aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhed"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کرپہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم تو اور ہمیں ناشاد نہ کرقسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنکسرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہکبازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدنسلوٹیں ملبوس پر آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہواگرمئ رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوانرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑسرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکسریشمیں بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنکشرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی باتدو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صداکانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعاکاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ٹھہر جائیں ذرا!
وہ اک مضراب ہے اور چھیڑ سکتی ہے رگ جاں کووہ چنگاری ہے لیکن پھونک سکتی ہے گلستاں کووہ بجلی ہے جلا سکتی ہے ساری بزم امکاں کوابھی میرے ہی دل تک ہیں شرر سامانیاں اس کی
آج کی رات ساز درد نہ چھیڑدکھ سے بھرپور دن تمام ہوئےاور کل کی خبر کسے معلومدوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدودہو نہ ہو اب سحر کسے معلومزندگی ہیچ! لیکن آج کی راتایزدیت ہے ممکن آج کی راتآج کی رات ساز درد نہ چھیڑاب نہ دہرا فسانہ ہائے الماپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہوفکر فردا اتار دے دل سےعمر رفتہ پہ اشک بار نہ ہوعہد غم کی حکایتیں مت پوچھہو چکیں سب شکایتیں مت پوچھآج کی رات ساز درد نہ چھیڑ
بے محل چھیڑ پہ جذبات ابل آئے ہوں گےغم پشیمان تبسم میں ڈھل آئے ہوں گےنام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گےسر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہوگا
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنازندگی تلخ سہی زہر سہی سم ہی سہیدرد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہیلیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھظلم کی چھاؤں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑجلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہرہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کے گروہبھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیںتیرہ و تار مکاں مفلس و بیمار مکیںنوع انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضادامن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فسادہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلاب عظیمنت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیملہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماںاور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواںیہ فلک بوس ملیں دل کش و سیمیں بازاریہ غلاظت پہ جھپٹتے ہوئے بھوکے ناداردور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطارسرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گل زاردر و دیوار پہ انوار کا سیلاب رواںجیسے اک شاعر مدہوش کے خوابوں کا جہاںیہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دےکون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دےاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سےبھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نےلگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میںپیا شعور کا جب جام آتشیں میں نےرہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کودکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نےملا مزاج تغیر پسند کچھ ایساکیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نےنکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھیکبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نےکبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچاچھپایا نور ازل زیر آستیں میں نےکبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایاکیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نےکبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوںدیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نےسنایا ہند میں آ کر سرود ربانیپسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نےدیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنیبسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نےبنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالمخلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نےلہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کوجہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نےسمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کیاسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نےڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریںسکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نےکشش کا راز ہویدا کیا زمانے پرلگا کے آئینہ عقل دوربیں میں نےکیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کوبنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نےمگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کیکیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نےہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخرتو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلسپاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہےاور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھیگیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے
ہوا ہر ایک کو چل پھر کے گدگداتی ہےنہیں جو ہنستے انہیں چھیڑ کر ہنساتی ہےحیا گلوں کو تو کلیوں کو شرم آتی ہےبڑھاؤ بڑھ کے چمن کا وقار ہولی میں
گنگنا کے مستی میں ساز لے لیا میں نےچھیڑ ہی دیا آخر نغمۂ و فا میں نےیاس کا دھواں اٹھا ہر نوائے خستہ سےآہ کی صدا نکلی بربط شکستہ سے
اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیراے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیراس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھشہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھفکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہیصبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہیسنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھچشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھمدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیںترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیںوا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباںچھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاںوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سےدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سےمحفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑرنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑتو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صداہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصاعرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھےنیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھےبندۂ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہےقوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہےہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقمشیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جمپاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے توہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبروسونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سےخرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
آج کی شب کوئی افسانۂ دل کش مت چھیڑمیری آنکھوں کو یوں ہی اشک فشاں رہنے دےمیرے سپنے میں دہکنے دے یہی غم کا الاؤمیرے چہرے پہ اداسی کا دھواں رہنے دےکل وہی نغمہ جگا لوں گا لبوں پر اپنےآج کی رات مجھے محو فغاں رہنے دے
تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانا ہرگزداستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبلہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہرگزڈھونڈھتا ہے دل شوریدہ بہانے مطربدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگزصحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گیکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگزلے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاحدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگزچپہ چپہ پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاکدفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگزمٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تواے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگزوہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئےایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانا ہرگزجس کو زخموں سے حوادث کے اچھوتا سمجھیںنظر آتا نہیں اک ایسا گھرانا ہرگزہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگزآخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقیبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگزبخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماںنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگزکبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلیہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگزغالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔاب دکھائے گا نہ شکلوں کو زمانا ہرگزمومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگزداغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگزرات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگزبزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز
ہاں وہ نغمہ چھیڑ جس سے مسکرائے زندگیتو بجائے ساز الفت اور گائے زندگی
سندریا اپنی مٹھی کھول رہا ہےسنکچھ پتے اور پتوں کے ساتھ کچھ ہوا اکھڑ گئی ہےجنگل کے پیڑ ارادےزمین کو بوسہ دے رہے ہیںچاہتے ہیں دریا کو مٹھی کا جال لگائیںآنکھیں منظر تہہ کرتی جا رہی ہیںسمندر مٹی کو چوکور کر نہیں پا رہے سنگلی لے پہ پھنکار رہی ہےاس میں جلے ہوئے کپڑے پھینکزینے گلیوں میں دھنسے جا رہے ہیںجسموں سے آنکھیں باندھ دی گئی ہیںبہتے ستارے تجھے عکس کر رہے ہیںتیرے پاس کوئی چہرہ نہیںبتاجنگل سے لوٹنے والوں کے پاسمیرے لفظ تھے یا مورتکئی جنم بعد بات دہرائی ہےمیری بات میں جال مت لگا میری بات بتابتابوجھل سائے پہ کتنا وزن رکھا گیا تھاسنموت کی چادر تمہاری آنکھیں ناپنا چاہتی ہےکنچے اس چادر کو چھید چھید کر دیں گےچادر میں پہلے ہی سی کر لائی تھیکیا پیمانہ زنگ آلود تھایہ چادر تمہیں مٹی سے دور رکھے گیایسی حد ایسی حد سے میرا وجود انکار کرتا ہےتمہارا وجود تو پرندے رٹ چکےتمہاری زبان کہیں تمہاری محتاج تو نہیں
اک بوسیدہ مسجد میںدیواروں محرابوں پراور کبھی چھت کی جانبمیری آنکھیں گھوم رہی ہیںجانے کس کو ڈھونڈ رہی ہیںمیری آنکھیں رک جاتی ہیںلوہے کے اس خالی ہک پرجو خالی خالی نظروں سےہر اک چہرہ دیکھ رہا ہےاک ایسے انسان کا شایدجو اک پنکھا لے آئے گالائے گا اور دور کرے گامسجد کی بے سامانی کوخالی ہک کی ویرانی پرمیں نے جب اس ہک کو دیکھامیری ننھی پھول سی بیٹیمیری آنکھوں میں دوڑ آئیبھولی ماں نے اس کیاپنی پیاری راج دلاری بیٹی کےدونوں کانوں کواپنے ہاتھوں سے چھید دیا ہےپھولوں جیسے کانوں میں پھرنیم کے تنکے ڈال دیے ہیںامیدوں آسوں کے سہارےدل ہی دل میں سوچ رہی ہےجب ہم کو اللہ ہماراتھوڑا سا بھی پیسہ دے گابیٹی کے کانوں میں اس دنبالیاں ہوں گی بندے ہوں گےمیں نے انتھک محنت کر کےپنکھا ایک خرید لیا ہےمسجد کے اس خالی ہک کومیں نے پنکھا سونپ دیا ہےہک میں پنکھا دیکھ کے مجھ کوہوتا ہے محسوس کہ جیسےمیری بیٹی بالیاں پہنےگھر کی چھت پر گھوم رہی ہے
ذرا آراستہ ہو لوںمرا آئینہ کہتا ہےکسی سب سے بڑے بت ساز کا شہکار ہوں گویامیں شہروں کے تبسم پاش نظاروں کا پالا ہوںمیں پروردہ ہوں باروں قہوہ خانوں کی فضاؤں کامیں جب شہروں کی رنگیں تتلیوں کو چھیڑ لیتا ہوںمیں جب آراستہ خلوت کدوں کی میز پر جا کرشرابوں سے بھی خوش رنگ پھولوں کو اپنا ہی لیتا ہوں
وہ بات بات پر ہنسی وہ چھیڑ پیار پیار میںقرار اک تڑپ میں وہ تڑپ وہ اک قرار میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books