aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chug"
میں ان کے پیروں میںموتیوں والی جھانجھریں ڈالتی ہوںیہ اپنا اپنا دانہ دنکا چگ کرتمہاری اور اڑ جاتے ہیںاور پھر ایک نئی ڈار اترتی ہے
کھیت میں چند مرغیاں ہم سنچگ رہی تھیں خوشی خوشی اک دناور دو مرغے ایسے نظر آئےلڑ رہے تھے جو ایک بھٹے پراتنے میں اک تیسرا مرغاآ کے چپکے سے بھٹا لے بھاگارہ گئے دونوں ہو کے وہ خاموشاور دونوں کو آیا اب یہ ہوشہم نہ لڑتے تو کرتے کیوں نقصانسچ تو یہ ہے کہ ہیں بڑے ناداناب جو پچھتائے فائدہ کیا ہےپھوٹ کا بس یہی نتیجہ ہےاس سے معلوم ہو گیا لڑکودو لڑیں تیسرے کا اچھا ہومل کے رہنے سے کام ہوتا ہےیہی دستور کل جہاں کا ہےاور لڑتے رہے اگر باہمپا نہیں سکتے فائدہ کچھ ہمیاد رکھو یہ بات جوہرؔ کییہ اڑاتا نہیں ہے بے پر کی
آنکھ کھل گئی میریہو گیا میں پھر زندہپیٹ کے اندھیروں سےذہن کے دھندلکوں تکایک سانپ کے جیسارینگتا خیال آیاآج تیسرا دن ہے۔۔۔۔۔۔ آج تیسرا دن ہےاک عجیب خاموشیمنجمد ہے کمرے میںایک فرش اور اک چھتاور چار دیواریںمجھ سے بے تعلق سبسب مرے تماشائیسامنے کی کھڑکی سےتیز دھوپ کی کرنیںآ رہی ہیں بستر پرچبھ رہی ہیں چہرے میںاس قدر نکیلی ہیںجیسے رشتے داروں کےطنز میری غربت پرآنکھ کھل گئی میریآج کھوکھلا ہوں میںصرف خول باقی ہےآج میرے بستر میںلیٹا ہے مرا ڈھانچہاپنی مردہ آنکھوں سےدیکھتا ہے کمرے کوآج تیسرا دن ہےآج تیسرا دن ہے
بدنوں میں کھب رہے ہیں خوبوں کے لال جوڑےجھمکیں دکھا رہے ہیں پریوں کے لال جوڑےلہریں بنا رہے ہیں لڑکوں کے لال جوڑےآنکھوں میں چبھ رہے ہیں پیاروں کے لال جوڑےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دویہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھاہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیںکوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتیانہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجراجسے ساحل نہیں ملتامیں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی مسکراہٹ میں کہیں یہ ہونٹ تم کوجانتا ہوں دل کہے 'کب چاہتا ہوں میں'انہی لہروں پہ بہتا ہوں مجھے ساحل نہیں ملتا
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےسایۂ شام غریباں کی طرحشورش دیدۂ گریاں کی طرحموسم کنج بیاباں کی طرحکتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجومجیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہجیسے لفظوں کو گہن لگ جائےجیسے روٹھے ہوئے رستوں کے مسافر چپ چاپجیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغجیسے سنسان سے مقتل کی صلیبجیسے کجلائی ہوئی شب کا نصیبمیرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےپھر سے زخموں کی قطاریں جاگیںاول شام چراغاں کی طرحہر نئے زخم نے پھر یاد دلایا مجھ کواسی کمرے میں کبھیمحفل احباب کے ساتھگنگناتے ہوئے لمحوں کے شجر پھیلتے تھےرقص کرتے ہوئے جذبوں کے دہکتے لمحےقریۂ جاں میں لہو کی صورتشمع وعدہ کی طرح جلتے تھےسانس لیتی تھی فضا میں خوشبوآنکھ میں گلبن مرجاں کی طرحسانس کے ساتھ گہر ڈھلتے تھےآج کیا کہیے کہ ایسا کیوں ہےشام چپ چاپفضا یخ بستہدل مرا دل کہ سمندر کی طرح زندہ تھاتیرے ہوتے ہوئے تنہا کیوں ہےتو کہ خود چشمۂ آواز بھی ہےمیری محرم مری ہم راز بھی ہےتیرے ہوتے ہوئے ہر سمت اداسی کیسیشام چپ چاپفضا یخ بستہدل کے ہم راہ بدن ٹوٹ رہا ہو جیسےروح سے رشتۂ جاں چھوٹ رہا ہو جیسےاے کہ تو چشمۂ آواز بھی ہےحاصل نغمگیٔ ساز بھی ہےلب کشا ہو کہ سر شام فگاراس سے پہلے کہ شکستہ دل میںبد گمانی کی کوئی تیز کرن چبھ جائےاس سے پہلے کہ چراغ وعدہیک بہ یک بجھ جائےلب کشا ہو کہ فضا میں پھر سےجلتے لفظوں کے دہکتے جگنوتیر جائیں تو سکوت شب عریاں ٹوٹےپھر کوئی بند گریباں ٹوٹےلب کشا ہو کہ مری نس نس میںزہر بھر دے نہ کہیںوقت کی زخم فروشی پھر سےلب کشا ہو کہ مجھے ڈس لے گیخود فراموشی پھر سےمیرے کمرے میں اتر آئیخموشی پھر سے
جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسرجب تک جیو تم علم و دانش سے رہو محروم یاںآئی ہو جیسی بے خبر ویسی ہی جاؤ بے خبردنیا کے دانا اور حکیم اس خوف سے لرزاں تھے سبتم پر مبادا علم کی پڑ جائے پرچھائیں کہیںایسا نہ ہو مرد اور عورت میں رہے باقی نہ فرقتعلیم پا کر آدمی بننا تمہیں زیبا نہیںعلم و ہنر سے رفتہ رفتہ ہو گئیں مایوس تمسمجھا لیا دل کو کہ ہم خود علم کے قابل نہ تھیںآخر تمہاری چپ دلوں میں اہل دل کے چبھ گئیسچ ہے کہ چپ کی داد آخر بے ملے رہتی نہیں
ننھی ہو تم بچی ہو تمسب عقل کی کچی ہو تمآؤ مری باتیں سنوچالیں سنو گھاتیں سنواستاد کی ہر بات کواپنی گرہ میں باندھ لوجب تم جواں ہو جاؤ گیمچھلی کی ماں ہو جاؤ گیپھر یاد آئیں گی تمہیںلہرے دکھائیں گی تمہیںباتیں ہماری مچھلیواے پیاری پیاری مچھلیوروہو کی بیٹی کان دھرسانول کی بچی آ ادھراور ننھی منی تو بھی سناو تھن متھنی تو بھی سنچوڑے دہانے والیواور دم ہلانے والیوتم بھی سنو چمکیلیواے کالی نیلی پیلیوتم کو یہاں پر دیکھ کرندی پہ آ جائے اگرکوئی شکاری مچھلیواے پیاری پیاری مچھلیوجب وہ کنارے بیٹھ کرڈوری کو پھینکے گا ادھرننھے سے کانٹے پر چڑھاہوگا مزے کا کیچوالپکو گی تم سب بے خبراک تر نوالہ جان کرکانٹا مگر چبھ جائے گابس حلق میں کھب جائے گاتڑپو گی اور گھبراؤ گیلیکن سبھی پھنس جاؤ گیتم باری باری مچھلیواے پیاری پیاری مچھلیوجب کیچوا کھا جاؤ تمبس لوٹ کر آ جاؤ تملیکن ذرا سا چھیڑ دوکانٹے کی پتلی ڈور کوسرکنڈا جب کھنچ آئے گادھوکا شکاری کھائے گاسمجھے گا مچھلی پھنس گئیکھینچے گا بنسی ڈور کیپھر شکل اس کی دیکھناہوتی ہے کیسی دیکھناوہ بے قراری مچھلیواے پیاری پیاری مچھلیواب وہ بہت جھلائے گاچیخے گا اور چلائے گاپھر کیچوے پر کیجواکانٹے میں بھرتا جائے گاتم بھی اسی ترکیب سےکھاتی ہی جانا کیچوےآخر شکاری ہار کراٹھے گا دل کو مار کرحیلہ گری رہ جائے گیساری دھری رہ جائے گیتھیلی پٹاری مچھلیواے پیاری پیاری مچھلیو
کبھی اس سبک رو ندی کے کنارے گئے ہی نہیں ہوتمہیں کیا خبر ہےوہاں ان گنت کھردرے پتھروں کوسجل پانیوں نےملائم رسیلے، مدھر گیت گا کرامٹ چکنی گولائیوں کو ادا سونپ دی ہےوہ پتھر نہیں تھاجسے تم نے بے ڈول، ان گھڑ سمجھ کرپرانی چٹانوں سے ٹکرا کے توڑااب اس کے سلگتے تراشےاگر پاؤں میں چبھ گئے ہیں تو کیوں چیختے ہو؟
اس کی ہنسی مجھے چبھ رہی تھیانگلیاں وہ مجھے دکھی رہی تھیمیں دیکھ نہیں سکتی تھیپر ان دیکھی کیسے کرتیمیں نے خواب بنے تھےکچھ لمحہ چنے تھےان کے ساتھ بتانے کوانہیں اپنا بنانے کوکیونکہیہ وہ راج کمار تھاجو مجھے پانے کو بے قرار تھامجھ سے پیار بہت کرتا تھامجھے کھونے سے بھی ڈرتا تھااس لئے تومیری عزت کو تار تار کیامجھے توڑ دیا مجھے مار دیا
اگر وہ موسم مزاج تم کو کہیں ملے تو یہ اس سے کہنا کہ لوٹ آئےاسے پیام بہار دے کر بس اتنا کہنا خزاں کا موسم گزر چکا ہےاسے بتانا وہ بد نصیبی کا ایک کانٹا کبھی جو تلوے میں چبھ گیا تھا نکل چکا ہےکہ وقت کروٹ بدل چکا ہےملول و بوجھل اداس شامیں بھی اب تبسم سے آشنا ہیںوہ مضمحل اور خموش راتیں بھی اب تکلم سے آشنا ہیںاسے بتانا کہ زندگی اک یقین ہے اب گماں نہیں ہےکہ آج شمعوں کی رقص کرتی ہوئی لووں میں سنہرے خوابوں کی روشنی ہے دھواں نہیں ہےکبھی صدائیں بھی بے نوا تھیں اور اب خموشی بھی اک سخن ہےقبا پہ دن کی ہے کوئی دھبہ نہ شب کا دامن ہی پرشکن ہےاسے بتاناکہ زرد موسم گزر گیا ہےمگر اسے تم یہ مت بتانا کہ جس میں ہجرت لکھی تھی اس نےوہ ایک لمحہدل و نظر میں ٹھہر گیا ہے
کہہ نہیں سکتا کہاں سے آئے ہو، تم کون ہوایسا لگتا ہے کہ یہ صورت ہے پہچانی ہوئیخاک میں روندا ہوا چہرہ مگر اک دل کشیآنکھ میں ہلکا تبسم، دل میں کوئی ٹیس سیپاؤں سے لپٹی ہوئی بیتے ہوئے لمحوں کی گردپیرہن کے چاک میں گہرے غموں کی تازگیپرسش غم پر بھی کہہ سکنا نہ اپنے جی کا حالکچھ کہا تو بس یہی کہ تم پہ کچھ بیتی نہیںراہ میں چلتے ہوئے ٹھوکر لگی اور گر پڑےیوں ہی کانٹے چبھ گئے ہیں، پھٹ گئی ہے آستیںیاد آتا ہے کہ تم مجھ سے ملے تھے پہلی باراک کہانی میں نہ جانے کس کی تھی لکھی ہوئیاور میں نے اس طرح کے آدمی کو دیکھ کردل میں سوچا تھا کہ اس سے آج کر لوں دوستی!
ببول کا پیڑ چھایا نہیں دیتااس کے کانٹے چبھ جائے تو درد ہوتا ہےاور خون نکلتا ہےلیکن بڑا مضبوط ہوتا ہےببول شاید ٹھاکر ہوگا
وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دوہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دومیں ان سے کہہ دوںکہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہےوہ رنج ہستی کہ زہر بن کرمرے لہو میں سما چکا ہےمرے تصور میں بس چکا ہےوہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دوہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دومیں رات دن کی ادھڑپن میںوہ کرچیاں بھی سمیٹ لوں گیجو میری آنکھوں میں چبھ رہی ہیںجو میری سانسوں کو ڈس رہی ہیںمجھے یقیں ہے کہ کانچ کا یہ حسین دھوکافریب کا بے کراں سراپاذرا سی آہٹ سے گر پڑے گاوہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دوہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دوسنویہ ممکن نہیں ربا ابکہ میرا دل میرا خوش نظر دلکوئی تسلی نہیں سنے گاکوئی حوالہ نہیں سنے گامیں جانتی ہوںیہ میرا وحشی اداس دل ہےجو تجھ سے مجھ سے الگ تھلگ ہے
آپ کا ارشاد سر آنکھوں پہ لیکن ڈر یہ ہےچبھ نہ جائے پھانس بن کر دل میں یہ نازک سی شے
مجھے یقیں ہےکبھی تو اترے گا آسماں سے کوئی فرشتہپڑھے گا چہرے پہ جو لکھا ہےسنے گا وہ بھی جو ہم نے اب تک نہیں کہا ہےسیاہ راتوں کی تیرگی کاطویل بے کیف زندگی کاکوئی تو آ کر حساب دے گاہماری آنکھوں میں خار بن کرجو چبھ رہے ہیں سوال ان کاجواب دے گا
ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرحبے کار بے مقصدزندگی کے طاق میںرکھا ہوا ہوں میںوہ کون تھا جو چھوڑ گیامیرے وجود کے شیشے پراپنی لہو رنگ یادوں کےنشاںاس سے پہلے کہ بارشان نشانات کو دھو ڈالےمیں ریزہ ریزہ ہو جاؤںفرش پر بکھر جاؤںوقت کے پیروں میں چبھ جاؤںفرش زمیں کو رنگیں کر دوںاور خود بھی رنگیں ہو جاؤں
رات عجب پچھتاوا ہےاپنے دوسرے کی پہچان کادن کو گھر آنےاک نسل کا قرض اتارنےکانٹے چبھ کر مر جانے کا پچھتاوایہ رات یہ دن کیا تابڑ توڑ گزرتے ہیںجب اوپر پانی چلتا ہےاور نیچے مٹی سوتی ہےاور کوئی من میں پکارتا ہےمولا مجھ کو بادل کر دےاور اک پچھلی رات اچانک چیخ کسی کو آ لیتی ہےاور گھر کا گھر اٹھ جاتا ہےاور دن کے بہلاوے میں رات بتائی جاتی ہے
کوئی تو ہو اس جہاں میں ایساکہ جس کے بس میں ہو ساری دنیاکی سرحدوں کی سبھی لکیریںجہاں کے نقشے سے ایک پل میںکسی جتن سے مٹا کے رکھ دےیہ آہنی خار دار تاریںزمین کے ساتھ دل کے رشتے بھی بانٹتی ہیںکئی دلوں میں طویل عرصے سے چبھ رہی ہیںکوئی تو ان کو اکھاڑ پھینکےکوئی تو ہو جو تمام دنیاکو ایک خطے کی شکل دے دےاگر کوئی معجزہ دکھا دےتو سارے انسان جب بھی چاہیںپھر اپنے پیاروں سے مل سکیں گےبغیر ویزا کی بندشوں کےسہولتوں سے مسرتوں سےپھر اس کے بدلے اگر وہ مجھ سےمری متاع حیات مانگےتو ایک پل کو بھی میں نہ سوچوںخوشی خوشی اس کو دان کر دوں
نسیم خلد بولی مرے تار نفس میں یوںنہاں سفاک لالی ہے لہو جیسے رگ نازک میں پوشیدہ مجھےآغوش میں لے کر نچوڑو تم تو انگارے ٹپکتے دیکھ پاؤ گے مجھےمٹھی میں بھر کر منہ میں رکھ لو پی کے دیکھو وہ سنہراتیر ہوں میں جو گلے میں چبھ کے بن جاتا ہےانگارا تمہیں جلنا نہیں آتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books