aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ejaaz"
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
لبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہندسب فلسفی ہیں خطۂ مغرب کے رام ہندیہ ہندیوں کی فکر فلک رس کا ہے اثررفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بام ہنداس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشتمشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام ہندہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو نازاہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہنداعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے یہیروشن تر از سحر ہے زمانہ میں شام ہندتلوار کا دھنی تھا شجاعت میں فرد تھاپاکیزگی میں جوش محبت میں فرد تھا
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میںکیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میںکون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہےخود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میںدل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرأتیںاور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میںدفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کواور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میںمیں قسم کھاتا ہوں اپنے نطق کے اعجاز کیتم کو بزم ماہ و انجم میں بٹھا سکتا ہوں میںسر پہ رکھ سکتا ہوں تاج کشور نورانیاںمحفل خورشید کو نیچا دکھا سکتا ہوں میںمیں بہت سرکش ہوں لیکن اک تمہارے واسطےدل بجھا سکتا ہوں میں آنکھیں بچا سکتا ہوں میںتم اگر روٹھو تو اک تم کو منانے کے لئےگیت گا سکتا ہوں میں آنسو بہا سکتا ہوں میںجذب ہے دل میں مرے دونوں جہاں کا سوز و سازبربط فطرت کا ہر نغمہ سنا سکتا ہوں میںتم سمجھتی ہو کہ ہیں پردے بہت سے درمیاںمیں یہ کہتا ہوں کہ ہر پردہ اٹھا سکتا ہوں میںتم کہ بن سکتی ہو ہر محفل میں فردوس نظرمجھ کو یہ دعویٰ کہ ہر محفل پہ چھا سکتا ہوں میںآؤ مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریںدہر پر اس طرح چھا جائیں کہ سب دیکھا کریں
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
اپنا ہی سا اے نرگس مستانہ بنا دےمیں جب تجھے جانوں مجھے دیوانہ بنا دےہر قید سے ہر رسم سے بیگانہ بنا دےدیوانہ بنا دے مجھے دیوانہ بنا دےاک برق ادا خرمن ہستی پہ گرا کرنظروں کو مری طور کا افسانہ بنا دےہر دل ہے تری بزم میں لبریز مئے عشقاک اور بھی پیمانہ سے پیمانہ بنا دےتو ساقی مے خانہ بھی تو نشہ و مے بھیمیں تشنۂ ہستی مجھے مستانہ بنا دےاللہ نے تجھ کو مے و مے خانہ بنایاتو ساری فضا کو مے و مے خانہ بنا دےتو ساقئ مے خانہ ہے میں رند بلا نوشمیرے لئے مے خانہ کو پیمانہ بنا دےیا دیدہ و دل میں مرے تو آپ سما جایا پھر دل و دیدہ ہی کو ویرانہ بنا دےقطرے میں وہ دریا ہے جو عالم کو ڈبو دےذرے میں وہ صحرا ہے کہ دیوانہ بنا دےلیکن مجھے ہر قید تعین سے بچا کرجو چاہے وہ اے نرگس مستانہ بنا دےعالم تو ہے دیوانہ جگر! حسن کی خاطرتو اپنے لئے حسن کو دیوانہ بنا دےکب تک نگہ یار نہ ہوگی متبسمتو اپنا ہر انداز حریفانہ بنا دےمنکر تو نہ بن حسن کے اعجاز نظر کاکہنے کے لئے اپنے کو بیگانہ بنا دےجب تک کرم خاص کا دریا نہ امنڈ آئےتو اور بھی حال اپنا سفیہانہ بنا دےبت خانے آ نکلے تو کعبہ کی بنا ڈالکعبے میں پہنچ جائے تو بت خانہ بنا دےجو موج اٹھے دل سے ترے جوش طلب میںسر رکھ کے وہیں سجدۂ شکرانہ بنا دےجب مائل الطاف نظر آئے وہ خودبیںتو ہر نگہ شوق کو افسانہ بنا دےکونین بھی مل جائے تو دامن کو نہ پھیلاکونین کو بھولا ہوا افسانہ بنا دےپھر عرض کر اس طرح جگرؔ شوق و ادب سےبے باک اگر جرأت رندانہ بنا دےتجھ کو نگہ یار! قسم میرے جنوں کیناصح کو بھی میرا ہی سا دیوانہ بنا دےمیں ہوں ترے قدموں میں مجھے کچھ نہیں کہنااب جو بھی ترا لطف کریمانہ بنا دے
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہےآہ جولاں گاہ عالمگیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دل دادہ ہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزادیدۂ عبرت خراج اشک گلگوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہےآہ اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میںسوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا ہے جبیں گستر فلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیر جہانبانی سے ڈرتا تھا زوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گورشورش بزم طرب کیا عود کی تقریر کیادردمندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیںروح مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیاآہ کیا آئے ریاض دہر میں ہم کیا گئےزندگی کی شاخ سے پھوٹے کھلے مرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوس خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسم یہ خس آتش سوارچاند جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربیکسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنازندگی اقوام کی بھی ہے یوں ہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نےآہ مسلم بھی زمانے سے یوں ہی رخصت ہواآسماں سے ابر آزاری اٹھا برسا گیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادئ گل خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
اپنی سوئی ہوئی دنیا کو جگا لوں تو چلوںاپنے غم خانے میں اک دھوم مچا لوں تو چلوںاور اک جام مئے تلخ چڑھا لوں تو چلوںابھی چلتا ہوں ذرا خود کو سنبھالوں تو چلوںجانے کب پی تھی ابھی تک ہے مئے غم کا خماردھندلا دھندلا نظر آتا ہے جہان بیدارآندھیاں چلتی ہیں، دنیا ہوئی جاتی ہے غبارآنکھ تو مل لوں ذرا ہوش میں آ لوں تو چلوںوہ مرا سحر وہ اعجاز کہاں ہے لانامیری کھوئی ہوئی آواز کہاں ہے لانامرا ٹوٹا ہوا وہ ساز کہاں ہے لانااک ذرا گیت بھی اس ساز پہ گا لوں تو چلوںمیں تھکا ہارا تھا، اتنے میں جو آئے بادلکسی متوالے نے چپکے سے بڑھا دی بوتلاف وہ رنگین پر اسرار خیالوں کے محلایسے دو چار محل اور بنا لوں تو چلوںمجھ سے کچھ کہنے کو آئی ہے مرے دل کی جلنکیا کیا میں نے زمانے میں نہیں جس کا چلنآنسوؤ تم نے تو بے کار بھگویا دامناپنے بھیگے ہوئے دامن کو سکھا لوں تو چلوںمیری آنکھوں میں ابھی تک ہے محبت کا غرورمیرے ہونٹوں کو ابھی تک ہے صداقت کا غرورمیرے ماتھے پہ ابھی تک ہے شرافت کا غرورایسے وہموں سے ذرا خود کو نکالوں تو چلوں
(1)کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریرگویا سر باطل پہ چمکنے لگی شمشیروہ زور ہے اک لفظ ادھر نطق سے نکلاواں سینۂ اغیار میں پیوست ہوئے تیرگرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی روانی بھی سکوں بھیتاثیر کا کیا کہیے ہے تاثیر ہی تاثیراعجاز اسی کا ہے کہ ارباب ستم کیاب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیراطراف وطن میں ہوا حق بات کا شہرہہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہوئی تشہیرروشن ہوئے امید سے رخ اہل وفا کےپیشانئ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر(2)حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیرخاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیرکچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانامردان صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیرکب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کےایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویرمعلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دنظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیرآخر کو سرافراز ہوا کرتے ہیں احرارآخر کو گرا کرتی ہے ہر جور کی تعمیرہر دور میں سر ہوتے ہیں قصر جم و داراہر عہد میں دیوار ستم ہوتی ہے تسخیرہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر(3)کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیرپہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریرہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوتہر گام پہ ہو منزل مقصود قدم گیرہر لحظہ ترا طالع اقبال سوا ہوہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیرہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالاکچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریرہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہاللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیراے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیراس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھشہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھفکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہیصبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہیسنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھچشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھمدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیںترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیںوا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباںچھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاںوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سےدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سےمحفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑرنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑتو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صداہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصاعرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھےنیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھےبندۂ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہےقوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہےہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقمشیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جمپاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے توہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبروسونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سےخرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
کیسے بنائی تو نے یہ کائنات پیاریحیران ہو رہی ہے عقل و خرد ہماریکلیاں مہک رہی ہیں اعجاز ہے یہ تیراخوشبو کہاں سے آئی اک راز ہے یہ تیرابلبل کے چہچہوں نے حیران کر دیا ہےانساں کے قہقہوں نے حیران کر دیا ہےششدر ہوں دیکھ کے میں اڑتے ہیں کیسے پنچھیدریا میں دیکھتا ہوں جاتے ہیں کیسے مانجھیکس طرح بے ستوں یہ تو نے فلک بنایاآنچل کو تو نے اس کے باروں سے جگمگایاکس طرح کی ہیں پیدا برسات کی گھٹائیںکس طرح چل رہی ہیں پر کیف یہ ہوائیںدریا پہاڑ جنگل کس طرح بن گئے ہیںیہ بات عقل والے ہر وقت سوچتے ہیںکس طرح تو نے مولا انسان کو بنایااکثر میں سوچتا ہوں کیسا ہے تو خدایا
مجھ سے یہ تیرے قصیدے نہ لکھے جائیں گےمجھ سے تیرے لیے یہ غزلیں نہ کہی جائیں گییاد میں تیری میں سلگا نہ سکوں گا آنکھیںسختیاں درد کی مجھ سے نہ سہی جائیں گیشہر میں ایسے مصور ہیں جو سکوں کے عوضحسن میں لیلیٰ و عذرا سے بڑھا دیں گے تجھےطول دے کر تری زلفوں کو شب غم کی طرحفن کے اعجاز سے ناگن سی بنا دیں گے تجھے
فلک سے انوارکوہ سے چشمےشاخ سے پھول پھوٹتے ہیںمگر ہر اک پھول میں نمی بھی ہے روشنی بھیزباں میں الفاظآنکھ میں دیددل میں احساس رکھ دیے گئے ہیںپہ لفظ احساس دید اک دوسرے کا پیوند ہو گئے ہیںنمو و تخلیق کے عمل بار بار دہرائے جا رہے ہیںجمال ارض و سما کی تکمیل ہو رہی ہےمحبت اعجاز سرمدی ہے
نہ ہوں شاعر نہ ولی ہوں نہ ہوں اعجاز بیاںبزم قدرت میں ہوں تصویر کی صورت حیراں
ان ہاتھوں کی تعظیم کروان ہاتھوں کی تکریم کرودنیا کے چلانے والے ہیںان ہاتھوں کو تسلیم کروتاریخ کے اور مشینوں کے پہیوں کی روانی ان سے ہےتہذیب کی اور تمدن کی بھرپور جوانی ان سے ہےدنیا کا فسانہ ان سے ہے، انساں کی کہانی ان سے ہےان ہاتھوں کی تعظیم کروصدیوں سے گزر کر آئے ہیں، یہ نیک اور بد کو جانتے ہیںیہ دوست ہیں سارے عالم کے، پر دشمن کو پہچانتے ہیںخود شکتی کا اوتار ہیں، یہ کب غیر کی شکتی مانتے ہیںان ہاتھوں کو تعظیم کروایک زخم ہمارے ہاتھوں کے، یہ پھول جو ہیں گل دانوں میںسوکھے ہوئے پیاسے چلو تھے، جو جام ہیں اب مے خانوں میںٹوٹی ہوئی سو انگڑائیوں کی محرابیں ہیں ایوانوں میںان ہاتھوں کی تعظیم کروراہوں کی سنہری روشنیاں، بجلی کے جو پھیلے دامن میںفانوس حسیں ایوانوں کے، جو رنگ و نور کے خرمن میںیہ ہاتھ ہمارے جلتے ہیں، یہ ہاتھ ہمارے روشن ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کروخاموش ہیں یہ خاموشی سے، سو بربط و چنگ بناتے ہیںتاروں میں راگ سلاتے ہیں، طبلوں میں بول چھپاتے ہیںجب ساز میں جنبش ہوتی ہے، تب ہاتھ ہمارے گاتے ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرواعجاز ہے یہ ان ہاتھوں کا، ریشم کو چھوئیں تو آنچل ہےپتھر کو چھوئیں تو بت کر دیں، کالکھ کو چھوئیں تو کاجل ہےمٹی کو چھوئیں تو سونا ہے، چاندی کو چھوئیں تو پائل ہےان ہاتھوں کی تعظیم کروبہتی ہوئی بجلی کی لہریں، سمٹے ہوئے گنگا کے دھارےدھرتی کے مقدر کے مالک، محنت کے افق کے سیارےیہ چارہ گران درد جہاں، صدیوں سے مگر خود بے چارےان ہاتھوں کی تعظیم کروتخلیق یہ سوز محنت کی، اور فطرت کے شہکار بھی ہیںمیدان عمل میں لیکن خود، یہ خالق بھی معمار بھی ہیںپھولوں سے بھری یہ شاخ بھی ہیں اور چلتی ہوئی تلوار بھی ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرویہ ہاتھ نہ ہوں تو مہمل سب، تحریریں اور تقریریں ہیںیہ ہاتھ نہ ہوں تو بے معنی انسانوں کی تقریریں ہیںسب حکمت و دانش علم و ہنر ان ہاتھوں کی تفسیریں ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرویہ کتنے سبک اور نازک ہیں، یہ کتنے سڈول اور اچھے ہیںچالاکی میں استاد ہیں یہ اور بھولے پن میں بچے ہیںاس جھوٹ کی گندی دنیا میں بس ہاتھ ہمارے سچے ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کرویہ سرحد سرحد جڑتے ہیں اور ملکوں ملکوں جاتے ہیںبانہوں میں بانہیں ڈالتے ہیں اور دل سے دل کو ملاتے ہیںپھر ظلم و ستم کے پیروں کی زنجیر گراں بن جاتے ہیںان ہاتھوں کی تعظیم کروتعمیر تو ان کی فطرت ہے، اک اور نئی تعمیر سہیاک اور نئی تدبیر سہی، اک اور نئی تقدیر سہیاک شوخ و حسیں خواب اور سہی اک شوخ و حسیں تعبیر سہیان ہاتھوں کی تعظیم کروان ہاتھوں کی تکریم کرودنیا کو چلانے والے ہیںان ہاتھوں کو تسلیم کرو
احترام عشق کی رو دل نشیں آواز میںایک پھیکے پن کا سناٹا دیار ناز میں
مفلسی تھی تو اس میں بھی اک شان تھیکچھ نہ تھا کچھ نہ ہونے پہ بھی آن تھیچوٹ کھاتی گئی چوٹ کرتی گئیزندگی کس قدر مردہ میدان تھیجو بظاہر شکستہ سا اک ساز تھاوہ کروڑوں دکھے دل کی آواز تھاراہ میں گرتے پڑتے سنبھلتے ہوئےسامراجی کے تیور بدلتے ہوئےآ گئے زندگی کے نئے موڑ پرموت کے راستے سے ٹہلتے ہوئےبن کے بادل اٹھے دیش پر چھا گئےپریم رس سوکھے کھیتوں پہ برسا گئےاب وہ جنتا کی سمپت ہے دھنپت نہیںصرف دو چار کے گھر کی دولت نہیںلاکھوں دل ایک ہوں جس میں وہ پریم ہےدو دلوں کی محبت محبت نہیںاپنے سندیش سے سب کو چونکا دیاپریمؔ نے پریم کا ارتھ سمجھا دیافرد تھا فرد سے کارواں بن گیاایک تھا ایک سے اک جہاں بن گیااے بنارس ترا ایک مشت غباراٹھ کے معمار ہندوستاں بن گیامرنے والے کے جینے کا انداز دیکھدیکھ کاشی کی مٹی کا اعجاز دیکھ
آؤ لان میں بیٹھیںشام کا سورج دیکھیںزرد خزاں کی سرگم سےجی کو بہلائیںجنگل کو اک گیت سنائیںسرخ سنہرےپیڑ سے گرتےدرد کے پتےہاتھ میں لے کران کی ریکھاؤں کو دیکھیںپتوں کو چٹکی میں گھمائیںاپنے اپنے ہاتھ کی دونوں پڑھیں لکیریںاک دوجے کی آنکھوں کی گہرائی میں اتریںپھول سجے ہیں جو گلدان میں میز کے اوپران کو چومیںدودھ کے جیسے اجلے کپوں میںکیتلی سے تم چائے انڈیلوبنا شکر اور بنا دودھ کی چائے سنہریاچھی لگتی ہے جب پیار کی بات کریںماضی کے قصے دہرائیںہنستے ہنستے آنکھوں میں آنسو آ جائیںان باتوں سے چائے میٹھی ہو جاتی ہےآؤ لان میں بیٹھیںچینی چائے پئیں ہم
آدمی کا وقار علم سے ہےزندگی کی بہار علم سے ہےعلم سے بہرہ ور جو ہوتے ہیںنیکیاں وہ زمیں میں بوتے ہیںعلم ہے روشنی چراغ ہے علمدل کی دھڑکن ہے اور دماغ ہے علمہیں جو علم کتاب سے محرومان کو دنیا میں کچھ نہیں معلومان کا جینا بھی ہے کوئی جیناآنکھ تو ہے مگر ہیں نا بیناجہل ظلمت ہے روشنی ہے علمموت اندھیرا ہے زندگی ہے علمجیسے خوشبو ہر اک گلاب میں ہےعلم بھی بند ہر کتاب میں ہےیہ کتاب ایسی ایک کھیتی ہےکچھ نہ کچھ آدمی کو دیتی ہےعلم سے پھول دل کا کھلتا ہےآگہی کا سراغ ملتا ہےجانتے ہیں جو پڑھنے والے ہیںان کتابوں میں بند اجالے ہیںدنیا بھر کی زبانیں بولتیں ہیںذہن کے در کتاب کھولتی ہیںجو کتابوں سے دور رہتے ہیںعمر بھر بے شعور رہتے ہیںسچ تو یہ ہے کتاب ہے بھائیسب سے بہتر رفیق تنہائیمیرا اعجازؔ مشورہ ہے یہیتم بھی جا کر پڑھو کتاب کوئی
زلف کی چھاؤں میں عارض کی تب و تاب لیےلب پہ افسوں لیے آنکھوں میں مئے ناب لیےہر نفس رو میں لیے سورش طغیان نہاںہر نظر شوق کا افسانۂ بے تاب لیےسحر و اعجاز لیے جنبش مژگان درازخندۂ شوخ جمال در خوش آب لیےضو فگن روئے حسیں پر شب مہتاب شبابچشم مخمور نشاط شب مہتاب لیےنشۂ ناز جوانی میں شرابور اداجسم ذوق گہر اطلس و کمخواب لیےزلف شب رنگ لیے صندل و عود و عنبرخم ابروئے حسیں دیر کی محراب لیےلب گل رنگ و حسیں جسم گداز و سیمیںشوخئ برق لیے لرزش سیماب لیےایک صیاد خوش اندام سواد مشرقزلف بنگال لیے طلعت پنجاب لیےنزہت و ناز کا اک پیکر شاداب و حسیںنکہت و نور کا امڈا ہوا سیلاب لیےمیری وارفتگئ مسلم لیکنکس کی آنکھیں ہیں زلیخا کا حسیں خواب لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books