aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "farz-e-ain"
سارے منظر ایک جیسےساری دنیا ایک سیناشپاتی کے درختوں سےکھجوروں کی گھنی شاخوں تلکدنیا اچانک ایک جیسی ہو گئی ہےمصر کے اہرام کی محزوں فضائیںدم بخود ہیں کوفہ و بغداد کے بازار میںکاظمین و مشہد اعراق سے نوحے نکل کرسرحد لبنان تک پہنچے ہوئے ہیںشہر دلی کے اندھیرےظلمت لاہور سے ملنے لگے ہیںشور کابل کا سنائی دیتا ہےبرطانیہ کی محفلوں میںخواہش نیویارک زندہ ہوتی ہےڈھاکے کی پرانی دل ربا گلیوں میںگویا ساری دنیا ایک جیسی ہو گئی ہےسارے منظر ایک سےاجڑی ہوئی آنکھوں میں سارے خوابیادوں کا فسوں امید کے سارے فسردہ آفتابایک ہو سکتے ہیںآؤ ان سے مل ملا کر اک جہان تازہ تر پیدا کریںان لہو کی بوندوں سےرستے سجائیںآنسوؤں کے رتجگوں سے آرزوئے چشم تر پیدا کریں
اک شہر تھا اک باغ تھااک شہر تھایا تازہ میووں سے لدا اک باغ تھااک باغ تھایا شوخ رنگوں سے بھرا بازار تھابازار تھا یا جگنوؤں کی روشنی سے کھیلتی اک رات تھیاک رات تھییا گنگناتی جھومتینغمات کی بارش میں بھیگیوصل کی سوغات تھیاک شہر تھا اک باغ تھا اک رات تھیاور ان کے دامن میںبہار وصل کی سوغات تھیاک روز رنگ و نور کے موسم کوباد شرط اڑا کر لے گئیاک موج خوں کہئے اسےاس شہر کے اس باغ کےنام و نشاں سارے بہا کر لے گئیاے نوحہ گراے راقم افسانۂ زیر و زبراے چشم حیرت چشم ترعبرت کی جا ہے کس قدراب یاد کا ہے ایک افسردہ نگراس شہر میںکچھ دیر کو ٹھہریں ذرانوحہ کریںقصہ لکھیںتاریخ کے اوراق میںاک باب کھولیں یاد کاتقدیر ہست و بود کامغموم افسانہ لکھیں
اب ان بوسیدہ کاغذ کے پلندوں کیضرورت کیا بچی ہےان لفافوں پر پتے سارےپرانے ہو چکے ہیںان کو رکھنا کس لیےبے رنگ تحریروں میں ڈوبےان خطوں کی کیوں حفاظت چاہئےیہ پرانی فائلیں ضائع اگر ہو جائیںتو نقصان کیا ہےہاتھ کیوں رکتے ہیںان کاغذ کے ٹکڑوں کو جلانے میںاب ان کی معنویت کیا بچی ہےاتنے ماہ و سال کے بعداس زمانے میںمہک کیسی ہے ان میںیا جو خوشبو سی لپکتی ہےتو کیا ہے یہ رتوں کا خرخشہ اب کوئی رت ہوگی کہ جس نےکاغذوں پر چھوڑ رکھا ہے اثربرسوں گزرتے ہیںنہیں، کچھ بھی نہیں یاد آتا ہےلیکن یہ میرے ہاتھ ان کو چھوتے ہیکیوں کانپنے لگتے ہیںپہلے بھی تو بوسیدہ بہت کاغذ جلائے ہیںنہ جانے ان پرانی فائلوں پرکون سے گزرے ہوئےلمحوں کے سائے ہیں
اک بار چل کر دیکھ لیںشاید گزشتہ موسموں کا کوئی اکدھندلا نشاں مل جائےاور پھر سے فضا شاداب ہواجڑا ہوا اک خواب ہوتصویر میں کچھ گرد باد باقیات منبر و محراب ہواک بار چل کر دیکھ لیںپھر بند ہوتے شہر کے بازار کوجھانکیں ذرااجڑی دکانوں میںکلاہ و جبہ و دستار کواک شہر تازہ کار کو کچھ دیر بھولیںاور اس کو سلوٹوں میںڈھونڈیں اک کھوئی ہوئی تصویر کوتصویر میں کچھ باقیات منبر و محراب ہیںکچھ جلوہ ہائے عہد عالم تاب ہیںوہ لاش جو کچلی گئیوہ خواب جو روندے گئےوہ نام جو بھولے گئےان سلوٹوں میں دفنکتنی برکتوں کے راز ہیںاک بار چل کر دیکھ لیںپہلے تو شہر ایسا نہ تھا
زمین ایک مدت سےہفت آسماں کی طرف سر اٹھائے ہوئےرو رہی ہےزمین اپنے آنسوبہت اپنی ہی کوکھ میں بو رہی ہےزمیں دل کشادہ ہے کتنیفلک کے اتارے ہوئے بوجھ بھی ڈھو رہی ہےفضا پر بہت دھند چھائی ہوئی ہےجواں گل بدن شاہزادےزمیں کے دلارےاجڑتی ہوئی بزم کے چاند تارےکٹی گردنوں گولیوں سے چھدے جسم کیرت سجائے لہو میں نہائےزمیں کی طرف آ رہے ہیںزمیں ایک مدت سےاس کار و بار ستم میں گھری ہےزمین رو رہی ہےمگر اس کے آنسو کی تحریرروشن ہے اتنیکہ آئندہ موسم اسی زندہ تحریر سےجگمگاتے رہیں گےاگر اس کے شہزادےیوں ہی لہو میں نہاتے رہیں گےتو اک روز تاریخان کے لیے حشر برپا کرے گی
باز کی طرح جھپٹا وہ برہم فرشتہاس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑے ہوئے اس سے بولامیں تمہارا فرشتہ ہوں سن لواپنے سارے فرائض تم انجام دو گےمیری مرضی ہے یہسیہ کاروں غریبوں احمقوں سےہمیشہ پیار کرنا تم ہمیشہ پیار کرناتاکہ جب آئیں انسانیت کے مسیحافتح کا سرخ قالین ان کے لیےاپنے اخلاق سے تم بنواس سے پہلے کہ تم خود سے بیزار ہواس کی عظمت سے دل کو منور کرواوج عشرت ہے یہ اوج عشرت ہے یہدیر پا دیر پا دیر پا دیر پادرس الفتدل دھڑکنے سے ہچکچائےصورت دو دسا یہ گریزاںنیلی تاریکیوں سے شگفتہقہقہے مارتی میں جو نکلیمیرے خوابوں کے بیدار چہرےسارے ساحل پہ نوحہ خواں ہیں
ہم اس مسیحا کی آمد کے آثار کے منتظر ہی رہےپھر سڑکوں پر چند طوائفیں نظر آئیںشاید وہ نظر آ گیا ہےہاں ہاں طوائفوں نے للچائی آواز میں کہاچلو ہمیں اپنی گاڑیوں میں لے چلودرخت آبنوسی خیالوں میں مدغم رہےجب اس نے گلے سے لٹکتے مائکرو فون پر کئی دن تک چیخ چیخ کر کہا میں مسیحا ہوںتو ادارۂ امداد باہمی والوں نے اسے کھانے پر بلایاکھا پی کر اس نے تقریر کیگڑگڑا کر کہا میں مسیحا ہوں مجھے صلیب پر لٹکا دولوگوں نے واپسی کا کرایہ دے کر اسے رخصت کر دیا
گذشتہ برسوں کے زخم خوردہ کیلنڈروں نےہمیں عجب راز دل سنائےہوا تھی ساکتاداس موسم کی پتیوں سےفضا کے آنسو چھلک رہے تھےپرانی تاریخ کے مقابر سےکچھ فسردہ خموش سائے لپک رہے تھےوہ شب حویلی کے صدر دروازے پر کھڑی تھیجہاں شبیہوں کا رقص جاری تھااستعارے تجلیوں سے چمک رہے تھےتو ان معمر کیلنڈروں میں سےایک نے یوں زبان کھولیہوا پہ یہ جو سکوت طاری ہےصرف اک واہمہ ہےاور یہ فضا کے آنسو گزشتنی ہیںشکستنی ہیں یہ سارے منظرجو ان اجاڑی ہوئی بہاروں میں جاگتے ہیںمغالطے ہیں یہ درد دل کےبچے کھچے اضطراب آسا یہ لوگسائے ہیں اک تماشائے منفعل کےکہیں بھی کوئی بچا نہیں ہےشکستگی کی بہت پرانی کہانیوں پرسسکنے والے بھی مر چکے ہیںگزرنے والوں کی یاد میں سر پٹکنے والے بھیاس گلی سے گزر چکے ہیںہم ایسے آشفتہ جاں کیلینڈرکہ اک معمہ ہے اب ہمیں زخم خوردگی بھیہم اپنی تاریخ کا لہو پی کے جی رہے ہیں
عجب رات تھیسوگواری کے رنگوں میںڈوبی ہوئیاک عجب رات تھیاور اس راتمیں اور محمود درویش دونوںاجل یافتہ بستیوں کی طرفچل پڑے تھےوہ انسان تھے یا فرشتے تھےزخموں سے پر نورملبوس ان کے چمکتے تھےجیسے وہ سبروشنی کی ہی سوداگری کر رہے تھےگلابوں کی مانندخوشبو لٹاتے ہوئے زخم ان کےاور ان پر لکھیایک تحریرپیغام شوق اجل کیاجل یافتہ بستیوں کےاجل یافتہ شاہزادےاجل کے گل اندام پیکر کی صورتبس اک لفظ لبیک پررقص کرتی ہوئیایسی شہزادیاںجن کی آنکھوں میں آنسو نہ تھےصرف تازہ لہو تھا کہ جن سےاجل سے ملاقات کےسارے رستے سجائے گئے تھے
وحشت سے بھرے اس موسم میںکچھ لوگ اچانک بچھڑ گئےاور آخری بار نہ مل پائےہستی کے امڈتے دریا میں خود اپنے ہی دل تنہا میںوہ ڈوب گئےکہ خموشی سے اس پار گئےاک کھیل حیات و مرگ کا تھااب یہ ہم کو معلوم نہیںوہ جیت گئے یا ہار گئےہم کو تو یہی اک درد بچاہم آخری بار نہ مل پائےاس آخری بار کے ملنے کا اک اپنا جادو ہوتا ہےجنگل کی اندھیری رات میںجیسے تنہا جگنو ہوتا ہےننھا منا سا جگنوکیسی ٹھنڈی روشنی کرتا رہتا ہےاس میٹھی میٹھی ٹھنڈک سےگہرے سے گہرا زخم بھی بھرتا رہتا ہےجو آخری بار نہ مل پائےیادوں کا سارا بوجھوہ اپنی ہی تنہائی کے کاندھے پر لادے چلے گئےجو آخری بار نہ مل پائےان کے کاندھے کتنے دکھتے ہوں گے
بجھا دولہو کے سمندر کے اس پارآئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دوکہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہےمٹا دومنقش در و بام کے جگمگاتےچمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دوکہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہےاٹھا دولہو کے جزیرے میںبپھری ہوئی موت کے زرد پنجوں سے پردہ اٹھا دوکہ اب اس جزیرے میںلاشوں کے انبار بکھرے پڑے ہیںفضا میں ہر اک سمتجلتے ہوئے خون کی بو رچی ہےوہ آنکھیں جو اپنے بدن کی طرح صاف شفاف تھیںاب ان درختوں پہ بیٹھے ہوئے چیل کوؤں گدھوں کی غذا بن چکی ہیںیہ سولہ دسمبر کی بجھتی ہوئی شام ہےاور میںاس لہو کے جزیرے میں جلتا ہوا آخری آدمی ہوں
مجھے تیرے تصور سے خوشی محسوس ہوتی ہےدل مردہ میں بھی کچھ زندگی محسوس ہوتی ہےیہ تاروں کی چمک میں ہے نہ پھولوں ہی کی خوشبو میںتری تصویر میں جو دل کشی محسوس ہوتی ہےتجھے میں آج تک مصروف درس و وعظ پاتا ہوںتری ہستی مکمل آگہی محسوس ہوتی ہےیہ کیا ممکن نہیں تو آ کے خود اب اس کا درماں کرفضائے دہر میں کچھ برہمی محسوس ہوتی ہےاجالا سا اجالا ہے تری شمع ہدایت کاشب تیرہ میں بھی اک روشنی محسوس ہوتی ہےمیں آؤں بھی تو کیا منہ لے کے آؤں سامنے تیرےخود اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہےتخیل میں ترے نزدیک جب میں خود کو پاتا ہوںمجھے اس وقت اک طرفہ خوشی محسوس ہوتی ہےتو ہی جانے کہاں لے آئی مجھ کو آرزو تیرییہ منزل اب سراپا بے خودی محسوس ہوتی ہےکنولؔ جس وقت کھو جاتا ہوں میں اس کے تصور میںمجھے تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے
لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!یوں ہی ماحول کی گرانی ہے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائےان کی بابت خموش ہی رہیونام ان کا نہ درمیاں آئےنام ان کا نہ درمیاں آئےان کی بابت خموش ہی رہیو'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں''یونہی ماحول کی گرانی ہے'اور جو دل میں آئے سو کہیو!
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوںفرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
ہر اک کھیلنے والے کی بس اک ہی تمنا ہےاسی کیرم کے کونوں میں جو چھوٹے چھوٹے کمرے ہیںانہیں آباد کرنا ہے کنیزوں سے اور رانی سےکھلاڑی چال چلتا ہے اسٹرایکر کی مدد سےآمد و رفت ان کنیزوں کیلگی رہتی ہے کمروں میںکہیں گوری کہیں کالی کبھی رانیعجب ہے کھیل کیرم کا
یہی مکڑی تھی کہ جس نےوہ غار ثور میں جالاتھا کچھ ایسے بنا ڈالاکہ دشمن بھی پہنچ کر واںنہیں ان تک پہنچ پائے
سب مال نکالو، لے آؤاے بستی والو لے آؤیہ تن کا جھوٹا جادو بھییہ من کی جھوٹی خوشبو بھییہ تال بناتے آنسو بھییہ جال بچھاتے گیسو بھییہ لرزش ڈولتے سینے کیپر سچ نہیں بولتے سینے کییہ ہونٹ بھی، ہم سے کیا چوریکیا سچ مچ جھوٹے ہیں گوری؟ان رمزوں میں ان گھاتوں میںان وعدوں میں ان باتوں میںکچھ کھوٹ حقیقت کا تو نہیں؟کچھ میل صداقت کا تو نہیں؟یہ سارے دھوکے لے آؤیہ پیارے دھوکے لے آؤکیوں رکھو خود سے دور ہمیںجو دام کہو منظور ہمیں
دل اک کٹیا دشت کنارےبستی کا سا حال نہیں ہےمکھیا، پیر پروہت پیادےان سب کا جنجال نہیں ہےنا بینے نہ سیٹھ نہ ٹھاکرپینٹھ نہیں چوپال نہیں ہےسونا روپا چوکی مسندیہ بھی مال منال نہیں ہےلیکن یہ جوگی دل والااے گوری کنگال نہیں ہےچاہو جو چاہت کا خزاناتم آنا اور تنہا آنا
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
آج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہیےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لیے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتیں ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پہنائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآزمانے نکلیں گےآرزو کی گہرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books