aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "budh"
حلوے کے لیے پھر آج بھی ہم اک آس لگائے بیٹھے ہیںجو بات زباں پر لا نہ سکے وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیںتھوڑی سی مٹھائی طاق پہ تھی مٹھی میں چرائے بیٹھے ہیںابو کے بھگائے بھاگے تھے امی کے بلائے بیٹھے ہیںکچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیںتجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے خالق صبح و شام نہیںاسکول ہی ایسا ہے کہ جہاں کچھ چین نہیں آرام نہیںاس وقت اگرچہ سر میں کسی کے درد برائے نام نہیںہر وقت مگر پڑھتے رہنا کم عمروں کا تو کام نہیںسب اپنی اپنی کرسی پر سدھ بدھ بسرائے بیٹھے ہیںاک بار کہیں سے مل جاتا ہم سب کو چراغ چین اگربس سال میں اک دن پڑھ لیتے درجے کی کتابیں فر فر فرپھر خواب ہی دلچسپی رہتی پھر خوب مزہ آتا دن بھراسکول میں جانا کیوں ہوتا ہر روز یہ رہتا کیوں چکرامید نہیں لیکن پھر بھی امید لگائے بیٹھے ہیںلیکن یہ زمانہ علم کا ہے یہ وقت ہے آگے بڑھنے کامل جل کے کریں گے گر محنت ہو جائے گا ہر سپنا پوراہمت سے ہوئی ہیں تعمیریں جرأت سے ہوا ہے کام نیاجب عزم و عمل اچھا ہوگا اچھا ہی نتیجہ بھی ہوگاہم لوگ یہاں حلوہ کھا کر اک شمع جلائے بیٹھے ہیں
حسن جب افسردہ پھولوں کی طرح پامال تھاجب محبت کا غلط دنیا میں استعمال تھابے خودی کے نام پر جب دور جام بادہ تھاجب تجلیٔ حقیقت سے ہر اک دل سادہ تھازیست کا اور موت کا ادراک دنیا کو نہ تھاظلم کا احساس جب بے باک دنیا کو نہ تھابند آنکھیں کر کے اس دنیا کے مکروہات سےتو نے حاصل کی ضیائے دل، تجلیات سےبرف زاروں کو ترے انفاس نے گرما دیاتیرے استغنا نے تخت سلطنت ٹھکرا دیایاد تیری آج بھی ہندستاں میں تازہ ہےچین، جاپان اور تبت تک ترا آوازہ ہےروشنی جس کی نہ ہوگی ماند وہ مشعل ہے توسر زمین ہند کا عرفانیٔ اول ہے تو
اک جنازے کو اٹھائے جا رہے تھے چند لوگتم نے پوچھا کیا ہوا کیوں جا رہے ہو تم ملول
یہ جو ہے اک چھوٹا سا بستہعلم کے پھولوں کا گلدستہکرشن ہے اس میں رام ہے اس میںبدھ مت اور اسلام ہے اس میںیہ بستہ عیسیٰ کی کہانییہ بستہ نانک کی بانیاس میں چھپی ہے ہر سچائیاپنا سکھ اوروں کی بھلائیاس بستے کو سیس نواؤاس بستے پر تن من واروبھارت ماں کی آنکھ کے تارو
ہم پیدا کرتے ہیںہم گیلی مٹی کو مٹھی میں بھینچا کرتے ہیںتو شکلیں بنتی ہیںہم ان کی چونچیں کھول کے سانسیں پھونکا کرتے ہیںجو مٹی تھے وہ چھو لینے سے طائر ہوتے ہیںہم شاعر ہوتے ہیںکنعان میں رہتے ہیںجب جلوہ کرتے ہیںتو ششدر انگشتوں کو پوریں نشتر دیتی ہیںپھر خون ٹپکتا ہے جو سرد نہیں ہوتااک سہما سا سکتہ ہوتا ہے درد نہیں ہوتایونان کے ڈاکو ہیںہم دیوتاؤں کے محل میں نقب لگایا کرتے ہیںہم آسمان کا نیلا شہ دروازہ توڑتے ہیںہم آگ چراتے ہیںتو اس دنیا کی یخ چوٹی سے برف پگھلتی ہےپھر جمے ہوئے سینے ملتے ہیںسانس ہمکتی ہےاور شریانوں کے منہ کھلتے ہیںخون دھڑکتا ہےجیون راماین میںجب راون استبدادی کاروبار چلاتا ہےہم سیتا لکھتے ہیںجب رتھ کے پہیے جسموں کے پوشاک کچلتے ہیںتو گیتا لکھتے ہیںجب ہونٹوں کے سہمے کپڑوں پر بخیہ ہوتا ہےہم بولا کرتے ہیںجب منڈی سے ایک ایک ترازو غائب ہوتا ہےتو جیون کو میزان پہ رکھ کر تولا کرتے ہیںمزدوری کرتے ہیںہم لفظوں کے جنگل سے لکڑی کاٹا کرتے ہیںہم ارکشی کے ماہر ہیں انبار لگاتے ہیںپھر رندہ پھیرتے ہیں پھر برما دیتے ہیںپھر بدھ ملاتے ہیں پھر چول بٹھاتے ہیںہم تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیںاس بھری بھرائی دنیا میں ہم کم کم ہوتے ہیںجب شہر میں جنگل در آئے اور اس کا چلن جنگلائےتو ہم غار سے آتے ہیںجب جنگل شہر کی زد میں ہو اور اس کا سکوں شہرائےتو برگد سے نکلتے ہیںہم تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیںہم کم کم ہوتے ہیںہم شاعر ہوتے ہیں
سلام اے افق ہند کے حسیں تاروسلام تم پہ سپہر وطن کے مہ پاروسلام تم پہ مرے بچو اے مرے پیاروبھلائے بیٹھے ہو تم مجھ کو کس لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسنو کہ میری تمنا و آرزو تم ہوسنو کہ مادر بھارت کی آبرو تم ہوسنو کہ امن زمانہ کی جستجو تم ہوخموش بیٹھے ہو کیوں اپنے لب سیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسلام تم پہ کہ میرے چمن کے پھول ہو تممری نظر مری فطرت مرا اصول ہو تممگر یہ کیا ہوا کس واسطے ملول ہو تمیہ تم نے چند غلط کام کیوں کئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارووطن میں خون کے دریا بہا دئے تم نےسبھی نقوش اہنسا مٹا دئے تم نےرواج کار محبت بھلا دئے تم نےرسوم مہر و وفا ترک کر دئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسبق پڑھایا تھا تم کو عدم تشدد کاتمہیں بتایا تھا میں نے گناہ ہے ہنسایہ تم نے کس لئے تیغ و تبر سے کام لیاتمہارے ہاتھوں میں خنجر ہیں کس لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروتمہارے ذہنوں میں مکروہ سازش اور فساددلوں میں نفرت و کینہ ہے اور بغض و عنادمگر لبوں پہ ہے بابائے قوم زندہ بادمجھے یہ کھوکھلے نعرے نہ چاہیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروزمین نانک و چشتی پکارتی ہے تمہیںدیار بدھ کی تجلی پکارتی ہے تمہیںسنو کنہیا کی بنسی پکارتی ہے تمہیںاب اور دیر بھی کرنی نہ چاہیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارواٹھو زمانۂ حاضر ہے اک پیام عملاٹھو کہ کانپ رہی ہے نوائے ساز غزلاٹھو کہ ماند نہ ہو جائے حسن تاج محلاٹھو کہ سینوں میں پھر روشنی جئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروپھر اپنے ذہنوں میں لہکاؤ دوستی کا چمنپھر اپنی سانسوں سے مہکاؤ پیار کا مدھوبنپھر اپنے کاموں سے چمکاؤ سر زمین وطنتمہارے میکدے میں دہر پھر پئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارونہ چھوڑو زندہ وطن میں کسی لٹیرے کوکچل دو بڑھ کے ہر اک سانپ کو سپیرے کومٹاؤ فرقہ پرستی کے ہر اندھیرے کوبچاؤ دیش کو بھگوان کے لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارومجھے یہ کھوکھلے نعرے نہ چاہیے یارو
خیالات میں سخت ہے انتشارتخیل پریشاں قلم بے قرارجہاں خون آلود و خوں رنگ ہےوطن پر پڑا سایۂ رنج ہےگل و لالہ ہیں مستعد بے تکاںرفیقوں نے رکھی ہتھیلی پہ جاںہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنخلوص آج پامال ہے اور تباہاصول آج دریوزہ خواہ پناہگرفتار آزار دنیا ہے آجمحبت پریشان و رسوا ہے آجاصول محبت کے ہم ترجماںخلوص و محبت کے ہم پاسباںدوانوں کو مطلق نہیں ہے قرارصداقت سے بیتاب دل پائیدارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنوطن ہے یہ نانک کا فرماں پذیرتھا گوتم اسی کارواں کا امیرمحبت نے رتبہ دیا ہے بلندمحبت نے سب کو کیا ارجمندہے غیرت کا طوفان چھایا ہواہے بچوں میں بھی جوش آیا ہواارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار ہیں جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطننہ دی دشمنوں کو کبھی اس نے راہہمالہ ہے رفعت سے عالم پناہہمالہ کی دلچسپ ہے داستاںیہ عظمت نشاں سب کا ہے پاسباںزمانے پہ یہ بات ہے آشکاراما اس کی ہے دختر نامدارہمالہ کی عظمت کی ہم کو قسمہمالہ کی رفعت کی ہم کو قسمحفاظت ہمالہ کی اب فرض ہےہمالہ کا ہم پر بڑا قرض ہےیہ کہتے ہیں سب مل کے خورد و کلاںکہ غیرت کا اس وقت ہے امتحاںہوا روئے شنکر ہے غصے سے لالدکھائے گا اب رقص تانڈو جلالارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار سب جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنمحافظ ہیں ہم امن کے لا کلامزمانے کو دیتے ہیں بدھ کا پیامصبا اپنے گلشن سے جاتی ہے جبمٹاتی ہے دنیا کے رنج و تعبرسیلی ہے صبح اور رسیلی ہے شامنہاں ان میں ہے زندگی کا پیامروایت کا محفوظ کر کے وقارہمیں لوٹنا ہے خوشی کی بہارذرا دیکھئے گا رفیقوں کی آنہے رکھی جنہوں نے ہتھیلی پہ جانہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنہے عزت کا جرأت کا اب امتحاںکہیں جھک نہ جائے وطن کا نشاںفریبوں سے کوئی پنپتا نہیںکبھی جھوٹ کا میوہ پکتا نہیںصداقت کا ہے بول بالا سدانہیں کام آتے دروغ افترافضا ہے چمن کی ہمیں سازگارہے پابندہ تر اس زمیں کی بہارہر اک لب پہ ہے بس یہیں اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنحیا اور مروت ہے جو پر رہیںہوئی ہیں وہ آنکھیں بہت خشمگیںبڑھے ہیں وطن کی طرف بد قماشکلیجہ زمیں کا ہوا پاش پاشپہاڑوں پہ ہے برف غصے سے لالفضائیں ہوئیں گرم آتش مثالہیں جہلم میں آنے کو طغیانیاںہر اک موج پر ہے غضب کا سماںمحبت کی دنیا کو دل میں لیےبہار جوانی سے پیماں کیےوطن کی حفاظت کو تیار ہیںمحبت کے بادہ سے سرشار ہیںحفاظت ہے فرض اپنے ارمان کیہمیں آج پروا نہیں جان کیہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن۲آؤ بڑھو میدان میں شیروں دشمن پر یلغار کریںقبر بنے میدان میں اس کی ایسا اس پر وار کریںزنگ نہ لگنے پائے اپنے بھارت کی آزادی کوآؤ زیر دام کریں صیادوں کی صیادی کولوح دل پر نقش کرو ہر حال میں زندہ رہنا ہےملک کی خدمت کے رستے میں جو دکھ آئے سہنا ہےیہ سیلاب سرخ نہیں ہے ظلم و ستم کی آندھی ہےاس سیلاب کو روکیں گے ہم ہمت ہم نے باندھی ہےشیروں کی اولاد ہو تم ان ویروں کی سنتان ہو تممرد مجاہد مرد جری ہو یودھا ہو بلوان ہو تمسانچی مدورا امرتسر اجمیر کی عظمت تم سے ہےصبح بنارس شام اودھ کی اصل و حقیقت تم سے ہےتاج اجنتا اور ایلورا کے واحد فن کار ہو تمخوش سیرت خوش صورت خوش مورت خوش کردار ہو تمبھیلائی چترنجن تم سے بھاکڑ اننگل تم سے ہےدامودر کی شان ہے تم سے عظمت چنبل تم سے ہےتم نے بسائے شہر نرالے جنگل تم سے منگل ہیںتم نے نکالی نہریں اتنی صحرا تم سے جل تھل ہیںتم نے اتنی ہمت سے دریاؤں کے رخ موڑ دیےتم نے کھودیں سرنگیں اتنی دور کے رشتے جوڑ دیےتم کشمیر کی ارض حسیں کے نظاروں میں پلتے ہوکہساروں کو پھاندتے ہو تم دریاؤں پہ چلتے ہوتم میسور میں ورندا بن کے باغ سجانے والے ہواوٹی شملہ دارجلنگ سے شہر بسانے والے ہوتاتیا ٹوپے لکشمی بائی ٹیپو کی اولاد ہو تمجنگ کے فن میں قابل ہو تم ماہر ہو استاد ہو تمہندو مسلم سکھ عیسائی جینی بودھ اور پارسیدہقاں تاجر اور ملازم سادھو سنت اور سیاسیلے کے وطن کا جھنڈا آؤ دشمن پر یلغار کریںقبر بنے رن بھوم میں اس کی ایسا اس پر وار کریں
تاریخ کوئی خاموش زمانہ ہوتا ہےجو صدیوں تک موسم کی گود میں سوتا ہےپھر کروٹ لے کر جاگتا ہےایسا مجھ کوگوتمؔ بدھ نے گیان سمے سمجھایا تھااور یہ تو مجھ سے آخری آدمی نے پوچھا تھاارے میاں کس کھونٹ چلے ہوٹھہرویہ ساٹھ صدی کا قصہ ہےکچھ اور نہیں ہےاور میرے اندر تو ان صدیوں کی وہ گونج بسی ہےجو اگلی کتنی صدیوں تکپورن ماشی کی راتوں میںآواز بنے گی
گھٹائیں آج بڑھتی جا رہی ہیںدکھانے پربتوں کو رعب اپناہواؤں کو بھی ساتھ اپنے لیا ہےکھڑے ہیں تان کر سینے کو پربتایک دوسرے کا ہاتھ تھامےکہ اب گھیراؤ پورا ہو گیا ہےگرجنے لگ گئی ہے کالی بدلیسنہرے پروتوں کے رنگ پھیکے پڑھ گئے ہیںمٹ میلی ہوئی جاتی ہے اجلی اجلی پنڈروہیں کچھ دور پلی بستیوں میںلال پیلے نیلے اجالے ہو گئے ہیںکہ جیسے کالی کالی چنیوں پرکوئی ستاروں کی کڑھائی کر گیا ہودریچے سے میں بیٹھا دیکھتا ہوںکہ دنیا شانت ہوتی جا رہی ہےکہ جیسے بدھ کا وردان ہو یہاور میں اپنے ذہن میں خیالوں کے سوئیٹر بن رہا ہوں
پائپ کے گہرے لمبے کش کھینچتاوہ اپنی برہنگی کے احساس کودھویں کی شکل میںخلا میں تحلیل ہوتے دیکھ کرمسکرانے کی کوشش کرتا تھااس کی ناف کے آس پاسچپکے ہوئےشکستہ اندھیرے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑےمینڈک کی آنکھوں میںمرے ہوئے خوابوں کی سیلن میںڈوب رہے تھےوہمجھ کو''گوتم'' کے نام سے یاد کیا جائےایسادیواروں پر رینگتیچیونٹیوں سےبار بار کہہ رہا تھا
جہاں کبھیبدھ کے علم کا اک خزانہ تھاجس جگہشلوک اور منتر ماحول میںنہیںخود مرے ہی اندرمری صدا میںہمالیائی ہواؤں کی طرح گونجتے تھےعجیب عظمت کے ساتھ میں یوں الگ تھلک تھاکہ جس طرح میری موت کی باتقرنہا قرن سے ہے وہ رازمیں ہی بس جس کو جانتا ہوںمیں اپنے اندر وہ آتما ہوںجسے کبھیاک عظیم پیشین گوئی کا سل بے سماعتمحل سمیت آسمان میں لے اڑا تھایا پھرمیں اک تناؤ ہوںآسمانوں کی سمتبچپن کے حیرت انگیز خواب کے بے بنے محل ساجہاں مرے چاروں سمت راہیںسفید ریت اور برف کیاپنی اپنی حد سےمری طرف بڑھ رہی ہیںجیسےمیں دیوتاؤں کا ہوں وہ مسکنجو سب کو اپنی طرف بلاتا ہے اورسب کی پہنچ سے کچھ اس طرح پرے ہےکہ جیسے میں دیکھنے کی حد ہوںمیں ایک پربت ہوںوادیاں جس نے بانٹ دی ہیںمیں اک گپھا ہوںجو وادیوں کو ملا رہی ہےمیں جیسے صدیوں کی یاترا کی وہ گہری آواز ہوں جو اب تکگپھا کے اندر سے آ رہی ہےمیں ایک بھکشو ہوںجو کبھی کااسی گپھا میں سما چکا ہےجو خود میں تشکیل ہو رہا تھاجو خود میں تشکیل ہو رہا ہے
میں بچہ ہوں میں بچہ ہوں کبھی میں بھی بڑا ہوں گاابھی سے کیسے بتلاؤں کہ اس دنیا میں کیا ہوں گامیں جی بچپن سے پڑھنے اور لکھنے میں لگاؤں گاکبھی کھیلوں گا خوش ہو کر کبھی پڑھنے کو جاؤں گامصیبت کچھ بھی پیش آ جائے ہرگز منہ نہ موڑوں گااٹھوں جس کام کے کرنے کو پورا کر کے چھوڑوں گامیں اس دنیا کے ہر علم و ہنر سے آشنا ہو کربجا لاؤں گا ملک اور قوم کی خدمت بڑا ہو کرمیں اپنے صبر اور ہمت سے دکھ پر فتح پاؤں گامیں تکلیفیں اٹھاؤں گا مگر کچھ کر دکھاؤں گامیں اپنے ملک کی قوموں کو آپس میں ملا دوں گاجو لڑتے ہیں انہیں شربت محبت کا پلا دوں گامسلمان اور ہندو جین بدھ سکھ اور عیسائیمری کوشش سے اس دن سب کے سب ہو جائیں گے بھائییہ ساری طاقتیں مل کر وطن کے کام آئیں گینئی اک روح اس میں پھونک کر اس کو جلائیں گینئے سر سے وطن کے دل میں پھر اک جوش اٹھے گاصناعت کا زراعت کا تجارت کا حکومت کابڑھے گی ملک کی رونق بڑھے گی اس کی آبادیجدھر دیکھو ادھر راحت جدھر دیکھو ادھر شادیہوا ایسا تو نیرؔ ہم خوشی کے گیت گائیں گےغلامی کے زمانے کی کہانی بھول جائیں گے
شہر کے ہسپتال میں اس کوایک ہفتہ ہوا ہے آئے ہوئے''سات نمبر'' کا کانا ٹھیکیدارکانپتا تھا جو دیکھ کر نشتراس کے زخموں پہ آج کل وہ خوداپنے ہاتھوں سے پھائے رکھتی ہےلنگڑا بدھ سین ''گیارہ نمبر'' کااس کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیںگھونٹ کڑوی دوا کے پیتا ہے''پانچ نمبر'' کا دق زدہ شاعردیکھ کر اس کو شعر کہتا ہے
سب آنکھیں ٹانگوں میں جڑی ہیںریڑھ کی ہڈی کے منکوں میں کان لگے ہیںناف کے اوپر روئیں روئیں میں ایک زباں ہےپتلونیں ساری آوازیں سن لیتی ہیںدو پتلونیں جھگڑ رہی ہیں''اتنی قیمت کیوں لیتی ہو تم میں ایسی کیا خوبی ہے''کیسے گاہک ہو تم آخر مول بدن کا دے سکتے ہوپتی ورتا کا مول تمہارے پاس نہیں ہےچست نکیلا بریزیر یہ چیخ رہا ہےشرم نہیں آتی کتوں کو چرچ کے آگے کھڑے ہوئے ہیںرستم ٹھرہ پئے کھڑا ہے بس اسٹاپ کی چھت کے نیچےاور سہراب سے پوچھ رہا ہے''بیٹا مال کہاں ملتا ہے؟''مندر کی چوکھٹ پر بیٹھی اندھی آنکھیںآتے جاتے اوتاروں کی خفیہ جیبیں تاک رہی ہیںہسپتال کے اونچے نیچے زینوں پر اک اک مردے کوگاندھی جی دونوں ہاتھوں سے انجکشن دیتے پھرتے ہیںواشنگٹن وتنام میں بیٹھا برہم پتر کے پانی کو وہسکی کے جام میں گھول رہا ہےلندن لنکا کی سڑکوں پہ سر نیوڑھائے گھوم رہا ہےکانگوں آوارہ پھرتا ہے پیرس کے گندے چکلوں میںبدھ کے ٹوٹے پھوٹے بت کے سر پر بوڑھا کرگسمردوں کی مجلس میں بیٹھا اپنی بپتا سنا رہا ہےمسجد کے سائے میں بیٹھا کمسن گیدڑاس کی گواہی میں کہتا ہےبیچارہ کم سن ہے اس کی چونچ سے اب تکدودھ کی خوشبو سی آتی ہے''اوپر نیلے کھلے گگن میںایک کبوتر اپنی چونچ میں اک زیتون کی شاخ لیے اڑتا پھرتا ہےاور اس شاخ کے دونوں جانبایٹم بم کے پات لگے ہیںانساں کا دایاں بازو اک برگ خزاں کی طرح لرز کر ٹوٹ رہا ہےاور اس کے بائیں بازو پر کوہ ہمالیہ دھرا ہوا ہےجانے پھر بھی وہ تلوار کی دھار پہ کیسے چل سکتا ہےمیں اس بھیڑ میں چوراہے پر تنہا بیٹھا سوچ رہا ہوںدنیا اسرافیل کے پہلے صور کے بعد یوں ہی لگتی ہے''گیس کے کمرے ''میں شاید یوں ہی ہوتا ہےپوپ پال کی ٹوپی میرے بھیجے میں دھنستی جاتی ہے
اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا ہےاندھیرا ہی ازل ہے اور اندھیرا ہی ابد کی جوت ہے شایداسی تاریک چادر کی تہوں میںعدم کے خواب سے تاریخ جاگیاسی تاریک چادر میں تمدن مسکرایا کھلکھلایا جگمگایایہی تاریک چادر خاور تہذیب کا مشرق بنی آخریہی تاریک چادر اوڑھ کر حیوانیت نے روپ دھارن کر لئے لاکھوںاسی تاریک چادر میں سمٹ کر گم ہوئی ہستییہی مشرق یہی مغرباندھیرا ہی ازل ہے اور اندھیرا ہی ابد کی جوت ہے شایداندھیرے کی اسی دیوار چیں کوکبھی سقراطؔ کی حکمت نے ڈھایاکبھی عیسیٰ کے خون گرم و تازہ نے کیا رنگیںکبھی گوتم کی موسیقی کے سایوں نے اسے گھیراکبھی ضرب محمد نے کیا ٹکڑےحسین ابن علی کے خون ناحق کے تھپیڑوں سے کبھی کانپی کبھی لرزیفضا میں ایک چنگاری سی تڑپیاور اس کے بعد اس کے بعدچھائی پھر وہی منحوس تاریکی وہی منحوس تاریکیاندھیرا ہی ازل ہے اور اندھیرا ہی ابد کی جوت ہے شایداندھیرے کی جبین آہنی سےیہ کیسی جوت پھوٹی مسکرائی جگمگائییہ کس کی مسکراہٹ سے بنی انسانیت گلشنیہ کس نے ہند کی تاریک دنیا کو کیا روشندکھی دنیا ستاروں سے بنی دلہنضمیر زندگی میں کروٹیں لینے لگی اک مستقل دھڑکنورق تاریخ نے تیزی سے الٹےتغیر لے کے ساز و برگ تعمیر جہاں آیابنی آدم کی دنیا کو سجانےدل سقراط و عیسیٰ جھوم اٹھےجبین بدھ سے نکلی اک نئی جوتاندھیرے ہی سے پھوٹا اک نیا سوتاندھیرا اپنی ہستی کھو رہا ہےاندھیرا نور میں حل ہو رہا ہےنئے دیپک کی جوتی مسکرائیجہاں کو کر دیا روشنجہاں کو مانوتا کو زندگی کو قلب و جاں کو کر دیا روشنسیہ خانے میں اپنا جال لے آئے نئے خاکےنئی دنیا بنانے کی تمنا کے نئے خاکےکہ پھر ظالم اندھیرا جنگجو حاسد اندھیرالئے تاریکیوں کے جال آیانگار امن کے دیپک پہ ٹوٹاکبھی کرنوں کبھی دیپک کو لوٹازمیں سے آسماں تک موج خوں ہےابھی تک آدمی صید زبوں ہےاندھیرا ہی ازل ہے اور اندھیرا ہی ابد کی جوت ہے شایداگر سقراط کا دیپک ہے روشنسراج ابن مریم گر ابد تک بجھ نہیں سکتاکوئی جھونکا اگر شمع شہید کربلا کو چھو نہیں سکتاتو اے تاریک دنیا تو اے مایوس انساںبجھا سکتی نہیں ہے کوئی آندھییوں ہی روشن رہے گی شمع گاندھی
آج کی شبجبکہ ہر سوہوں گی چھائی ہوئیخامشی کی گپھائیںمیں دھیرے سے اٹھ کربدھ کی مانندچلا جاؤں گاگھنے پر سکوں جنگلوں کی طرفکہ ہر روز میرے گھر کی تباہیمجھے کاٹنے دوڑتی ہےتنہا و بے آسرا دیکھ کر
۲ادھر جب وقت کا سیال دھاراایک دو لمحوں کو رکتا ہےنہ جانے کیوں مرے اندر لہو کا تیز تر ہو کرحریم دل کی دیواروں سے اپنا سر پٹکتا ہےیہ پیر روم کے مرقد پہ رقصاںان خدا آگاہ درویشوں کی صورت رقص کرتا ہےجنہیں خود اپنے تن من کی کوئی سدھ بدھ نہیں رہتیوہ سر تا پا فقط روح تام کی تمثیل لگتے ہیںکسی ایسے ابد لمحے میں جسم و جاں کی اس وحدت کا کوئی نام تو ہوگاسراپا رقص کی اس حالت بے نام کا انجام تو ہوگاتمہی بولو کہ اس کا نام کیا انجام کیا ہےہاں تمہی بولو گرہ کھولو
تیرے پہلو میں برف کا ٹکڑاجانے پگھلے گا کون سی رت میںاب تو پیراہن ہمالہ بھیمثل دامن نمائے قیس ہوابال کھلنے لگے ہیں شیشم کےبدھ کی صورت جمود کی رت میںبے نیاز لباس تخمینہتھے گیانی جو وہ سفیدے بھیہیں سر راہ محو بوس و کناراپنی خوش قامتی پہ اتراتیپہننے والی ہیں کھجوریں بھیسرخ پھندے سنہری مالائیں
تمہارے راز تم ہی جانتے ہوسب کچھ جھوٹ ہے اک ڈھونگ ہےہم میں کوئیایوب ہے بدھ ہےحسین ابن علی اور نہ عیسیٰ ہےبس اتنا ہے ضمیر اپنا کبھی کا بک چکا ہےاندھیرے کی پنہ گاہوں میںسحر سامری سےآج سب مبہوت ہیںہاتھ پاؤں ذہن سب مفلوج ہیںسونے کا بچھڑا بولتا ہے
تلخیٔ کام و دہن دنیا سے جو مجھ کو ملیجھلکیاں اس کی نہ آئیں کچھ مری تحریر میںظلمت بغض و حسد چھائی رہی ہر سو مگرخود کو چمکایا ہے میں نے پیار کی تنویر میںگھر کے یوں نفرت میں بھی الفت كا ہوں نقش جمیلجیسے گوتم بدھ کی مورت سایۂ شمشیر میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books