aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bhatak"
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہےکہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میںگزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھییہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہےتری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھیعجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کرترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتاترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیںانہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتاپکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کیترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتاحیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میںگھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتامگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہےکہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیںگزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسےاسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیںزمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلےگزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سےمہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیںحیات و موت کے پر ہول خارزاروں سےنہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغبھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میریانہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کرمیں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہیکبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
مری نظروں میںآئندہ کے افسوس کے سائے لرزاں ہیںمجھے قید خوف سے رہا کرومیں اپنے درد کی ننگی دھوپ سےگھنی تسلی مانگ مانگ کے ہار گیااے درد مرا فیصلہ کرومری خالی آنکھیںمنظر منظر بھٹک رہیلڑکھڑا رہی ہیںدیا کرومجھے خوابوں کی بیساکھی دو
رکی رکی سی صفیں ملگجی گھٹاؤں کیاتار پر ہے سر صحن رقص پیپل کاوہ کچھ نہیں ہے اب اک جنبش خفی کے سواخود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہیہ شام ڈوبتی جاتی ہے چھپتی جاتی ہےحجاب وقت سرے سے ہے بے حس و حرکترکی رکی دل فطرت کی دھڑکنیں یک لختیہ رنگ شام کہ گردش ہی آسماں میں نہیںبس ایک وقفۂ تاریک، لمحۂ شہلاسما میں جنبش مبہم سی کچھ ہوئی فوراًتلی گھٹا کے تلے بھیگے بھیگے پتوں سےہری ہری کئی چنگاریاں سی پھوٹ پڑیںکہ جیسے کھلتی جھپکتی ہوں بے شمار آنکھیںعجب یہ آنکھ مچولی تھی نور و ظلمت کیسہانی نرم لویں دیتے ان گنت جگنوگھنی سیاہ خنک پتیوں کے جھرمٹ سےمثال چادر شب تاب جگمگانے لگےکہ تھرتھراتے ہوئے آنسوؤں سے ساغر شامچھلک چھلک پڑے جیسے بغیر سان گمانبطون شام میں ان زندہ قمقموں کی دمککسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی تھیوہ بے پناہ گھٹا وہ بھری بھری برساتوہ سین دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی تھیںمری حیات نے دیکھی ہیں بیس برساتیںمرے جنم ہی کے دن مر گئی تھی ماں میریوہ ماں کہ شکل بھی جس ماں کی میں نہ دیکھ سکاجو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ بھی سکی نہ وہ ماںمیں وہ پسر ہوں جو سمجھا نہیں کہ ماں کیا ہےمجھے کھلائیوں اور دائیوں نے پالا تھاوہ مجھ سے کہتی تھیں جب گھر کے آتی تھی برساتجب آسمان میں ہر سو گھٹائیں چھاتی تھیںبوقت شام جب اڑتے تھے ہر طرف جگنودیئے دکھاتے ہیں یہ بھولی بھٹکی روحوں کومزہ بھی آتا تھا مجھ کو کچھ ان کی باتوں میںمیں ان کی باتوں میں رہ رہ کے کھو بھی جاتا تھاپر اس کے ساتھ ہی دل میں کسک سی ہوتی تھیکبھی کبھی یہ کسک ہوک بن کے اٹھتی تھییتیم دل کو مرے یہ خیال ہوتا تھا!یہ شام مجھ کو بنا دیتی کاش اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہکہاں کہاں وہ بچاری بھٹک رہی ہوگیکہاں کہاں مری خاطر بھٹک رہی ہوگییہ سوچ کر مری حالت عجیب ہو جاتیپلک کی اوٹ میں جگنو چمکنے لگتے تھےکبھی کبھی تو مری ہچکیاں سی بندھ جاتیںکہ ماں کے پاس کسی طرح میں پہنچ جاؤںاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں اپنے کھلونے دکھاؤں اپنی کتابکہوں کہ پڑھ کے سنا تو مری کتاب مجھےپھر اس کے بعد دکھاؤں اسے میں وہ کاپیکہ ٹیڑھی میڑھی لکیریں بنی تھیں کچھ جس میںیہ حرف تھے جنہیں میں نے لکھا تھا پہلے پہلاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں پھر اسے آنگن میں وہ گلاب کی بیلسنا ہے جس کو اسی نے کبھی لگایا تھایہ جب کہ بات ہے جب میری عمر ہی کیا تھینظر سے گزری تھیں کل چار پانچ برساتیں
عورتیں اقوام عالم کی بھٹک جائیں گی جبتو رہے گی بن کے اس طوفاں میں اک موج طرب
گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھیہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھیمری جوانی کے دن گزرتے تھے وحشت آلود عشرتوں میںمری جوانی کے مے کدوں میں گناہ کی مے چھلک رہی تھیمرے حریم گناہ میں عشق دیوتا کا گزر نہیں تھامرے فریب وفا کے صحرا میں حور عصمت بھٹک رہی تھیمجھے خس ناتواں کے مانند ذوق عصیاں بہا رہا تھاگناہ کی موج فتنہ ساماں اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھیشباب کے اولیں دنوں میں تباہ و افسردہ ہو چکے تھےمرے گلستاں کے پھول جن سے فضائے طفلی مہک رہی تھیغرض جوانی میں اہرمن کے طرب کا سامان بن گیا میںگنہ کی آلائشوں میں لتھڑا ہوا اک انسان بن گیا میں
یہ ایک عہد سزا ہے جزا کی بات نہ کردعا سے ہاتھ اٹھا رکھ دوا کی بات نہ کرخدا کے نام پہ ظالم نہیں یہ ظلم روامجھے جو چاہے سزا دے خدا کی بات نہ کرحیات اب تو انہیں محبسوں میں گزرے گیستم گروں سے کوئی التجا کی بات نہ کرانہی کے ہاتھ میں پتھر ہیں جن کو پیار کیایہ دیکھ حشر ہمارا وفا کی بات نہ کرابھی تو پائی ہے میں نے رہائی رہزن سےبھٹک نہ جاؤں میں پھر رہنما کی بات نہ کربجھا دیا ہے ہوا نے ہر ایک دیا کا دیانہ ڈھونڈ اہل کرم کو دیا کی بات نہ کرنزول حبس ہوا ہے فلک سے اے جالبؔگھٹا گھٹا ہی سہی دم گھٹا کی بات نہ کر
میں کھنڈروں کی زمیں پہ کب سے بھٹک رہا ہوںقدیم راتوں کی ٹوٹی قبروں کے میلے کتبےدنوں کی ٹوٹی ہوئی صلیبیں گری پڑی ہیںشفق کی ٹھنڈی چتاؤں سے راکھ اڑ رہی ہےجگہ جگہ گرز وقت کے چور ہو گئے ہیںجگہ جگہ ڈھیر ہو گئی ہیں عظیم صدیاں
دیواروں کے اس جنگل میں بھٹک رہے انساناپنے اپنے الجھے دامن جھٹک رہے انسان
بھٹک کے رہ گئیں نظریں خلا کی وسعت میںحریم شاہد رعنا کا کچھ پتہ نہ ملاطویل راہ گزر ختم ہو گئی لیکنہنوز اپنی مسافت کا منتہا نہ ملا
گلی گلیسب بھٹک رہے ہیںکہ کوچ ٹرینوں کے گھر بنے ہیںمیں خود بھیٹرینیں بدل رہا ہوںنہ جانے کب سے بھٹک رہا ہوں
بعض ایسے تھے جو سرمائے کے ٹھیکیدار تھےکہتے تھے مزدور کو خر اور خود خر کار تھےچور بازاری کی جڑ تھے اور بڑے بٹ مار تھےنفع خوری کے سوا ہر کام سے بیزار تھےاب حلق میں ان کے جو کھایا اٹک کر جائے گاغیر ملکوں میں نہ سرمایہ بھٹک کر جائے گا
اور کچھ دیر بھٹک لے مرے درماندہ ندیماور کچھ دن ابھی زہراب کے ساغر پی لے
ہوا کو آوارہ کہنے والوکبھی تو سوچو، کبھی تو لکھوہوائیں کیوں اپنی منزلوں سے بھٹک گئی ہیںنہ ان کی آنکھوں میں خواب کوئینہ خواب میں انتظار کوئی
تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوںمجھ کو جو راہ دکھائے وہ ستارہ ماں ہے
کھلیں جو آنکھیں تو سر پہ نیلا فلک تنا تھاچہار جانب سیاہ پانی کی تند موجوں کا غلغلہ تھاہوائیں چیخوں کو اور کراہوں کو لے کے چلتی تھیں اور مٹیکی زرد خوشبو میں موت موسم کا ذائقہ تھانظر مناظر میں ڈوب کر بھی مثال شیشہ تہی تھی یعنیگل تماشا نہیں کھلا تھاہراس جذبوں کی رہ گزر میں دل تعجب زدہ اکیلاخموش تنہا بھٹک رہا تھا
نگاہ میں لیے ہوئے گھٹی گھٹی سی جستجوبھٹک رہے ہیں وادیٔ خزاں میں بہر رنگ و بو
درد جس دل میں ہو اس دل کی دوا بن جاؤںکوئی بیمار اگر ہو تو شفا بن جاؤںدکھ میں ہلتے ہوئے لب کی میں دعا بن جاؤںاف وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیںروشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیںمیں ان آنکھوں کے لیے نور ضیا بن جاؤںہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلےاف وہ آنسو جو کسی دیدۂ تر سے نکلےمیں اس آنسو کے سکھانے کو ہوا بن جاؤںدور منزل سے اگر راہ میں تھک جائے کوئیجب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جائے کوئیخضر کا کام کروں راہنما بن جاؤںعمر کے بوجھ سے جو لوگ دبے جاتے ہیںناتوانی سے جو ہر روز جھکے جاتے ہیںان ضعیفوں کے سہارے کو عصا بن جاؤںخدمت خلق کا ہر سمت میں چرچا کر دوںمادر ہند کو جنت کا نمونہ کر دوںگھر کرے دل میں جو افسرؔ وہ صدا بن جاؤں
آج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوںاپنے شوریدہ ارادے کو اپاہج کر لوںاپنی مجروح تمنا کا مداوا نہ کروںاپنی خوابیدہ محبت کا المناک مآلاپنی بے خواب جوانی کو سنایا نہ کروںاپنے بے کیف تصور کے سہارے کے لیےایک بھی شمع سر راہ جلایا نہ کروںاپنے بے سود تخیل کو بھٹک جانے دوںزندگی جیسے گزرتی ہے گزر جانے دوںچند لمحوں میں گزرنے کو ہے ہنگامۂ شبسو گئے جام صراحی کا سہارا لے کرسرد پڑنے لگا اجڑی ہوئی محفل کا گدازتھک گئی گردش یک رنگ سے ساقی کی نظرچند بیدار فسانوں کا اثر لوٹ گیادب گیا تلخ حقیقت میں نشہ تا بہ کمرمیں ابھی آخری مے نوش ہوں میخانے میںدیکھنا کیا ہے مری سمت بڑھا جام بڑھالا صراحی کو مرے پاس شکستہ ہی سہیچھیڑ ٹوٹے ہوئے تاروں کو کراہیں تو ذراسوچتا کیا ہے انڈیل اور انڈیل اور انڈیلسرد پڑتی ہوئی محفل کے مکدر پہ نہ جااپنے بیدار تفکر کی ہلاکت پہ ہنسوںآج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوں
میرے کمرے میں پھیلی ہے ایک کہانیابھی ذرا سی دیر ہوئی ہےمیں نے اک میلے کاغذ پرحرفوں کے ٹکڑے جوڑے تھےاور کہانی کو تھوڑی سی جگہ ملی تھیپھر لفظوں کے تانے بانے بکھر گئے تھےجن لفظوں سے آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتےبیت گیا ہے اتنا وقتکہ اب تو یاد بھی کب آتا ہےاپنے جسم کی قید میں ہیں ہم یا باہر ہیںاتنا وقت کہ منظر سارے پگھل گئے ہیںاوجھل ہیں تصویر کے رنگ میں یا ظاہر ہیںاور کہانی کاغذ سے بہہ نکلی ہےسارے کمرے میں پھیلی ہےسب دروازوں اور دریچوں سے لپٹی ہےساری کتابیں اوندھی کر کےان سے وہ سب لفظ نکال کے لے آئی ہےجو ہم نے اک ساتھ پڑھے تھےمیری الماری سے بند لفافے کھول کےسارے خواب اٹھا لائی ہےجو ہم نے اک ساتھ بنے تھےاور زمیں سے چھت تک کیسے بے چینی سے بھٹک رہی ہےتھک جاتی ہے اور مری آنکھوں سے بہنے لگ جاتی ہےبستر کے نیچے چھپ کر آہیں بھرتی ہےمیرے کندھے پر سر رکھ کے سو جاتی ہےاور کبھی کھڑکی کے پٹ پر ماتھا ٹیک کے کھو جاتی ہےمیرے کمرے میں پھیلی یہ ایک کہانیگھات میں ہے ابکوئی روزن در دروازہ کھل جائے تویہ اس حبس زدہ کمرے سے باہر نکلےجیسے میرے دل کی ایک اک رگ کو چیر کے بہہ نکلی تھی
شراب آنکھوں سے اگتا جھرنابھٹک کے رستہ سا بن رہا ہےبڑھا تعدد سرور و مے کاجنون دستک کو جن رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books