aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daavar"
تمہاری ارجمند امی کو میں بھولا بہت دن میںمیں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میںوہی تو ہیں جنہوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایاوہ کس رگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکالہو اور تھوکنا اس کا ہے کاروبار بھی میرایہی ہے ساکھ بھی میری یہی معیار بھی میرامیں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیںنجانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیںمیں اک تاریخ ہوں اور میری جانے کتنی فصلیں ہیںمری کتنی ہی فرعیں ہیں مری کتنی ہی اصلیں ہیںحوادث ماجرا ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےشداید سانحہ ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےہمیشہ سے بپا اک جنگ ہے ہم اس میں قائم ہیںہماری جنگ خیر و شر کے بستر کی ہے زائیدہیہ چرخ جبر کے دوار ممکن کی ہے گرویدہلڑائی کے لیے میدان اور لشکر نہیں لازمسنان و گرز و شمشیر و تبر خنجر نہیں لازمبس اک احساس لازم ہے کہ ہم بعدین ہیں دنوںکہ نفی عین عین و سر بہ سر ضدین ہیں دونوںLuis Urbina نے میری عجب کچھ غم گساری کیبصد دل دانشی گزران اپنی مجھ پہ طاری کیبہت اس نے پلائی اور پینے ہی نہ دی مجھ کوپلک تک اس نے مرنے کے لیے جینے نہ دی مجھ کو''میں تیرے عشق میں رنجیدہ ہوں ہاں اب بھی کچھ کچھ ہوںمجھے تیری خیانت نے غضب مجروح کر ڈالامگر طیش شدیدانہ کے بعد آخر زمانے میںرضا کی جاودانہ جبر کی نوبت بھی آ پہنچی''
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںکہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگوہ سرفراز ٹھہریںنیابت امتیاز ٹھہریںوہ داور اہل ساز ٹھہریں
اے ابن آدم داورخیال بنت حوا کر
اف لرزتی خوفناک آواز چوکیدار کینبض چھوٹی جا رہی ہے گنبد دوار کی
تیرے غمزے زندگانی بھر نہ بھولیں گے مجھےپھول سی کلغی ملائم پر نہ بھولیں گے مجھےتیرے انداز حسیں یکسر نہ بھولیں گے مجھےچھوڑ کر مجھ کو تو دست داور محشر میں ہےتیرا ڈربہ تجھ سے بہتر ہے کہ میرے گھر میں ہے
تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیںپس سر بسر اذیت و آزار ہی رہوبیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تمجب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہوتم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرضتم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سےمیں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سےکیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سےظلم کی بات کو جہل کی رات کومیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ سمجھا ہےکہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگیچمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہےکہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگیغرض تصور شام و سحر میں جیتے ہیںگرفت سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںیہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کرچلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیںفلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحلکہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دلجواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سےچلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سےپکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہےبہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگنبہت قریں تھا حسینان نور کا دامنسبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محلیہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگاغیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگاایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگابات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگایہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیںاس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگاجان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیرہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگاکبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسےاس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کردوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگایاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگااور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگاجب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبراس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگاسوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دلیوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہمدار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئےتیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہمنیم تاریک راہوں میں مارے گئے
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپشوجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھیبچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میںوہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھیسبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئےسپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرخدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کراٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساںسفال ہند سے مینا و جام پیدا کرمیں شاخ تاک ہوں میری غزل ہے میرا ثمرمرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کرمرا طریق امیری نہیں فقیری ہےخودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھیاپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھناپتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنااک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میںاک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میںاے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
اک روز مگر برکھا رت میں وہ بھادوں تھی یا ساون تھادیوار پہ بیچ سمندر کے یہ دیکھنے والوں نے دیکھامستانہ ہاتھ میں ہاتھ دیئے یہ ایک کگر پر بیٹھے تھےیوں شام ہوئی پھر رات ہوئی جب سیلانی گھر لوٹ گئےکیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے اس رات پہ لکھیں افسانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
چراغ جن سے محبت کی روشنی پھیلےچراغ جن سے دلوں کے دیار روشن ہوںچراغ جن سے ضیا امن و آشتی کی ملےچراغ جن سے دیئے بے شمار روشن ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books