aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ba-alfaaz-e-digar"
لیکن اے علم و جسارت کے درخشاں آفتابکچھ بہ الفاظ دگر بھی تجھ سے کرنا ہے خطاب
محبت بہ نوع دگر چاہتا ہوںتجھی کو ترا نامہ بر چاہتا ہوں
چاند نکلا ہے بہ انداز دگر آج کی شامبارش نور ہے تا حد نظر آج کی شام
قلب تاریخ دھڑکا بہ طرز دگررقص کر زندگی زندگی رقص کر
اور کیا چاہئے اب اے دل مجروح تجھےاس نے دیکھا تو بہ انداز دگر آج کی رات
میں نے سوچا تھا کہ اس بار نگاہوں کے سلامآئیں گے اور بہ انداز دگر آئیں گے
سیل بیروں رواں بطرز دگراور جوئے اندروں الگ سی رواں
عبث حساب و شمار اس کا جو گوشت اس سال ناخنوں سے جدا ہوا ہےسکڑتے لمحے کی ایک سرحد سے تا بہ حد دگر وہی کار ستر پوشی
پھر تری بزم حسیں میں لوٹ کر آؤں گا میںآؤں گا میں اور بہ انداز دگر آؤں گا میں
کربلا آج بھی برپا ہے بہ انداز دگردشت میں رقص شہیداں کا تماشہ نہ ہوا
اپنے محور پہ گزرنے میں مہ و سال یہاںنیم شب مہر نکلتا ہے بہ انداز دگر
دامن شوق کو تھامے ہوئے ہیں شرم و حیادل دھڑکتا ہے بہ انداز دگر آج کی رات
نہ جانے کتنی دفعہ اور قتل ہونا ہےمجھے بہ پاس دگر
بیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
آج بار دگروقت کو جستجو ہے
بام و در پر موت کا پرچم ہے لہرایا ہواآ رہی ہے ہر قدم پر بوئے انفاس وبا
اب صاحب انصاف ہے خود طالب انصافمہر اس کی ہے میزان بدست دگراں ہے
لفظ و معنی کا اک سلسلہتا بہ حد نظر
آسمانوں کے تلے سبز و خنک گوشوں میںکوئی ہوگا جسے اک ساعت راحت مل جائے
زندگی کتنی ہے عجیب و غریبزندگی کیا ہے اک تماشا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books