aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ayyaam-e-sheb"
یاد آتے ہیں وہ ایام جدائی ہم کوجنہیں ہنس ہنس کے گزارہ ہے تمہاری خاطر
لارنس باغ کیف و لطافت کے خلد زاروہ موسم نشاط وہ ایام نو بہاربھولے ہوئے مناظر رنگیں بہار کےافکار بن کے روح میں میری اتر گئےوہ مست گیت موسم عشرت فشار کےگہرائیوں کو دل کی غم آباد کر گئےلارنس باغ کیف و لطافت کے خلد زار
کشتۂ عزلت ہوں آبادی میں گھبراتا ہوں میںشہر سے سودا کی شدت میں نکل جاتا ہوں میںیاد ایام سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں میںبہر تسکیں تیری جانب دوڑتا آتا ہوں میںآنکھ کو مانوس ہے تیرے در و دیوار سےاجنبیت ہے مگر پیدا مری رفتار سے
نہ اب ہم ساتھ سیر گل کریں گےنہ اب مل کر سر مقتل چلیں گےحدیث دلبراں باہم کریں گےنہ خون دل سے شرح غم کریں گےنہ لیلائے سخن کی دوست دارینہ غم ہائے وطن پر اشک باریسنیں گے نغمۂ زنجیر مل کرنہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغربنام شاہد نازک خیالاںبیاد مستیٔ چشم غزالاںبنام انبساط بزم رنداںبیاد کلفت ایام زنداںصبا اور اس کا انداز تکلمسحر اور اس کا آغاز تبسمفضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہےیہی تو مسند پیر مغاں ہےسحر گہ اب اسی کے نام ساقیکریں اتمام دور جام ساقیبساط بادۂ و مینا اٹھا لوبڑھا دو شمع محفل بزم والوپیو اب ایک جام الوداعیپیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو
آج پھر مصروفیت کا سیل اتر جانے کے بعدبعد ایام شبابگرمیٔ جہد بقا ہے جبکہ اک افسردہ خوابہوں اسیر پیچ و تابوقف تنہائی ہے دل کرب آشنا ہےصبح پیری میں سمے صحرا بنا ہے آج پھر
وقت بجلی کی سی رفتار پکڑ کر نکلاہائے افسوس وہ ایام حسیں بیت گئےایک رنگین فسانے کا یہ انجام ہواالفتیں ہار گئیں اور ستم جیت گئے
ان ایام محبت میں مزے کیا کیا نہیں لوٹےوفور شوق میں کترے نہیں کیا میں نے گل بوٹےمرا دل توڑنے والے کہیں تیرا نہ دل ٹوٹےخدا کے واسطے کر یاد اپنے عہد و پیماں کو
میرے وطن کے غیور بیٹوتمہاری تقدیر بے گناہی پہ دم بخود ہیں تمام قومیںضمیر انساں تمہارے غم سے کسی طرح بے خبر نہیں ہےیقین جانو تمہارے ایام ابتلا ختم ہو چکے ہیںیقین جانو جہان تازہ میں قحط فکر و نظر نہیں ہے
کیف پرور کس قدر ہیں شام کی دلچسپیاںجنت اہل نظر ہیں صبح کی رنگینیاںرات تیری جوش کیفیات سے لبریز ہےعاشقوں کو چاندنی تیری جنوں انگیز ہےآہ یہ ایام گل بھی کس قدر ہیں خوش گواریعنی ہر ذرے سے دنیا کے خوشی ہے آشکارہے مگر میرا دل صد چاک اب تک بے قرار
وہ دور ہے باقی نہ وہ ایام و ایالیجو واقعہ حسی تھا سو ہے آج خیالیہر کوشک و ایوان ہر اک منزل عالیعبرت سے ہے پر اور مکینوں سے ہے خالی
ہے دسہرا یادگا عظمت ہندوستاںہندوؤں کی اک قدیمی فتح و نصرت کا نشاںاک مٹی سی یہ نشانی دولت و اقبال کییاد دلواتی ہے ان ایام فرخ فال کیجب کہ تھی ہم میں بھی ایسے زور و طاقت کی نمودہیچ تھی دیوان روئیں تن کی جس سے ہست و بودجب اکیلے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ہم بہر نبرداور کر دیتے تھے اپنے دشمنوں کو گرد گرددل میں ہمت ہاتھ میں اپنے فقط شور الاماںباندھ کر وہ پل سمندر کو کیا ہم نے عبورجس کو حیراں دیکھ کر ہیں آج بھی اہل شعورفوج راون لا تعد تھی ریگ صحرا کی طرحاور امنڈ آئی تھی وقت جنگ دریا کی طرحراون خونخوار اور وہ کوہ پیکر اس کے دیوجن کی خوں خواری کا تھا سارے زمانے میں غریوقلعہ وہ لنکا کا جو نا قابل التسخیر تھاجس پہ نازاں اپنے دل میں راون بے پیر تھاتھے طلائی برج جس کے اور مرصع بام و درجن کی چوٹی پر نہ پہنچے کوئی مرغ تیز پرسودۂ لعل و زمرد تھی وہاں کی خاک بھیاک طلسم ایسا کہ قاصر تھا جہاں اور اک بھیہم نے ایسے دشمنوں پر فتح پائی تھی کبھیاپنے حصے میں بھی یہ معجز نمائی تھی کبھیآج وہ دن ہے کہ ہم اس یاد کو تازہ کریںروئے زیبائے عروس فتح پر غازہ کریںمل کے گائیں رام کے گن دل میں ہو جوش سرورقلب صافی مخزن وحدت ہو سینہ رشک طوریہ دسہرا عشرۂ عشرت ہے اپنے واسطےخالق کونین کی نعمت ہے اپنے واسطے
جسم ہے روح کی عظمت کے لیے زینۂ نورمنبع کیف و سرورنارسا آج بھی ہے شوق پرستار جمالاور انساں ہے کہ ہے جادہ کش راہ طویلروح یوناں پہ سلاماک زمستاں کی حسین رات کا ہنگام تپاکاس کی لذات سے آگاہ ہے کونعشق ہے تیرے لیے نغمۂ خامکہ دل و جسم کے آہنگ سے محروم ہے توجسم اور روح کے آہنگ سے محروم ہے توورنہ شب ہائے زمستاں ابھی بے کار نہیںاور نہ بے سود ہیں ایام بہارآہ انساں کہ ہے وہموں کا پرستار ابھیحسن بے چارے کو دھوکا سا دیے جاتا ہےذوق تقدیس پہ مجبور کیے جاتا ہےٹوٹ جائیں گے کسی روز مزامیر کے تارمسکرا دے کہ ہے تابندہ ابھی تیرا شبابہے یہی حضرت یزداں کے تمسخر کا جواب
آج اس بزم میں آئے ہو بڑی دھوم کے ساتھبے خودی محو نظارہ ہے تمہاری خاطریاد آتے ہیں وہ ایام جدائی ہم کوجنہیں ہنس ہنس کے گزارا ہے تمہاری خاطرگو مے لطف سے خالی نہیں پندار جنوںیاں غم عشق کا یارا ہے تمہاری خاطررنج اٹھانا تو کوئی بات نہیں ہے لیکنزہر پینا بھی گوارا ہے تمہاری خاطرہار اور جیت کے مفہوم میں کیا رکھا ہےجیت کر بھی کوئی ہارا ہے تمہاری خاطرترک شیراز ہو تم حافظ شیراز ہوں میںاب سمرقند و بخارا ہے تمہاری خاطرتم جو آئے ہو تو اس زیست کی لذت پا کرہم نے عالم کو سنوارا ہے تمہاری خاطرآج ہم نے مہ و انجم کو بھی زحمت دی ہےآسمانوں سے اتارا ہے تمہاری خاطرلالہ و گل کو بہاروں کو سمن زاروں کودیدہ و دل نے پکارا ہے تمہاری خاطرپھر یہاں شیشہ و ساغر سے چراغاں ہوگاپھر کوئی انجمن آرا ہے تمہاری خاطر
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!اس جلوۂ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ!ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ!ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیںیہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیںیہ کوہ یہ صحرا یہ سمندر یہ ہوائیںتھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیںآئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ!سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے!دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے!ناپید ترے بحر تخیل کے کنارےپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارےتعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میںآباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میںجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میںجنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میںاے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ!نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سےتو جنس محبت کا خریدار ازل سےتو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سےمحنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سےہے راکب تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ!
زندگی کے کئی معیار ہیںورق ورقاک رخ احساس کوفطری اور مصنوعی سطح پر بانٹنااپنے اور پرائے کودو دائروں میں تقسیم کرنایا بارود کے دھماکوں میںزمین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنازندگی برائے زندگی کو ماننے والےوقت کا کہرا چھٹتے ہیآستھا کے عکس پھیلا دیتے ہیںپاگل خیال کی شدت گھٹ جاتی ہےاس پل شاخ در شاخپھیلنے والی خوشبوکسی اجنبی کلائی پرایک راکھی باندھ دیتی ہےپل بھر میں کڑوی سچائیاںرشتوں کی تمام حدیں توڑ کربھائی بہن کے رشتے میں بدل جاتی ہیںذہن میں موجود تمام تلخیاںخوش نما احساس میںخود بخود ڈھل جاتی ہیںامام اعظمؔ کی دعا ہےبے مثال رشتے کا یہ بندھنسدا قائم رہے
اب ایک عمر جدائی کے فاصلے ہوں گےبس ایک وقفۂ شب ہے مرے گلے لگ جاؤ
اے آخر شب کے ماہ پارومجھے بھی تم اپنے ساتھ لے لوکہ دشت تنہائی میں غموں کیفصیل پر میں کھڑا ہوں تنہاکھڑا ہوں اور تک رہا ہوں انبے کراں اندھیروں میں جانے کب سےکہ آخر شب کوئی مسافربھٹک کے راہ طرب سے آئےکچھ اس گلی کا پتہ بتائےکہ جس میں ٹوٹے ہیں میری چشم امیدسے آرزؤں کے تارےجنہیں اندھیروں نے ڈس لیا تھاجو روشنی کے پیامبر تھے
کب سے جانے کب سےشاید صدیوں سےانسان یہی کہتا آیا ہےدل کو ہٹا کربہت سے دھوکے اس نے اپنی عقل سے کھائےاک دھوکہ یہ بھی کھایا ہےوہ کہتا ہے سچ بد صورتآنکھوں میں خوںدانت بڑے اور لال زباں باہر کو نکلیاک ایسی پتھر کی مورتسچ بد صورتلیکن یارو غور سے دیکھوصبح کا ہونا بھی اک سچ ہےآسمان میں رات کی دیوی کا روزانہتارے بونا بھی اک سچ ہےچاندنی رات کی چاندی بھی اک سچائی ہےسورج کی کرنوں کا سونا بھی اک سچ ہےیہاں بھی دیکھو وہاں بھی دیکھوسچ ہے حسن جہاں بھی دیکھوحسن ہے سچ کا کونا کوناحسن کی ضد بد صورت ہوناتو پھر سچ بد صورت کیسےیعنی کچھ جھوٹوں نے مل کرجھوٹ کو اب تک اتنا بولاآج ہمیں وہ سچ لگتا ہےجو کڑوا اور بد صورت ہےآؤ اس میزان میں رکھ کرسچ اور جھوٹ کی ہیئت تولیںہو سکتا ہے جھوٹ لگے دنیا کو لیکنہمت کر کے یہ سچ بولیں
دھدھک رہی ہے دل میں میرے کوئی شےنئی خلشکہ وہ جنون اب پرانا ہو گیاخیال وہکہ مل کے کوئی مل نہیں سکا مجھےاداسیوں کے آسماں میں کھو گیاعجیب سانحہ ہواگذشتہ شبمیں کتنی جلدی سو گیامیں بے سکون ہو گیا ہوںاپنے اس سکون سےسکون چاہیے مجھےپھر ایک جعدہ بنت اشعت زماںجو اتنا تیز زہر دےلگاؤں جب لبوں سے ظرف آب میںتو میرے منہ سے دل مرا نکل پڑےزباں پہ پھر وہ ذائقہوہ خون چاہیے مجھےکوئی نیا جنون چاہیے مجھے
یہ کیا ہواکہ تیرگی سے شام کی خلیج پاٹ دی گئییہ کیا ہوامری خموشیوں کی ہر صداجہاں کے شور و غل سے کاٹ دی گئییہ کیا ہوا کہ آج کا بھی دن تمام ہو گیاابھی بہ وقت صبح صرف صبح تھاذرا سی دیر بعد شام ہو گیاتو کتنا خرچ ہو چکا ہوںکتنا رہ گیا ہوں میںمجھے حساب چاہیےوہی سوال آج اس کو پھر جواب چاہیےیہ آنکھ شور کر رہی ہے اس کو خواب چاہیےشب سیاہ آج مجھ کو ماہتاب چاہیےشراب چاہیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books