aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daddy"
ہم نے بکری کے بچوں کو کمروں میں نچانا چھوڑ دیاناراض نہ ہو امی ہم نے ہر شوق پرانا چھوڑ دیاڈیڈی کے سوٹ پہن کر ہم صوفوں پر ڈانس نہیں کرتےسارے گھر کی بنیادوں کو اب ہم نے ہلانا چھوڑ دیادادا ابا کا اب چشمہ بکرے کو نہیں پہناتے ہمنانا ابا کی لٹھیا اب ہم نے چھپانا چھوڑ دیابندر کو سہرا باندھ کے ہم دولہا نہ بنائیں گے امیاب گھونگھٹ کاڑھ بندریا کو ڈولی میں بٹھانا چھوڑ دیاندیا کے گہرے پانی میں کھائے نہ کئی دن سے غوطےگھر ہی میں پڑے اب سڑتے ہیں ندیا پہ نہانا چھوڑ دیااب صبر کے میٹھے پھل آہیں بھر بھر کر کھاتے ہیںمالن کو بنا بیٹھے خالہ مالی کو رلانا چھوڑ دیاگھر میں بیٹھے سادھو بن کر اب علم کی مالا جپتے ہیںخرگوشوں کے پیچھے جنگل میں کتوں کو بھگانا چھوڑ دیاپنجروں میں بند جو رہتی تھیں وہ پھر سے اڑا دیں سب چڑیاںمرغوں میں صلح کراتے ہیں مرغوں کو لڑانا چھوڑ دیااب ہم نے کبھی کھانا کھا کر کپڑوں سے ہاتھ نہیں پونچھےدیکھو کئی دن سے دھوبی نے رونا چلانا چھوڑ دیاہر ایک بغاوت چھوڑی ہے ہر ایک شرارت رخصت ہےاب گھر میں فرشتے آتے ہیں شیطان نے آنا چھوڑ دیاہم سے پھر بھی ناراض ہو کیوں کیا تم سوتیلی امی ہواپنے ان پیارے بچوں کو اب منہ بھی لگانا چھوڑ دیاجن آنکھوں میں روز شرارت تھی ان آنکھوں میں آنسو اب دیکھوان آپ کی پیاری آنکھوں کو اب ہم نے رلانا چھوڑ دیاہے گھر کی فضا سہمی سہمی غمگین ہیں بچوں کے چہرےکب ہنس کے کہوں گی اے بچو کیوں ہم کو ستانا چھوڑ دیا
مارو نہ ہمیں ڈیڈی بچپن کا زمانہ ہےموسم ہے یہ ہنسنے کا ہنس ہنس کے بتانا ہےچھوٹے سے یہ بچے ہیں اور اتنی بڑی لکڑیشیطان کی یہ خالہ ہاتھوں میں ہے کیوں پکڑیاک دن اسی لکڑی کو چولھے میں جلانا ہےمارو نہ ہمیں ڈیڈی بچپن کا زمانہ ہےصوفوں پہ اگر ناچیں ڈیڈی ہمیں مت روکوکچھ اپنی بھی عزت ہے ہر بات پہ مت ٹوکووہ آپ کی کرسی ہے یہ اپنا ٹھکانا ہےمارو نہ ہمیں ڈیڈی بچپن کا زمانہ ہےبرسات میں ندیا کی سیریں ہمیں کرنے دوگر ڈوب کے مرتے ہیں ڈیڈی ہمیں مرنے دواس دنیا سے تن آئے اس دنیا کو جانا ہےمارو نہ ہمیں ڈیڈی بچپن کا زمانہ ہےتم بھی کبھی بچے تھے اسکول سے بھاگے تھےکہتے ہیں شرارت میں شیطاں سے بھی آگے تھےہم آپ کے بچے ہیں اور آپ پہ جانا ہےمارو نہ ہمیں ڈیڈی بچپن کا زمانہ ہے
ممی ڈیڈی سے جدا ماموں ممانی کے بغیراس کے نانا بھی گزر کرتے تھے نانی کے بغیر
اب ممی ڈیڈی کہتے ہیں کلچرڈ ہماری بیٹی ہےپہلی بھی کلب میں جاتی تھی یہ تھرڈ ہماری بیٹی ہےسڑکوں پہ یہ اڑتی پھرتی ہے اک برڈ ہماری بیٹی ہےمذہب کی پرانی رسموں سے انجرڈ ہماری بیٹی ہے
بولی کہ مجھے لوگ پکارا کئے میریڈیڈی نے مرا نام تو رکھا تھا مرینہ
میں نے چھوڑا جو پٹاخہ تو برا مان گئےخواب غفلت سے جگایا تو برا مان گئےہم کو بھی دادی کی اس چیز پہ حق حاصل تھاکھا لیا تھوڑا سا حلوہ تو برا مان گئےمیری توہین تھی کھٹمل سے مکوڑے سے شکستنوچنا جو پڑا تکیہ تو برا مان گئےاب بھی باقی ہیں وہی ظلم و ستم ٹیچر کےجو کہا لفظ اہنسا تو برا مان گئےفیل کرتا ہی تو آیا ہوں سبھی سال مگراب کی ڈیڈی کو سنایا تو برا مان گئےمیں بھی سینے میں تو آخر وہی دل رکھتا ہوںرات پکچر سے جو آیا تو برا مان گئےجی میں آیا تھا کہ کچھ چھپ کے کما لوں شہرتایک ہی شعر چرایا تو برا مان گئےکوئی مجھ سا نہ ہو محروم جہاں میں عادلؔحال دل جب بھی سنایا تو برا مان گئےہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیںکیا ہوا میں بھی جو اچھا تو برا مان گئے
ڈیڈی لگیں گے ریل کا انجن ہمیں نیازؔسلگے گا جب سگار لگائیں گے قہقہے
ہنستے بچے گاتے بچےجیون جوت جگاتے بچےلاکھوں سوانگ رچاتے بچےگھر بھر کو بہلاتے بچےامی کو سمجھاتے بچےڈیڈی سے اتراتے بچےاپنے بھولے پن سے سب کیبگڑی بات بناتے بچےگھر سے پڑھنے پڑھ کے گھر کوآتے بچے جاتے بچےجیون کی سنسان ڈگر پرلاکھوں پھول لٹاتے بچےایک خوشی کی چنگاری سےپل پل دیپ جلاتے بچےپیار کی اس پیاسی دھرتی پرامرت رس برساتے بچےرات ہوئی تو بھول کے سب کچھسو گئے نیند کے ماتے بچےسن کے کہانی دادی ماں سےخوابوں میں اٹھلاتے بچےسپنوں کی دیوی کے مہماںدن بھر شور مچاتے بچےصبح ہوئی تو پھر جاگ اٹھےلہراتے اتراتے بچےننھے منے پیارے پیارےمیٹھے بول سناتے بچےدیش کی شوبھا گھر کی زینتدل میں راہ بناتے بچےکل کی اک دولت ہیں شاکرؔآج کے ہنستے گاتے بچے
بڑی جان کھاتے ہیں یہ ممی ڈیڈینہ آنگن ہمارا نہ کمرے کے کونے
وہ دیکھو وہ نکلا چاندعید کا پیارا پیارا چاندوہ دیکھو اس پیڑ کے اوپرٹوٹی ہوئی چوڑی کے برابرٹیپو آؤ گڈو آؤشاہی کو بھی ساتھ میں لاؤدادی ماں نے سب کو جگایااچھی طرح سب کو نہلایاچم چم کرتے جوتے پہنےپاجامہ اور کرتے پہنےممی نے پھر عطر لگایاسب کے کپڑوں کو مہکایاآگے آگے ہو گئے ڈیڈیپیچھے پیچھے ننھے نمازیعید گاہ میں پڑھی نمازساتھ میں تھے انور اعجازواپس آئے پڑھ کے نمازاٹھلاتے دکھلاتے نازسب نے مل کر کھائیں سوئیاںسب کے من کو بھائیں سوئیاںڈیڈی نے دی سب کو عیدیخوش ہوئے ٹیپو گڈو شاہیعید خوشی کے پھول کھلاتیآئی اندھیرے دور بھگاتی
آپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھےمیں نگوڑی تو یہ سمجھی مل گئی منزل مجھےمجھ کو نامنظور ہے آپ کا یہ فیصلہتوڑ دی میری کمر اے بندہ پرور آپ نےاپنی بھیڑوں بکریوں میں کر لیا شامل مجھےآپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھےسامنے سارے جہاں کے کر دیا گھائل مجھےآپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھےپڑ گئیں منہ پر مرے ہاتھ کی پرچھائیاںکان میں بجنے لگیں سیکڑوں شہنائیاںدو جہاں کی آج چوٹیں ہو گئیں حاصل مجھےآپ کے ہاتھوں نے سمجھا مار کے قابل مجھے
اب ڈیڈی بھی اور امی بھی پڑھتے ہیں مزے لے کرمرغوب ہے دونوں کو ٹافی بھی مٹھائی بھی
شرارت کی میاں پپو نے ایسیکہ ڈیڈی نے پٹائی ان کی کر دیوہ ماں کے پاس پہونچے منہ بسورےکہا ان سے بڑی سنجیدگی سےہمیں ڈیڈی نے کیوں مارا بتائیںضروری ہے کہ بچے مار کھائیںکہا ممی نے سن کر بات ان کیشرارت کی سزا ہے سب کو ملتییہ ممی آپ نے اچھی سنائیشرارت کی سزا ہے بس پٹائیتو ممی کیا ہمارے دادا اباجب آتا تھا یوں ہی ان کو بھی غصہکیا کرتے تھے ڈیڈی کی پٹائیجو لڑتے کھیل میں تھے بھائی بھائیکہا پپو نے کچھ ایسی ادا سےکہ پیٹوں میں پڑے بل ہنستے ہنستےکہا ممی نے یہ پپو میاں سےیہ پوچھو جا کے تم ابو میاں سےمگر اک بات میں تم کو جتاؤںحقیقت کیا ہے یہ تم کو بتاؤںشرارت میں جو ہوتی ہے حرارتاتر جاتی ہے ہوتے ہی مرمت
دہقاں خوش ہیں ہریالی پراپنی فصل کی خوشحالی پراچھی بات بھلی لگتی ہےغصہ آتا ہے گالی پرگل کی نگرانی کرنے کیذمہ داری ہے مالی پرٹوٹ پڑے ہیں بھوکے بچےبریانی والی تھالی پرجھومتے ہیں مستی میں بچےقوالوں کی قوالی پرچھت پر ہے کوؤں کی ٹولیبندر کی ٹولی ڈالی پرمچھر جاگیں راتوں میں بھیدن میں ہیں سوتے نالی پرپیسے والے کیوں ہنستے ہیںہم مفلس کی کنگالی پرہولی میں ہم گائیں پھگوادیپ جلائیں دیوالی پرصوفی کی نظریں ٹھہری ہیںولیوں کے در کی جالی پرجب چوری گھر میں ہوتی ہےآنچ آتی ہے رکھوالی پرجھوم رہے ہیں ڈیڈی ممیبچوں کی خوش اقبالی پرناچ رہا ہے بھالو دیکھوچھوٹے بچوں کی تالی پرامجدیؔ کی آنکھیں نم ہیںاردو تیری بدحالی پر
کس نے گرا کر میز سے توڑا شیشے کا گلدانکس نے پیکوں سے دیواریں رنگ دیں کھا کر پانکس نے سارے گھر میں پھیلا رکھے ہیں یہ دھانکس نے توڑ کے پھینکے میرے سارے تیر کمانمسٹر کوئی نہیں یہ بولے ہم کو کیا معلومکس نے چرائے میٹھے میٹھے ابا جی کے آمکس نے اڑایا چپکے چپکے اماں بی کا جامکس نے کھائے اس ڈبے کے پتے اور بادامکس نے مٹایا کاپی کے اس ورق سے میرا ناممسٹر کوئی نہیں یہ بولے ہم کو کیا معلومکس نے منی کو رلوایا کھینچ کے اس کے بالمار کے تھپڑ بے چاری کو کس نے سجائے گالکس نے اس گھروے کا میرے حال کیا بے حالتوڑ کے میری گڑیا کو یہ کس نے کیا پامالمسٹر کوئی نہیں یہ بولے ہم کو کیا معلومہائے ہائے کس نے مچایا گھر میں یہ اندھیرمیرے کھلونے سارے توڑے گھوڑا مرغا شیرکس نے لگایا پھاڑ کے اتنے کپڑوں کا یہ ڈھیرکھائے آخر کس نے میرے سیب انار اور بیرمسٹر کوئی نہیں یہ بولے ہم کو کیا معلومکس نے چھوئے ہیں بے پوچھے یہ نانا کے ہتھیارکس نے نکالی الماری سے ان کی نئی تلوارکس نے توڑے اس کمرے کی بجلی کے سب تارلے کر چلتا کون بنا ڈیڈی کی بے بی کارمسٹر کوئی نہیں یہ بولے ہم کو کیا معلوم
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
یوں ظلم نہ کر بیداد نہ کراے عشق ہمیں برباد نہ کر
نانی کے میاں تو نانا ہیںدادی کے میاں بھی دادا ہیںجب آپا سے میں نے یہ پوچھاباجی کے میاں کیا باجا ہیںوہ ہنس ہنس کر یہ کہنے لگیںاے بھائی نہیں اے بھائی نہیں
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمےفرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمےتیغ بیداد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمےخون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاںسامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدےگڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد وہ واہ واچند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردےایک بکری کے ممیانے کی آوازاور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے سائےایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاںچوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسےاپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books