aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ghere"
پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیںکاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہوکاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کواور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو
درخت! میرے دوستتم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پراور آسان کر دیتے ہو سفرتمہارے پیر کی انگلیاںجمی رہیں پاتال کے بھیدوں پرقائم رہے میرے دوستتمہارے تنے کی متانت اور قوتدھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہےتم بہت پروقار اور سادہ ہومیرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہوضرور.... یہ لو میں اسے کھولتا ہوںروٹیاں دعائیں اور نظمیںمیرے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیںایک شاعر کے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتادوست دکھ دینا تم نے سیکھا ہی نہیںتم نے نہ تو مجھ سے شاعری کا مطلب پوچھااور نہ کبھی میرے مطالعے پر شک کیاایسا ہی ہونا چاہئے دوستوں کواگر میرے پاس اک اور زندگی ہوتی توتو میں اپنی پہلی زندگی تمہاری جڑوں پر گزار دیتامگر میں گھر سے خاندان بھر خوشیوں کے لیے نکلا ہوںاور وہاں میرا انتظار کیا جا رہا ہےتم نے میرے دوستہاں تم نےبہت کچھ سکھایا ہے مجھےمثلاً زمین اور آسمانی بجلیاور ہوااور انتظاراور دوسروں کے لیے زندہ رہنابہت قیمتی ہیں یہ باتیںمیں کیا دے سکتا ہوں اس فیاضی کا جوابمیرے پاس تمہارے لیےایک روٹی اور دعا ہےروٹی: تمہاری چیونٹیوں کے لیےدعا تمہارے آخری دن کے لیےمجھے معلوم ہے تم نے کلہاڑی کے مصافحےاور آری کی ہنسی سے کبھی خوف نہیں کھایامگر تم روک نہیں سکتے انہیںکوئی بھی نہیں روک سکتاخدا کرےخدا کرے تمہاری شاخوں سے ایک جھونپڑی بنائی جائےبازوؤں کے گھیرے میں نہ آنے والے تمہارےتنے کی لکڑیبہت کافی ہےدو پہیوں اور ایک کشتی کے لیےدوست: ہم پھر ملیں گےمسافر اور چھکڑامسافر اور کشتیکہیں نہ کہیں ہم پھر ایک ساتھ ہوں گےکہیں نہ کہیںایک ساتھ.... ہم سامنا کریں گےہوا کا اور راستوں کامسرت اور موت کا....
جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیاہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیمغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہےلیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہےمشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے جائیں گےمحلوں میں اب اپنے لہو کے دئے نہ جلنے پائیں گےکٹیاؤں سے جب تک صبحوں نے منہ پھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیجان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کیدست نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خودداروں کیڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیںاپنی جنگ رہے گی
اتنا سادہ نہ بن تجھ کو معلوم ہےکون گھیرے ہوئے ہے فلسطین کو
کچھ تم سوچوکچھ میں سوچوںکیوں اونچی ہیں یہ دیواریںکب تک ہم ان پر سر ماریںکب تک یہ اندھیرے رہنے ہیںکینہ کے یہ گھیرے رہنے ہیںچلو اپنے دروازے کھولیںاور گھر کے باہر آئیں ہمدل ٹھہرے جہاں ہیں برسوں سےوہ اک نکڑ ہے نفرت کاکب تک اس نکڑ پر ٹھہریںاب اس کے آگے جائیں ہمبس تھوڑی دور اک دریا ہےجہاں ایک اجالا بہتا ہےواں لہروں لہروں ہیں کرنیںاور کرنوں کرنوں ہیں لہریںان کرنوں میںان لہروں میںہم دل کو خوب نہانے دیںسینوں میں جو اک پتھر ہےاس پتھر کو گھل جانے دیںدل کے اک کونے میں بھی چھپیگر تھوڑی سی بھی نفرت ہےاس نفرت کو دھل جانے دیںدونوں کی طرف سے جس دن بھیاظہار ندامت کا ہوگاتب جشن محبت کا ہوگا
یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آسماں ہےکہ جس میں جگنو کی شکل میںبے شمار سورج پگھل رہے ہیںشہاب ثاقب ہےیا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں میںجیسے آگ کے تیر چل رہے ہیںکروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں میں پھیلییہ کہکشائیںخلا گھیرے ہیںیا خلاؤں کی قید میں ہےیہ کون کس کو لیے چلا ہےہر ایک لمحہکروڑوں میلوں کی جو مسافت ہےان کو آخر کہاں ہے جانااگر ہے ان کا کہیں کوئی آخری ٹھکاناتو وہ کہاں ہے
انساں جب تک بچہ ہے تب تک سمجھو سچا ہےجوں جوں اس کی عمر بڑھے من پر جھوٹ کا میل چڑھےکرودھ بڑھے نفرت گھیرے لالچ کی عادت گھیرے
بھلائی سب کی ہو جس سے وہ کام اس کا ہےجہاں بھی جاؤ وہیں احترام اس کا ہےاٹھائے سر کوئی کیا سر اٹھا نہیں سکتامقابلے کے لئے آگے آ نہیں سکتاکسی سے اس کو محبت کسی سے الفت ہےکسی کو اس کی ہے اس کو کسی کی حسرت ہےوفا و لطف ترحم کی خاص عادت ہےغرض کرم ہے مدارات ہے عنایت ہےکسی کو دیکھ ہی سکتا نہیں ہے مشکل میںیہ بات کیوں ہے کہ رکھتا ہے درد وہ دل میںوہ رشک شمع ہدایات ہے انجمن کے لئےوہ مثل روح رواں عنصر بدن کے لئےوہ ایک ساغر نو محفل کہن کے لئےوہ خاص مصلح کل شیخ و برہمن کے لئےلگن اسے ہے کہ سب مالک وطن ہو جائیںقفس سے چھوٹ کے زینت دہ چمن ہو جائیںجفا شعار سے ہوتا ہے بر سر پیکارنہ پاس توپ نہ گولا نہ قبضے میں تلوارزمانہ تابع ارشاد حکم پر تیاروہ پاک شکل سے پیدا ہیں جوش کے آثارکسی خیال سے چرخے کے بل پہ لڑتا ہےکھڑی ہے فوج یہ تنہا مگر اکڑتا ہےطرح طرح کے ستم دل پر اپنے سہتا ہےہزار کوئی کہے کچھ خموش رہتا ہےکہاں شریک ہیں آنکھوں سے خون بہتا ہےسنو سنو کہ یہ اک کہنے والا کہتا ہےجو آبرو تمہیں رکھنی ہو جوش میں آؤرہو نہ بے خود و بیہوش ہوش میں آؤاسی کو گھیرے امیر و غریب رہتے ہیںندیم و مونس و یار و حبیب رہتے ہیںادب کے ساتھ ادب سے ادیب رہتے ہیںنصیب ور ہیں وہ بڑے خوش نصیب رہتے ہیںکوئی بتائے تو یوں دیکھ بھال کس کی ہےجو اس سے بات کرے یہ مجال کس کی ہےرفاہ عام سے رغبت ہے اور مطلب ہےانوکھی بات نرالی روش نیا ڈھب ہےیہی خیال تھا پہلے یہی خیال اب ہےفقط ہے دین یہی بس یہی تو مذہب ہےاگر بجا ہے تو بسملؔ کی عرض بھی سن لوچمن ہے سامنے دو چار پھول تم چن لو
1یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نےشمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہےیاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزریکون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیراک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزریکس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاںکاش میں ایسی کہانی کو سنا بھی سکتاطعنہ زن ہیں جو مرے حال پہ ارباب نشاطان کو اک بار میں اے کاش رلا بھی سکتامیں کہ شاعر ہوں میں پیغام بر فطرت ہوںمیری تخئیل میں ہے ایک جہان بیداردسترس میں مری نظارۂ گلہائے چمنمیرے ادراک میں ہیں کن فیکوں کے اسرارمرے اشعار میں ہے قلب حزیں کی دھڑکنمیری نظموں میں مری روح کی دل دوز پکارپھر بھی رہ رہ کے کھٹکتی ہے مرے دل میں یہ باتکہ مرے پاس تو الفاظ کا اک پردہ ہےصرف الفاظ سے تصویر نہیں بن سکتیصرف احساس میں حالات کی تفسیر کہاںصرف فریاد میں زخموں کی وہ زنجیر کہاںایسی زنجیر کہ ایک ایک کڑی میں جس کیکتنی کھوئی ہوئی خوشیوں کے مناظر پنہاںکتنی بھولی ہوئی یادوں کے پر اسرار کھنڈرکتنے اجڑے ہوئے لوٹے ہوئے سنسان نگرکتنے آتے ہوئے جاتے ہوئے چہروں کے نقوشکتنے بنتے ہوئے مٹتے ہوئے لمحات کا رازکتنی الجھی ہوئی راہوں کے نشیب اور فراز2کیا کہوں مجھ کو کہاں لائی مری عمر رواںآنکھ کھولی تو ہر اک سمت اندھیروں کا سماںرینگتی اونگھتی مغموم سی اک راہ گزارگرد آلام میں کھویا ہوا منزل کا نشاںگیسوئے شام سے لپٹی ہوئی غم کی زنجیرسینۂ شب سے نکلتی ہوئی فریاد و فغاںٹھنڈی ٹھنڈی سی ہواؤں میں وہ غربت کی تھکندر و دیوار پہ تاریک سے سائے لرزاںکتنی کھوئی ہوئی بیمار و فسردہ آنکھیںٹمٹماتے سے دیے چار طرف نوحہ کناںمضمحل چہرے مصائب کی گراں باری سےدل مجروح سے اٹھتا ہوا غم ناک دھواںیہی تاریکیٔ غم تو مرا گہوارہ ہےمیں اسی کوکھ میں تھا نور سحر کے مانندہر طرف سوگ میں ڈوبا ہوا میرا ماحولمیرا اجڑا ہوا گھر میرؔ کے گھر کے ماننداک طرف عظمت اسلاف کا ماتھے پہ غروراور اک سمت وہ افلاس کے پھیلے ہوئے جالبھوک کی آگ میں جھلسے ہوئے سارے ارماںقرض کے بوجھ سے جینے کی امنگیں پامالوقت کی دھند میں لپٹے ہوئے کچھ پیار کے گیتمہر و اخلاص زمانے کی جفاؤں سے نڈھالبھائی بھائی کی محبت میں نرالے سے شکوکنگہ غیر میں جس طرح انوکھے سے سوال''ایک ہنگامے پہ موقوف تھی گھر کی رونق''مفلسی ساتھ لیے آئی تھی اک جنگ و جدالفاقہ مستی میں بکھرتے ہوئے سارے رشتےتنگ دستی کے سبب ساری فضائیں بے حالاک جہنم کی طرح تھا یہ مرا گہوارہاس جہنم میں میرے باپ نے دم توڑ دیاٹوٹ کر رہ گئے بچپن کے سہانے سپنےمجھ سے منہ پھیر لیا جیسے مری شوخی نےمیرے ہنستے ہوئے چہرے پہ اداسی چھائیجیسے اک رات بھیانک مرے سر پر آئیراہیں دشوار مگر راہنما کوئی نہ تھاسامنے وسعت افلاک خدا کوئی نہ تھامیرے اجداد کی میراث یہ ویران سا گھرجس کو گھیرے ہوئے ہر سمت تباہی کے بھنورجس کی چھت گرتی ہوئی ٹوٹا ہوا دروازہہر طرف جیسے بکھرتا ہوا اک شیرازہنہ کہیں اطلس و کمخواب نہ دیبا و حریرہر طرف منہ کو بسورے ہوئے جیسے تقدیرمجھ کو اس گھر سے محبت تو بھلا کیا ہوتییاں اگر دل میں نہ جینے کی تمنا ہوتییہ سمجھ کر کہ یہی ہے مری قسمت کا لکھااس کی دیوار کے سائے میں لپٹا رہتالیکن اس دل کی خلش نے مجھے بیدار کیامجھ کو حالات سے آمادۂ پیکار کیابے کسی رخت سفر بن کر مرے ساتھ چلییاد آئی تھی مجھے گاؤں کی ایک ایک گلیلہلہاتی ہوئی فصلیں وہ مرے آم کے باغوہ مکانوں میں لرزتے ہوئے دھندلے سے چراغدور تک پانی میں پھیلے ہوئے وہ دھان کے کھیتاور تالاب کنارے وہ چمکتی ہوئی ریتمیرے ہم عمر وہ ساتھی وہ مرے ہمجولیمیرے اسکول کے وہ دوست مری وہ ٹولیایک بار ان کی نگاہوں نے مجھے دیکھا تھاجیسے اک بار مرے دل نے بھی کچھ سوچا تھا''میں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھادور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو''
میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسےکوئی پیڑ کی نرم ٹہنی کو دیکھےلچکتی ہوئی نرم ٹہنی کو دیکھےمگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح سچ کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہواڈھیر بن کر پڑا ہومیں یہ چاہتی ہوں کہ جھونکے ہوا کے لپٹتے چلے جائیں مجھ سےمچلتے ہوئے چھیڑ کرتے ہوئے ہنستے ہنستے کوئی بات کہتے ہوئے لاج کے بوجھسے رکتے رکتے سنبھلتے ہوئے رس کی رنگین سرگوشیوں میںمیں یہ چاہتی ہوں کبھی چلتے چلتے کبھی دوڑتے دوڑتے بڑھتی جاؤںہوا جیسے ندی کی لہروں سے چھوتے ہوئے سرسراتے ہوئے بہتی جاتی ہے رکتینہیں ہےاگر کوئی پنچھی سہانی صدا میں کہیں گیت گائےتو آواز کی گرم لہریں مرے جسم سے آ کے ٹکرائیں اور لوٹ جائیں ٹھہرنے نہ پائیںکبھی گرم کرنیں کبھی نرم جھونکےکبھی میٹھی میٹھی فسوں ساز باتیںکبھی کچھ کبھی کچھ نئے سے نیا رنگ ابھرےابھرتے ہی تحلیل ہو جائے پھیلی فضا میںکوئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں رکنے نہ پائے
ایسے ہی بیٹھے ادھر بھیا تھے دائیں جانبان کے نزدیک بڑی آپا شبانہ کو لیےاپنی سسرال کے کچھ قصے لطیفے باتیںیوں سناتی تھیں ہنسے پڑتے تھے سبسامنے اماں وہیں کھولے پٹاری اپنیمنہ بھرے پان سے سمدھن کی انہیں باتوں پرجھنجھلاتی تھیں کبھی طنز سے کچھ کہتی تھیںہم کو گھیرے ہوئے بیٹھی تھیں نعیمہ شہنازوقفہ وقفہ سے کبھی دونوں میں چشمک ہوتیحسب معمول سنبھالے ہوئے خانہ داریمنجھلی آپا کبھی آتی کبھی جاتی تھیںہم سے دور ابا اسی کمرے کے اک کونے میںکاغذات اپنے اراضی کے لیے بیٹھے تھےیک بیک شور ہوا ملک نیا ملک بنااور اک آن میں محفل ہوئی درہم برہمآنکھ جو کھولی تو دیکھا کہ زمیں لال ہے سبتقویت ذہن نے دی ٹھہرو نہیں خون نہیںپان کی پیک ہے یہ اماں نے تھوکی ہوگی
بچھڑے ہوؤں کو بچھڑے ہوؤں سے ملائے ہےہر سمت عید جشن محبت منائے ہےانسانیت کی پینگ محبت بڑھائے ہےموسم ہر اک امید کو جھولا جھلائے ہےبارش میں کھیت ایسی طرح سے نہائے ہےرونق ہر اک کسان کے چہرے پہ آئے ہےہم سب کو اپنے گھیرے میں لینے کے واسطےچاروں طرف سے گھر کے گھٹا آج آئے ہےحیوانیت نے خون کے دھبے جنم دیےبرسات آ کے خون کے دھبے چھڑائے ہےشہزادئ بہار کی آمد ہے باغ میںہر ایک پھول راہ میں آنکھیں بچھائے ہےہے کتنی پیاری پیار بھری عید کی ادااپنا سمجھ کے سب کو گلے سے لگائے ہےسچ پوچھیے تو یہ بھی محبت کا ہے ثبوتجو رائے آپ کی ہے وہی میری رائے ہےبوچھاریں آ کے دیتی ہیں اس کو سلامیاںبنسی بجا بجا کے جو میلہ لگائے ہےمیں جاؤں گا تو پھر کبھی واپس نہ آؤں گاکالی گھٹا تو ہر برس آئے ہے جائے ہےعید الفطر کی وجہ شرافت تو دیکھیےہر سال آ کے سب کو گلے سے لگائے ہےدیجے دعائیں عید کی تیوہار کو نذیرؔاک بھیڑ آج آپ سے ملنے کو آئے ہے
ساری زمیں کو گھیرے ہوئے ہیںآخر چند گھرانے کیوںنام نبی کا لینے والےالفت سے بیگانے کیوںخطرہ ہے خوں خواروں کورنگ برنگی کاروں کوامریکہ کے پیاروں کوخطرے میں اسلام نہیں
چار سمت کی دیوارچاہے کتنی پھیلی ہوآپ کا احاطہ ہےآپ کا ہے گھیراؤکیوں گرفت میں آؤںکیوں مجھے کوئی گھیرےصرف ایک خواہش ہےبے حدود آزادی!
بڑھاتی ہوں قدمفوراً ہی پیچھے کھینچ لیتی ہوںیہ اندیشہ مجھے آگے کبھی بڑھنے نہیں دیتانہ جانے لوگ کیا سوچیںنہ جانے لوگ کیا بولیںاسی اک خوف کے گھیرے میں جیتی اور مرتی ہوںمگر کب تک
فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غمہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و المآئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستمکیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہمجب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہابہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدااس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجوچھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کوشکوہ عدو کا کیا ہے جب احباب ہیں عدوجینے کی اک سیکنڈ نہیں اب تو آرزوہم نے سمجھ لیا کہ جہاں سے گزر گئےجب دل ہی مر گیا تو سب ارمان مر گئےہم پر گرائیں چرخ نے اس حد پہ بجلیاںدم بھر میں جل کے خاک ہوئیں ساری استخواںچلتی رہیں ہوائے مخالف کی آندھیاںآتا نہیں سمجھ میں کہ جا کر چھپیں کہاںزیر زمیں بھی چین کی امید اب نہیںپھر کیا ہے یہ بتا دے کوئی گر غضب نہیںمکر و فریب سے جو کریں زندگی بسرسو جاں ہزار دل سے ہو قربان ہر بشردن رات ہم ہوں اور ہوں احباب خیرہ سرایمان داریوں میں کٹی زندگی اگرہر ایک کی نگاہ میں بس خار ہو گئےبے سونچے سمجھے مستحق دار ہو گئےدعویٰ تو یہ ہے ہم بھی مسلمان ہیں ضرورکلمہ جو پوچھیے تو نہیں یاد ہے حضورکیا غم اگر شکستہ عزیزوں کے ہیں قبورتیرا یہ اس پہ حد سے زیادہ ہے کچھ غرورمیلوں کے واسطے جو طلب ہو تو خوب دیںقومی جو کوئی کام ہو تو نام بھی نہ لیںپوچھا اگر عبادت خالق ہے کوئی چیزفرمایا دل میں یہ تو نہایت ہے بد تمیزعیاشیاں جو کیجیئے تو آپ ہیں عزیزاے قوم کاہلی ہے تری گھر کی اب کنیزاچھی بری کا جب تو نہیں امتیاز ہےبے مائیگی پر اپنی فقط تجھ کو ناز ہےہشیار کوئی لاکھ کرے تو ہے بے خبراس درجہ بے حیا کہ نہیں دل پہ کچھ اثرنازاں ہیں صرف باپ کے دادا کے نام پرقرضے میں ہو رہی ہے مگر زندگی بسردیکھو تو غیر ہنستے ہیں ہشیار ہو ذراللہ اب تو خواب سے بیدار ہو ذراپھولو پھلو الٰہی رہو شاد سر بسرہو نخل اتحاد ہمیشہ یہ باروروہ دن خدا دکھائے کہ لے آئے یہ ثمرآنا ہے تم کو منزل مقصود تک اگرڈالی ہے اتحاد کی تم نے جو داغ بیلہمت نہ ہارو جان کے بچوں کا ایک کھیلدیکھو تو اور قوموں میں کیا اتحاد ہےدولت سے اور علم سے ہر ایک شاد ہےتم میں بھی آج ایسا کوئی خوش نہاد ہےمحمود کا یہ قول ہمیں اب تو یاد ہےدو دن رہے جو آ کے جہاں میں تو کھل گئےآخر کو مثل خار چمن سے نکل گئےاے ساکنان موضع جگور السلامدنیا ہے آج تم کو ہر اک بات کا پیاماب تو نکالو اپنی دلوں سے خیال خاماچھا نہیں جو غیر کے بن جاؤ تم غلاماچھی نصیحتوں پہ عمل پھر ضرور ہےکوئی نہ یہ کہے کہ سراسر قصور ہےاپنے امور میں نہ کرو غیر کو شریکشر کو نہ ڈھونڈھو اور کرو خیر کو شریکاچھے نہیں سفر جو کریں سیر کو شریککعبہ کے ذکر میں نہ کرو دیر کو شریکتم خود رہے ہو صاحب اقبال دہر میںکیوں ڈھونڈتے ہو ذائقہ شہد زہر میںاخلاق کا چراغ بجھانا نہ چاہئےظلمت کدہ میں غیر کے جانا نہ چاہئےسچی نصیحتوں کو بھلانا نہ چاہئےتم کو کسی فریب میں آنا نہ چاہئےاللہ کے بھروسہ پہ ہر کام تم کرودشمن بھی جس کو مان لیں وہ نام تم کرو
گھر پر بھی تھے گھیرے ہوئے اسکول کے دھندےآزادی سے اب موج اڑانے کے دن آئے
ایک بے حد مصروف لمحے کے لیےسنبھال رکھا تھا میں نےبہت سارا خالی وقتاپنی آنکھوں میںاپنے ہونٹوں پراپنی بانہوں کے ٹوٹتے ہوئے گھیرے میںبے ہنگم خوابوں کے بکھرتے دائرے میں
یوں ہی دیر تک رات رات بھر جاگتی ہوںتارے گنتی ہوں یادیں جمع کرتی ہوںاور صبح ہونے تک سب بھول جاتی ہوںبے کار سوچیں گھیرے رہتی ہیں ہمہ وقت مجھ کومیرے آسمان کے چاند کو خبر دو
گھیرے رہتا ہے مجھ کو حلقے میں یادوں کےیادوں کی اسی راہ گزر میںلاکھوں محفل لاکھوں چہرےپھر بھی میرے دل درپن میںرہتا ہے بس تیرا چہرہتیرے آگے سجدہ کروںدل کہتا ہےتیرا وجود مری نظروں میںہے نہ حقیقی ہے نہ مجازیتجھ سے کیا رشتہ ہے میرانام نہیں ہے اس رشتے کابس بے نام سا اک رشتہ ہےرشتوں اور سپنوں کی ساری بحث پرانیپھر بھی تیرےنام کے آتے ہی یہ رشتےاور یہ سپنےروپ حقیقت کا لیتے ہیںتازگی ان میں آ جاتی ہےجوش نیا جذبہ انجانا آ جاتا ہےجیسے جیسے وقت گزر جاتا ہے یادوں کے نقوشگہرے ہوتے جاتے ہیںاحساس کی شدتبڑھتی جاتی ہےوقت گزر جائے گا اک دنشہر اجڑ جائیں گے اک دنلیکنتیری یاد کی خوشبو رہ جائے گیاورآواز کا پیکر رنگوں میں ڈھل جائے گاخوشبو کو روکا ہے کس نےآوازیں کب قید ہوئی ہیںچاہت کب زنجیروں کو دیتی ہے دعوتاس لئے لگتا ہے شایدلمحہ لمحہ پل پل تیرے قرب کی خوشبوبڑھتی جاتی ہےآواز کا پیکردائرہ پھیلاتا جاتا ہےچاہت کا آکاشگھنیرا ہوتا جاتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books