑا رہے تھے دھندلکے الاپ کوئل کیلٹا رہا تھا تجلی ستارۂ سحریسحرؔ نے بعد ادائے نیاز معبودیعلی الخصوص بصد عجز یہ دعا مانگی
ترقی کی راہوں میں آگے بڑھایاتمدن کی دنیا میں یکتا بنایانشیب و فراز زمانہ بتایاچلیں جس طرف کی ہوائیں چلایاسحرؔ علم نے ہم کو انساں بنایانہیں کو غرض علم نے ہاں بنایا
افق کے پار نگار سحر کو کیا معلومدیار شب میں گزرتی ہے زندگی کیسےمیں ان کو اپنے غموں کا گواہ کیسے کروںنشاط زیست جو سمجھیں مری مشقت کومثال ریگ بکھرتے ہوئے بدن کے سواتمام دن کی تھکن کا کوئی گواہ نہیںمجھے ہوائے سر رہ گزر پسند سہیمگر ہوائے سر رہ گزر مرے حق میںسموم طعنہ و دشنام لے کے آئی ہےمری سحر کے لیے شام لے کے آئی ہےخلوص و رشتۂ مہر و وفا سے کیا حاصلکچھ اور چاہئے اس عہد کی محبت کو
کتنا دل کش تھا سماں آج سے پہلے پہلےکتنا رنگیں تھا جہاں آج سے پہلے پہلےآج نزدیک سے دیکھا جو زمانہ میں نےاس کے ہر طور کو ہر رنگ کو جانا میں نےاس کے سب راز نہاں مجھ پہ عیاں ہونے لگےذرے ذرے سے ستم اس کے بیاں ہونے لگےاس کی یہ دوغلی صورت بھی نظر آنے لگیاس کی بدلی ہے جو فطرت بھی سمجھ آنے لگییہ جہاں تنگ ہے تاریک ہے تہہ خانہ ہےقصۂ رنج و الم درد کا افسانہ ہےاشک آنکھوں سے یہاں روز بہا کرتے ہیںکتنے دل آتش فرقت میں جلا کرتے ہیںموت کا غم ہے بچھڑنے کی سزا بھی ہے یہاںجیتے جی روز ہی مرنے کا مزہ بھی ہے یہاںبیوگی بھی ہے یتیمی ہے بڑھاپا ہے یہاںہر خوشی رنج و الم کا ہی سراپا ہے یہاںبھائی نے بھائی کا غم حیف اٹھایا ہے یہاںکتنے اپنوں کو تہ خاک سلایا ہے یہاںمفلسی بھی ہے یہاں بھوک ہے لاچاری ہےنسل انسان پہ انسان کا خوں طاری ہےکتنی آنکھوں سے جواں سپنے یہاں ٹوٹے ہیںکتنے گھر اہل سیاست نے یہاں لوٹے ہیںکتنے جسموں کی لگا کرتی ہے بولی ہر دمکھیلی جاتی ہے یہاں خون کی ہولی ہر دمایسی دنیا کہ جہاں سانس بھی لینا ہے محالایسی دنیا ہے جہاں حرف مروت کا اکالایسی دنیا کہ جہاں غم کا ہے سایا ہر پلایسی دنیا کہ جہاں ظلم ہے چھایا ہر پلایسی دنیا کہ جسے دیکھ کے ڈر جاتے ہیںلوگ غربت سے کبھی بھوک سے مر جاتے ہیںایسی دنیا میں اے دنیا مری سنسار مرےایسی دنیا میں اے محبوب اے غم خوار مرےکیا ہوا دل بھی اگر میرا کبھی ٹوٹ گیاکیا ہوا جان سے پیارا بھی اگر چھوٹ گیازندگی یوں بھی گزرنی ہے گزر جائے گیایک دن یاد تری دل سے اتر جائے گیاپنے پیاروں کو سبھی روز جہاں کھوتے ہیںایسی دنیا میں جہاں اور بھی غم ہوتے ہیںتجھ کو کھونا ہی فقط غم کی نشانی تو نہیںتجھ کو پانا ہی مسرت کی کہانی تو نہیںتیری فرقت سے قیامت تو نہیں اترے گیتجھ کو پا کر بھی یہ دنیا تو نہیں بدلے گیتو نہ ہوگا تو کئی اور غم جاں ہوں گےدرد کے روز نئے باب فروزاں ہوں گےاے مری جان غزل اے مری دنیا کے سکوںتیری اور میری محبت ہے فقط ایک فسوںمیری آنکھوں کے سوا بھی تو بہت کچھ ہے یہاںتیرے اور میرے بنا بھی تو درخشاں ہے جہاںصورت قیس نہ بن خود کو یوں فرہاد نہ کراک محبت کے لیے زیست کو برباد نہ کراور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
دل نہیں مانتامجھ کو سچ سچ بتاآج بھی تیرے کمرے کی کوری مہکڈھونڈھتی ہے مجھےتیرے سونے دریچے کی بیکل ہواجس نے پکڑا تھا اک روز دامن مراجب ترے پاس آئی وہ جان وفاتجھ سے پوچھا مراشیلف میں رکھی ساری کتابوں کے اوپر جمی دھول میںان میں رکھے ہوئے کاسنی پھول میںتیرے معمول میںاب بھی موجود ہوںغور سے دیکھ لےگھر کے روزن سے آتی روپہلی کرناس کو لگتا نہیں گھر کا خالی بدنکیا مرے خواب کی کوئی ٹوٹی کڑیتیرے بستر پہ ہے بن کے سلوٹ پڑیکیا ترے نرم تکیے پہ آنسو مرےآج بھی جذب ہیںوہ ترے لیمپ کی دودھیا روشنیتجھ سے تیری اداسی نہیں پوچھتیتیری تنہائی کے خواب ماحول میںکھنکھناتی ہے کیا میری پاگل ہنسیکیا تری ڈایری کے مہکتے ورقمیرے بارے میں کچھ بھی نہیں پوچھتےکیا کسی حرف نے تجھ کو ٹوکا نہیںسیڑھیوں پہ تریخوش نما پھول کیوہ جو بیلیں تھیں وہ آتے جاتے ہوئےکیا ترا راستہ بھی نہیں روکتیںمجھ کو سچ سچ بتابے خیالی میں کیامیری یادوں کو تو نے رکھا ہو کہیںاور ڈھونڈا کہیںدل کو کیوں ہے یقیںعشق گر بھول جانا بھی چاہے کبھیلمس اپنی کہانی نہیں بھولتا
مرے وجود کا مکانخار دار تار کا حصار جس کے ارد گردآدمی کا خون پینے والی زرد جھاڑیوں کے خار دار ہات ہیںمری زمیں کے ارد گردکہکشاں کے خار دار دائروں کا رقص ہےزمیں سے آسمان تکوجود اپنے ان گنت حواس کا گناہ ہےشعور و لمس و لذت و مقام کے سراب ہیںمیں پوچھتا ہوں سنگ میں گداز پنبہ ڈھونڈنے سے کیا ملایہ زندگی یہی تو ہےکہ ریزہ ریزہ جمع کی ہوئی متاع زیست کوہوائے تند پھینک آئے دشت بے سواد میںمری نظر کے سامنےنہ جانے کتنے جسم تھے کہ ٹوٹ کر بکھر گئےمیں ایسے ہولناک تجربوں کے بعد بار بارخود کو یوں سنبھالتا ہوں جیسے اپنے ہات سےمیں گر کے ٹوٹ جاؤں گامرا بدن اذیتوں کا خوان ہےکبھی میں برف کی سلوں کی ہوں غذاکبھی میں تیرگی کا رزق ہوںکبھی مرے لئے ہے نوک دار خنجروں کا تخت خواباور آج ان اذیتوں کے درمیاںمرا وجود جیسے مجھ کو چھوڑ کر چلا گیامیں برگ سبز تھا جسےخزاں کا ہات شاخ تر سے توڑ کر چلا گیامیں ایک سمت فلسفے کے ان گنت نکات کی پناہ ہوںاور ایک سمت آگہی کے جبر کی کراہ ہوںمسابقت کے دور میں وہ ساعتیں بھی آ گئیںکہ حسن اور عشق میں متاع اور مشتری کا رمز جاگنے لگانہ عشق اتنا بے خبرنہ حسن اتنا معتبرکہ بے دلیل قضیۂ وفا کی داد دے سکےیہ کائنات بے حسی کی اک بسیط شکل ہےنہ زندگی کا کچھ اثرنہ موت سے کوئی خطراب ایسی کائنات میںاس ایک ریزۂ وجود کے حواس کیا کریںاب ایسے سرد جسم کی برہنگی کو دیکھ کرخلوص و مہر و لطف کے حسیں لباس کیا کریں
شور بہتا ہوا اک دریا ہےکیسی مستی میں بہے جاتا ہےشور کانوں میں بسا لگتا ہےکیا گرجتا ہوا سناٹا ہےشور جنگل کی لپکتی ہوئی آگگھر کا گھر پل میں جلا دیتا ہےشور خونخوار بلا ہے پل میںساری بستی کو نگل جاتا ہےشور کی آنچ سے اللہ بچائےسیسہ کانوں میں پگھل جاتا ہےشور ہے جنگ و جدل کا کہرامشور ہی امن کا بھی نعرہ ہےشور ہی نغمۂ گل بانگ اذاںشور مندر کا بھجن ہوتا ہےشور احساس وجود ہستیشور ہی زیست کا سرمایہ ہےشور نابود تو ہستی نہ وجودخامشی موت کا ہنگامہ ہےشور ہی شور سحرؔ چار طرفشور تھم جائے تو سناٹا ہے
تیری زلفوں کی طرح ڈھل کے کمر تک پہنچیرات بل کھاتی ہوئی بام سحر تک پہنچی
اگر اے شمع دل جلنا ہی تھا تجھ کو تو جلنا تھاکسی بیکس کی تربت پر چراغ نیم جاں ہو کریہ حسرت تھی کہ موجوں کے تلاطم میں بہا جاتامیں اپنی کشتیٔ بے بادباں کا پاسباں ہو کربتاتا حالت رفتار شب صحرا نشینوں کونجوم چرخ بن کر کارواں در کارواں ہو کرتھکے ماندے مسافر کو سلا دیتا لب دریاہوائے سرو بن کر موجۂ عنبر فشاں ہو کرگزر جاتا فغاں کرتا ہوا سنسان وادی سےفضاؤں کو جگا دیتا درائے کارواں ہو کرامید و بیم کے جھگڑے مٹا دیتا زمانے سےخودی کا دیوتا بن کر خدا کا ترجماں ہو کرفریب حسن دیتا دیدۂ کور تمنا کونگاہ دل نشیں بن کر ادائے دلستاں ہو کرکسی کی آرزو کرنی ہی تھی تو عمر بھر کرتاجوانی میں ہوس بن کر بڑھاپے میں جواں ہو کرترقی منحصر عصیاں پہ ہے مقصود فطرت کیتڑپتا سینہ ہائے شوق میں راز زیاں ہو کریہ حسرت تھی کہ عالمگیر ہوتی روشنی دل کییہ حسرت تھی کہ چھا جاتا زمیں پر آسماں ہو کرمگر کیا کیجئے جب فیصلہ یہ ہے مشیت کاکہ میں فطرت کی آنکھوں سے گروں اشک رواں ہو کر
تیری فطرت میں ہے گوبندؔ کا آثار مگرابنؔ مریم کا مقلد ترا کردار مگررام اور کرشن کے جیون سے تجھے پیار مگربادۂ حب محمد سے بھی سرشار مگرسکھ نہ عیسائی نہ ہندو نہ مسلمان ہے توتیرا ایمان یہ کہتا ہے کہ انسان ہے توہندوؤں سے تجھے لینا ہے ذہانت کا کمالاور سکھوں سے شجاعت کہ نہ ہو جس کی مثالاہل اسلام سے لینا ہے عبادت کا جلالاور عیسائیوں سے صبر لگن اور استقلالان عناصر کو محبت سے ملانا ہوگاکشور ہند کا انسان بنانا ہوگامن کے مندر کو منور کرے نور اسلامکعبۂ دل میں رہے شام و سحر رام کا نامکبھی گنگا کبھی کوثر سے ملیں جام پہ جامیوں بنیں شیر و شکر تیری حکومت میں عوامرام ہو اور رحیم اور نہ ہونے پائےاب کوئی بچہ یتیم اور نہ ہونے پائےتجھ سے امید یہ ہے کہ ملک میں افلاس نہ ہوتنگ دستی نہ آئے کہیں یاس نہ ہوالم و رنج کا دکھ درد کا احساس نہ ہواور تعصب کی کسی قوم میں بو باس نہ ہوعنصر امن شکن کو تہ و بالا کر دےتو جو آیا ہے تو دنیا میں اجالا کر دے
حقیقت تلخ ہے اور تلخ تر ہیں اس کی تدبیریںڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتااگر اس بحر طوفانی میں ہونا ہی مقدر تھاتو اپنی کشتیٔ جذبات کا خود ناخدا ہوتاکبھی موجوں سے ٹکراتا کبھی لہروں پہ لہراتاہلاکت خیز گردابوں کا سینہ روندتا ہوتانسیم صبح بن کر شوخیاں کرتا گلستاں میںگلوں کو گدگداتا کونپلوں کو چھیڑتا ہوتاگھروں میں یاس کے کرتا امیدوں کے کنول روشنکسی بیمار غم کا مونس شام بلا ہوتااک ایسی بانسری ہوتا کہ جس کے کیف نغمہ سےجھپکتی آنکھ تاروں کی زمانہ جھومتا ہوتاقلوب سخت کی سنگین دیواروں سے ٹکراتاسکوت شب میں اک ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہوتاڈبو کر کشتیٔ سرمایہ داری قعر دریا میںمیں مغروروں کی حسرت کا تماشا دیکھتا ہوتاغریبوں کے محلوں میں چراغ رہگزر بن کراندھیرے جھونپڑوں کو بھیک اپنی دے رہا ہوتاچراغ رہ گزار بے کسی جس کے اجالے میںکسی مزدور فاقہ کش کا بچہ کھیلتا ہوتابہشت قیصر و فغفور کے سنسان کھنڈروں میںتباہی اور بغاوت کا ترانہ گا رہا ہوتاپتنگوں کو حرارت شمع کو سوزش عطا کرتااگر جلنا ہی تھا دل کو تو اک آتش کدہ ہوتامگر افسوس فطرت نے مجھے شاعر بنا ڈالانہیں تو اشکؔ اپنی آرزؤں کا خدا ہوتا
وقت کی گرد چھٹے گی تو بعنوان سحرمنزل شوق کی راہوں کا تعین ہوگااک نئے دور کی تعمیر کریں گے ہم سبچاند تاروں سے سجا اپنا نشیمن ہوگا
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
تری چاہ میں دیکھا ہم نے بحال خراب اسےپر عشق و وفا کے یاد رہے آداب اسےترا نام و مقام جو پوچھا، ہنس کر ٹال گیا
یوں فضاؤں میں رواں ہے یہ صدائے دلنشیںذہن شاعر میں ہو جیسے اک اچھوتا سا خیالیا سحر کے سیم گوں رخسار پر پہلی کرنسرخ ہونٹوں سے بچھائے جس طرح بوسوں کے جال
ہوا ہے دل کا تقاضا کہ ایک نعت کہوںمیں اپنے زخم کے گلشن سے تازہ پھول چنوںپھر ان پہ شبنم اشک سحر گہی چھڑکوںپھر ان سے شعروں کی لڑیاں پرو کے نذر کروںمیں ایک نعت کہوں سوچتا ہوں کیسے کہوں
شب مہجوری میں ہنگام نزاعمطلع نور سحر یاد آیا
بس ایک وقت کی ٹھوکر بہ شکل شام و سحرہمارے پاؤں میں لگ لگ کے پوچھتی ہے روزکہاں سے آئے ہو کب تک چلو گے تم یونہیجواب اس کا بھی ہے اس کے پاس ہی لیکنسوال کرنے کی عادت سی پڑ گئی ہے اسے
شب زاد اندھیرے کمرے کےشب گیر ہیں پریاں نیندوں کیشب دار کھلیں گی پلکیں کبشب زور فسوں کب ٹوٹے گاشب کار یہ پردے روزن کےشب بھر کے لیے تھے روزن پرشب توڑ کوئی تو ہاتھ اٹھےاور کھینچ لے شب کے ماتھے سےوہ پردۂ شب جو حائل ہےمابین شب دیجور و سحرپھر آپ اندھیرا شرمائےپھر نور کا مژدہ آ جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books