aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baso.n"
کل راتوہ تھکا ہواچپ چپاداس اداسسنتا رہا سڑک سے گزرتی بسوں کا شور
دیوالیرگھبر کی پاک یاد کا عنواں لیے ہوئےظلمت کے گھر میں جلوۂ تاباں لیے ہوئےتاریکیوں میں نور کا ساماں لیے ہوئےآئی ہے اپنے ساتھ چراغاں لیے ہوئےاللہ رے یہ تاب یہ تنویر یہ جمالخورشید کی نظر بھی ہے جمنی یہاں محالطاری ہے زاہدوں پہ بھی عالم سرور کااب کس لیے خیال ہو حور و قصور کاعالم تو دیکھیے شب یلدا پہ نور کاجلتے ہیں یہ چراغ کہ جلوہ ہے طور کامنظر بہشت کا ہے یہ شب ہے شب براتتنویر آفتاب کا پرتو ہے آج راتوہ رام جو کہ کامل صدق و صفا رہاوہ رام جو کہ سالک راہ ہدیٰ رہاوہ رام جو کہ آئینۂ حق نما رہاوہ رام جو کہ قاطع جور و جفا رہایہ رات یادگار ہے اس نیک ذات کیاس پیکر خلوص کی والا صفات کیچودہ برس کے بعد جو آیا وطن میں رامہر لب تھا وقف نغمہ تو ہر دل تھا شاد کامتھی رشک نور صبح بنارس اودھ کی شاماہل اجودھیا کی زباں پر تھا یہ کلامہم بے بسوں کا قافلہ سالار آ گیابن باسیوں کی فوج کا سردار آ گیا
وہ دیر سے انتظار گہ میںہر آنے والے کو نظروں نظروں میں ناپتی تھیلباس کی شوخی و جسارتسنگھار کی جدت و مہارت کے باوجوداس کا گوشۂ چشم عمر کی چغلی کھا رہا تھانگاہ نو وارد اجنبی پر پڑی تو اس طرح مسکرا دیکہ جیسے اس کی ہی منتظر تھیاٹھی قریب آئی اور بولیمیں ایک مدت سے خدمت خلق کر رہی ہوںدکھے دلوں کا علاج کرتی ہوںرنگ اور روشنی کے شہروں میںشام تنہائی کی دل افسردگی سے واقف ہوںآپ اکیلے ہیں تو کوئی انتظام کر دوںیہاں سے میں دور دور ملکوں کوہر طبیعت کے گاہکوں کی پسند کا مال بھیجتی ہوںوفا محبت پرانی باتیں ہیں اب انہیں کون پوچھتا ہےبڑے بڑے اونچے اونچے لوگوں سے رات دن میرا واسطہ ہےیہ صاحبان وقار و نخوتخریدنا اور بیچنا خوب جانتے ہیںیہ دام دیتے ہیں اور راحت خریدتے ہیںبجا ہے یہ بھی کہ بے بسوں کی انا و عزت خریدتے ہیںمگر جب آتے ہیں بیچنے پرتو بے تکلف ضمیر تک اپنا بیچ دیتے ہیںجاہ و ثروت کی منڈیوں میںمیں کہہ رہی تھی کہ آپ چاہیں توآج کی رات کا کوئی انتظام کر دوں
سمندر چھیڑتا ہے ساحرانہ سمفنی جس میںنواجل دیوتاؤں کے ازل آثار شنکھوں کینواجل دیویوں کے مور پنکھوں کیصدا آپس میں دھکا مارتی منہ زور موجوں کیصدا ساحل کی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی پر شور موجوں کیصدا اس شہر کی جو نشے کے عالم میں جاری اور ساری ہےصدا اس شہر کی جس کے مقدر میں ہے روز و شب کی بے داریصدا اس شہر کی جس میں درختوں اور پرندوں سے زیادہ آدمی ہوں گےصدا اس شہر کی جس میں کہ انسانوں کے چھتے آسماں چھوتے ہوئے معلوم ہوتے ہیںابل پڑتا ہے دروازوں سے گلیوں اور سڑکوں کے مہانوں سےاک آدم زاد چیونٹی دلجہاں ہر دم بلا رفتار کاروں اور بسوں کی ہم نوا بن کرمشینیں عہد حاضر کا قصیدہ پڑھتی رہتی ہیںسمندر کے کنارے کا مشینی شہر سازینہ ہےجس پر آتش و آہن کے نغمے رقص کرتے ہیںسمندر کے کنارے مرد و زن کا اک سمندر اور بھی ہےسمندر کی صدا میں اس سمندر کی صدائیں ڈوب جاتی ہیںبے کرانی کی صدا میں
اسی کا ذکر بسوں میں بھی بات بات پہ ہےتمام ریل میں جھگڑا اسی کی ذات پہ ہےیہی سوار اراکین بلدیات پہ ہےاسی کا حکم قلم پر کبھی دوات پہ ہے
وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دےبسوں کے شور میں ریلوں کی گڑگڑاہٹ میںچہل پہل میں بھڑوں جیسی بھنبھناہٹ میںکسی کو پکڑو سر راہ مار دو چاہےکسی عفیفہ کی عصمت اتار دو چاہے!وسیع شہر میں اک چیخ کیا سنائی دے!
اس کی آمد کے تصور سے سنبھلتی آوازاس کی قربت کی تمازت سے پگھلتی آوازصبح دم شوخ پرندوں کے چہکنے کی صدابند کلیوں کے نئے روپ کی کھلتی آوازبحر ذخار کی عادت ہے یہ ٹھہرا ہوا شورتیز دریاؤں کے پانی کی مچلتی آوازکوہساروں کے چٹخنے سے گرجنے کی صدااور چشموں کی روانی سے اچھلتی آوازگردش خوں میں رواں دل کے دھڑکنے کی صدااشک خوں ناب کے اندر سے ابلتی آوازکارخانوں کی مشینوں کی ملوں کی آوازگاڑیوں تانگوں بسوں سائیکلوں کی آواز
یوم جمہور تیرے آنے پرناچ اٹھے ہیں مسرتوں کے پیامان اجالوں میں ظلمتیں تو نہیںسوچتے ہیں مرے وطن کے عوامجگمگاتا ہے وقت کا چہرہبے بسوں پر جہان ہنستا ہےاپنے رخ پر نہیں ہے موجۂ نورجھونپڑی کس طرح ہو رشک محلجام جمہوریت تو پیتے ہیںحسرتیں دم جو توڑ دیں گھٹ کرلیکن اس میں نہیں ہے کیف و سرورزندگی کیوں نہ ہو شکار اجلاپنے حسرت بھرے مقدر کااس طرح ہم مذاق اڑاتے ہیںخود ہی روتے ہیں وقت کا رونااور پھر خود ہی مسکراتے ہیں
ہم دونوں آدم اور حواپل کے بہشت میں رہتے ہیںاور پھر تم وہی ڈری ڈری سیبسوں پہ چڑھنے والی، عام سی عورتاور میں دھکے کھاتا بوجھ اٹھاتاعام سا مرددونوں شہر کےچیختے دہاڑتے رستوں پرپل بھر رک کرپھر اس پل کا خواب بناتے رہتے ہیں
میرے مشکیزے میں پانی نہیں تھامیرے پاؤں ننگے تھےمجھے کسی منزل کا پتا نہیں تھااور کسی سمت کا تعین تک کرنے سےمیں قاصر تھامیرے پاس بس ایک ہی راستہ رہ گیا تھاسو میں نے اپنے پاؤں سے کانٹا نکالااور ریت میں بو دیاچند گھنٹوں میں وہ ایک سایہ دار درخت میں تبدیل ہو گیااور اس میں عجیب و غریب پھل پیدا ہو گئےمیں زہریلےاور غیر زہریلے پھلوں میں تمیز نہیں کر سکتا تھااور میرے لیےکوئی من و سلویٰ بھی آسمان سے اترتا نہیں تھاسو میں نے ان پھلوں کو رغبت سے کھایااتنے میں شام ہو گئیاور صحرا کی تاریکی میںصحرا کے زہریلے کیڑے مکوڑےاپنے بلوں سے نکل کر میرے بدن سے چمٹ گئےکرسی پر نیم دراز ہو جاتا ہےہم دونوںکوئی بات نہیں کرتےنہ سگریٹ جلانے کے لیےایک دوسرے کو لائٹر پیش کرتے ہیںاس کا بس چلے تو وہ مجھے ہلاک کر دےمیرے بھی اس کے بارے میںیہی کچھ جذبات ہیںاس کے باوجودجب بھی میں اسے بلاتا ہوںوہ آ جاتا ہےمیرے بلاوے میں نہ اصرار ہوتا ہےنہ دھمکینہ کوئی شرطیہ وہ بھی جانتا ہےمیرے بلاوے میںکسی خواہش کی رمق نہیںہم دونوںکسی بھی دناپنے قریب ترین ستون کی اوٹ لے کرایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیںلیکنزندہ بچنے والے کے مقابلے میںمر جانے والازیادہ خوش نصیب ثابت ہوگابچنے والے کوہلاک ہونے والے کا جسماٹھا کر چلنا ہوگااس کے خون آلود کپڑے اتار کراسے صاف ستھرے کپڑے پہنانے ہوں گےمرنے والے کی لاش کوکسی بھی قسم کے خورد بینی کیڑوں سےمحفوظ رکھنے کے لیےجتن کرنا ہوں گےپھر اس کی لاش کوسہارا دے کرکسی آرام دہ کرسی پر بیٹھانا ہوگااس کے منہ سے سگریٹ لگانا ہوگااسے لائٹر بھی پیش کرنا ہوگابلکہ اس کی موت کواپنی موت سمجھتے ہوئےدو قبریںبرابر کھودنی ہوں گیبسیں اور کاریں ان کے قریب آ کردرختوں کو چھوتی ہیںاور انہیںسڑک کے دائیں یا بائیں ہٹانے میں جٹ جاتی ہیںلیکن اسی دورانشراب کی بو انہیں بھیبد مست کر دیتی ہےوہ بھی سڑک کے بیچوں بیچ ناچنے لگتی ہیںپھر تو بل کھاتی سڑک بھیاٹھ کھڑی ہوتی ہےاور ٹھمکے لگانے لگتی ہےگھر تھرتھرا اٹھتے ہیںان میں سوئے ہوئے مکینہڑبڑا کر جاگ جاتے ہیںانہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتاشرابی درختوںنشے میں دھت بسوں، کاروںاور بد مست ناچتی سڑک کوشہر میں بسنے والے لوگوں کیکوئی پروا نہیں
فاصلہ ضروری ہےمیں روزانہ دفتر میں تاخیر سے پہنچتی ہوںاور اپنی زنجیر پہن کر بیٹھ جاتی ہوںمیںٹائپ رائیٹر پر ہاتھوں کا غلط استعمال نہیں کرتیچھ بجتے ہیپاؤں کی زنجیر گلے میں آ جاتی ہےاور میںاسٹاپ پر کھڑیبسوں اور رکشوں کے دھویں میں ہوتی ہوئی سازش کو دیکھ سکتی ہوںمیں جس بس میں بے بس ہوںوہاں شور گھبراہٹ پسینہ اور غصہ بھرا ہوا ہےغصے سے بھری ہوئی بسمجھے گھر سے کچھ فاصلے پر اتار دیتی ہےمیں جاتی ہوئی بس کو حیرت سے دیکھتی ہوںبس کے پیچھے لکھا ہےفاصلہ ضروری ہےبس کے پیچھے جو لکھا ہےاس کا اطلاق بس کے اندر کیوں نہیں ہوتا
چھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھرتعاقب کرتا ہے وہ اب میرا عمر بھرجنگل کنارے پربتوں کے تلےہری بھری وادیوں میںجہاں بہتے تھے برساتی پرنالےچھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھرحد نگاہ تک وہ خوشنما منظربادلوں کی اوٹ سے پہاڑی نظارےبجلی کی چمک بادل کی گرجکبھی چھت ٹپکتی تھی تو کبھی ہلتی تھیں دیواریںکتاب کاپیوں کو سینے میں چھپاناسرد ہوا کے جھونکوں سے چراغ کا ٹمٹماناوہ تیرا معصوم چہرہوہ تیرا بھیگی پلکوں سے مسکراناوہ آزمائش کی کالی راتیں وہ امتحانوں کا ڈرچھوڑ آیا ہوں میں اپنا چھوٹا سا گھرحافظے میں دفن ہے جس کا اب بھی وہ منظرمٹ میلی سی تھیں جس کی دیواریںسرخ تھا جس کا چھپرجنگلے کی کمزور سلاخوں سےآنکھوں میں آنسو لیےایک لڑکا دیکھا کرتا تھاقومی شاہراہ کا منظرجہاں سے دیوانہ وار بسوں اور ٹرکوں کا کارواںبھاگتا دوڑتا رہتا تھا بڑے شہروں کی سمتہاں بڑے شہروں کی سمتجن کی خود لاپتہ تھیں سمتیں!!آج چالیس سال بعد وہ لڑکا سوچتا ہےبڑا شہر سراب ہے سنہری ہرن کا خواب ہےبڑے شہر کی چاہ میں دوڑتے دوڑتےوہ بے سمت بے منظر بے گھر ہو گیا ہےلیکن پھر کبھی کبھی اسے احساس ہوتا ہےاس کی بھی اپنی اساس ہےاس کا سہانہ منظر اس کے پاس ہےاس کا بھی اپنا گھر ہےوہ چھوٹا سا گھر وہ مٹ میلی دیواریںوہ سرخ چھپرجہاں آشنا نگاہیںجہاں محبت آمیز باہیںآج بھی اس کا انتظار کر رہی ہیں
ان ہی سے پوچھتا ہوں میں سفر کرتے ہیں جو بس میںکہ دے دیتے ہو اپنی زندگی کیوں غیر کے بس میںیہ بس وہ ہے کہ بس ہو جائے جب موٹر تو بنتی ہےسڑک پر روٹھ جائے تو بڑی مشکل سے منتی ہےیہ اکثر بیٹھنے والوں کے دھکوں سے کھسکتی ہےکبھی کشتی میں دریا ہے کبھی دریا میں کشتی ہےسفر کرتے ہیں اس میں جب براتی اور دلہن دولہاتو بن جاتی ہے موٹر جائداد غیر منقولااور اس کے بعد اگر تاریک ہے شب دور منزل ہےتو کرتے ہیں طواف اس کا وہ مجنوں جن کی محمل ہےکلینر سے یہی کہتا ہے شوفر ہو کے بچارا''کہ کس نکشود و نکشاید بحکمت ایں معمہ را''اگر اس وقت میں سردی بھی لگ جائے تو کیا غم ہے''یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے''جو رک جائے رواں کیوں ہو جو بڑھیا ہے جواں کیوں ہو''ہوئی یہ دوست جن کی دشمن ان کا آسماں کیوں ہو''براتی کھینچتے یہ جائداد آتے ہیں شہروں میںجو رستہ چند گھڑیوں کا ہے وہ کٹتا ہے پہروں میںذرا سے ایک پنکچر سے بگڑتا ہے سنگھار اس کاہوا پر جس کی ہستی ہو بھلا کیا اعتبار اس کاغبار اور گرد کا اور تیل کی بو کا خزینہ ہےیہ موٹر کار اور ''گڈے'' کی اولاد نرینہ ہےملی گڈے سے رعنائی و زیبائی وراثت میںخر دجال سے ملتی ہے صورت میں ملاحت میںسماتے ہیں پھر اس میں ٹھس کے یوں بے لطف و آسائشنہیں رہتی ہے نالوں کے نکلنے کی بھی گنجائشبسوں کی چھت پہ لد کر دودھ کے برتن جو آتے ہیںسروں پر شیر کا باران رحمت وہ گراتے ہیںوہ ناداں ہیں جو اس بارش پہ ناک اور بھوں چڑھاتے ہیںصلے میں سخت جانی کے یہ جوئے شیر پاتے ہیںپڑا ہوگا بسوں میں آپ کو ایسوں سے بھی پالااٹھی کھجلی تو اپنے ساتھ ساتھی کو کھجا ڈالا
یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہےاتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھییہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپرچراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیںنہ ان کا یار کوئی ہے نہ کوئی نکتہ چیںنہ جانے کب کوئی دست ستم ادھر آ جائےاور اس ذرا سی بچی روشنی کو کھا جائےیہ کھلکھلاتے ہوئے ہنستے مسکراتے لوگبسوں میں ریلوں میں منزل کی سمت جاتے لوگکوئی دھماکہ انہیں جانے کب اڑا جائےلہو کے دھبوں پہ افسوس کرتا حاکم شہراور اس کے بعد محبت پہ چند تقریریںجو اہل شہر کی پیشانیوں پہ روشن ہیںملال یہ ہے کہ اس کو کوئی نہ دیکھے گاہم اہل خوف کے سینوں میں جو دھڑکتا ہے
پل کے اس سرے سے آتی ہوئیانگشت چہرے والی بد صورت عورت کےلٹکے ہوئے پستانوں پربھنبھناتی مکھیوں کی مری ہوئی آنکھوں میںسوکھی ندی کے ادھ موے مینڈکوں کی سرسراہٹلنگڑے بھکاری کی پسلیوں کے درمیانہانپتی اکنیوں کیکشکولی کھانسی کی میلی شکنوں میںرینگتے بچھوؤں کے سائےبسوں ٹیکسیوں اور رکشاؤں کے پھسلتے پہیوں تلےدوڑتی سڑکوں کی ریڑھ کی ہڈیوں میںبکھرتی ہوئی تیرگی کا کھردرا لمسمیری کھڑکی کیچوکور اداسی کے پیلے دانتوں پرجمی ہوئی پیڑھیوں کو کھرچنے کیایک اور ناکام کوشش کیسیاہیوں میں گم ہو جاتے ہیں
نشریہ آل انڈیا ریڈیو بھوپال اندور ۸ جولائی ۶۸سجی ہوئی گلوں سے یہ حسین وادیاںیہ سبزہ زار خوش نما ہری بھری یہ کھیتیاںیہ نہریں جن میں زندگی بھرے ہوئے ہے مستیاںیہ جھلملاتی ندیاں یہ مسکراتی ندیاںیہ گاؤں گاؤں شہر شہر سورگ کے سمان ہیںمیرے عظیم دیش کی یہ بستیاں مہان ہیںجگہ جگہ وکاس کی ابھر رہی ہے روشنینئی ادا سے کروٹیں بدل رہی ہے زندگیمہک اٹھی روش روش چمک اٹھی گلی گلیوہ آج پھول بن گئی جو کل تھی ادھ کھلی کلیجو پستیاں تھیں کل وہ اب عروج آسمان ہیںمرے عظیم دیش کی یہ بستیاں مہان ہیںبلند اونچی بلڈنگیں یہ جگمگاتے راستےبسوں کے موٹروں کے دوڑتے ہوئے یہ سلسلےکلوں کی گڑگڑاہٹوں میں زندگی کے ولولےترقیوں کی کھوج میں رواں دواں یہ قافلےمرے وطن کی روح ہیں مرے چمن کی جان ہیںمرے وشال دیش کے بھوشیہ کا نشان ہیںہر ایک فرد اس چمن کا آج پاسبان ہےکلرک یا مجور ہے جوان یا کسان ہےمرا وطن عظیم ہے مرا وطن مہان ہےیہ کھیتیوں کا دیش ہے ملوں کا یہ جہان ہےیہ سر بلند چمنیاں وطن کی آن بان ہیںہری بھری یہ کھیتیاں مرے چمن کی شان ہیں
میں اپنے گھر کے خموش در پہکھڑی ہوئی ہوںمیں ایک کمرے سےدوسرے کولرزتے قدموں سے بڑھ رہی ہوںمیں چھت کے زینے پہ چڑھ رہی ہوںتمہاری آواز آ رہی ہےگلی گلی کےتمام چہرےمشین دفتر لباس سارےدکاں مکاں اور مکین سارےبسوں کے اٹھتے دھوئیں میں تحلیل ہو رہے ہیںتمہاری آواز آ رہی ہےہوا کی سانسیں بکھر رہی ہیںمیں نیم شب کے اتھاہ کنوئیں میںسمٹ رہی ہوںسلگتی آنکھوں کو ساتھ لے کرمیں نیم خوابی میں چل رہی ہوںتمہاری آواز آ رہی ہےزمیں کا سینہ بلک رہا ہےہزار صدیوں کا اک سفر ہےابلتے آنسو مچلتے ساگرپگھلتے لاوے کو پی رہی ہوںتمہاری آواز آ رہی ہےمیں زرد پودے کو زندہ پانی پلا رہی ہوںمیں جلتے زخموں پہ ٹھنڈا مرہم لگا رہی ہوںتمام اشکوں کے واسطے میںیہ نرم آنچل بچھا رہی ہوںتمہاری آواز آ رہی ہےتمام عالم کرن کرن ہےعجیب خوشبوتمام عالم تمام سانسوںپہ چھا رہی ہےمہک کی آنکھیں دمک اٹھی ہیںگلاب سے لوح بھر رہی ہےتمہاری آواز آ رہی ہے
بسوں کا شور دھواں گرد دھوپ کی شدتبلند و بالا عمارات سرنگوں انساںتلاش رزق میں نکلا ہوا یہ جم غفیرلپکتی بھاگتی مخلوق کا یہ سیل رواںہر اک کے سینے میں یادوں کی منہدم قبریںہر ایک اپنی ہی آواز پا سے رو گرداںیہ وہ ہجوم ہے جس میں کوئی فلک پہ نہیںاور اس ہجوم سر راہ سے گزرتے ہوئےنہ جانے کیسے تمہاری وفا کرم کا خیالمرے جبیں کو کسی دست آشنا کی طرحجو چھو گیا ہے تو اشکوں کے سوتے پھوٹ پڑےسموم و ریگ کے صحرا میں اک نفس کے لیےچلی ہے باد تمنا تو عمر بھر کی تھکنسر مژہ سمٹ آئی ہے ایک آنسو میںیہ وہ گہر ہے جو ٹوٹے تو خاک پا میں ملےیہ وہ گہر ہے جو چمکے تو شب چراغ بنے
مرے اس شہر کی رونقبسیں رکشا ٹرامیں موٹریںاور آدمی سیلاب کے مانندسڑکیں ہمہماتی شور ہنگامہ تگ و دووقت کی گردش میں صبح و شام کا معمول ہےمرے اس شہر کی رونقاسکول نا آشنا لمحے ادھوری خواہشخوابوں کے ویرانےاندھیرے شب کے افسانےمرے اس شہر کی رونقحسیں بازار رونق دکانیں دل ربا چہرےشگفتہ کونپلیں آسودہ جلوےکرب کی لہریںیہ کیسی کرب کی لہریں ہیں یا ربشہر خوباں شہر مقتل بن گیا ہےاور زندہ آدمیقتل گاہ رہگزر پررکشوں' بسوں کاروں کے شور گراں میںنیم جاں بے حال مردہکھو چکا ہےاعتبار زندگی
چکا چوندھحیرت زدہروشنیوں کے اس شہر میںچند تاریک لمحوں کی خاطربھٹکتا رہا ہوںکھلے بازوؤں ابھرے سینوںکھلی پنڈلیوںنیم عریاں لباسوں میںجکڑے ہوئے جسم کی خوشبوؤں سےمیں گھبرا اٹھا ہوںچیختے پتھروںسنسناتی ہواؤںسمندر کی لہروں سے بھی ڈر گیا ہوںاک اونچی عمارت کےاک تنگ کمرے سے اکتا کےکاروں بسوں ٹیکسیوں سے بچتا ہوالال پیلی ہری بتیوں کےاشاروں پہ چل کرکتابوں کی دوکان پر آ گیا ہوںکتابیں رسالے تصاویربے معنی بحثیںہنسی قہقہے شاعریچائے سگریٹ باقرؔ نداؔمے کدہملگجی راتفٹ پاتھہر اجنبی سے میں اپنا پتہ پوچھتا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books