aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baa-vafaa"
شجر ہجرت نہیں کرتےبگڑتے موسموں روٹھی گھٹاؤںدور ہوتے پانیوں تک سے کبھینفرت نہیں کرتےیہ اپنی اجتماعی قتل گاہوں کاتماشا دیکھتے ہیں پرنئے سرسبز میدانوںخنک جھیلوں کے متلاشی نہیں ہوتےزمیں سے اپنی پیوستہ طنابیں کھینچ کر اڑنے نہیں لگتےشجر ہجرت نہیں کرتے
ایک عاشق با وفا اور ایک محبوبہ حسیںکر رہے ہیں دونوں باہم گفتگوئے دل نشیںکہہ رہا ہے عاشق صادق بصد رنج و ملالمیں تمہارا ہو گیا ہوں چھوڑ کر دنیا و دیںسر نہ اٹھا آج تک اپنا یہ ہے شان نیازمدتوں سے ہے تمہارا آستاں میری جبیںہو گئے ہیں سب جدا اللہ ری یہ بیکسیکوئی ہمدم ہے نہ کوئی غم گسار و ہم نشیںپھر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جاؤں گا میںاور کچھ دن گر یہی بے مہریاں مجھ سے رہیںاک نگاہ لطف سے محروم رکھا ہے مجھےاس سے بڑھ کر اور توہین وفا ممکن نہیںآج دنیا میں نہیں تم سا ستم گر مست نازہر ارادہ رنج دہ ہر آرزو ظلم آفریں
یہ کس نے با وفا ہندوستاں سے بے وفائی کیبھلائی چاہنے والے سے یہ کس نے برائی کییہ کس نے آڑ لے کر ہندی چینی بھائی بھائی کیزمین ہند کے لداخ و نیفا پر چڑھائی کی
محبتوں کی وسعتیںہمارے دست و پا میں ہیںبس ایک در سے نسبتیںسگان با وفا میں ہیں
یہ شہید با وفا ہیں مارتے تھے بول کےریل کی پٹری کے پرزے درمیاں سے کھول کے
اس کے ہاتھوں میں امانت تھی وطن کی زندگیاک امین با وفا تھا ڈاکٹر ذاکر حسین
ناراض کس لیے ہو خاموش کس لیے ہواحباب با وفا سے روپوش کس لیے ہو
ترا گم گشتہ بادل ہوں سمند باد پا ہوں میںتری موج و قلم ہوں عندلیب با وفا ہوں میں
تم مجھے پانے کےچاہے جتنے جتن کر لوتم با وفا بہ معنی ہومیں تو اک لفظ بے معنیاپنے آپ سے کب ملا ہوںجو تم سے مل لوںتمہیں پا لوں
اہل دل کشتۂ افتاد زمانہ ہوں جہاںباوفا تیر ملامت کا نشانہ ہوں جہاںایسی راہوں میں وفاؤں کا گزر کیا معنیان خلاؤں میں محبت کا سفر کیا معنیان سے ملنے کی تمنا دل بیتاب نہ کر
ہر ایک دل ربا ملاہر ایک باوفا ملاجسے تھا پاس دوستیوہی اٹھا بڑھا ملانشست جس کی دور تھیقریب آ گیا ملاپشاور آنے کا مجھےسہی جو لطف تھا ملاہنسی ملی خوشی ملیخودی ملی خدا ملارقیب تھا کھچا کھچاحبیب تھا گھلا ملانظر نظر ادا ادامیں دیکھتا چلا گیا
اے امید آ مرے گلے لگ جاکون میرا ہے جگ میں تیرے سوادوست ممکن نہیں کوئی تجھ ساتو اگر ہے تو زندگی میری تیرے دم سے ہےہر خوشی میری تیرے دم سے ہےدیتی ہے تو تسلیاںتیرے ہونے سے کامرانیاںگل آرزو کے کھلاتی ہے توامیدوں کے گلاب مہکاتی ہے توہر ایک موڑ پر کھڑی ہے توپھیلا دیتی ہے بانہیںتو ہی ہے دنیا میں اک با وفاتیرے ہونے سے ملا ہر ایک کو حوصلہدوست ممکن نہیں کوئی تجھ ساتو اگر ہے تو زندگی میری تیرے دم سے ہےہر خوشی میری تیرے دم سے ہے
اے میرے رب کریمتو اشرف مخلوق کی دستارمیرے مغرور سر سے نوچ دےاور ڈال دے ہم کو درندوں کی جماعت میںدرندوں سے کبھی دنیامحبت اور شفقت کی توقع ہی نہیں رکھتیدرندے اپنے قول و فعل پہ نادم نہیں ہوتےمیں اپنے ہم نسب افراد کے قول و عمل سےایک مدت سےپشیمانی میں رہتا ہوںمجھے اب اشرف مخلوق کی طوق گراںاور رحم دل انسان کی برقی قبابا وفا ہمدرد مخلص عجز اور معصومیت کےڈھونگ سے حد درجہ گھن آنے لگی ہےہمیں انسان ہونے پر ندامت ہے
آج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہیےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لیے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتیں ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پہنائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآزمانے نکلیں گےآرزو کی گہرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
اک یہاں بادشاہ تھا بچوملک کا خیر خواہ تھا بچوسب کو بھاتی تھی نیک خو اس کیخوب لگتی تھی گفتگو اس کیوہ کہ شعر و ادب کا ماہر تھادر حقیقت عظیم شاعر تھانام اس نے ابو ظفر پایاآخری تاجدار کہلایااس کی عظمت پہ دل ہے فرش راہاس کو کہتے تھے سب بہادر شاہتخت دلی پہ حکمراں تھا وہمغلیہ دور کا نشاں تھا وہاہل ہندوستاں کا قائد تھاوہ محب وطن مجاہد تھاراس اس کو نہ تخت شاہی تھاوہ کہ اس با وفا سپاہی تھااس کے اپنے ہی ایک رشتہ دارننگ ہندوستاں ہوئے غدارکر کے انگریز بے بس و مجبورلے گئے پھر اسے وطن سے دورظلم انگریز کا سہا برسوںقید رنگون میں رہا برسوں
اک یہاں بادشاہ تھا بچوملک کا خیر خواہ تھا بچوسب کو بھاتی تھی نیک خو اس کیخوب لگتی تھی گفتگو اس کیوہ کہ شعر و ادب کا ماہر تھادر حقیقت عظیم شاعر تھانام اس نے ابو ظفر پایاآخری تاجدار کہلایااس کی عظمت پہ دل ہے فرش راہاس کو کہتے تھے سب بہادر شاہتخت دلی پہ حکمراں تھا وہمغلیہ دور کا نشاں تھا وہاہل ہندوستاں کا قائد تھاوہ محب وطن مجاہد تھاراس اس کو نہ تخت شاہی تھاوہ کہ اک با وفا سپاہی تھااس کے اپنے ہی ایک رشتہ دارننگ ہندوستاں ہوئے غدارکر کے انگریز بے بس و مجبورلے گئے پھر اسے وطن سے دورظلم انگریز کا سہا برسوںقید رنگون میں رہا برسوں
میرے معصوم سے قاتل ترا بسمل آخرچھوڑ دے کوچۂ قاتل تو کہاں جائے گاجس جگہ ہوں گی ترے حسن کی شمعیں روشنتیرا پروانہ وہیں آئے گا جل جائے گابے وفا کیسے بنوں
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
ریل گاڑی یہ گھمسان الٰہی توبہنہ مروت نہ تکلف نہ تبسم نہ ادایوں ہی اک غیر شعوری سی خشونت کا خروشبے ارادہ ہے تو کیا غیر شعوری ہے تو کیایہ نئے دور کے احساس غلامی کا ظہورانتقامانہ تحکم کی نموداس میں اک اظہار بغاوت بھی تو ہےیوں ہی یوں ہی سہیاک شائبہ داد شجاعت بھی تو ہےچاک تو کرتا ہوں میں اپنا گریباں ہی سہیکلبلاتی ہوئی مخلوق کی اس دلدل میںسینہ تانے ہوئے کچھ لوگ بڑھے جاتے ہیںخوب پھنکارتے پھن پھیلائےلوگ وہ لوگ نہیںجن کو ٹھکراتے ہوئے جاتے ہیںیہ لوگ بڑے صاحب لوگیہ جو حکام ہمارے ہیں یہ حکام نہیںجو ہمیں سے ہیں مگر ہم میں نہیںیہ جو بندوں کے ہیں آقا مگر آقا کے غلامبا وفا ہوں تو ہوں بے دام نہیںتو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھاان پہ دنیا کی ہر اک راہ کشادہ ہے مگرآج اک سنگ راں حائل ہےکہ اٹھائے نہ اٹھے اور ہلائے نہ ہلےدوسرے درجے کے دروازے میںان کے آقاؤں کا اک فرد فرنگی گوراباہیں پھیلائے ہوئے راستہ روکے ہے کھڑاکون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشقسیٹیاں بجنے لگیں خدمت سرکار بجا لانا ہےاور سرکار ہی خود سنگ رہ منزل ہےزندگی آ گئی دوراہے پردیر کیوں کرتے ہو بھاگو بھاگودوڑ کر تھرڈ کے ڈربے میں گھسواپنے ہم جنس غلاموں میں ملوزندگی آ گئی دوراہے پر
شہید جور گلچیں ہیں اسیر خستہ تن ہم ہیںہمارا جرم اتنا ہے ہوا خواہ چمن ہم ہیںستانے کو ستا لے آج ظالم جتنا جی چاہےمگر اتنا کہے دیتے ہیں فرداے وطن ہم ہیںہمارے ہی لہو کی بو صبا لے جائے گی کنعاںملے گا جس سے یوسف کا پتہ وہ پیرہن ہم ہیںہمیں یہ فخر حاصل ہے پیام نور لائے ہیںزمیں پہلے پہل چومی ہے جس نے وہ کرن ہم ہیںسلا لے گی ہمیں خاک وطن آغوش میں اپنینہ فکر گور ہے ہم کو نہ محتاج کفن ہم ہیںبنا لیں گے ترے زنداں کو بھی ہم غیرت محفللیے اپنی نگاہوں میں جمال انجمن ہم ہیںنہیں تیشہ تو سر ٹکرا کے جوئے شیر لائیں گےبیابان جنوں میں جانشین کوہ کن ہم ہیںزمانہ کر رہا ہے کوششیں ہم کو مٹانے کیہلا پاتا نہیں جس کو وہ بنیاد کہن ہم ہیںنہ دولت ہے نہ ثروت ہے نہ عہدہ ہے نہ طاقت ہےمگر کچھ بات ہے ہم میں کہ جان انجمن ہم ہیںترے خنجر سے اپنے دل کی طاقت آزمانا ہےمحبت ایک اپنی ہے ترا سارا زمانہ ہےفدائے ملک ہونا حاصل قسمت سمجھتے ہیںوطن پر جان دینے ہی کو ہم جنت سمجھتے ہیںکچھ ایسے آ گئے ہیں تنگ ہم کنج اسیری سےکہ اب اس سے تو بہتر گوشۂ تربت سمجھتے ہیںہمارے شوق کی وارفتگی ہے دید کے قابلپہنچتی ہے اگر ایذا اسے راحت سمجھتے ہیںنگاہ قہر کی مشتاق ہیں دل کی تمنائیںخط چین جبیں ہی کو خط قسمت سمجھتے ہیںوطن کا ذرہ ذرہ ہم کو اپنی جاں سے پیارا ہےنہ ہم مذہب سمجھتے ہیں نہ ہم ملت سمجھتے ہیںحیات عارضی صدقے حیات جاودانی پرفنا ہونا ہی اب اک زیست کی صورت سمجھتے ہیںہمیں معلوم ہے اچھی طرح تاب جفا تیریمگر اس سے سوا اپنی حد الفت سمجھتے ہیںغم و غصہ دکھانا اک دلیل ناتوانی ہےجو ہنس کر چوٹ کھاتی ہے اسے طاقت سمجھتے ہیںغلامی اور آزادی بس اتنا جانتے ہیں ہمنہ ہم دوزخ سمجھتے ہیں نہ ہم جنت سمجھتے ہیںدکھانا ہے کہ لڑتے ہیں جہاں میں با وفا کیوں کرنکلتی ہے زباں سے زخم کھا کر مرحبا کیوں کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books