aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "falsafa"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہےاچھی آنکھیں ملی ہیں اس کووحشت کرنا بھی آ گیا ہےبچھ جاؤں میں اس کے راستے میںپھر بھی کیا اس سے فائدہ ہےہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیںوہ میرے لیے نہیں بنا ہےمیرے لیے اس کے ہاتھ کافیاس کے لیے سارا فلسفہ ہےمیری نظروں سے ہے پریشاںخود اپنی کشش سے ہی خفا ہےسب بات سمجھ رہا ہے لیکنگم سم سا مجھ کو دیکھتا ہےجیسے میلے میں کوئی بچہاپنی ماں سے بچھڑ گیا ہےاس کے سینے میں چھپ کے روؤںمیرا دل تو یہ چاہتا ہےکیسا خوش رنگ پھول ہے وہجو اس کے لبوں پہ کھل رہا ہےیا رب وہ مجھے کبھی نہ بھولےمیری تجھ سے یہی دعا ہے
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کیقدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کیآہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبرغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجرآشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھاہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھاشمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھیبارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھیآہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہےدرد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہےبرہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میںشمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میںبتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوانور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہواپھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سےہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانیتیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانیشہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کاکرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانیکہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعتجس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانیلبریز مئ زہد سے تھی دل کی صراحیتھی تہہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانیکرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنیمنظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانیمدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرےتھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانیحضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھااقبالؔ کہ ہے قمرئ شمشاد معانیپابندئ احکام شریعت میں ہے کیساگو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانیسنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتاہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانیہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا ساتفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانیسمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخلمقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانیکچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہےعادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانیگانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوتاس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانیلیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نےبے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانیمجموعۂ اضداد ہے اقبالؔ نہیں ہےدل دفتر حکمت ہے طبیعت خفقانیرندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقفپوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانیاس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتیہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانیالقصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنےتا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانیاس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میںمیں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانیاک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہدپھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانیفرمایا شکایت وہ محبت کے سبب تھیتھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانیمیں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہےیہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانیخم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگےپیری ہے تواضع کے سبب میری جوانیگر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقتپیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانیمیں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناساگہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانیمجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبالؔ کو دیکھوںکی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانیاقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہےکچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
کبھی نہ کھینچا شرارت سے جس کا آنچل بھیرچا سکی مری آنکھوں میں جو نہ کاجل بھیوہ ماں جو میرے لئے تتلیاں پکڑ نہ سکیجو بھاگتے ہوئے بازو مرے جکڑ نہ سکیبڑھایا پیار کبھی کر کے پیار میں نہ کمیجو منہ بنا کے کسی دن نہ مجھ سے روٹھ سکیجو یہ بھی کہہ نہ سکی جا نہ بولوں گی تجھ سےجو ایک بار خفا بھی نہ ہو سکی مجھ سےوہ جس کو جوٹھا لگا منہ کبھی دکھا نہ سکاکثافتوں پہ مری جس کو پیار آ نہ سکاجو مٹی کھانے پہ مجھ کو کبھی نہ پیٹ سکینہ ہاتھ تھام کے مجھ کو کبھی گھسیٹ سکیوہ ماں جو گفتگو کی رو میں سن کے میری بڑکبھی جو پیار سے مجھ کو نہ کہہ سکی گھامڑشرارتوں سے مری جو کبھی الجھ نہ سکیحماقتوں کا مری فلسفہ سمجھ نہ سکیوہ ماں کبھی جسے چونکانے کو میں لک نہ سکامیں راہ چھینکنے کو جس کے آگے رک نہ سکاجو اپنے ہاتھ سے بہروپ میرے بھر نہ سکیجو اپنی آنکھوں کو آئینہ میرا کر نہ سکیگلے میں ڈالی نہ باہوں کی پھول مالا بھینہ دل میں لوح جبیں سے کیا اجالا بھیوہ ماں کبھی جو مجھے بدھیاں پہنا نہ سکیکبھی مجھے نئے کپڑوں سے جو سجا نہ سکیوہ ماں نہ جس سے لڑکپن کے جھوٹ بول سکانہ جس کے دل کے دراں کنجیوں سے کھول سکاوہ ماں میں پیسے بھی جس کے کبھی چرا نہ سکاسزا سے بچنے کو جھوٹی قسم بھی کھا نہ سکا
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
جہان کہنہ کے مفلوج فلسفہ دانونظام نو کے تقاضے سوال کرتے ہیں
اس کی دانائی کا حاصل ناخن عقدہ کشاتابناکئ ضمیر و زیرکی کا آفتابچاہنے والوں کا اس کی ذکر ہی کیا کیجیےاس کے دشمن بھی سرہانے رکھتے ہیں اس کی کتابمادی تاریخ عالم جس کی تالیف عظیمتاس کیپٹال ہے یا زیست کا لب لبابپڑھ کے جس کے ہو گئیں ہشیار اقوام غلاماشتراکی فلسفہ کا کھل گیا ہر دل میں بابکتنے دوزخ اس کے اک منشور سے جنت بنےکتنے صحراؤں کو جس نے کر دیا شہر گلابمارکس نے سائنس و انساں کو کیا ہے ہمکنارذہن کو بخشا شعور زندگانی کا نصاباس کی بینش اس کی وجدانی نگاہ حق شناسکر گئی جو چہرۂ افلاس زر کو بے نقاب''غصب اجرت'' کو دیا ''سرمایہ'' کا جس نے لقببے حساب اس کی بصیرت اس کی منطق لا جوابآفتاب تازہ کی اس نے بشارت دی ہمیںاس کی ہر پشین گوئی ہے برافگندہ نقابکوئی قوت اس کی سد راہ بن سکتی نہیںوقت کا فرمان جب آتا ہے بن کر انقلاباہل دانش کا رجز اور سینۂ دہقاں کی ڈھاللشکر مزدور کے ہیں ہم صفیر و ہم رکابکاٹتی ہے سحر سلطانی کو جب موسیٰ کی ضربسطوت فرعون ہو جاتی ہے از خود غرق آبآج کی فرعونیت بھی کچھ اسی انداز سےرفتہ رفتہ ہوتی جائے گی شکار انقلابلڑ رہا ہے جنگ آخر کیسۂ سرمایہ دارجوہری ہتھیار سے کرتا نہیں جو اجتناباپنے مستقبل سے طاغوتی تمدن کو ہے یاسدیدنی ہے دشمن انسانیت کا اضطرابحضرت اقبالؔ کا ابلیس کوچک خوف سےلرزہ بر اندام یوں شیطاں سے کرتا ہے خطابپنڈت و ملا و راہب بے ضرر ٹھہرے مگرٹوٹنے والا ہے تجھ پر اک یہودی کا عتابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
گو سراپا کيف عشرت ہے شراب زندگياشک بھي رکھتا ہے دامن ميں سحاب زندگيموج غم پر رقص کرتا ہے حباب زندگيہے 'الم' کا سورہ بھي جزو کتاب زندگيايک بھي پتي اگر کم ہو تو وہ گل ہي نہيںجو خزاں ناديدہ ہو بلبل، وہ بلبل ہي نہيںآرزو کے خون سے رنگيں ہے دل کي داستاںنغمہ انسانيت کامل نہيں غير از فغاںديدہ بينا ميں داغ غم چراغ سينہ ہےروح کو سامان زينت آہ کا آئينہ ہےحادثات غم سے ہے انساں کي فطرت کو کمالغازہ ہے آئينہء دل کے ليے گرد ملالغم جواني کو جگا ديتا ہے لطف خواب سےساز يہ بيدار ہوتا ہے اسي مضراب سےطائر دل کے ليے غم شہپر پرواز ہےراز ہے انساں کا دل غم انکشاف راز ہےغم نہيں غم، روح کا اک نغمہء خاموش ہےجو سرود بربط ہستي سے ہم آغوش ہےشام جس کي آشنائے نالہء 'يا رب' نہيںجلوہ پيرا جس کي شب ميں اشک کے کوکب نہيںجس کا جام دل شکست غم سے ہے ناآشناجو سدا مست شراب عيش و عشرت ہي رہاہاتھ جس گلچيں کا ہے محفوظ نوک خار سےعشق جس کا بے خبر ہے ہجر کے آزار سےکلفت غم گرچہ اس کے روز و شب سے دور ہےزندگي کا راز اس کي آنکھ سے مستور ہےاے کہ نظم دہر کا ادراک ہے حاصل تجھےکيوں نہ آساں ہو غم و اندوہ کي منزل تجھےہے ابد کے نسخہ ديرينہ کي تمہيد عشقعقل انساني ہے فاني، زندہء جاويد عشقعشق کے خورشيد سے شام اجل شرمندہ ہےعشق سوز زندگي ہے ، تا ابد پائندہ ہےرخصت محبوب کا مقصد فنا ہوتا اگرجوش الفت بھي دل عاشق سے کر جاتا سفرعشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہيںروح ميں غم بن کے رہتا ہے ، مگر جاتا نہيںہے بقائے عشق سے پيدا بقا محبوب کيزندگاني ہے عدم ناآشنا محبوب کيآتي ہے ندي جبين کوہ سے گاتي ہوئيآسماں کے طائروں کو نغمہ سکھلاتي ہوئيآئنہ روشن ہے اس کا صورت رخسار حورگر کے وادي کي چٹانوں پر يہ ہو جاتا ہے چورنہر جو تھي ، اس کے گوہر پيارے پيارے بن گئےيعني اس افتاد سے پاني کے تارے بن گئےجوئے سيماب رواں پھٹ کر پريشاں ہو گئيمضطرب بوندوں کي اک دنيا نماياں ہو گئيہجر، ان قطروں کو ليکن وصل کي تعليم ہےدو قدم پر پھر وہي جو مثل تار سيم ہےايک اصليت ميں ہے نہر روان زندگيگر کے رفعت سے ہجوم نوع انساں بن گئيپستي عالم ميں ملنے کو جدا ہوتے ہيں ہمعارضي فرقت کو دائم جان کر روتے ہيں ہممرنے والے مرتے ہيں ليکن فنا ہوتے نہيںيہ حقيقت ميں کبھي ہم سے جدا ہوتے نہيںعقل جس دم دہر کي آفات ميں محصور ہويا جواني کي اندھيري رات ميں مستور ہودامن دل بن گيا ہو رزم گاہ خير و شرراہ کي ظلمت سے ہو مشکل سوئے منزل سفرخضر ہمت ہو گيا ہو آرزو سے گوشہ گيرفکر جب عاجز ہو اور خاموش آواز ضميروادي ہستي ميں کوئي ہم سفر تک بھي نہ ہوجادہ دکھلانے کو جگنو کا شرر تک بھي نہ ہومرنے والوں کي جبيں روشن ہے اس ظلمات ميںجس طرح تارے چمکتے ہيں اندھيري رات ميں
میں جب طفل مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھاکھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطین پارین و حاضرحکایات شیرین و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائمجو صفحات تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامرنواہی، حکیموں کے اقوال، دانا خطیبوں کے خطبےجنہیں مستمندوں نے باقی رکھا اس کا مخفی و ظاہرفنون لطیفہ خداوند کے حکم نامے، فرامینجنہیں مسخ کرتے رہے پیر زادے، جہاں کے عناصرہر اک سخت موضوع پر اس طرح بولتا تھا کہ مجھ کوسمندر سمجھتے تھے سب علم و فن کا، ہر اک میری خاطرتگ و دو میں رہتا تھا، لیکن یکایک ہوا کیا یہ مجھ کویہ محسوس ہوتا ہے سوتے سے اٹھا ہوں، ہلنے سے قاصرکسی بحر کے سونے ساحل پہ بیٹھا ہوں گردن جھکائےسر شام آئی ہے دیکھو تو ہے آگہی کتنی شاطر!
تو اپني خودي اگر نہ کھوتازناري برگساں نہ ہوتاہيگل کا صدف گہر سے خاليہے اس کا طلسم سب خياليمحکم کيسے ہو زندگانيکس طرح خودي ہو لازماني!آدم کو ثبات کي طلب ہےدستور حيات کي طلب ہےدنيا کي عشا ہو جس سے اشراقمومن کي اذاں ندائے آفاقميں اصل کا خاص سومناتيآبا مرے لاتي و مناتيتو سيد ہاشمي کي اولادميري کف خاک برہمن زادہے فلسفہ ميرے آب و گل ميںپوشيدہ ہے ريشہ ہائے دل ميںاقبال اگرچہ بے ہنر ہےاس کي رگ رگ سے باخبر ہےشعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوزسن مجھ سے يہ نکتہ دل افروزانجام خرد ہے بے حضوريہے فلسفہ زندگي سے دوريافکار کے نغمہ ہائے بے صوتہيں ذوق عمل کے واسطے موتديں مسلک زندگي کي تقويمديں سر محمد و براہيم''دل در سخن محمدي بنداے پور علي ز بو علي چند!چوں ديدہ راہ بيں نداريقايد قرشي بہ از بخاري ''
افکار جوانوں کے خفي ہوں کہ جلي ہوںپوشيدہ نہيں مرد قلندر کي نظر سےمعلوم ہيں مجھ کو ترے احوال کہ ميں بھيمدت ہوئي گزرا تھا اسي راہ گزر سےالفاظ کے پيچوں ميں الجھتے نہيں داناغواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے!پيدا ہے فقط حلقہ ارباب جنوں ميںوہ عقل کہ پا جاتي ہے شعلے کو شرر سےجس معني پيچيدہ کي تصديق کرے دلقيمت ميں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر سےيا مردہ ہے يا نزع کي حالت ميں گرفتارجو فلسفہ لکھا نہ گيا خون جگر سے
يہ آفتاب کيا ، يہ سپہر بريں ہے کيا!سمجھ نہيں تسلسل شام و سحر کو ميںاپنے وطن ميں ہوں کہ غريب الديار ہوںڈرت ہوں ديکھ ديکھ کے اس دشت و در کو ميںکھلت نہيں مرے سفر زندگي کا رازلاؤں کہاں سے بندئہ صاحب نظر کو ميںحيراں ہے بوعلي کہ ميں آيا کہاں سے ہوںرومي يہ سوچتا ہے کہ جاؤں کدھر کو ميں''جات ہوں تھوڑي دور ہر اک راہرو کے ساتھپہچانت نہيں ہوں ابھي راہبر کو ميں''
یہ قدسیوں کی زمیںجہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خواب سحر گہی میں،ہوائے تازہ و کشت شاداب و چشمۂ جاں فروز کی آرزو کا پرتویہیں مسافر پہنچ کے اب سوچنے لگا ہے:''وہ خواب کابوس تو نہیں تھا؟وہ خواب کابوس تو نہیں تھا؟
جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہےاور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھنبازاروں کی گرمی، افرا تفریموٹر، بس، برقی ریلوں کا ہنگامہ تھم جاتا ہےچائے خانوں ناچ گھروں سے کمسن لڑکےاپنے ہم سن معشوقوں کوجن کی جنسی خواہش وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےلے کر جا چکتے ہیںبڑھتی پھیلتی اونچی ہمالہ جیسی تعمیروں پر خاموشی چھا جاتی ہےتھیٹر تفریح گاہوں میں تالے پڑ جاتے ہیںاور بظاہر دنیا سو جاتی ہےمیں اپنے کمرے میں بیٹھا سوچا کرتا ہوںکتوں کی دم ٹیڑھی کیوں ہوتی ہےیہ چتکبری دنیا جس کا کوئی بھی کردار نہیں ہےکوئی فلسفہ کوئی پائندہ اقدار نہیں، معیار نہیں ہےاس پر اہل دانش ودوان، فلسفیموٹی موٹی ادق کتابیں کیوں لکھا کرتے ہیں؟فرقتؔ کی ماں نے شوہر کے مرنے پر کتنا کہرام مچایا تھالیکن عدت کے دن پورے ہونے سے اک ہفتہ پہلےنیلمؔ کے ماموں کے ساتھ بدایوں جا پہنچی تھیبی بی کی صحنک، کونڈے، فاتحہ خوانیجنگ صفین، جمل اور بدر کے قصوںسیرت نبوی، ترک دنیا اور مولوی صاحب کے حلوے مانڈے میں کیا رشتہ ہے؟
دل ربا لالہ ہو فضا تیریمجھ کو بھائی نہ اک ادا تیریلطف سے بڑھ کے ہے جفا تیریواہ رے ہندوستاں وفا تیریمیں نہ مانوں کبھی ترا کہنامیں نہ بخشوں کبھی خطا تیریبرتر از خار ہے ترا گلشنزہر سے کم نہیں ہوا تیریخالی از کیفیت تری ہر چیزبات ہر ایک بے مزا تیریدرد دل میں تڑپ کے مر جاؤںمیں نہ ڈھونڈوں کبھی شفا تیریکون سی بات تیری لطف آمیزکون سی چیز دل کشا تیریتجھ کو جنت نشان کہتے ہیںہم جہنم کی جان کہتے ہیںتجھ کو کس بات پر ہے ناز بتاکیا نہیں اور ملک تیرے سواتیری آب و ہوا لطیف سہیتجھ سے بڑھ کر سپین کا خطہتجھ کو اپنی زمین کا ہے گھمنڈتجھ سے افضل کہیں ہے امریکہحسن پر اپنے ناز ہے تجھ کوحسن تجھ سے سوا اطالیہ کاتجھ کو گنگا کا اپنی دھوکا ہےتو نے دیکھا نہیں ہے سین کو جاموسیقی پر تجھے ہے ناز بہتاس میں جز درد و غم دھرا ہے کیافلسفہ تیرا اگلے وقتوں کافلسفہ دیکھ جا کے یورپ کاتجھ میں پھر آن کیا رہی باقیتیری محفل نہ کچھ نہ کچھ ساقیہاں مروت کا تجھ میں نام نہیںہاں اخوت کا تجھ میں نام نہیںتجھ سے بد نام عشق سا استاداور محبت کا تجھ میں نام نہیںآشتی سیکھے تجھ سے آ کے کوئیہاں خصومت کا تجھ میں نام نہیںتیری ہر بات میں صفائی ہےاور کدورت کا تجھ میں نام نہیںتجھ کو اور حریت سے کیا نسبتاس ضرورت کا تجھ میں نام نہیںشاد ہیں تیرے اپنے بیگانےاور شکایت کا تجھ میں نام نہیںتیری تہذیب تجھ کو موجب فخرہاں جہالت کا تجھ میں نام نہیںبات دنیا سے ہے جدا تیریواہ اے ہندوستاں ادا تیریتیرے رسم و رواج نے مارااس مرض کے علاج نے ماراتیری غیرت نے کر دیا بربادخاندانوں کے لاج نے ماراکیا کریں ہر گھڑی یہی ہے فکرروز کی احتیاج نے ماراآئے دن کال کا ہے ذکر اذکاراک ذرا سے اناج نے مارااور سب پر وبا کا اک طرہاس انوکھے خراج نے مارابخت برگشتہ آرزوئیں بہتہوس سیم و عاج نے مارانہ کریں کام کچھ تو کھائیں کیاروز کے کام کاج نے ماراتو تو رہنے کا کچھ مقام نہیںتجھ میں انسانیت کا نام نہیںقید تو نے کیا حسینوں کومہ جبینوں کو نازنینوں کوزیور علم سے رکھا عاریتو نے قدرت کے ان نگینوں کواختیار و پسند کی اے ہندکیا ضرورت نہ تھی حسینوں کوخوب پہچانی تو نے قدر ان کیخوب سمجھا تو ان خزینوں کوکنویں جھنکوائے نازنینوں سےزہر کھلوایا مہ جبینوں کوڈوبے جاتے ہیں کون آ کے بچائےبحر ہستی کے ان سفینوں کوتو مکاں تھا مکان ہو کے دیاخوف آرام ان مکینوں کوتجھ پہ تہذیب طعن کرتی ہےتجھ پہ الزام خلق دھرتی ہےآرزو ہے تجھے حکومت کیجاہ و ثروت کی شان و شوکت کیکیوں نہ ہو تجھ میں ہمت عالیدھوم ہر سو ہے تیری جرأت کیتو نے کسب فنون جنگ کیاسب میں شہرت ہے تیری قوت کیقسمیں کھاتے ہیں لوگ دنیا میںتیری ملت تری اخوت کیملک داری میں ملک گیری میںواہ کیا پیدا قابلیت کیتو تو استاد سے بھی بڑھ نکلاحیرت انگیز تو نے محنت کیآپ عالم میں تو ہے اپنی مثالآدمیت کی اور شجاعت کیہم سری کی کسی کو تاب نہیںترا آفاق میں جواب نہیںداغ دل کے کسے دکھائیں ہمایسا مشفق کہاں سے لائیں ہمدل میں ہے اپنے ہم نشیں اک روزآپ رو کر تجھے رلائیں ہماس طبیعت کو کس طرح بہلائیںدل کو کس چیز سے لگائیں ہمکب تلک روز کے کہیں صدمےکب تلک آفتیں اٹھائیں ہمزہر کیوں اے فلک نہ ہم کھا لیںجی سے اپنے گزر نہ جائیں ہمجو شکایت ہو کیوں نہ لب پر آئےایک دکھ ہو اسے چھپائیں ہماے تمدن کے راحت و آرامہائے کس طرح تم کو پائیں ہملوگ اٹھاتے ہیں زندگی کے مزےہم اٹھاتے ہیں ناخوشی کے مزے
مجھے تو فلسفۂ صبر بھی گوارا ہے(اگرچہ اصل میں یہ قاتلوں کی منطق ہے)مگر یہ فلسفہ اس دل کو کون سمجھائےجو تیری یاد کے غم کو خدا سمجھتا ہےاگر گئے ہوئے اک لمحہ مڑ کے آ سکتےفنا کے بعد دوبارہ حیات اگر ہوتیتو میں ضرور لپٹ کر تمہارے سینے سےتمام قصۂ غم آنسوؤں میں برساتامگر مجھے تو خبر ہے کہ یہ نہیں ممکناسی لیے مرے دل میں الم بھی باقی ہےتری جہاد مسلسل سی زندگی کی کتابمری حیات کے اک اک ورق پہ لکھی ہےجو تو نے راہ میں چھوڑا تھا پرچم تگ و دوحریف کچھ بھی کہیں آج میرے ہاتھ میں ہےقرار خاطر محزوں اگر کوئی شے ہےتو اسی کا خیال!
ایسے میں کہاں فلسفہ سوجھے ہے کسی کوچلتا رہے ہر وقت جہاں دور خرافات
فروغ چشم ہے تسکین دل ہے بے گماں اردوہر اک عالم میں ہے گویا بہار گل فشاں اردوکوئی دیکھے تو اس کی قوت تخلیق کا عالمبنا سکتی ہے زیر چرخ لاکھوں آسماں اردومقلد جو نہیں اس کا وہ پہنچے گا نہ منزل پرسر ہر جادۂ منزل ہے میر کارواں اردومحافظ اپنی قوت سے ہے تہذیب و تمدن کینہ کیوں ہو ارتقائے زندگی کی رازداں اردوگلستان ادب میں جس قدر تھے منتشر جلوےمنظم کر چکی ہے ان کو مثل جسم و جاں اردوفضائے علم و فن پر یہ مثال ابر چھائی ہےمذاق جستجو بن کر رگ دل میں سمائی ہےزبانیں اور بھی دنیا میں کچھ گرمئ محفل ہیںمگر منزل ہے اردو اور وہ سب گرد منزل ہیںہر اک انداز روشن ہر بیاں پر کیف ہے اس کاادائیں جس قدر بھی ہیں وہ شرح جذبۂ دل ہیںزمین شعر اس کی اک چمن زار محبت ہےہیں جتنے گیت وہ سب نغمۂ فطرت کا حاصل ہےریاضی ہو کہ منطق فلسفہ ہو یا تصوف ہوسب اس کی بزم میں موجود ہیں اور جان محفل ہیںملی ہیں جلوۂ فطرت کی سب رنگینیاں اس کومرقعے اس کے سینے سے لگا لینے کے قابل ہیںرواج اس کا جہاں کی وسعتوں میں بے تکلف ہےیہ پاکیزہ زباں ہے اور لطیف اس کا تصرف ہےمٹا سکتا ہے کون ایسی زبان پاک فطرت کودیا درس وفا جس نے مذاق ملک و ملت کوجمود زندگی میں حشر برپا کر دیا اس نےعطا کی ہیں اسی نے بجلیاں احساس الفت کونظام زندگانی پر بڑا احسان ہے اس کابہت آسانیاں اس میں ملیں تبلیغ فطرت کورہے شان طلاقت لفظ و معنی ہیں کہ گل بوٹےزہے اوج حذاقت جان دے دی مردہ حکمت کویہ ممکن ہے کہ قوموں کو مٹا دے گردش عالممگر کوئی مٹا سکتا نہیں اردو کی عظمت کوہر اک تحریک اس کی ترجمان جذب کامل ہےکہ ہر آہنگ اردو ہمنوائے بربط دل ہے
شہیدوں کا سرتاج جنت مقاممحبت کی معراج ذی احترامغلامان عالم کی پشت و پناہاہنسا کے بندوں کی امید گاہوہ غم بھی وطن کا تھا غم خوار بھیرضاکار بھی اور سالار بھیاہنسا کا پیرو مگر شیر مردمحبت میں یکتا صداقت میں فردہوا جس کے دم سے بہ صد احتشامسیاست سے اونچا صداقت کا ناموہ آدم کی عظمت کا آئینہ داروہ ذرہ کہ چمکا تھا خورشید داروہ جس نے دیا آدمیت کو اوجوہ جس نے لڑائی اہنسا کی فوجقفس ہے کوئی اب نہ صیاد ہےوطن جس کی حکمت سے آزاد ہےوہ نور ضیا بار سیمائے خیروہ جویاے خیر و شناسائے خیرفرشتہ خصال و فرشتہ سیرملک در حقیقت بہ ظاہر بشرمحبت کی وہ اک شبیہ حسیںاخوت کا وہ ایک ماہ مبیںوہ حق آگہی کی کچھاروں کا شیرصداقت کے میداں کا مرد دلیرفلک آفریں اور گردوں طرازمریضان پستی کا وہ چارہ سازوہ کوتاہ بینوں کی شمع شعوروہ گمراہیوں میں ہدایت کا نوروہ جس نے اٹھایا زمانے کا بارکیا جس نے جابر کو بے اختیاروہ بے مثل قاعد موئثر خطیبوہ لشکر میں جس کے امیر و غریبوہ جس نے کروڑوں کے کاٹے ہیں بندوہ ارفع وہ اعلیٰ وہ سب سے بلندوہ جس کی عطا ہے نرالی عطاوہ جس نے دیا اک نیا فلسفہزمیں پر بہا اس جری کا لہوتفوبر تو اے چرخ گرداں تفو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books