aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "captain"
کھیلنے آئے دونوں کرکٹ بندر ہاتھیان کے پیچھے تھے جنگل کے سارے ساتھیکیپٹن تھا اک ٹیم کا ہاتھی مست قلندردوسری ٹیم کا کیپٹن بن بیٹھا تھا بندربندر یہ تھے قسمت والے جیتے ٹاسفوراً چیتے کو بلوایا اپنے پاساوپن کرنے اک جانب سے آیا شیرجوش میں آ کر لگایا اس نے رنوں کا ڈھیراک اوور میں بنا گیا وہ سولہ رنسترہ گیندوں میں رن اس کے ستاوناس پاری میں دھوم دھڑکا مچا گیا وہچائے سے پہلے ڈبل سینچری بنا گیا وہدیکھ کے اپنی ٹیم کی درگت ہاتھی چونکاخود کرنے بالنگ کور سے آیا دوڑاپہلی بال ہی چیتے کے اسٹمپ کو مارادوسری بال میں شیر ڈریسنگ روم سدھاراتیسری بال پہ سانبھر جی نے کیچ دیاچوتھی بال پہ ریچھ بچارا بولڈ ہوااک اوور میں چار وکٹ تھے زیرو رنہاتھی نے رکارڈ بنا ڈالا اے ونایک اننگ میں آٹھ وکٹ کیپر کے کیچننھا سا خرگوش ہوا مین آف دی میچدو سو بیس پہ بندر جی کی ٹیم آل آؤٹپہلے روز مچھندر جی کی ٹیم آل آؤٹدوسرے دن ہاتھی کے اترے بلے بازبلے بازی میں لیکن نہ تھے ممتازبندر جی نے فالو آن کی شیخی ماریسوچا ختم کریں گے ان کی جلدی پاریہاتھی آیا دو ساتھی آؤٹ ہونے پروہ چکرایا اپنی دو وکٹیں کھونے پرہاتھی کے آنے سے پاری سنبھل گئی تھیویسے بھی اب پچ کی حالت بدل گئی تھیہاتھی آیا چوکے چھکے مارا خوببندر دوڑا ادھر ادھر بیچارہ خوبتین سو تیرہ بنا کے ہاتھی ناٹ آؤٹ تھااپنے کرتب دکھا کے ہاتھی ناٹ آؤٹ تھادو وکٹوں پہ لگا تھا چھ سو رنوں کا ڈھیرپھر پاری ڈکلیئر کرنے میں کیا دیردوسری پاری میں بندر کی اڑی ہنسیاسی ہی رن بنا کے پوری ٹیم گئیتین سو رن اور دس وکٹوں سے مات ہوئیجیت ہوئی ہاتھی کی اونچی بات ہوئی
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگاکیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخرخود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگاکل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گاآپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگاوہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھنسیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگاراہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریباس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
میں نے ماضی سے کئی خشک سی شاخیں کاٹیںتم نے بھی گزرے ہوئے لمحوں کے پتے توڑےمیں نے جیبوں سے نکالیں سبھی سوکھی نظمیںتم نے بھی ہاتھوں سے مرجھائے ہوئے خط کھولےاپنی ان آنکھوں سے میں نے کئی مانجے توڑےاور ہاتھوں سے کئی باسی لکیریں پھینکیںتم نے پلکوں پہ نمی سوکھ گئی تھی سو گرا دیرات بھر جو بھی ملا اگتے بدن پر ہم کوکاٹ کے ڈال دیا جلتے الاؤ میں اسے
وقت کے اگلے شہر کے سارے باشندےسب دن سب راتیںجو تم سے ناواقف ہوں گےوہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گےجاؤ اپنی راہ لو راہیہم کو کتنے کام پڑے ہیںجو بیتی سو بیت گئیاب وہ باتیں کیوں دہراتے ہوکندھے پر یہ جھولی رکھےکیوں پھرتے ہو کیا پاتے ہومیں بے چارہاک بنجارہآوارہ پھرتے پھرتے جب تھک جاؤں گاتنہائی کے ٹیلے پر جا کر بیٹھوں گاپھر جیسے پہچان کے مجھ کواک بنجارہ جان کے مجھ کووقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحےننگے پاؤںدوڑے دوڑے بھاگے بھاگے آ جائیں گےمجھ کو گھیر کے بیٹھیں گےاور مجھ سے کہیں گےکیوں بنجارےتم تو وقت کے کتنے شہروں سے گزرے ہوان شہروں کی کوئی کہانی ہمیں سناؤان سے کہوں گاننھے لمحو!ایک تھی رانیسن کے کہانیسارے ننھے لمحےغمگیں ہو کر مجھ سے یہ پوچھیں گےتم کیوں ان کے شہر نہ آئیںلیکن ان کو بہلا لوں گاان سے کہوں گایہ مت پوچھوآنکھیں موندواور یہ سوچوتم ہوتیں تو کیسا ہوتاتم یہ کہتیںتم وہ کہتیںتم اس بات پہ حیراں ہوتیںتم اس بات پہ کتنی ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتاتم ہوتیں تو ویسا ہوتا
آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پردیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئےدولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھاخوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئےجو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تکوہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئےکیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کامرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئےبے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیبوہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئےجمہوریت نواز بشر دوست امن خواہخود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئےمذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہےوہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئےہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہیکجہتئ حیات کے آداب کیا ہوئےصحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگیابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئےمجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہواے رہبران قوم خطا کار تم بھی ہو
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میںجز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کوخروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہےعناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تکنوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہےظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطرکبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہےوہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہواسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہےکبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوںکہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہےغرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکنسحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جبیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہویہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوںوہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آساجسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالماسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کااسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوںمیں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نےکبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گایہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہےیہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں
میں جب بھی چھوتا ہوں اپنے بدن کی مٹی کوتو لمس پھر اسی ٹھنڈے بدن کا ہوتا ہےلباس روز بدلتا ہوں میں بھی سب کی طرحمگر خیال تمہارے کفن کا ہوتا ہے
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
دوسرا رستہبہت کٹھن ہےاس رستے میںکوئی کسی کے ساتھ نہیں ہےکوئی سہارا دینے والا نہیں ہےاس رستے میںدھوپ ہےکوئی چھاؤں نہیں ہےجہاں تسلی بھیک میں دے دے کوئی کسی کواس رستے میںایسا کوئی گاؤں نہیں ہےیہ ان لوگوں کا رستا ہےجو خود اپنے تک جاتے ہیںاپنے آپ کو جو پاتے ہیںتم اس رستے پر ہی چلنامجھے پتا ہےیہ رستہ آسان نہیں ہےلیکن مجھ کو یہ غم بھی ہےتم کو اب تککیوں اپنی پہچان نہیں ہے
جسم ہی جسم ہیں، کفن ہی کفنبات سنتے نہ سر جھکاتے ہیںامن کی خیر، کوتوال کی خیرمردے قبروں سے نکلے آتے ہیںکوئی اپنا نہ کوئی بیگانہآج کی رات ہم کو سونے دو
کئی سال گزرےکئی سال بیتےشب و روز کی گردشوں کا تسلسلدل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئےزلزلوں کی طرح ہانپتا ہےچٹختے ہوئے خوابآنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیںمگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کوبے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کراب تک وہی جستجو کا سفر کر رہا ہوںگزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرامگر سال کے آخری دننہایت کٹھن ہیںمرے ملنے والونئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئےتو ملناکہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میںیہ بجھتا ہوا دلدھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیںدسمبر مجھے راس آتا نہیں
میں کیا بتاؤں وہ کتنی حسین دنیا تھیجو بڑھتی عمر کے ہاتھوں نے چھین لی مجھ سےسمجھ سکے کوئی اے کاش عہد طفلی کوجہان دیکھنا مٹی کے ایک ریزے کونمود لالۂ خود رو میں دیکھنا جنتکرے نظارۂ کونین اک گھروندے میں
تتلی جگنو رنگ و خوشبوگل و بلبل جیسےاستعارے نہیں ہیں پاس مرےکیونکے میں نےسسکتی سلگتی تڑپتی ہوئیزندگی کو دیکھا ہےکھلی آنکھ سےمیں نے دیکھی ہےلہو سے تر سڑکیںمیں نے دیکھے ہیں جنرل وارڈ میںبے بسی سے ایڑیاں رگڑتے ہوئےبچے بوڑھے لاچارمیں نے دیکھی ہیںروٹی کے بدلےردا ہوتی ہوئیتار تارمرے شعور میںآج بھی تازہ ہےسارہ شگفتہؔ کے بنا کفن کےپھول جیسے بچے کی لاشمیں نے دیکھی ہےمسجد کی ٹوٹتی ہوئی محراباب مری بے نور آنکھیںکیسے دیکھے کوئی حسین خواب
کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیںاک ذرا انسان میں چلنے کی ہمت چاہئےمل نہیں سکتی نکموں کو زمانے میں مرادکامیابی کی جو خواہش ہو تو محنت چاہئےخاک محنت ہو سکے گی ہو نہ جب ہاتھوں میں زورتندرستی کے لئے ورزش کی عادت چاہئےخوش مزاجی سا زمانے میں کوئی جادو نہیںہر کوئی تحسیں کہے ایسی طبیعت چاہئےہنس کے ملنا رام کر لینا ہر ہر انسان کوسب سے میٹھا بولنے کی تم کو عادت چاہئےایک ہی اللہ کے بندے ہیں سب چھوٹے بڑےاپنے ہم جنسوں سے دنیا میں محبت چاہئےہے برائی ہی برائی کام کل پر چھوڑناآج سب کچھ کر کے اٹھو گر فراغت چاہئےجو بروں کے پاس بیٹھے گا برا ہو جائے گانیک ہونے کے لئے نیکوں کی صحبت چاہئےساتھ والے دیکھنا تم سے نہ بڑھ جائیں کہیںجوش ایسا چاہئے ایسی حمیت چاہئےحکمراں ہو کوئی اپنا ہو یا بیگانہدی خدا نے جس کو عزت اس کی عزت چاہئےدیکھ کر چلنا کچل جائے نہ چیونٹی راہ میںآدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہئےہے اسی میں بھید عزت کا اگر سمجھے کوئیچھوٹے بچوں کو بزرگوں کی اطاعت چاہئےعلم کہتے ہیں جسے سب سے بڑی دولت ہے یہڈھونڈ لو اس کو اگر دنیا میں عزت چاہئےسب برا کہتے ہیں لڑنے کو بری عادت ہے یہساتھ کے لڑکے جو ہوں ان سے رفاقت چاہئےہوں جماعت میں شرارت کرنے والے بھی اگردور کی ان سے فقط صاحب سلامت چاہئےدیکھنا آپس میں پھر نفرت نہ ہو جائے کہیںاس قدر حد سے زیادہ بھی نہ ملت چاہئےباپ دادا کی بڑائی پہ نہ اترانا کبھیآدمی کو اپنے کاموں کی شرافت چاہئےگر کتابیں ہو گئیں میلی تو کیا پڑھنے کا لطفکام کی چیزیں ہیں جو ان کی حفاظت چاہئے
پہلی آوازاب سعی کا امکاں اور نہیں پرواز کا مضموں ہو بھی چکاتاروں پہ کمندیں پھینک چکے مہتاب پہ شب خوں ہو بھی چکااب اور کسی فردا کے لیے ان آنکھوں سے کیا پیماں کیجےکس خواب کے جھوٹے افسوں سے تسکین دل ناداں کیجےشیرینیٔ لب خوشبوئے دہن، اب شوق کا عنواں کوئی نہیںشادابیٔ دل تفریح نظر اب زیست کا درماں کوئی نہیںجینے کے فسانے رہنے دو اب ان میں الجھ کر کیا لیں گےاک موت کا دھندا باقی ہے جب چاہیں گے نپٹا لیں گےیہ تیرا کفن وہ میرا کفن یہ میری لحد وہ تیری ہے
ہم سر پہ کفن باندھ کر پیدا ہوئے ہیںکوئی انگوٹھی پہن کر نہیںجسے تم چوری کر لو گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books