aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dandaan"
ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئیمیں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئیآنکھ اٹھائی تو یہ دیکھا کہ زمیں ہلتی ہےجس جگہ شے کوئی رکھی ہے وہیں ہلتی ہےصحن و دیوار کی جنبش ہے تو در ہلتے ہیںباہر آیا تو یہ دیکھا کہ شجر ہلتے ہیںکوئی شے جنبش پیہم سے نہیں ہے محرومایک طاقت ہے پس پردہ مگر نامعلومچند لمحے بھی یہ نیرنگی عالم نہ رہیزلزلہ ختم ہوا جنبش پیہم نہ رہیحیرت دید سے انگشت بدنداں تھا میںشاہد جلوۂ قہاری یزداں تھا میںدفعتاً ایک صدا آہ و فغاں کی آئیمیرے اللہ یہ گھڑی کس پہ مصیبت لائیگل کیا زلزلۂ قہر نے کس گھر کا چراغکس پہ ڈھایا یہ ستم کس کو دیا ہجر کا داغجا کے نزدیک یہ نظارۂ حرماں دیکھاایک حسینہ کو بصد حال پریشاں دیکھابیضوی شکل میں تھے حسن کے جلوے پنہاںآنکھ میں سحر بھرا تھا مگر آنسو تھے رواںمیں نے گھبرا کے یہ پوچھا کہ یہ حالت کیوں ہےتیری ہستی ہدف رنج و مصیبت کیوں ہےبولی اے شاعر رنگین طبیعت مت پوچھروز و شب دل پہ گزرتی ہے قیامت مت پوچھلوگ دنیا کو تری مجھ کو زمیں کہتے ہیںاہل زر مجھ کو محبت میں حسیں کہتے ہیںمیں انہیں حسن پرستوں کی ہوں تڑپائی ہوئیتجھ سے کہنے کو یہ راز آئی ہوں گھبرائی ہوئیزرپرستوں سے ہیں بد دل مری دنیا کے غریبہیں گرفتار سلاسل مری دنیا کے غریبمجھ سے یہ تازہ بلائیں نہیں دیکھی جاتیظالموں کی یہ جفائیں نہیں دیکھی جاتیںچاہتی ہوں مرے عشاق میں کچھ فرق نہ ہومفت میں کشتیٔ احساس وفا غرق نہ ہوایک وہ جس کو میسر ہوں عمارات و نقیبایک وہ جس کو نہ ہو پھونس کا چھپر بھی نصیبصاحب دولت و ذی رتبہ و زردار ہو ایکبے نوا غمزدہ و بیکس و لاچار ہو ایکایک مختار ہو، اورنگ جہاں بانی کااک مرقع ہو غم و رنج و پریشانی کاسخت نفرت ہے مجھے اپنے پرستاروں سےچھین لیتے ہیں مجھے میرے طلب گاروں سےچیرہ دستی کا مٹا دیتی ہیں سب جاہ و جلالحیف صد حیف کہ حائل ہے غریبوں کا خیالیہ نہ ہوتے تو دکھاتی میں قیامت کا سماںیہ نہ ہوتے تو مٹاتی میں غرور انساںایک کروٹ میں بدل دیتی نظام عالماک اشارے ہی میں ہو جاتی ہے یہ محفل برہماک تبسم سے جہاں برق بہ داماں ہوتانہ یہ آرائشیں ہوتیں نہ یہ ساماں ہوتاہر ادا پوچھتی سرمایہ پرستوں کے مزاجکچھ تو فرمائیے حضرت کہ ہیں کس حال میں آجلکھ پتی سنکھ پتی بے سر و ساماں ہوتےجان بچ جائے بس اس بات کے خواہاں ہوتےبرسر خاک نظر آتے ہیں قصر و ایواںاشک خونیں سے مرے اور بھی اٹھتے طوفاںمیری آغوش میں سب اہل ستم آ جاتےمیرے برتاؤ سے بس ناک میں دم آ جاتےبعض کے منہ غم آلام سے کالے کرتیبعض کو موت کی دیوی کے حوالے کرتیخون زردار ہی مزدور کی مزدوری ہےمیں جو خاموش ہوں یہ باعث مجبوری ہےمیری آغوش میں جابر بھی ہیں مجبور بھی ہیںمیرے دامن ہی سے وابستہ یہ مزدور بھی ہیںضبط کرتی ہوں جو غم آتا ہے سہ جاتی ہوںجوش آتا ہے مگر کانپ کے رہ جاتی ہوں
میں نے کیا سوچ کے صحرا میں دکاں کھولی ہےلب لعلیں کے تصور میں منگائے یاقوتنجم لایا ہوں کہ ترتیب ہو سلک دنداںمہ یک رو بھی تو درکار ہے ابرو کے لئےدور افق پار سے تھوڑی سی شفق لایا ہوںخون میں گوندھ کے بھٹی میں تپاؤں گا اسےتب کہیں سرخیٔ رخسار ہویدا ہوگیمیں نے تیار کیا خاک کواکب سے خمیر
سگریٹ نے یہ اک پان کے بیڑے سے کہاتو ہمیشہ سے پری رویوں کے جھرمٹ میں رہاکون سی ایسی ہیں خدمات تری بیش بہاخوں بہا کیوں لب و دندان حسیناں سے لیاتجھ میں کیا لعل لگے ہیں کہ تو اتراتا ہےبے حجابانہ ہر اک بزم میں آ جاتا ہے
مسلم سے تنفر اور کفار سے یارانہآخر یہ قلا بازی کیوں کھا گئے مولانالکشمی کی محبت نے دل موہ لیا اتنامنہ موڑ کے کعبے سے پہنچے سوئے بت خانہاسلام تعجب سے انگشت بدنداں ہےمرگھٹ میں جلے شمع توحید کا پروانہتھالی میں سیاست کی بینگن کی طرح لنڈھکےاور اس کو سمجھتے ہیں اک چال حریفانہپبلک کے پھنسانے کو سب جال کے پھندے تھےیہ دیش یہ عمامہ اور سبحۂ صد دانہ
کبھی یہ بھی خواہش پریشان کرتی ہے مجھ کوکہ میں اپنے بھیتر کے میں کو نکالوںمگر میرے میں کی تو صورت بہت ہی بری ہےخباثت کا انبار جس میں نہاں ہےصرافہ سے جس کی کراہت عیاں ہےجبیں پر خطرناک سوچوں کے جنگل اگے ہیںبھیانک ارادوں کے وحشی چھپے ہیںنگاہوں میں جس کی ہوسناکیوں کے مناظر بھرے ہیںمناظر بھی ایسے کہ جن میںزنا ایسے لوگوں کے ہم راہ کرنے کو سوچا گیا ہےبدن جن کے جنسی بلوغت کو پہنچے نہیں ہیںیا وہ جو بلوغت کی ساری کشش کھو چکے ہیںیا وہ جن سے کوئی مقدس سا رشتہ جڑا ہےمرے میں کی صورت بری ہےکہ دنداں درندوں کی صورتکسی سہمے سمٹے کنوارے بدن میں گڑے ہیںکہ ماتم کدے میں بھی آنکھیں کسی جسم کی برجیوں پر ٹکی ہیںکہ بیوی بغل میں مگر ذہن میں اور ہی کوئی تن من کھلا ہےکہ پگلی بھکارن کے تن اور اندھے بھکاری کے کشکول پر بھی نظر ہےبری ہے بہت ہی بری ہےکہ دل میں اعزا کی اموات کی خواہشیں بھی دبی ہیںکئی بے گنہ گردنیں انگلیوں میں پھنسی ہیںکہ لفظ عیادت میں بیمار کی موت کی بھی دعا ہےبری ہے بری ہےکہ احباب کی جیت پر دل دکھی ہےکہ اولاد کی برتری سے چبھن ہےکہ بھائی کے روشن جہاں سے جبیں پر شکن ہےبری ہے بری ہےکہ جو پالتا ہے اسی کی نفی ہےکہ جو پوجتا ہے اسی سے دغا ہےعجب اوبڑ کھابڑ سی میں کی زمیں ہےکہ اس میں کہیں بھی توازن نہیں ہےکسی بھی طرح کا تناسب نہیں ہےجہاں چاہیے حوصلہ بزدلی ہےجہاں راستی کی ضرورت کجی ہےجہاں چاہیے امن غارت گری ہےجہاں چاہیے قرب واں فاصلہ ہےجہاں صلح کل چاہیے گرمیاں سردیاں ہیںاگر میرے میں کی یہ صورت مرے خول کی باہر سطح پر آ گئیتو زمانہ مجھے کیا کہے گایہی سوچ کر اپنی اس آرزو کے بدن میںتبر بھونک دیتا ہوں اکثرمگر یہ تمناکہ میں اپنے بھیتر کے میں کو نکالوںمرے دل میں رہ رہ کے کیوں جاگتی ہےسبب اس کا یہ تو نہیں ہےکہ میں اپنے اندر کی شفاف مکروہ صورت دکھا کرزمانے کی آنکھوں میں خود کو بڑا دیکھنا چاہتا ہوںیا یہ کہ مسلسل شرافت کے ناٹک سے تنگ آ چکا ہوںیا پھر یہ کہ ابباہری شکل و صورت میں میریکشش کوئیباقینہیں ہے
آہ اے شبنم کے قطرے تیری حالت دیکھ کرپانی ہو ہو کر بہے جاتے ہیں میرے دل جگرعمر کم کو ساتھ اے نادان کیوں لایا ہے توایک شب کے واسطے دنیا میں کیا آیا ہے توہائے مل جائیں گے سب ارمان تیرے خاک میںصبح اب نزدیک ہے سورج ہے تیری تاک میںبے ثباتی اور پھر ایسی ہزار افسوس ہےزندگیٔ مختصر پر لاکھ بار افسوس ہےدیکھ کر تجھ کو نکل آئے یہ آنسو کس لیےچل گیا دل پر ہمارے تیرا جادو کس لیےآب داری میں ہے بڑھ چڑھ کر در غلطاں سے توکیا مشابہ ہے کسی کے گوہر دنداں سے تویا پسینہ ہے کسی معشوق کے رخسار کایا کوئی قطرہ ہے دود آہ آتش بار کاتجھ میں یہ دل بستگی آئی کہاں سے کیا ہے توباغ میں جا کر جو دیکھو حسن کا دریا ہے توگود میں لیتے ہیں تجھ کو جان تو پھولوں کی ہےتیرے دم سے تیرے باعث آبرو پھولوں کی ہےزرد پتا ہو گیا تھا روئے پر انوار گلشرم رکھ لی تو نے بن کر غازۂ رخسار گللیلئ شب باغ میں آتی ہے دن کو ٹال کرموتیوں کا تیرے ہار اپنے گلے میں ڈال کرپھول پتے سبزۂ خوابیدہ کی تو جان ہےآب داری تجھ پہ صدقے تازگی قربان ہےپلتی ہے ہر اک کلی تیری بغل میں رات بھررہتی بستی ہے ترے موتی محل میں رات بھرالغرض بالیدگی پودوں کی تیرا کام ہےچشمۂ آب خضر تیری تری کا نام ہےساری رونق گلشن عالم کی تیرے دم سے ہےتازگئ سبزہ و گل قطرۂ شبنم سے ہے
زندگی پھر بھی پریشاں سی نظر آتی ہےعظمت حسن پشیماں سی نظر آتی ہےدیکھ کر خلوت ہستی کی خموشی یاروموت انگشت بدنداں سی نظر آتی ہےشدت درد کا احساس سوا ہے اب بھیشمع غم اور فروزاں سی نظر آتی ہےغازۂ گل لئے رخسار خزاں آج بھی ہےعندلیبوں کا وہی طرز فغاں آج بھی ہےشمع بے نور یقیں تا بہ سحر جلتی ہےزیست شرمندہ صاحب نظراں آج بھی ہےذہن مشرق پہ وہی خواب گراں آج بھی ہےچشم مغرب بہ حقارت نگراں آج بھی ہے
فکر کی دوڑ میںتم دور نکل آئے ہواپنی منزل کو بہت پیچھے ہی چھوڑ آئے ہوکہیں ایسا نہ ہوکل تم کوپلٹنا پڑے منزل کی طرفاور پھرتاب و تواں ساتھ نہ دےحسن بیاں ساتھ نہ دےخامہ انگشت بدنداں رہ جائےانگلیاں ساکت و جامد ہو جائیںپاؤں تھرانے لگیںاور منزل تو کجانقش کف پا نہ ملے
اے زمیںنازنیں ماہ جبیںاے مری گلفام پریتیرا حسن و شباب کیا کہناجسم تیرا ہے جیسے تاج محلتیرا چہرا شفق کی لالی ہےتیری آنکھیں ہیں چاند اور سورجتیرے ابرو ہیں مثل قوس و قزحشاخ صندل ہیں مرمریں باہیںتیرے دنداں دمکتے موتی ہیںتیری پیشانی پہ دمکتا ہواکاہکشاں کا جھومرلب ہیں تیرے گلاب کی پتینغمۂ آبشار تیری صداتیرا لہراتا ہوا آنچل ہیںآسماں پر یہ تیرے بادلاور تیری چالجیسے لہرائے ندی بل کھائےاے زمیںجب تلک نہ موت آئےکیوں نہ میں ٹوٹ کر تجھے چاہوں
ایک عرصہ ہواتاریکئ شب مجھ پہ ہوئی اتنی محیطپرتو مہر بھی سایہ سا نظر آتا ہےاور تنہائی کی کالی ناگنڈستی ہے اس طرح ہر آنکہ گویا میں ہوںآپ خود اپنا رقیباور احساس ہے انگشت بدنداں یعنیہمہ تن ایک سوال
قعر دریا کو جو چاہوں تو کنارہ کر دوںغیظ میں آؤں تو پانی کو شرارہ کر دوںمثل سیماب سمندر کو دو پارہ کر دوںچاند ٹکڑے ہو جو انگلی سے اشارہ کر دوںاپنی قوت پہ خود انگشت بدنداں ہوں میں
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
بول کہ لب آزاد ہیں تیرےبول زباں اب تک تیری ہےتیرا ستواں جسم ہے تیرابول کہ جاں اب تک تیری ہےدیکھ کہ آہن گر کی دکاں میںتند ہیں شعلے سرخ ہے آہنکھلنے لگے قفلوں کے دہانےپھیلا ہر اک زنجیر کا دامنبول یہ تھوڑا وقت بہت ہےجسم و زباں کی موت سے پہلےبول کہ سچ زندہ ہے اب تکبول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
زندگی سے ڈرتے ہو؟!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!زندگی سے ڈرتے ہو؟آدمی سے ڈرتے ہو؟آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیںآدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہےاس سے تم نہیں ڈرتے!حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہآدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہاس سے تم نہیں ڈرتے''ان کہی'' سے ڈرتے ہوجو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہواس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہےکیوں گوری کا دل میلا ہےہم کب تک پیت کے دھوکے میںتم کب تک دور جھروکے میںکب دید سے دل کو سیری ہو
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںیہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کرچلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیںفلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحلکہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دلجواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سےچلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سےپکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہےبہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگنبہت قریں تھا حسینان نور کا دامنسبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےیہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہےاک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامنان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکناتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہےدل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئیاس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئیآس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہےتم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہکہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے
کچھ اجڑی مانگیں شاموں کیآواز شکستہ جاموں کیکچھ ٹکڑے خالی بوتل کےکچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کےکچھ بکھرے تنکے چلمن کےکچھ پرزے اپنے دامن کےیہ تارے کچھ تھرائے ہوئےیہ گیت کبھی کے گائے ہوئےکچھ شعر پرانی غزلوں کےعنوان ادھوری نظموں کےٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑیاک خشک قلم اک بند گھڑیمت روکو انہیں پاس آنے دویہ مجھ سے ملنے آئے ہیںمیں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books