aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bulaayaa"
میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھاکہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کوہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامنکہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کوقدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھےکہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کو
اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیںکہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئےوہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتااس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھیکاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئیتم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیاسیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولومیں سمجھ گئی اب اس کی آنکھیںکیٹسؔ کی آنکھیں ہوئی جاتی ہیںمیں جو سوہنی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھیاپنا نام لیلیٰ بتا چکی تھیمیں نے کہالیلیٰ مجمع کی باتیں میرے سامنے مت دہرایا کروتنہائی بھی کوئی چیز ہوتی ہےشیکسپئیر کے ڈراموں سے چن چن کر اس نے ٹھمکے لگائےمجھے تنہا دیکھ کرسارتر فرائڈؔ کے کمرے میں چلا گیاوہ اپنی تھیوری سے گر گر پڑتامیں سمجھ گئی اس کی کتاب کتنی ہےلیکن بہر حال سارتر تھااور کل کو مجمع میں بھی ملنا تھامیں نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا تو بولااتنے سارے سارتروں سے مل کر تمہیں کیا کرنا ہےاگر زیادہ ضد کرتی ہو تو اپنے وارث شاہؔہیر سیال کے کمروں میں چلے چلتے ہیںسارتر سے استعارہ ملتے ہیمیں نے ایک تنقیدی نشست رکھیمیں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھاسو پہلے آدھے فرائڈؔ کو بلایاپھر آدھے راںؔ بو کو بلایاآدھی آدھی بات پوچھنی شروع کیجان ڈنؔ کیا کر رہا ہےسیکنڈ ہینڈ شاعروں سے نجات چاہتا ہےچوروں سے سخت نالاں ہےدانتےؔ اس وقت کہاں ہےوہ جہنم سے بھی فرار ہو چکا ہےاس کو شبہ تھاوہ خواجہ سراؤں سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتااپنے پس منظر میںایک کتا مسلسل بھونکنے کے لیے چھوڑ گیا ہےاس کتے کی خصلت کیا ہےبیاترؔچے کی یاد میں بھونک رہا ہےتمہارا تصور کیا کہتا ہےسارتروں کی تصور کے لحاظ سےاب اس کا رخ گوئٹےؔ کے گھر کی طرف ہو گیا ہے
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
بلایا ہے امی نے آتی ہوں میںکھٹولی میں تجھ کو سلاتی ہوں میں
مرے دوستوں میں بہت اشتراکی ہیںجو ہر محبت میں مایوس ہو کریوں ہی اک نئے دورۂ شادمانی کی حسرت میںکرتے ہیں دل جوئی اک دوسرے کیاور اب ایسی باتوں پہ میںزیر لب بھی کبھی مسکراتا نہیں ہوںاور اس شام جشن عروسی میںحسن و مے و رقص و نغمہ کے طوفان بہتے رہے تھےفرنگی شرابیں تو عنقا تھیںلیکن مے ناب قزوین و خلار شیراز کے دور پیہم سےرنگیں لباسوں سےخوشبو کی بے باک لہروں سےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےمزامیر کے زیر و بم سےوہ ہنگامہ برپا تھامحسوس ہوتا تھاتہران کی آخری شب یہی ہے!اچانک کہا مرسدہ نے:''تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے؟ابھی ایک صوفے پہ دیکھا تھا میں نےاسے سر بہ زانو!''تو ہم کچھ پریشان سے ہو گئےاور کمرہ بہ کمرہ اسے ڈھونڈنے مل کے نکلے!لو اک گوشۂ نیم روشن میںوہ اشتراکی زمیں پر پڑا تھااسے ہم بلایا کیے اور جھنجھوڑا کیےوہ تو ساکت تھا جامد تھا!روسی ادیبوں کی سر چشمہ گاہوں کی اس کو خبر ہو گئی تھی
میں اکثر دیکھنے جاتا تھا اس کو جس کی ماں مرتیاور اپنے دل میں کہتا تھا یہ کیسا شخص؟ ہے اب بھیجیے جاتا ہے آخر کون اس کے گھر میں ہے جس کےلیے یہ سختیاں سہتا ہے تکلیفیں اٹھاتا ہےتھکن دن کی سمیٹے شب کو گھر جانے پہ کون اس کےلیے دہلیز پر بیٹھا۔۔۔ دعا کی مشعلیں دل میںجلائے۔۔۔ دیدۂ بے خواب کی ہر راہ دروازےکی درزوں سے نکالے گا۔۔۔ خدا کی مہربانی اکحقیقت ہی سہی کچھ قہر آلودہ بھی ہے۔۔۔ جو اسکی نافرمانیاں کرتے ہیں ان کے واسطے اس نےدہکتی آگ بھی تیار رکھی ہے۔۔۔ دل کافرمیں اس کی مہربانی اور رحمت کا تصور بھیجب آیا مامتا کے لفظ کی صورت میں آیا ہےمری ویران آنکھوں نے پھر ایسا وقت بھی دیکھاکہ سورج جل رہا تھا روشنی منظر سے غائب تھیخدا زندہ تھا لیکن اس کی رحمت سر سے غائب تھیانہی آنکھوں میں میرے خیریت سے لوٹ آنے پرنہ تھا اشک مسرت بھی۔۔۔ کہ میری راہ تکنا جنکی بینائی کا مصرف تھا۔۔۔ وہ لب دو چار دن پہلےمرے ماتھے پہ ہو کر ثبت جو کہتے تھے'' تم جاؤتمہاری نوکری کی بات ہے بیٹے! میں اچھی ہوںمجھے اب جان کا خطرہ نہیں ہے اور اگر کچھ ہوگیا تو ہم تمہیں فوراً بلا لیں گے چلے جاؤ''(اگر مر جاؤں میں تو صبر کر لینا۔۔۔ خدا حافظ)مگر یہ بات قاصرؔ ان لبوں سے کب سنی میں نےاسے معلوم تھا شاید کہ مائیں مر نہیں سکتیںدل اولاد میں اک یاد بن کر زندہ رہتی ہیںبلایا تو گیا مجھ کو مگر وہ لب؟ کہاں وہ لب؟مرے فاقہ زدہ بچپن کو نیندوں سے گریزاں، پاکے جو پریوں کے افسانے سناتے تھے تو میں خوابوںمیں خود کو ان کے دسترخوانوں پر موجود پاتا تھاسکت باقی نہیں ہے ان لبوں میں آج اتنی بھیکہ میری خاطر اک حرف دعا کا بوجھ اٹھا لیتےمجھے جو دیکھنے آتے ہیں کہتے ہیں میں زندہ ہوںمیں کھاتا ہوں کہ یہ بھی زندگی کی اک ضرورت ہےمگر ہر ذائقے میں ایک تلخی کا اضافہ ہےکسی دیوار کا سایہ ہو یا ہو پیڑ کی چھاؤںمرا جسم برہنہ چھیدتی رہتی ہیں کرنیں ابہوا وہ ہاتھ غائب جو کہ میری ذات پر ہوتےہوئے ہر وار کو بڑھ بڑھ کے خود پر روک لیتا تھادعا کو ہاتھ اٹھاتا ہوں دعائیں اس کی خاطر ہیںمیں گویا ہوں کہ میری سب صدائیں اس کی خاطر ہیںمحبت اس کی خاطر ہے وفائیں اس کی خاطر ہیںکہ میری ابتدائیں، انتہائیں اس کی خاطر ہیں
برسوں بعد جب اس کو دیکھا پھول سا چہرہ بدل چکا تھاپیشانی پر فکر کی آیت آنکھیں اب سنجیدہ تھیںہونٹ کنول اب بھی ویسے پر شادابی کچھ کم کم تھیپکے پھلوں کا بوجھ اٹھائے جسم تنا بل کھاتا تھارنگیں پیراہن میں اب بھیخواب کی صورت لگتی تھیجانے کیسی کیسی حکایت دیکھ اسے یاد آتی تھیپہلی دفعہ جب ساتھ تھے بیٹھے کلاس کے اندر ہم دونوںاس کے جسم کے لمس نے مجھ کوپہلے تو بلایا تھا پھر پکا دوست بنایا تھاشام تلک میلے میں کیسے پھرتے رہے تھے ادھر ادھررات گئے ممی نے اس کو کھوٹی کھری سنائی تھیریل کے اندر بیٹھ کے کیسے شرمائے گھبرائے تھےبغیر ٹکٹ کے پہنچ کے گھر پر کتنی موج منائی تھیدوپہر کو ڈھابے میںچائے اور سگریٹ کے ساتھتھوڑے سے رومانی ہو کرکیا کیا باتیں کرتے تھےگھر کے باہر لان بھی ہوگا گیندا اور گل مہر کے پھولکھری کھاٹ نہیں رکھیں گے بیڈ بڑے مہنگے ہوں گےسوٹ مرا ایسا ہوگا تیری ساری ریشم کیبیٹے کا جو نام رکھیں گے ہندو نہ مسلم ہوگابل چکاتے وقت میں اکثر پیسے کم پڑ جاتے تھےدیکھ کے ددو ہنستا تھا پھرجانے کیوں خوش ہوتا تھاکوئی بات نہیں ہے بیٹےکل جب آؤ دے جاناجاتے ہوئے جب سیٹھ نے اس کی کمر میں بازو پہنایادیکھ کے اس کی آنکھیں مجھ کو چھلک پڑی تھیں چپ کے سےسوچ رہا تھا پلٹ کے اب وہپوچھے گی تم کیسے ہویہ ہے آپ کی کافی صاحب اور بھی کچھ چہیے ہوگا
کتنے آداب سے مقتل کو سجایا گیا ہےپھر تری بزم سے زندوں کو اٹھایا گیا ہےسچ کسی جھوٹ کی تخلیق نہیں کر سکتاجانے کیا ہے جو سلیقے سے چھپایا گیا ہےاس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی فنا کی تصویرایسی حکمت سے کھلونے کو بنایا گیا ہےعید قرباں سے مقدس نہیں کوئی تقریباس طرح بھولا سبق یاد دلایا گیا ہےاس طرح خواب سے ملتی نہیں کوئی تعبیرجیسے صحرا میں سمندر کو بلایا گیا ہےجانے یہ کس نے بنائی ہے قیامت کی شبیہصرف الزام مصور پہ لگایا گیا ہےاور پختہ ہوئی جنت کی بشارت خورشیدؔجس طرح مٹی میں مٹی کو ملایا گیا ہے
صبح سویرےوہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہےپھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کوروشن کرتی ہےاتنے میں دن چڑھ جاتا ہےجلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہےسیارے گردش کرتے ہیںشہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداںکہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیںسارے گھر کو دھوتی ہےکپڑے تولیے ٹوتھ برش بستر کی چادرکوئی کتاب اٹھاتی ہے رکھ دیتی ہےریڈیو آن کیا پھر روکا آن کیاپھر کوئی پرانا خط پڑھتی ہے(گھنٹی بجی)''مریم! آ جاؤ''''تم کیسی؟ ہو وہ کیسے ہیں''''کیا اس کا کوئی خط آیا؟''(تھوڑی خاموشی کا وقفہ)''تم کیسی ہو''''تم سے مطلب؟ سچ کہہ دوں تو کیا کر لو گی''دیکھو سب کی سب بیٹھی ہوں''اچھا''''اچھا''(دروازہ پھر بند ہو گیا)''اب کیا کرنا!گھر تو بالکل صاف پڑا ہےکوئی شکن بستر پہ نہیں ہےدیوار و در دھلے دھلائےکوئی دھبہ یا مکڑی کا جالا تنکاکہیں کچھ نہیںکیا کرنا ہے!اف! وہ کلنڈرکتنے برس ہو گئے پھر بھیآئیں تو ان سے کہتی ہوںبالکل نیا کلنڈر لائیںکچھ بھوک نہیںاب کیا کرنا ہےلیٹ رہوں؟ لیکن کیا لیٹوںجانے کتنا لیٹ چکی ہوںکھڑی رہوںہاں کھڑی رہوںپر میں تو کب سے کھڑی ہوئی ہوںکھڑکی کا پردہ ہی کھولوںدھوپ کہاں تک آ پہنچی ہےلاؤ اپنا البم دیکھوںنیر شبنم شفق صبوحی اختر جوہیکیسے ہوں گےآں! یہ میں ہوںاتی پیاری پیاری تھی میںمیں بالکل ہی بھول گئی تھیسب کتنا اچھا لگتا تھاابا، اماں، بھیا، اپیسب زندہ تھےسایہ نانی گلشن آپاہاں اور وہ گوریا باباآنسو نغمے شور ٹھہاکے سارے اک سر میں ہوتے تھےساری دنیا گھر لگتی تھیاماں ادھر بلایا کرتیںابا ادھر پکارا کرتےبھیا ڈانٹتےاپی ڈھیروں پیار جتاتیںکھانا، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا، روٹھنا، منناڈور بندھی تھیایک میں ایک پرویا ہوا تھاکل نمو کے گھر شادی ہےپاس ہی کوئی موت ہوئی ہےکالج کی چھٹی کب ہوگیعید پھر اب کی تیس کی ہوگیہم بھی لیل قدر جاگیں گےشہلا کی منگنی کیوں ٹوٹی؟کیا اقبال کوئی شاعر تھا؟چپ بڑکے ابا سن لیں گےسائے دوڑ رہے ہیں گھر میںہر گوشے میں اوپر نیچے اندر باہر دوڑ رہے ہیںلمبے چھوٹے سبز و زرد ہزاروں سائےباہر شہر میں کوئی نہیں ہےدھوپ سیہ پڑتی جاتی ہےقد آدم آئینے میںاس کا ننگا جسم کھڑا ہےجسم کے اندر سورج کا غنچہ مہکا ہےسیارے گردش کرتے ہیںسب انجانے سیاروں میں بھولے بسرے گھر روشن ہیںکس لمحے کا ہے یہ تماشہہست و بود کے سناٹے میںلا موجود کی تاریکی میںصرف یہی آئینہ روشنصرف اک عکس گزشتہ روشنبچھڑے گھر کا سایہ روشن
دل مرا بارہا آیا ہے یہاںچل کے اس رستے سے جو اون کے گولے کی طرحمیرے قدموں میں کھلا جاتا تھاپھر مخل ہوتے ہوئے پتوں کی سرگوشی میںایک آواز نے رہ رہ کے بلایا تھا مجھے
امجد چونی اور تلسی کو دعوت پہ بلایا جائے گااک لمبا چوڑا اجلا دسترخوان بچھایا جائے گاڈونگوں کا اور پلیٹوں کا اک ڈھیر لگایا جائے گاجب ڈھکنے ڈونگوں سے اٹھے ان میں مینڈک ٹرائیں گےآج اپنے ہر ہمجولی کو ہم الو خوب بنائیں گے
میں نے آواز دیاور حصار رفاقت میںاس کو بلایامگر وہ نہ آیاگل خواب کی پتیاںدھوپ کی گرم راحت میں گم تھیںمرے جسم پرنرم بارش کی بوندیں بھی گھوڑے کا سم تھیںزمیں ایک انبوہ ہجراں میںاس چاپ کی منتظر تھیجو لا علم پھیلاؤ میں منتشر تھیپرندے سبک ریشمیں ٹہنیاںاپنی منقار میں تھام کر اڑ رہے تھےنشیب جنوں کی طرفپانیوں کی طرح میرے سائے بہے تھےکف چشم پر میں نے اس کے لیےشہر گریہ سجایامگر وہ نہ آیا
نقاہت کے مارے برا حال تھاپھر بھی بستر سے اٹھ کربڑے پیار سے اس نے مجھ کو بلایامرے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ پھیرانہایت حلیمی سے مجھ کو کہاسنو میرے بچےتمہیں آج میںاپنے پچپن برس دے رہا ہوںاگر ہو سکے توکبھی ان کی قیمت چکانامری قبر پر تھوک جانابس اتنا کہا اور وہ مر گیااور میںاس کے برسوں کی قیمت کومنہ میں چھپائےاسے ڈھونڈتا ہوںکہاں دفن ہے وہ
مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہےدوڑتا پھرتا ہوںسارے کام نپٹانے کی جلدی ہےپہاڑوں اور جھیلوں کی خموشی سےقدیمی گیت سننے ہیں پرانے داستانی بھید لینے ہیںدرختوں سے نموکاری کی بابت پوچھنا ہےنت نئی شکلیں بناتے بادلوں کو دیکھنا ہےخوش نوا اچھے پرندوں سےاڑن پھل کا پتا معلوم کرنا ہےعروسی بیل کے پھولوں کو چھونا ہےدر و دیوار سے باتیں بھی کرنی ہیںابھی کتنے ملاقی منتظر ہیںایک لمبی لسٹ ہے آنکھوں میں نادیدہ نظاروں کیفشار خون بڑھتا جا رہا ہےاب کسی لمحے رگیں پھٹنے کا خطرہ ہےمگر مصروف ہوں سب کام نپٹانے کی جلدی ہےسمندر نے بلایا ہےجزیرے اور ساحل بھیکئی قرنوں سے مجھ کو یاد کرتے ہیںمچھیرے گیت گاتے بستیوں کو لوٹتےمجھ کو بہت ہی ہانٹ کرتے ہیںکسی دن جاؤں گا ملنےخزانوں کو اگلنے کے لیےبے تاب ہیں رقبے طلسمی سر زمینوں کےسفر کے راستے معلوم ہیںنقشے پرانے کاٹھ کے صندوق میں محفوظ ہیں سبدیو بانی بھی سمجھتا ہوںمگر مصروف ہوںبچوں کے کتنے کام باقی ہیںکتابیں کاپیاں اسکول کے کپڑے نئے بستےکھلونے بیٹ ریکٹاور بہت سی ان کہی چیزیںخریدوں گا تو خوش ہوں گےمگر مصروف ہوں سب کام نپٹانے کی جلدی ہےرگوں میں خون کی رفتار بڑھتی جا رہی ہےزندگی پر اک جنون مرگ طاری ہےبہت مصروف ہوںسرپٹ لکھے جاتا ہوں نظمیںمجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے!!
کٹ کٹ کر کے ان کو بلایااک بھی بچہ پاس نہ آیا
بادل دوست ہمارےبادل دوست ہمارےگھر گھر آئیں مینہ برسائیںچاندی برسے آنگن آنگن دوارے دوارےبادل دوست ہمارےبادل دوست ہمارےسوکھی دھرتی جل تھل کر دیںکھیتوں کو امرت سے بھر دیںبرسیں رس کے دھارےبادل دوست ہمارےاڑتے آئیں نیل گگن میںباغوں میں کھیتوں میں چمن میںجیسے چلیں فوارےبادل دوست ہمارےبھر بھر آنچل پانی لایاجب بھی پیاسے دل نے بلایاآ جا رہے آ جا رےبادل دوست ہمارےیہ دنیا کی پیاس بجھائیںکاش یہ بادل آج بجھائیںنفرت کے انگارےبادل دوست ہمارےکتنے ہی کالے بادل ہوںآس بندھی ہے چمکے ہیں چاندی سے کنارےآس بندھاتا جا رےبادل دوست ہمارے
ایک دن لالو روتے آئےآنسوؤں سے منہ دھوتے آئےابا نے آ کر چمکاراکیوں روتے ہو کس نے مارابھائی جان نے پوچھا آ کرآئے مار کہاں سے کھا کردادی گرتی پڑتی آئیںلٹھیا کھٹ کھٹ کرتی آئیںلالو کو جو روتے دیکھاپوچھا بیٹا کس نے ماراآ جا میری گود میں آ جامیرا بنا میرا راجااماں آئیں آپا آئیںروٹی اور مٹھائی لائیںلالو کو گودی میں اٹھایاپیار کیا چھاتی سے لگایاآپا بولیں چپ ہو جاؤروٹی اور مٹھائی کھاؤپھر بھابی نے ان کو بلایاگیت سنا کر دل بہلایانہلا کر کپڑے پہنائےاچھے اچھے کھانے کھلائےلالو ہیں ان سب کے پیارےہیں وہ سب کی آنکھ کے تارے
مجھے پہلے مرغا بنایا گیاورق پر پھر انڈا بنایا گیا
کئی منظر بدلتے ہیںکھلی آنکھوں کے شیشے پر سلگتی خاک کا چہرہچراغوں کا دھواں،کھڑکی،کوئی روزن۔۔۔ہوا کے نام کرنے کو ہمارے پاس کیا باقی، بچا ہے؟لہو کے پر لگی سڑکیںکٹے سر پر برستی جوتیوں کے شور میں جاگا ہوابے خانماں نام و نسب،ماتم کناں گریہ کناں آنکھیں،شکستہ رو سحر کی سسکیاں۔۔۔جیسےمسیحاؤں کے اجلے پیرہن پر زخم بھرنے کیروایت نقش ہوتی ہےہمارے پاس کیا باقی بچا ہے؟طلسم آور شعوری قہقہےکرنیں!در مہتاب سے نکلی ہوئی کچھ مسترد کرنیںردائیں!جن کے کونوں سے بندھے سکےمرا تاوان ٹھہرے ہیںلہو تاوان میں دے کرمیں خالی ہاتھ آیا ہوںمرے لوگو!بھنور کی راہ سے بچ کر میں خالی ہاتھ آیا ہوںمجھے کس نے بلایا تھا!کسی امید سے منسوب رستے نےجہاں شاخ ثمر اب تک شجر کی کوکھ سے باہر نہیں نکلیجہاںجیون کی لمبی آستیں سانس لیتا ہےمری آہوں کا سناٹا!!
مرغی نے اک دانہ پایاجھٹ اپنے بچوں کو بلایابچوں نے جب دانہ دیکھاہر بچہ دانے پر لپکامیں کھاؤں گا میں کھاؤں گامرغی بولی توبہ توبہآپس میں یہ جھگڑا کیساکوئی ایسی راہ نکالیںسب جی بھر کر دانہ کھا لیںآؤ مل کر مٹی کھودیںمٹی میں یہ دانہ بو دیںلو جی ہم نے بو دیا دانہپانی دیتے ہیں روزانہدانہ پھوٹا بن گیا پودانازک نازک پیارا پیارااک پودے میں جتنے تنکےقدرت ہی نے اگائے گن کےہر تنکے پر اک اک بالیکوئی تنکا بھی نہیں خالیرحم کیا پھر میرے خدا نےہر تنکے میں بھر دئے دانےسورج نے پودے کو سکھایابالی میں دانوں کو پکایاصبح سویرے مرغی آئیچھاج درانتی چھلنی لائیکاٹا کوٹا پھٹکا چھاناجمع کیا پھر اک اک دانہدانوں کا اک ڈھیر لگایاپھر اپنے بچوں کو بلایاآؤ پیارے بچو آؤاپنی محنت کا پھل کھاؤمل کر کھاؤ خوشی مناؤاپنے رب کے نغمے گاؤہم بھی ایسی فصل اگائیںایک دانے کے سو سو پائیںسب کے سب جی بھر کر کھائیںاپنے رب کے نغمے گائیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books