aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "austin"
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغنہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاںنہ سرخی لب خنجر نہ رنگ نوک سناںنہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغکہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغنہ صرف خدمت شاہاں کہ خوں بہا دیتےنہ دیں کی نذر کہ بیعانۂ جزا دیتےنہ رزم گاہ میں برسا کہ معتبر ہوتاکسی علم پہ رقم ہو کے مشتہر ہوتاپکارتا رہا بے آسرا یتیم لہوکسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغنہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوایہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
خوب حق کے آستاں پر اور جھکے اپنی جبیںجائیے رہنے بھی دیجے ناصح گردوں نشیںتوبہ توبہ ہم بھڑی میں آ کے اور دیکھیں زمیںآنکھ کے اندھے نہیں ہیں گانٹھ کے پورے نہیں
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سےبھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نےلگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میںپیا شعور کا جب جام آتشیں میں نےرہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کودکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نےملا مزاج تغیر پسند کچھ ایساکیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نےنکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھیکبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نےکبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچاچھپایا نور ازل زیر آستیں میں نےکبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایاکیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نےکبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوںدیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نےسنایا ہند میں آ کر سرود ربانیپسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نےدیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنیبسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نےبنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالمخلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نےلہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کوجہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نےسمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کیاسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نےڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریںسکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نےکشش کا راز ہویدا کیا زمانے پرلگا کے آئینہ عقل دوربیں میں نےکیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کوبنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نےمگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کیکیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نےہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخرتو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
یہ مری آستین سے نکلیرکھ دیا دوڑ کے چراغ پہ ہاتھمل دیا پھر اندھیرا چہرے پرہونٹ سے دل کی بات لوٹ گئیدر تک آ کے برات لوٹ گئی
وہ در کھلا میرے غم کدے کاوہ آ گئے میرے ملنے والےوہ آ گئی شام اپنی راہوں میںفرش افسردگی بچھانےوہ آ گئی رات چاند تاروں کواپنی آزردگی سنانےوہ صبح آئی دمکتے نشتر سےیاد کے زخم کو منانےوہ دوپہر آئی، آستیں میںچھپائے شعلوں کے تازیانےیہ آئے سب میرے ملنے والےکہ جن سے دن رات واسطا ہےپہ کون کب آیا، کب گیا ہےنگاہ و دل کو خبر کہاں ہےخیال سوئے وطن رواں ہےسمندروں کی ایال تھامےہزار وہم و گماں سنبھالےکئی طرح کے سوال تھامے
تجھ کو معلوم ہے کس طرح تری الفت میںمیں نے ہر درد ہر اک رنج بھلا رکھا تھااک طرف ہٹ کے شب و روز کے ہنگاموں سےتیرے جلووں کا پری خانہ سجا رکھا تھابھول کر غم کدۂ زیست کی تاریکی کونور امید سے شاموں کو جلا رکھا تھاکہیں دامن میں لئے پھرتا تھا خورشید کو ساتھآستیں میں کہیں مہتاب چھپا رکھا تھا
مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںاور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کونہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہےمگر یہ وقت کی جاسوس نظریںجو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تکاندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تکسویرا ہونے والا ہے(۲)مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناکچھ اندھے سورما جو تیر اندھیرے میں چلاتے ہیںصدا دشمن کا سینہ تاکتے خود زخم کھاتے ہیںلگا کر جو وطن کو داؤ پر کرسی بچاتے ہیںبھنا کر کھوٹے سکے دھرم کے جو پن کماتے ہیںجتا دو ان کو ایسے ٹھگ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں(۳)مرے بیٹے انہیں تھوڑی سی خودداری بھی دے دیناجو حاکم قرض لے کے اس کو اپنی جیت کہتے ہیںجہاں رکھتے ہیں سونا رہن خود بھی رہن رہتے ہیںاور اس کو بھی وہ اپنی جیت کہتے ہیںشریک جرم ہیں یہ سن کے جو خاموش رہتے ہیںقصور اپنا یہ کیا کم ہے کہ ہم سب ان کو سہتے ہیں(۴)مرے بیٹے مرے بعد ان کو میرا دل بھی دے دیناکہ جو شر رکھتے ہیں سینے میں اپنے دل نہیں رکھتےہے ان کی آستیں میں وہ بھی جو قاتل نہیں رکھتےجو چلتے ہیں انہیں رستوں پہ جو منزل نہیں رکھتےیہ مجنوں اپنی نظروں میں کوئی محمل نہیں رکھتےیہ اپنے پاس کچھ بھی فخر کے قابل نہیں رکھتےترس کھا کر جنہیں جنتا نے کرسی پر بٹھایا ہےوہ خود سے تو نہ اٹھیں گے انہیں تم ہی اٹھا دیناگھٹائی ہے جنہوں نے اتنی قیمت اپنے سکے کییہ ذمہ ہے تمہارا ان کی قیمت تم گھٹا دیناجو وہ پھیلائیں دامن یہ وصیت یاد کر لیناانہیں ہر چیز دے دینا پر ان کو ووٹ مت دینا
نہ میرے زہر میں تلخی رہی وہ پہلی سیبدن میں اس کے بھی پہلا سا ذائقہ نہ رہاہمارے بیچ جو رشتے تھے سب تمام ہوئےبس ایک رسم بچی ہے شکستہ پل کی طرحکبھی کبھار جواب بھی ہمیں ملاتی ہےمگر یہ رسم بھی اک روز ٹوٹ جائے گیاب اس کا جسم نئے سانپ کی تلاش میں ہےمری ہوس بھی نئی آستین ڈھونڈھتی ہے
کل اذان صبح سے پہلے فضائے قدس میںمیں نے دیکھا کچھ شناسا صورتیں ہیں ہم نشیںتھے حکیم شرق سے شیخ مجدد ہم کلامگوش بر آواز سب دانش وران علم و دیںبوالکلام آزاد سے غالبؔ تھے مصروف سخنمیرؔ و مومنؔ دور حاضر کی غزل پہ نکتہ چیںاس سے کچھ ہٹ کر گلابی شاخچوں کی چھاؤں میںتھے ولی اللہ کے فرزند نکتہ آفریںایستادہ سرو کے سائے میں تھے مولائے رومجن کے فرمودات میں مضمر ہیں آیات مبیںسوچ میں ڈوبے ہوئے تھے حالیٔؔ درویش خوباندھ کر بیٹھے حلقہ شبلیٔؔ عہد آفریںمیں نے بڑھ کر مرشد اقبال سے یہ عرض کیآپ کو ہم تیرہ بختوں کی خبر ہے یا نہیںدل شکستہ ہو کے فرمایا مجھے معلوم ہےبے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیںسلطنت لے کر خدا و مصطفی کے نام پراب خدا و مصطفی کی راہ پر کوئی نہیںہے ابھی شہباز کی غیرت پر کرگس خندہ زن''ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں''اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب''پادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں''کون سمجھائے اندھیری رات کو آئین مہروائے بد بختی کہ خود مومن ہے محروم یقیںخون دے کر خانۂ صیاد کو روشن کروجاؤ مشرق کے خراب آباد کو روشن کرو
بہت قدیم سا وہ گھر،بہت بہت قدیم سا۔۔۔۔!وہ پتھروں کا گھر کوئی،اسی کے ایک تنگ سے کواڑ میں کھڑی ہوئی،وہ کون تھی؟وہ کون تھی جو خواب میں علیل تھی؟؟؟وہ جس کے زرد جسم کا تمہیں بہت خیال تھا!رقیب تھی مری؟مگر بھلی بھلی لگی مجھے۔۔۔۔!!تھی اس کے زرد رنگ پر گھنی اداسیوں کی رت،پگھل پگھل کے گر رہا تھا اس کی آستیں پہ دکھ۔۔۔۔مری تو روح خوف سے لرز گئی،نگاہ چیخنے لگی،کون ہے، یہ کون ہے؟اسی گھڑی،تمہاری اک نگاہ نے جھکے جھکے یہ کہہ دیا،یہ علیل ہے کہاسے مرا ذرا سا دھیان چاہیئے،یہ جب بھی تندرست ہو گئی میں لوٹ آؤں گااے زرد رو،میں جانتی نہیں تجھےتو کون تھی، نہیں پتامگر تری حیات کی دعا مری حیات ہے!!تو تندرست ہو کے کب دکھائے گی
مکدر ہے فضائے عالم امکاں سیاست سےبہت بے آبرو ہے آج کل انساں سیاست سےضمیر و ظرف کی اس کے یہاں قیمت نہیں کوئیجہاں میں در بدر ہیں صاحب ایماں سیاست سےیہ احساسات تہذیب و تمدن کو مٹاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےنہیں شیوہ سیاست کا محبت اور رواداریسکھاتی ہے پرستاروں کو اپنے یہ ریا کارینہ اس کا کوئی مسلک ہے نہ اس کا کوئی مذہب ہےدل حرس و ہوس میں بن کے رہتی ہے یہ چنگاریکسی کا گھر گراتی ہے کسی کا گھر سجاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےلڑاتی ہے یہی اک دوسرے کو ذات و مذہب پراسی کی شہہ پہ قتل عام ہوتا ہے یہاں اکثررعونت یہ سکھاتی ہے منافق حکمرانوں کواسی کے بطن سے ہوتے ہیں پیدا جبر و ظلم و شریہ اپنے محسنوں کا خون پی کر مسکراتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےسدا یہ اتحاد باہمی پر وار کرتی ہےتعصب کو ہوا دیتی ہے دل بیزار کرتی ہےکہیں تعمیر کرتی ہے عبادت گاہ فتنوں سےکہیں خود ہی عبادت گاہ کو مسمار کرتی ہےفریب و مکر سے اپنے یہ ہر سو قہر ڈھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاسی کے دم سے فصلیں لہلہاتی ہیں فسادوں کییہی تکمیل کرتی ہے حکومت کے ارادوں کیاسی کی مصلحت سے بغض کے پودے پنپتے ہیںگرا دیتی ہے یہ دیوار باہم اعتمادوں کیہوا دے کر یہ بد عنوانیوں کی لو بڑھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاشارے پر اسی کے شہر قصبے گاؤں جلتے ہیںاسی کی آستیں میں سازشوں کے ناگ پلتے ہیںستم گاروں پہ کرتی ہے یہ سایہ اپنے آنچل کااسی کی آڑ میں اشرار و قاتل بچ نکلتے ہیںیہ قانون و عدالت کو بھی اب آنکھیں دکھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےجسارت کو یہی دہشت گری کا نام دیتی ہےیہ ہم سایے کو خود ہی جنگ کا پیغام دیتی ہےبدلتی ہے یہی تقدیر ارباب قیادت کییہ اپنے وارثوں کو سر خوشی کا جام دیتی ہےیہ وعدوں کے گھروندے ریگزاروں میں بناتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے
زمیں کے سینے سے اور آستین قاتل سےگلوئے کشتہ سے بے حس زبان خنجر سےصدا لپکتی ہے ہر سمت حرف حق کی طرحمگر وہ کان جو بہرے ہیں سن نہیں سکتےمگر وہ قلب جو سنگیں ہیں ہل نہیں سکتےکہ ان میں اہل ہوس کی صدا کا سیسہ ہےوہ جھکتے رہتے ہیں لب ہائے اقتدار کی سمتوہ سنتے رہتے ہیں بس حکم حاکمان جہاںطواف کرتے ہیں ارباب گیر و دار کے گرد
گرد چہرے پر پسینے میں جبیں ڈوبی ہوئیآنسوؤں میں کہنیوں تک آستیں ڈوبی ہوئی
کہہ نہیں سکتا کہاں سے آئے ہو، تم کون ہوایسا لگتا ہے کہ یہ صورت ہے پہچانی ہوئیخاک میں روندا ہوا چہرہ مگر اک دل کشیآنکھ میں ہلکا تبسم، دل میں کوئی ٹیس سیپاؤں سے لپٹی ہوئی بیتے ہوئے لمحوں کی گردپیرہن کے چاک میں گہرے غموں کی تازگیپرسش غم پر بھی کہہ سکنا نہ اپنے جی کا حالکچھ کہا تو بس یہی کہ تم پہ کچھ بیتی نہیںراہ میں چلتے ہوئے ٹھوکر لگی اور گر پڑےیوں ہی کانٹے چبھ گئے ہیں، پھٹ گئی ہے آستیںیاد آتا ہے کہ تم مجھ سے ملے تھے پہلی باراک کہانی میں نہ جانے کس کی تھی لکھی ہوئیاور میں نے اس طرح کے آدمی کو دیکھ کردل میں سوچا تھا کہ اس سے آج کر لوں دوستی!
ہر ایک جسم مرا ہے، ہر ایک جان مرییہ خال و خد مرے اپنے، یہ آن بان مریستم تو یہ ہے کہ مظلوم میں ہوں ظالم میںہر ایک زخم مجھی سے حساب مانگے گاہر ایک داغ مری آستیں سے جھانکے گا
بیس برس وہ پرانی شرٹنکلی ہے الماری سےمیں نے تہہ کر کے اس کوالماری کے سب سے اوپر والے خانے میں رکھا تھاجیسے میری بوڑھی ماں قرآن کو چوم کے رکھتی تھیتیری یادوں کے پرفیوم کے دھبے پڑے ہیں اب تکاور میں چھو کر دیکھوں توخوشبو بھی اب تک گئی نہیں ہےوقت اس شرٹ کی آستین کا گھسا ہوا ہےبس میں آخری بار جو تیرا ٹکٹ لیا تھاجیب میں اب تک پڑا ہوا ہےتو نے آخری بار بٹن ٹانکا تھا اس میںیاد ہے جاناںدانت سے دھاگہ توڑ کے کیسےسوئی چبھوئی تھی سینے میںاس کی ٹیسیں آج بھی میرےدل میں رہ رہ کر اٹھتی ہیں
میںحیات مہمل کی جستجو میںسفر زمانے کا کر چکا ہوںمیں اک جواری کی طرح ساری بساط اپنی لٹا چکا ہوںمیں آدمی کے عظیم خوابوں کی سلطنت بھی گنوا چکا ہوںنہ جیب رخت سفر کا تحفہ لیے ہوئے ہےنہ ذہن میرا کسی تصور کا دکھ اٹھانےکسی محبت کا بوجھ سہنے کے واسطے اختلال میں ہےمیں فاتح کی طرح چلا تھاجو راستے میں ملے مجھےوہ تیغ میری سے کٹ گئے تھےمیں زائروں کے لباس میںقرض خوں بہا کا اتارنے، سر منڈا کے یوں ہی نکل گیا تھاکہ لوٹ آؤں گاایک دنپھر بتاؤں گا میں حیات مہمل کا راز کیا ہے؟یہ خواب ہے یا خیال ہے؟میں حیات مہمل کی جستجو میںسفر زمانے کا کر چکا ہوںمیں بے نوا بے گیاہ اور بے ثمر شجر ہوںجو سو زمانوں کی دھول میں بے بصر بھکاری کی طرحاپنی ہی آستیں میں لرز رہا ہے!
ہجوم جس کی ٹھوکروں کی ضرب سےہوا میں ہانپتا ہوا غبار چھٹ نہیں رہاغبار میں جو خاک ہے زمین سے اڑی ہے یاکسی کے سرد جسم سے خبر نہیںخبر بھی ہو تو کیا بگاڑ لے کوئیہجوم ہٹ نہیں رہاابد کی شاخ سبز پر کھلا ہواشباب کا گلاب پتیوں میں بٹ نہیں رہاہجوم بے سکون ہے سوال مر نہیں رہاسوال کا زبان سے جڑا ہوا جو تار ہےوہ تار کٹ نہیں رہاہجوم ہٹ نہیں رہاوہ مر گیاہجوم اس کی ماں کی بد دعا سے ڈر نہیں رہاہجوم اسے چٹختی پسلیوں کے بل گھسیٹتا چلا گیاکسی نے اس کے زخم کو لعاب کا کفن دیاکوئی بدن کو لاٹھیوں سے پیٹتا چلا گیاقریب چند لوگ عکس بند کر رہے ہیںکیمروں میں ایسے کھیل کوکہ جس میں سب کھلاڑیوں کی آستیں پہ خون ہےہجوم کو جنون ہے ہجوم ہٹ نہیں رہامیں منتظر ہوں اک طرفمرے عقب میں چپ کھڑی ہے اک محافظوں کی صفہجوم ہٹ نہیں رہاہجوم سے کہو ہٹے غبار جانے کب چھٹےمیں اس کے درد سے بھنچے شکستہ ہاتھ کی گرفت سےذرا سی نظم کھینچ لوںمحافظوں کا ترجماں دعائے خیر میں مگننہیں نہیں وہ پہلے سے رٹا ہوا بیان رٹ نہیں رہامشال خان خیر ہوتماشا گاہ سے تو رائیگاں پلٹ نہیں رہاہجوم ہٹ نہیں رہا
یہ ایک گوشے میں کون بوڑھالہو میں تر آستیں چھپائےتمام روحوں سے منہ چرائےکماں کی صورت جھکا ہوا ہےلرز رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books