aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bat pake"
سب بال پک گئے ہیں کمر ہو گئی ہے خمآنکھوں سے سوجھتا تو ہے لیکن بہت ہی کمہاتھوں میں کپکپی ہے کبھی پھولتا ہے دمبرہم ہیں دانت کہتے ہیں ٹھہریں گے اب نہ ہم
جنگلی پھول کی طرحقدرتی حسن لیےجیسے ادھ پکے پھل کو کھانےبے چین ہو جائے کوئیصرف ایک سوتی ساری کا لباسسندر سڈول بدنجیون کی گھر گرہستی میںرکھا تھا قدمایک دوشیزہ نے جبوقت کی سلوٹوں نےبنا دیا بد رنگ نشانایک صحت مند جسم کوکر دیا کمزورسالانہ پیداوار کی طرحبچوں کی پیدائش نےایک دو تین چارارے بس بھی کراپنا حال تو دیکھکیوں اپنی جانگنوانے پہ تلی ہےبات آ گئی سمجھنس بندی کرا لیاس پہ نکما شرابی شوہرگھر گھر کام نہ کرےتو پیٹ کیسے بھرےگاؤں میں کیا دھرا ہےبنجر زمیننا کھاد نا پانیشہر میں دو پیسے کاجگاڑ تو ہےاپنا کماتی ہوںپریوار پالتی ہوںکام والی ہوں میںاونھ دیکھا ہے بہت سیگھر مالکنوں کوغلامی کا جیون جیتےان سے بہتر حال ہے میرااس کچے گھر میںاپنا راج چلاتی ہوں
بلی کو سمجھانے آئےچوہے کئی ہزاربلی نے اک بات نہ مانیروئے زار و زار
لاؤ مجھ کو دکھلاؤ توآنکھوں میں ہیں کیسے خوابکچے ہیں یا پکے خواباچھا ان کے دام بتاؤدیکھو اتنا ذہن میں رکھنااس بازار میں خوابوں کے اب دام گرے ہیںسچ سچ میں اک بات بتاؤںبرسوں پہلے میں نے بھی یہ کام کیا تھاخواب بنے تھے خواب تھے بیچےمجھ کو تو یہ گورکھ دھندا راس نہ آیانیند گنوائی چین گنوایادیکھو میرا کہنا مانوایسا کاروبار نہ کرناخوابوں کا بیوپار نہ کرناایسے کاروبار میں اکثرگھاٹا سہنا پڑتا ہےکچے سپنے ٹوٹ گریں توآنکھیں چھلنی کرتے ہیںنیند کا پنچھی کھو جاتا ہےجینا مشکل ہو جاتا ہے
شانوں پہ بل پڑے ہوئے زلف سیاہ کےرادھا سے بار بار اشارے نگاہ کے
سیما نے مجھ سے پوچھااے میرے پیارے چچایہ روز آپ مجھ کودیتے تھے کیسا غچاکہتے تھے کر رہا ہوںوعدہ میں تم سے سچاجنگل کے پیڑ پر سےبندر کا ایک بچالاؤں گا توڑ کر میںلیکن ابھی ہے کچاسمجھے تھے آپ ہے یہبدھو سی ایک بچیچھ سال کی ہے ہوگیکچھ عقل کی بھی کچیلیکن سمجھ گئی ہوںمیں ساری غچا غچیبالکل برا نہ مانیںمیں بات کہہ دوں سچیبس ہو گئی ہے چچااب آپ کی بھی کچیمجھ کو بتا چکی ہیںکل رات میری چچیاگتے نہیں شجر پریوں بندروں کے بچےہوتے نہیں وہ ہرگزہرگز بھی پکے کچےمیں آپ کے تو وعدےمانوں کبھی نہ سچےمت دیجئے آپ مجھ کواب ایسے ویسے غچےچچی نے خود ہیں دیکھےبندر کے انڈے بچےبندریا انڈے دے دےجب گھونسلوں کے اندربنتے ہیں پہلے چوزےپھر پیارے پیارے بندر
یوم الست کی بات ہےاقرار سبھی جب کر چکے تھےعہد بھی پکے ہو چکے تھےپھر انہی توحید لمحوں میںروح میری نےسہمے سہمے جھجھکتے لہجےیہ جھک کے اپنے کریم رب سےکہا کہ مالک نواز مجھ کوطویل تاریک کٹھن سفر میںحیات جس کا ہے نام رکھااک ایسا انمول پیارا رشتہدوستی ہے نام جس کایہ سن کے ہر سو سکوت تھا چھایاجمود طاری تھا ہر ایک شے پرحیراں ملائک یہ سوچتے تھےیہ روح سزا کی ہے مستحق ابرحیم رب کو جو پیار آیاتو میری جانباک رحمتوں کا حصار آیایہ فرمان ملائک کو ہوا یکایکوفا کی مٹی کو گوندھ رکھوپھر ملاؤ چاہت کا عود و عنبربے ریائی انڈیلو اس میںکرو بے لوث وفاؤں کا عرق شاملیک جان ہوں جب سبھی یہ اجزاتو ہر روح انساں میں کر دو شاملیہ بنیاد تھی رشتۂ دوستی کیرشتوں کے اس ہجوم میں مونامیری خوش نصیبی کہ کریم رب نےدوستی کے کتنے مہرباں ستارےمیرے آسمان زندگی پہ ضو فشاں کئے ہیںتو اے مہر و وفا کی مٹی میں گندھے میرے دوستویہ نظم میری تمہارے نامکہ محبتوں نے تمہاری مجھے مالا مال کیااور اس دوستی نےمیری ہستی کو بے مثال کیا
تو پھر ابا نہیں آئےفقیر آیا نہ مٹھی بھر اناج آیا
برسوں بعد جب اس کو دیکھا پھول سا چہرہ بدل چکا تھاپیشانی پر فکر کی آیت آنکھیں اب سنجیدہ تھیںہونٹ کنول اب بھی ویسے پر شادابی کچھ کم کم تھیپکے پھلوں کا بوجھ اٹھائے جسم تنا بل کھاتا تھارنگیں پیراہن میں اب بھیخواب کی صورت لگتی تھیجانے کیسی کیسی حکایت دیکھ اسے یاد آتی تھیپہلی دفعہ جب ساتھ تھے بیٹھے کلاس کے اندر ہم دونوںاس کے جسم کے لمس نے مجھ کوپہلے تو بلایا تھا پھر پکا دوست بنایا تھاشام تلک میلے میں کیسے پھرتے رہے تھے ادھر ادھررات گئے ممی نے اس کو کھوٹی کھری سنائی تھیریل کے اندر بیٹھ کے کیسے شرمائے گھبرائے تھےبغیر ٹکٹ کے پہنچ کے گھر پر کتنی موج منائی تھیدوپہر کو ڈھابے میںچائے اور سگریٹ کے ساتھتھوڑے سے رومانی ہو کرکیا کیا باتیں کرتے تھےگھر کے باہر لان بھی ہوگا گیندا اور گل مہر کے پھولکھری کھاٹ نہیں رکھیں گے بیڈ بڑے مہنگے ہوں گےسوٹ مرا ایسا ہوگا تیری ساری ریشم کیبیٹے کا جو نام رکھیں گے ہندو نہ مسلم ہوگابل چکاتے وقت میں اکثر پیسے کم پڑ جاتے تھےدیکھ کے ددو ہنستا تھا پھرجانے کیوں خوش ہوتا تھاکوئی بات نہیں ہے بیٹےکل جب آؤ دے جاناجاتے ہوئے جب سیٹھ نے اس کی کمر میں بازو پہنایادیکھ کے اس کی آنکھیں مجھ کو چھلک پڑی تھیں چپ کے سےسوچ رہا تھا پلٹ کے اب وہپوچھے گی تم کیسے ہویہ ہے آپ کی کافی صاحب اور بھی کچھ چہیے ہوگا
ہمیں دنیا میں ہی دوزخ ملیکیونکہ ہم اس لڑکی کے گھر پیدا ہوئےجس کا باپ فاقے سے مر گیااور ماں بیوہ خوابوں کی گھٹن سے
سو وہ دست قضا تھامے ہوئے رخصت ہوئی ہم سےاب ہم کب بتا پائےہمیں اس کی ابھی کتنی ضرورت تھیمری ماں باقی ساری ماؤں جیسی خوبصورت تھی
''میرا جی کو ماننے والے کم ہیں لیکن ہم بھی ہیںفیضؔ کی بات بڑی ہے پھر بھی اب ویسا کون آئے گا''
دل کا ڈمرو بجاتی ہوئی انگلیاں ساز ہستی کو چھیڑیں اگررنگ و آہنگ کا سیل خوش بار سا زیست کے تھل میں بھی بہہ پڑےاور مایوس آنکھوں میں سپنوں کا ڈر بانٹنا واہمہ یہ کہے
ادائے دل وہی اور خوئے دل داری بھی سیکھی ہےبرائے دوستاں یہ طرز عیاری بھی سیکھی ہےبپاس اہل مجلس ناز برداری بھی سیکھی ہےاداکاری میں یکتا ہوں گلوکاری بھی سیکھی ہےفزوں کچھ اور بھی اب رنگ محفل کرنے والا ہوںمیں اپنی شاعری میں رقص شامل کرنے والا ہوں
ہوں جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہیں سنگ دشنامطنز چھلکائے تو چھلکایا کرے زہر کے جامتیکھی نظریں ہوں ترش ابروئے خم دار رہیںبن پڑے جیسے بھی دل سینوں میں بیدار رہیںبے بسی حرف کو زنجیر بہ پا کر نہ سکےکوئی قاتل ہو مگر قتل نوا کر نہ سکے
خوابوں سے تہی بے نور آنکھیںہر شام نئے منظر چاہیںبے چین بدن پیاسی روحیںہر آن نئے پیکر چاہیںبے باک لہوان دیکھے سپنوں کی خاطرجانے ان جانے رستوں پرکچھ نقش بنانا چاہتا ہےبنجر پامال زمینوں میںکچھ پھول کھلانا چاہتا ہےیوں نقش کہاں بن پاتے ہیںیوں پھول کہاں کھلنے والےان بدن دریدہ روحوں کےیوں چاک کہاں سلنے والےبے باک لہو کو حرمت کے آداب سکھانے پڑتے ہیںتب مٹی موج میں آتی ہےتب خواب کے معنی بنتے ہیںتب خوشبو رنگ دکھاتی ہے
رہنے دوابھی بیچ میںدیوار اجنبیتکہ غنیمت ہےغنیمت ہے کہ جذبوں کا صحرایوں ہی آباد رہےکہیں کسی طورکوئی نخلستان آ نہ پائےغنیمت ہے کہگفتگو پہروں رہے مگرنظر کی تشنگیاک ہراس بن کرچھائی رہےغنیمت ہے کہہم بہت پاس آ کر بھیاجنبی رہیں سدانہ میں جانوںنہ تم جانونہ بن پائےکوئی لمحہلمحہ پشیمانی کاتنہائی یہاور اس کی رنگین گھڑیاںغنیمت ہیںدیوار اجنبیتاور اس پہ بیٹھی ہوئیافسردہ محبتغنیمت ہے
اپنی یاد لیتی جاؤاب نہ رکھ سکوں گا میںاس کو میری تنہائیساتھ رکھ نہیں سکتیمجھ کو میری تنہائیبار بار کہتی ہےاس سے میرا کیا رشتہاس سے میری بن پائےیہ کبھی نہیں ممکنرات دن بگڑتی ہےلڑتی ہے جھگڑتی ہےجانتی ہوں میں لیکناس کے بس میں رہتا ہوںرات پھر یہ جھگڑا تھالاکھ اس کو سمجھایاآ پڑی ہے ضد ایسیکہہ اٹھی تھی جھلا کرمانتے نہیں تو پھرتم سے دوستی کیسیاتنا وہ بگڑتی ہےجتنا اس کو کہتا ہوںلیتی جاؤ یاد اپنیاب نہ رکھ سکوں گا میںاپنی یاد لیتی جاؤ
محتسب کے ہوش اڑانے کا زمانہ آ گیابے جھجک پینے پلانے کا زمانہ آ گیاجام آتش زیر پا کی اوٹ لے کر ساقیابوتلوں میں ڈوب جانے کا زمانہ آ گیاکائنات ہوش پر کالی گھٹائیں چھا گئیںیوم شب تابی منانے کا زمانہ آ گیاپھر خیال عارض تاباں نے لیں انگڑائیاںرات کو پھر دن بنانے کا زمانہ آ گیامست پھاگن کے جلو میں سرپھرے دن آ گئےعقل کو پاگل بنانے کا زمانہ آ گیایہ گھٹائیں یہ بہاریں اور یہ تنہائیاںپھر کسی کے یاد آنے کا زمانہ آ گیامیرے گلزار تصور میں بہاریں آ گئیںان کو پھولوں میں بسانے کا زمانہ آ گیامہرباں اب دوش پر آنچل ٹھہر سکتا نہیںولولوں کے سر اٹھانے کا زمانہ آ گیابے سبب ہی چیں بہ جبیں ہونے کی گھڑیاں آ گئیںبے ارادہ مسکرانے کا زمانہ آ گیاجوش پر آئی جوانی کھل اٹھے آنچل کے پھولآگ پانی میں لگانے کا زمانہ آ گیاان کی زلف عنبریں کے سایۂ پر نور میںنیند کی قسمت جگانے کا زمانہ آ گیاشاہدان شعلہ رو کو لے اڑا غازے کا شوقآگ پر پانی چڑھانے کا زمانہ آ گیاروٹھنے والے بہ پاس وقت و آداب شبابپچھلی باتیں بھول جانے کا زمانہ آ گیاداغ دل فاروقؔ دکھلا کر سر بزم جمالان کو آئینہ بنانے کا زمانہ آ گیا
تمنا میری بر آئی کہ اک دن ایک دروازہ کھلا اورمیں نے دیکھا وہ شناسا چاند سا چہرہجو شادابی میں گلشن تھامیں اک شان گدایانہ لیے اس کی طرف لپکاتو اس نے چشم بے پروا کے ہلکے سے اشارے سے مجھے روکااور اپنی زلف کو ماتھے پہ لہراتے ہوئے پوچھاکہو اے اجنبی سائلگدائے بے سر و ساماںتمہیں کیا چاہیے ہم سےمیں کہنا چاہتا تھا عمر گزری جس کی چاہت میںوہی جب مل گیا تو اور ابکیا چاہے مجھ کومگر تقریر کی قوت نہ تھی مجھ میںفقط اک لفظ نکلا تھا لبوں سے کانپتا ڈرتاجسے امید کم تھی اس کے دل میں بار پانے کیمحبت لفظ تھا میرامگر اس نے سنا روٹی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books