aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "badlaa"
تمہاری قبر پرمیں فاتحہ پڑھنے نہیں آیامجھے معلوم تھاتم مر نہیں سکتےتمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھیوہ جھوٹا تھاوہ تم کب تھےکوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھامری آنکھیںتمہارے منظروں میں قید ہیں اب تکمیں جو بھی دیکھتا ہوںسوچتا ہوںوہ وہی ہےجو تمہاری نیک نامی اور بد نامی کی دنیا تھیکہیں کچھ بھی نہیں بدلاتمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیںمیں لکھنے کے لیےجب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوںتمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی میں پاتا ہوںبدن میں میرے جتنا بھی لہو ہےوہ تمہاریلغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہےمری آواز میں چھپ کرتمہارا ذہن رہتا ہےمری بیماریوں میں تممری لاچاریوں میں تمتمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہےوہ جھوٹا ہےتمہاری قبر میں میں دفن ہوںتم مجھ میں زندہ ہوکبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
یہی جگہ تھی یہی دن تھا اور یہی لمحاتسروں پہ چھائی تھی صدیوں سے اک جو کالی راتاسی جگہ اسی دن تو ملی تھی اس کو ماتاسی جگہ اسی دن تو ہوا تھا یہ اعلاناندھیرے ہار گئے زندہ باد ہندوستانیہیں تو ہم نے کہا تھا یہ کر دکھانا ہےجو زخم تن پہ ہے بھارت کے اس کو بھرنا ہےجو داغ ماتھے پہ بھارت کے ہے مٹانا ہےیہیں تو کھائی تھی ہم سب نے یہ قسم اس دنیہیں سے نکلے تھے اپنے سفر پہ ہم اس دنیہیں تھا گونج اٹھا وندے ماترم اس دنہے جرأتوں کا سفر وقت کی ہے راہ گزرنظر کے سامنے ہے ساٹھ میل کا پتھرکوئی جو پوچھے کیا کیا ہے کچھ کیا ہے اگرتو اس سے کہہ دو کہ وہ آئے دیکھ لے آ کرلگایا ہم نے تھا جمہوریت کا جو پودھاوہ آج ایک گھنیرا سا اونچا برگد ہےاور اس کے سائے میں کیا بدلا کتنا بدلا ہےکب انتہا ہے کوئی اس کی کب کوئی حد ہے
آسمان بدلا ہے افسوس نا بدلی ہے زمیںایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
ہستی کی متاع بے پایاں جاگیر تری ہے نہ میری ہےاس بزم میں اپنی مشعل دل بسمل ہے تو کیا رخشاں ہے تو کیایہ بزم چراغاں رہتی ہے اک طاق اگر ویراں ہے تو کیاافسردہ ہیں گر ایام ترے بدلا نہیں مسلک شام و سحرٹھہرے نہیں موسم گل کے قدم قائم ہے جمال شمس و قمرآباد ہے وادیٔ کاکل و لب شاداب و حسیں گلگشت نظرمقسوم ہے لذت درد جگر موجود ہے نعمت دیدۂ تراس دیدۂ تر کا شکر کرو اس ذوق نظر کا شکر کرواس شام و سحر کا شکر کرو ان شمس و قمر کا شکر کرو
ہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہےہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ کس سے ان کے نکاح ہوں گےیہ کس کے بستر کی زینتیں ہیںوہ کون ہوگا جو اپنے ہونٹوں کوان کے جسموں کی آب دے گابھلے محبت کسی کے کہنے پہآج تک ہو سکی نہ ہوگیمگر یہ ہم طے کریں گےان کو کسے بسانا ہے اپنے دل میںہم ان کے مالک ہیںجب بھی چاہیںانہیں لحافوں میں کھینچ لائیںاور ان کی روحوں میں دانت گاڑیںیہ ماں بنیں گیتو ہم بتائیں گےان کے جسموں نے کتنے بچوں کو ڈھالنا ہےہمارے بچوں کے پیٹ بھرنےاگر یہ کوٹھے پہ جا کے اپنا بدن بھی بیچیںتو ہم بتائیں گےکس کو کتنے میں کتنا بیچیںہمیں کو حق ہےکہ ان کے گاہک جو خود ہمیں ہیں سےساری قیمت وصول کر لیںہمیں کو حق ہے کہ ان کی آنکھیںحسین چہرے شفاف پاؤںسفید رانیں دراز زلفیںاور آتشیں لب دکھا دکھا کرکریم صابن سفید کپڑے اور آم بیچیںدکاں چلائیں نفع کمائیںہمیں تو ہیں جو یہ طے کریں گےیہ کس صحیفے کی کون سی آیتیں پڑھیں گییہ کون ہوتی ہیںاپنی مرضی کا رنگ پہنیںاسکول جائیں ہمیں پڑھائیںہمیں بتائیںکہ ان کا رب بھی وہی ہے جس نے ہمیں بنایابرابری کے سبق سکھائیںیہ لونڈیاں ہیں یہ جوتیاں ہیںیہ کون ہوتی ہیں اپنی مرضی سے جینے والیبتانے والے ہمیں یہی تو بتا گئے ہیںجو حکمرانوں کی بات ٹالیںجو اپنے بھائی سے حصہ مانگیںجو شوہروں کو خدا نہ سمجھیںجو قدرے مشکل سوال پوچھیںجو اپنی محنت کا بدلہ مانگیںجو آجروں سے زباں لڑائیںجو اپنے جسموں پہ حق جتائیںوہ بے حیا ہیں
رومي بدلے ، شامي بدلے، بدلا ہندستانتو بھي اے فرزند کہستاں! اپني خودي پہچاناپني خودي پہچاناو غافل افغان!موسم اچھا ، پاني وافر ، مٹي بھي زرخيزجس نے اپنا کھيت نہ سينچا ، وہ کيسا دہقاناپني خودي پہچاناو غافل افغان!اونچي جس کي لہر نہيں ہے ، وہ کيسا درياےجس کي ہوائيں تند نہيں ہيں ، وہ کيسا طوفاناپني خودي پہچاناو غافل افغان!ڈھونڈ کے اپني خاک ميں جس نے پايا اپنا آپاس بندے کي دہقاني پر سلطاني قرباناپني خودي پہچاناو غافل افغان!تيري بے علمي نے رکھ لي بے علموں کي لاجعالم فاضل بيچ رہے ہيں اپنا دين ايماناپني خودي پہچاناو غافل افغان!
وقت بدلا تو مرے نام کا تارہ نکلاجیسے بچے کا کوئی لفظ ہو پہلا پہلاجیسے پیاسا کوئی آ کر لب دریا مچلاجیسے کہسار کے گوشے پہ مسافر سنبھلا
تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانا ہرگزداستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبلہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہرگزڈھونڈھتا ہے دل شوریدہ بہانے مطربدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگزصحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گیکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگزلے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاحدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگزچپہ چپہ پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاکدفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگزمٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تواے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگزوہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئےایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانا ہرگزجس کو زخموں سے حوادث کے اچھوتا سمجھیںنظر آتا نہیں اک ایسا گھرانا ہرگزہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگزآخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقیبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگزبخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماںنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگزکبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلیہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگزغالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔاب دکھائے گا نہ شکلوں کو زمانا ہرگزمومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگزداغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگزرات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگزبزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز
دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آجتاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے آجوہ سر اٹھائے موج فنا آ رہی ہے آجموج حیات موت سے ٹکرا رہی ہے آجکانوں میں زلزلوں کی دھمک آ رہی ہے آجہر چیز کائنات کی تھرا رہی ہے آججھپکا رہی ہے دیر سے آنکھیں ہوائے دہرکون و مکاں کو نیند سی کچھ آ رہی ہے آجہر لفظ کے معانی و مطلب بدل چکےہر بات اور بات ہوئی جا رہی ہے آجیکسر جہان حسن بھی بدلا ہوا سا ہےدنیائے عشق اور نظر آ رہی ہے آجہر ہر شکست ساز میں ہے لحن سرمدییا زندگی کے گیت اجل گا رہی ہے آجیہ دامن اجل ہے کہ تحریک غیب ہےکیا شے ہوائے دہر کو سنکا رہی ہے آجابنائے دہر لیتے ہیں یوں سانس گرم و تیزجینے میں جیسے دیر ہوئی جا رہی ہے آجافلاک کی جبیں بھی شکن در شکن سی ہےتیوری زمین کی بھی چڑھی جا رہی ہے آجپھر چھیڑتی ہے موت حیات فسردہ کوپھر آتش خموش کو اکسا رہی ہے آجبرہم سا کچھ مزاج عناصر ہے ان دنوںاور کچھ طبیعت اپنی بھی گھبرا رہی ہے آجاک موج دود سینے میں لرزاں ہے اس طرحناگن سی جیسے شیشے میں لہرا رہی ہے آجبیتے جگوں کی چھاؤں ہے امروز پر فراقؔہر چیز اک فسانہ ہوئی جا رہی ہے آج
جگت ماں تھی وہسو چھوٹا بڑا ہر کوئی اس کو مائے ہی کہہ کر بلاتا تھاسویرے ہی سویرے مائے کے ہاتھوں کےان مولی بھرے خستہ پراٹھوں کے بناکب سردیوں کا لطف آتا تھا
دعائیں مٹی میں گر پڑی ہیںخدا سے کیسی شکایتیں ہوںچراغ سانسوں نے پھونک ڈالاہوا سے کیسی شکایتیں ہوں جو گھر میں ٹھہریں تو خوف آئےکہ اپنے پیکر ہیں سائے سائےسفر پہ نکلیں تو رکتے رکتےکہ جیسے رخصت کرے گا کوئیجو راہ تھکنے لگے تو چپکے سے لوٹ آئیںکہ کوئی واپس نہیں بلاتااداس ہوں تو کسے بتائیںگلے سے کوئی نہیں لگا ہےجو آئینوں سے الجھ پڑیں تویہ کون پوچھے کہ کیا ہوا ہےجو تم نے بدلا ہے روپ ایساتو ہم بھی ویسے نہیں رہے ہیںنہیں رہے ہو تو ہم بھی رہتے ہیں یوں کہجیسے نہیں رہے ہیں
یا خدا ہند پر کرم فرمااس کی تکلیف کالعدم فرماہیں پریشاں بہت حواس اس کےنہیں ہمدرد کوئی پاس اس کےفقر و فاقہ سے پائمال ہے ابقرض میں اس کا بال بال ہے ابنہ ہی صنعت نہ اب تجارت ہےساری آسودگی وہ غارت ہےعلم و فن سے ہے اس کا گھر خالیعقل و ادراک سے ہے سر خالیاچھے اطوار مٹ گئے اس کےنیک کردار مٹ گئے اس کےخلق ہے اب نہ مہر و الفت ہےآتشی ہے نہ اب اخوت ہےرنگ بالکل ہے ملک کا بدلاسارا پانی ہے چاہ کا گدلاہر طرف جہل ہے لڑائی ہےدشمن آپس میں بھائی بھائی ہےنہ محبت ہے اب نہ ہمدردینہ دلیری نہ اب جواں مردینہ روا داری و شرافت ہےنہ اب امن و امان و راحت ہےہر طرف ہے فساد ہنگامہکوئی رستم ہے اور کوئی گامااب کہاں صلح و خیر کی باتیںجب ہیں کانوں میں غیر کی باتیںجان بل کی ہیں سازشیں جاریملک پر ہیں نوازشیں جاریایک سے ہے کبھی شناسائیدوسرے کے لیے کبھی سائیکبھی ان کو لڑا دیا سب سےکبھی ان کو بھڑا دیا سب سےکبھی ان کو پولس و تھانہ ہےاور کبھی ان کو جیل خانہ ہےیہی منظر یہاں ہے شام و سحربس یہی ہو رہا ہے آٹھ پہرجانتا ہے ہر اک یہ سب باتیںپھر بھی خالی نہیں حوالاتیںوہی جنگ و جدل وہی جھگڑےوہی بغض و عناو کے رگڑےیا خدا دے ہمیں وہ عقل سلیمکہ سمجھ ہم سکیں ہر اک سکیمپڑ سکے پھر نہ کوئی زد ہم پرکھل سکیں سارے نیک و بد ہم پرختم کر دیں یہ تفرقہ سازیآگ میں جھونک دیں تبر یازیسب کریں مل کے ملک کی خدمتدور ہو اس کی عسرت و نکبتحکمت و فن وطن میں پھیلائیںشاہراہیں مسل کی کھل جائیںعلم و سائنس ملک میں بھر دیںاس زمیں کو ہم آسماں کر دیںہم پہ کھل جائیں سب وہ عقل کے رازہو اس کا یورپ کے طرۂ اعزازصنعتوں کی ہو گرم بازاریگاؤں گاؤں میں ہوں ملیں جاریریل، موٹر، جہاز ،طیارےخود یہ تیار ہم کریں سارےکبھی صحرا ہو مستقر اپناہو کبھی ٹاپوؤں میں گھر اپنامانچسٹر پہ خاک ڈالیں گےگھر سے جاپان کو نکالیں ہمنہ رہیں ہم کسی کے بھی محتاجملک اپنا ہو اور اپنا راجہم میں گر اتحاد ہو جائےملک آباد شاد ہو جائے
پھر خبر گرم ہے وہ جان وطن آتا ہےپھر وہ زندانیٔ زندان وطن آتا ہےوہ خراب گل و ریحان وطن آتا ہےمصر سے یوسف کنعان وطن آتا ہے''کوئی معشوق بصد شوکت و ناز آتا ہےسرخ بیرق ہے سمندر میں جہاز آتا ہے''رند بے کیف کو تھی بادہ و ساغر کی تلاشناظر منظر فطرت کو تھی منظر کی تلاشایک بھونرے کو خزاں میں تھی گل تر کی تلاشخود صنم خانۂ آذر کو تھی آذر کی تلاشمژدہ اے دوست کہ وہ جان بہار آ پہنچا!اپنے دامن میں لیے برق و شرار آ پہنچا!اپنا پرچم وہ کچھ اس انداز سے لہراتا ہےرنگ اغیار کے چہروں سے اڑا جاتا ہےکوئی شاداں، کوئی حیراں، کوئی شرماتا ہےکون یہ ساحل مشرق پہ نظر آتا ہےاپنے میخانے کا اک میکش بے حال ہے یہہاں وہی مرد جواں بخت و جواں سال ہے یہمرد سرکش تجھے آدم کی کہانی کی قسمروح انساں کے تقاضائے نہانی کی قسمجذبۂ عیش کی ہر شورش فانی کی قسمتجھ کو اپنی اسی بد مست جوانی کی قسمآ کہ اک بار گلے سے تو لگا لیں تجھ کواپنے آغوش محبت میں اٹھا لیں تجھ کونطق تو اب بھی ہے پر شعلہ فشاں ہے کہ نہیںسوز پنہاں سے تری روح تپاں ہے کہ نہیںتجھ پہ یہ بار غلامی کا گراں ہے کہ نہیںجسم میں خون جوانی کا رواں ہے کہ نہیںاور اگر ہے تو پھر آ تیرے پرستار ہیں ہمجنس آزادیٔ انساں کے خریدار ہیں ہمساقی و رند ترے ہیں مے گلفام تریاٹھ کہ آسودہ ہے پھر حسرت ناکام تریبرہمن تیرے ہیں کل ملت اسلام تریصبح کاشی تری، سنگم کی حسیں شام تریدیکھ شمشیر ہے یہ ساز ہے یہ جام ہے یہتو جو شمشیر اٹھا لے تو بڑا کام ہے یہدیکھ بدلا نظر آتا ہے گلستاں کا سماںساغر و ساز نہ لے، جنگ کے نعرے ہیں یہاںیہ دعائیں ہیں وہ مظلوم کی آہوں کا دھواںمائل جنگ نظر آتا ہے ہر مرد جواںسرفروشان بلاکش کا سہارا بن جااٹھ اور افلاک بغاوت کا ستارا بن جا
کہ ایک سائے کی نرم آہٹ نے راستوں کا نصیب بدلاکوئی تعلق کے چاند لہجے میں اپنے پن کی ادا سے بولا''مرے مسافر اداس مت ہو کہ عہد فرقت ہی زندگی ہےیہ فاصلوں کی خلیج راہ وصال ہے اور طلب نگاہوں کی روشنی ہےتمام چیزیں تمہارے میرےبدن کے رشتوں کا سلسلہ ہیںتمہیں خبر ہے کہ ہم سمندراور آسمانوں کی انتہا ہیں!''
زمانے کی ہوا بدلی ادھر رنگ چمن بدلاگلوں نے جب روش بدلی عنادل نے وطن بدلاطریقہ آشنائی کا کبھی ایسا نہ بدلا تھاکہ چال عشاق نے بدلی حسینوں نے چلن بدلابدلتے آئے ہیں یوں تو ہمیشہ دور گردوں کےنہ ایسا بھی کہ ہم بدلے ہمارا کل جتن بدلامقاصد مذہب و ملت کے بدلے دور عالم نےصحائف کی شرح بدلی کتابوں کا متن بدلابدل ڈالا ہے ایسا مغربی تہذیب نے ہم کومذاق خوان نعمت اور طرز پیرہن بدلاپرانی چال بے ڈھنگی ہماری دیکھیں کب بدلےابھی تک جگ ہی بدلے تھے غضب یہ ہے قرن بدلانہ بدلا پر نہ بدلا ہائے طرز معشرت قومیاگرچہ ساری دنیا کا ہنر اور علم و فن بدلانظام شاعری میں ہائے آیا انقلاب ایساکہ شان نظم بدلی اور انداز سخن بدلاسلیقہ انتقاد جنس حرفت کا نہیں ہم کوزر خالص سے ابریشم نما یورپ نے سن بدلانہ بدلا ہے نہ بدلے گا فقط قانون اسلامیقمرؔ جب تک کہ قدرت نے نہ یہ چرخ کہن بدلا
تمہیں معلوم تو ہوگاسبھی موسم بدلتے ہیںکبھی تپتی دوپہریں جون کیتن من جلاتیں ہیںکبھی یخ بستہ راتوں کادسمبر لوٹ آتا ہےکبھی پت جھڑ کا موسم خون پیتا ہے درختوں کاکبھی سوکھی ہوئی شاخوں پہ کلیاں کھلکھلاتی ہیںخزاں کا دم نکلتے ہیبہاریں مسکراتی ہیںتمہیں معلوم تو ہوگاسبھی موسم بدلتے ہیںمگر یہ بھی حقیقت ہےہمارے دل کے آنگن میںکسی صورت نہیں بدلاتمہاری یاد کا موسم
نہ پوچھ اے ہم نشیں کالج میں آ کر ہم نے کیا دیکھازمیں بدلی ہوئی دیکھی فلک بدلا ہوا دیکھانہ وہ پہلی سی محفل ہے نہ مینا ہے نہ ساقی ہےکتب خانے میں لیکن اب تلک تلوار باقی ہےوہی تلوار جو بابر کے وقتوں کی نشانی ہےوہی مرحوم بابر یاد جس کی غیر فانی ہےزمیں پر لیکچرر کچھ تیرتے پھرتے نظر آئےاور ان کی ''گاؤن'' سے کندھوں پہ دو شہ پر نظر آئےمگر ان میں مرے استاد دیرینہ بہت کم تھےجو دو اک تھے بھی وہ مصروف صد افکار پیہم تھےوہ زینے ہی میں ٹکرانے کی حسرت رہ گئی دل میںسنا ون وے ٹریفک ہو گئی اوپر کی منزل میںاگرچہ آج کل کالج میں واقف ہیں ہمارے کمہمیں دیوار و در پہچانتے ہیں اور ان کو ہمبلندی پر الگ سب سے کھڑا ''ٹاور' یہ کہتا ہےبدلتا ہے زمانہ میرا انداز ایک رہتا ہےفنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پرمگر ''ٹاور'' کی ساعت کے بھی بازو خوب چلتے ہیںکبوتر بیٹھ کر سوئیوں پہ وقت اس کا بدلتے ہیںاسی مالک کو پھر حلوے کی دعوت پر بلاتے ہیںوہ حلوہ خوب کھاتے ہیں اسے بھی کچھ کھلاتے ہیںاگر وہ یہ کہے اس میں تو زہریلی دوائی ہےمرا دل جانتا ہے اس میں انڈے کی مٹھائی ہےپھر اس کے بعد بہر خودکشی تیار ہوتے ہیںوہ حلوہ بیچ میں اور گرد اس کے یار ہوتے ہیںوہ پوچھے گر کہاں سے کس طرح آیا ہے یہ حلوہتو ڈبہ پیش کر کے کہہ دیا اس کا ہے سب جلوہکسی کنجوس کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتے ہیںاور اس کے نام پر ٹک شاپ سے چیزیں منگاتے ہیںبچارہ جعفریؔ مدت کے بعد آیا ہے کالج میںاضافہ چاہتا ہے اپنی انگریزی کی نالج میںترے سینے پہ جب یاران خوش آئیں کی محفل ہوتو اے 'اوول' اسے مت بھول جانا وہ بھی شامل ہو
اختر الزماں ناصروقت جیسے رویا ہودھوپ نرم لہجے میں جیسے آج گویا ہودور کوئی مسجد میںبیچ عصر و مغرب کےجیسے کھویا کھویا ہواختر الزماں ناصرمیں تمہاری آنکھوں سے دیکھتا تھا دنیا کومیں تمہارے ہاتھوں سے زندگی کو چھوتا تھامیں تمہارے قدموں سے ناپتا تھا رستوں کومیں تمہاری سانسوں سے سونگھتا تھا خوشبو کومیں تمہارا منظر تھابے صدا سمندر تھاسر پہ آسماں تم تھےہاں مرا بیاں تم تھےاور میری دھرتی میں چاہتیں تمہاری تھیںعادتیں تمہاری تھیںدن تمہارے لہجے کی چھاؤں میں گزرتے تھےزندگی سے لڑتے تھے زندگی سے ڈرتے تھےاختر لزماں ناصرجانے کیوں ہوا بدلی چرخ نے بھی رخ بدلادور مسجد جاں سے کیوں اذان دل ابھریسجدۂ طلب چمکاحرف کنج لب چمکادن غروب ہوتے ہی ذوق منتخب چمکاکاش یہ نہیں ہوتا کاش میں وہیں ہوتااختر الزماں ناصرمیں کسی تمدن کا آخری مسافر ہوںمیں ہزار خوابوں کی دوڑ دھوپ میں شاملمیں ہزار جذبوں کی ریل پیل کا عادیمیں ہزار ہاتھوں سے زندگی بناتا ہوںمیں ہزار قدموں سے راستوں پہ چلتا ہوںمیں ہزار شانوں پہ کروٹیں بدلتا ہوںمیں ہزار آنکھوں سے منظروں میں ڈھلتا ہوںمیں اسیر دنیا کامیں بصیر فردا کامیں ورق ہوں ماضی کاوقت ہے منادی کاڈرتے ڈرتے کہتا ہوں میں بھی ایک شاعر ہوںاختر لزماں ناصریہ سفر جو جاری ہے کون اس کا جادہ ہےکون اس کی منزل ہےلوٹنا بھی مشکل ہےمیں تو جیسے بھر پایا اور ایک در پایاروز و شب کا حلقہ ہےمیں بھی ایک قیدی ہوںصبح کا اندھیرا ہوںشام کی سفیدی ہوںاختر لزماں ناصرنوکری ہے سرکاریبدترین سمجھوتہ، بدترین دشواریآج میرے ہاتھوں میں تیر ہیں نہ پتھر ہیںآج میری آنکھوں میں خواب ہیں نہ منظر ہیںمیں سگ ملامت کی سن رہا ہوں آوازیںروز و شب کے نرغے سے بھاگنا بھی مشکل ہےاور ایسے عالم میںفرض عین واجب ہےشغل مے بھی جائز ہےاختر الزماں ناصرحکم مجھ کو ازبر ہےتین ننھی دھوپیں ہیںوہ نفیس پیکر ہےجن کے ساتھ جینا ہےدھوپ ہے تو سہنی ہےبس یہی گزارش ہےایک چھوٹی تبدیلیصرف اتنی خواہش ہےاختر الزماں ناصراعتدال لازم ہےیہ خلف کا وعدہ ہےدور ہے خدا لیکنتوشۂ سعادت ہےروشنی کا جادہ ہے
جبر کا دور ہے آہوں میں اثر پیدا کرظلمت شب سے ہی آثار سحر پیدا کرجور مغرب سے نہ انداز حذر پیدا کرتخت باطل جو الٹ دیں وہ بشر پیدا کرغیر کو اپنا بنا لے وہ نظر پیدا کرسنگ ریزوں سے گہر پاش گہر پیدا کراک نظر دیکھ کے تو بھانپ لے مقصد دل کاچشم بینا میں تفکر کا اثر پیدا کراپنی دنیا تجھے دنیا سے بنانی ہے الگآسماں تارے زمیں شمس و قمر پیدا کرہے ترا خواب گراں دورئ منزل کا سببخضر ہمدرد ہے اٹھ عزم سفر پیدا کرکیوں زمانے کے خم و پیچ میں الجھا ہے تودل میں احساس تباہی و ضرر پیدا کرغم شمشیر ہے کیا دست تہی اٹھ ناداںتو بہادر ہے تو بے تیغ ظفر پیدا کرآرزو جس کی تجھے ہے وہ نہاں ہے تجھ میںدیکھنا ہو تو صداقت کی نظر پیدا کرقوتیں ارض و سما کی ہیں تری فطرت میںشاخ امید پہ مقصد کا ثمر پیدا کراپنے ایثار کا لے سنگ دلوں سے بدلہبات تو جب ہے کہ پتھر سے گہر پیدا کرکیوں ہے مایوسیٔ پیہم سے ترا دل مایوسبے خبر اپنی دعاؤں میں اثر پیدا کرقید خورشید فلک تاب کی کرنیں کر لےمستقل اپنی شب غم میں سحر پیدا کرجنس الفت کی جو درکار خریداری ہےمیٹھا میٹھا سا ذرا درد جگر پیدا کرعزم راسخ ہو اولو العزم ہو پہلے غافلپھر اگر چاہے تو پتھر سے شرر پیدا کرہے تصرف میں ترے دہر کی ہر چیز رضیؔاٹھ اور اٹھ کر انہیں ذروں سے قمر پیدا کر
ابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کا کوئی عنوان مت سوچوابھی تو اس کہانی میںمحبت کے ادھورے باب کی تکمیل ہونے تکنظر کی دھوپ میں رکھے ہوئے خوابوں کےسارے ذائقے تبدیل ہونے تکبہت سے موڑ آنے ہیںمجھے ان سے گزرنے دوذرا محسوس کرنے دوکہ میرے پاؤں کے نیچے زمیں نے رنگ بدلا ہےمرے لہجے میں اپنا کس طرح آہنگ بدلا ہےمجھے تھوڑا سنبھلنے دو ابھی ٹھہروابھی ٹھہرو کہ وہ خوش بخت ساعت بھی ابھیمجھ تک نہیں پہنچیجو دل کے آئینے کو وہم کی اندھی گلی سےاعتبار ذات کی سرحد پہ لاتی ہےاسے رستہ بتاتی ہےابھی ان راستوں پر تم مجھے کچھ دیر چلنے دوابھی ٹھہروکوئی خواہش امید و بیم کے مابین اب بھیسانس لیتی ہےاسے اس کرب سے آزاد کرنے دووہ سارے خوابجن کو دیکھنے کا قرض میں لوٹا نہیں پائیمجھے ان کے لیے تعبیر کا صفحہ پلٹنے دوابھی ٹھہروکسی بیتے ہوئے موسم کے بخشے زخماب بھی آنکھ کی پتلی میں روشن ہیںذرا یہ زخم بھرنے دومسیحائی تمہاریروح کی پاتال تک کیسے پہنچتی ہےمجھے اندازہ کرنے دوابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کاکوئی عنوان مت سوچو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books