aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "character"
چمکتے چاند کی باتیںیہ بوندیں اور برساتیں
یہ شاخوں پہ غنچے چٹختے ہوئےفلک پہ ستارے چمکتے ہوئے
کچھ چاند چمکتے گالوں کےکچھ بھونرے کالے بالوں کےکچھ نازک شکنیں آنچل کیکچھ نرم لکیریں کاجل کیاک کھوئی کڑی افسانوں کیدو آنکھیں روشن دانوں کیاک سرخ دلائی گوٹ لگیکیا جانے کب کی چوٹ لگیاک چھلا پھیکی رنگت کااک لاکٹ دل کی صورت کارومال کئی ریشم سے کڑھےوہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھےمت روکو انہیں پاس آنے دویہ مجھ سے ملنے آئے ہیںمیں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
جب دلوں میں داغ چمکتے تھےجب پلکیں شہر کے رستوں میں
اٹھو ہند کے باغبانو اٹھواٹھو انقلابی جوانو اٹھوکسانوں اٹھو کامگارو اٹھونئی زندگی کے شرارو اٹھواٹھو کھیلتے اپنی زنجیر سےاٹھو خاک بنگال و کشمیر سےاٹھو وادی و دشت و کہسار سےاٹھو سندھ و پنجاب و ملبار سےاٹھو مالوے اور میوات سےمہاراشٹر اور گجرات سےاودھ کے چمن سے چہکتے اٹھوگلوں کی طرح سے مہکتے اٹھواٹھو کھل گیا پرچم انقلابنکلتا ہے جس طرح سے آفتاباٹھو جیسے دریا میں اٹھتی ہے موجاٹھو جیسے آندھی کی بڑھتی ہے فوجاٹھو برق کی طرح ہنستے ہوئےکڑکتے گرجتے برستے ہوئےغلامی کی زنجیر کو توڑ دوزمانے کی رفتار کو موڑ دو
اسی زباں میں ہمارے بچپن نے ماؤں سے لوریاں سنی ہیںجوان ہو کر اسی زباں میں کہانیاں عشق نے کہی ہیںاسی زباں کو چمکتے ہیروں سے علم کی جھولیاں بھری ہیں
کچھ گھنگھرو تال چھنکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریموہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خموہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہوہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہوہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تروہ تثلیث کی دختر نیک اختروہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیےمداوائے درد جگر جس کو کہیےجوانی سے طفلی گلے مل رہی تھیہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھیوہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہمتاع جوانی پہ فطرت کا پہرہمری حکمرانی ہے اہل زمیں پریہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پرسفید اور شفاف کپڑے پہن کرمرے پاس آتی تھی اک حور بن کروہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویاکہ انداز تھا اس میں جبریل کا ساوہ اک مرمریں حور خلد بریں کیوہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کیوہ تسکین دل تھی سکون نظر تھینگار شفق تھی جمال نظر تھیوہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتوسلیماں کی وہ اک کنیز سبک روکبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھیکبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخیگھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیںسرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیںعجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہکبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہنقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتینظر مجھ کو آتی محبت کی دیویوہ اس وقت اک پیکر نور ہوتیتخیل کی پرواز سے دور ہوتیہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کودوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتیاب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتیسرہانے مرے ایک دن سر جھکائےوہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائےخیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سینہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سیجھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیںجبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیںوہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سےوہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سےلبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہنظر عارفانہ ادا راہبانہمہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھیمرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھیمجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھیجو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھیذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لیلب لعل افشاں سے اک شے چرا لیوہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیےبہشت جوانی کا تحفہ سمجھیےشراب محبت کا اک جام رنگیںسبو زار فطرت کا اک جام رنگیںمیں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہمیں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالمجوانی کا غصہ بکھرنے کا عالمادھر دل میں اک شور محشر بپا تھامگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھاہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کرکہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کرنہیں جانتی ہے مرا نام تک وہمگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہیہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثرکہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر
تیرے قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤجیسے پھولوں سے لدی شاخ ہوا میں لہرائےوہ چھلکتے ہوئے ساغر سی جوانی وہ بدنجیسے شعلہ سا نگاہوں میں لپک کر رہ جائے
اف یہ شبنم سے چھلکتے ہوئے پھولوں کے ایاغاس چمن میں ہیں ابھی دیدۂ پر نم کتنے
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
عجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھیچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھےمگر مجھے ہوش ہی کہاں تھانظر میں اک اور ہی جہاں تھانئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوںنئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوںصلہ جزا خوف ناامیدیامید امکان بے یقینیہزار خانوں میں بٹ گیا ہوںاب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤںعجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہوعجب نہیں آج بھی مری راہ دیکھتی ہوچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسوعجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیںہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیںعجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
۱یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںوہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤسیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزوللٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیویپرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیںقریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیںیہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوتیہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوتدھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک۲یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچکیہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کےسنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میںدلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میںترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک۳یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہکیہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمکسگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہےفضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہےیہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہیہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہیہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہیہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہیہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہاتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہسجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیتسرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گتجمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کےجبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کےدلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک۴یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہکچمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھواریہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھارفضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہاریہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمودکہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلودیہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہودیہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بودخجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک۵بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمکوہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیںسکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیںہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیںیہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیںاڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویںگھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک۶یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپککہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرےوہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپکجمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہےسکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہےمگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک۷یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپکفضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرارکچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمارفسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غباریہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نورکہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافوریہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گدازخنک فضا میں ترا شبنمی تبسم نازجھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ سازجہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیازجہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر رازسکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھارکہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسارہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہےفضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہےکہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک۸کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمکہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوںحیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیںکروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہسیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہیہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
فضاؤں میں ہے صبح کا رنگ طاریگئی ہے ابھی گرلز کالج کی لاریگئی ہے ابھی گونجتی گنگناتیزمانے کی رفتار کا راگ گاتیلچکتی ہوئی سی چھلکتی ہوئی سیبہکتی ہوئی سی مہکتی ہوئی سیوہ سڑکوں پہ پھولوں کی دھاری سی بنتیادھر سے ادھر سے حسینوں کو چنتیجھلکتے وہ شیشوں میں شاداب چہرےوہ کلیاں سی کھلتی ہوئی منہ اندھیرےوہ ماتھے پہ ساڑی کے رنگیں کنارےسحر سے نکلتی شفق کے اشارےکسی کی ادا سے عیاں خوش مذاقیکسی کی نگاہوں میں کچھ نیند باقیکسی کی نظر میں محبت کے دوہےسکھی ری یہ جیون پیا بن نہ سوہےیہ کھڑکی کا رنگین شیشہ گرائےوہ شیشے سے رنگین چہرا ملائےیہ چلتی زمیں پہ نگاہیں جماتیوہ ہونٹوں میں اپنے قلم کو دباتییہ کھڑکی سے اک ہاتھ باہر نکالےوہ زانو پہ گرتی کتابیں سنبھالےکسی کو وہ ہر بار تیوری سی چڑھتیدکانوں کے تختے ادھورے سے پڑھتیکوئی اک طرف کو سمٹتی ہوئی سیکنارے کو ساڑی کے بٹتی ہوئی سیوہ لاری میں گونجے ہوئے زمزمے سےدبی مسکراہٹ سبک قہقہے سےوہ لہجوں میں چاندی کھنکتی ہوئی سیوہ نظروں سے کلیاں چٹکتی ہوئی سیسروں سے وہ آنچل ڈھلکتے ہوئے سےوہ شانوں سے ساغر چھلکتے ہوئے سےجوانی نگاہوں میں بہکی ہوئی سیمحبت تخیل میں بہکی ہوئی سیوہ آپس کی چھیڑیں وہ جھوٹے فسانےکوئی ان کی باتوں کو کیسے نہ مانےفسانہ بھی ان کا ترانہ بھی ان کاجوانی بھی ان کی زمانہ بھی ان کا
زردار نمازی عید کے دن کپڑوں میں چمکتے جاتے ہیںنادار مسلماں مسجد میں جاتے بھی ہوئی شرماتے ہیں
ہر آن خوشی سے آپس میں سب ہنس ہنس رنگ چھڑکتے ہیںرخسار گلالوں سے گل گوں، کپڑوں سے رنگ ٹپکتے ہیںکچھ راگ اور رنگ جھمکتے ہیں کچھ مے کے جام چھلکتے ہیںکچھ کودے ہیں، کچھ اچھلے ہیں، کچھ ہنستے ہیں، کچھ بکتے ہیں
سوئی سوئی ہوئی آنکھوں میں چھلکتے ہوئے جامکھوئی کھوئی ہوئی نظروں میں محبت کا پیاملب شیریں پہ مری تشنہ لبی کا انعامجانے انعام ملے گا کہ چرانا ہوگا
اور سونے کے چمکتے سکےڈنک اٹھائے ہوئے پھن پھیلائےروح اور دل پہ چلا کرتے ہیںملک اور قوم کو دن رات ڈسا کرتے ہیںروٹیاں چکلوں کی قحبائیں ہیںجن کو سرمایہ کے دلالوں نےنفع خوری کے جھروکوں میں سجا رکھا ہےبالیاں دھان کی گیہوں کے سنہرے خوشےمصر و یونان کے مجبور غلاموں کی طرحاجنبی دیس کے بازاروں میں بک جاتے ہیںاور بد بخت کسانوں کی بلکتی ہوئی روحاپنے افلاس میں منہ ڈھانپ کے سو جاتی ہےہم کہاں جائیں کہیں کس سے کہ نادار ہیں ہمکس کو سمجھائیں غلامی کے گنہ گار ہیں ہمطوق خود ہم نے پہنا رکھا ہے ارمانوں کواپنے سینے میں جکڑ رکھا طوفانوں کواب بھی زندان غلامی سے نکل سکتے ہیںاپنی تقدیر کو ہم آپ بدل سکتے ہیں(3)آج پھر ہوتی ہیں زخموں سے زبانیں پیداتیرہ و تار فضاؤں سے برساتا ہے لہوراہ کی گرد کے نیچے سے ابھرتے ہیں قدمتارے آکاش پہ کمزور حبابوں کی طرحشب کے سیلاب سیاہی میں بہے جاتے ہیںپھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرنسرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں
بہت دیر ہےبس کے آنے میںآؤکہیں پاس کی لان پر بیٹھ جائیںچٹختا ہے میری بھی رگ رگ میں سورجبہت دیر سے تم بھی چپ چپ کھڑی ہونہ میں تم سے واقفنہ تم مجھ سے واقفنئی ساری باتیں نئے سارے قصےچمکتے ہوئے لفظ چمکتے لہجےفقط چند گھڑیاںفقط چند لمحےنہ میں اپنے دکھ درد کی بات چھیڑوںنہ تم اپنے گھر کی کہانی سناؤمیں موسم بنوںتم فضائیں جگاؤ
روش پر سر کو اٹھائے ہر ایک سوچ سے دورمیں اپنی دھن میں مگن تھا ہر تازہ قدممرے افق پہ چمکتے ہوئے ستارے کیہر اک کرن کو مرے پاس لائے جاتا تھامجھے نہ خار کا اندیشہ تھا نہ ٹھوکر کامگر یہ بھول تھی میری وہ خود فراموشی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books