aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ibtida"
میں ابتدائے عشق سے بے مہر ہی رہاتم انتہائے عشق کا معیار ہی رہوتم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئیاس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو
یہ کائنات عظیملگتا ہےاپنی عظمت سےآج بھی مطمئن نہیں ہےکہ لمحہ لمحہوسیع تر اور وسیع تر ہوتی جا رہی ہےیہ اپنی بانہیں پسارتی ہےیہ کہکشاؤں کی انگلیوں سےنئے خلاؤں کو چھو رہی ہےاگر یہ سچ ہےتو ہر تصور کی حد سے باہرمگر کہیں پریقیناً ایسا کوئی خلا ہےکہ جس کوان کہکشاؤں کی انگلیوں نےاب تک چھوا نہیں ہےخلاجہاں کچھ ہوا نہیں ہےخلاکہ جس نے کسی سے بھی ''کن'' سنا نہیں ہےجہاں ابھی تک خدا نہیں ہےوہاںکوئی وقت بھی نہ ہوگایہ کائنات عظیماک دنچھوئے گیاس ان چھوئے خلا کواور اپنے سارے وجود سےجب پکارے گی''کن''تو وقت کو بھی جنم ملے گااگر جنم ہے تو موت بھی ہےمیں سوچتا ہوںیہ سچ نہیں ہےکہ وقت کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا ہےیہ ڈور لمبی بہت ہےلیکنکہیں تو اس ڈور کا سرا ہےابھی یہ انساں الجھ رہا ہےکہ وقت کے اس قفس میںپیدا ہوایہیں وہ پلا بڑھا ہےمگر اسے علم ہو گیا ہےکہ وقت کے اس قفس سے باہر بھی اک فضا ہےتو سوچتا ہےوہ پوچھتا ہےیہ وقت کیا ہے
یہی فضا تھی یہی رت یہی زمانہ تھایہیں سے ہم نے محبت کی ابتدا کی تھی
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سےستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سےقمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھانہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سےابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیامذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سےکمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویاہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سےسنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھاصفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سےلکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہچھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سےنگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کیوہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سےبڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانبتمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سےپھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میںچھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سےچمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگااڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سےتڑپ بجلی سے پائی حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سےذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لیملک سے عاجزی افتادگی تقدیر شبنم سےپھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سےمہوس نے یہ پانی ہستئ نوخیز پر چھڑکاگرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سےہوئی جنبش عیاں ذروں نے لطف خواب کو چھوڑاگلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہم دم سےخرام ناز پایا آفتابوں نے ستاروں نےچٹک غنچوں نے پائی داغ پائے لالہ زاروں نے
یہ فاصلہجو تمہارے اور میرے درمیاں ہےہر اک زمانہ کی داستاں ہےنہ ابتدا ہےنہ انتہا ہےمسافتوں کا عذاب سانسوں کا دائرہ ہےنہ تم کہیں ہونہ میں کہیں ہوںتلاش رنگین واہمہ ہےسفر میں لمحوں کا کارواں ہےیہ فاصلہ!جو تمہارے اور میرے درمیاں ہےیہی طلب ہے یہی جزا ہےیہی خدا ہے
لب بیاباں، بوسے بے جاںکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟جسم کی یہ کار گاہیںجن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائےکہ جیسے دزد شب گرداں کوئی!شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہمپی رہے تھے جام پر ہر جام ہمیہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئیشاید آخر ابتدائے راز کا ایما بنے!مطلب آساں حرف بے معنیتبسم کے حسابی زاویےمتن کے سب حاشیےجن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!اور آخر بعد جسموں میں سر مو بھی نہ تھاجب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلےقرب چشم و گوش سے ہم کون سی الجھن کو سلجھاتے رہے!کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم؟یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو بہ رویا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزوکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟
نہ تو حقیقت ہے اور نہ میںاور نہ تیری میری وفا کے قصےنہ برکھا رت کی سیاہ راتوں میںراستہ بھول کر بھٹکتی ہوئی سجل ناریوں کے جھرمٹنہ اجڑے نگروں میں خاک اڑاتےفسردہ دل پریمیوں کے نوحےاگر حقیقت ہے کچھ تو یہ اک ہوا کا جھونکاجو ابتدا سے سفر میں ہےاور جو انتہا تک سفر کرے گا
تمام کندے (تو جانتی ہے)جو سطح دریا پہ ساتھ دریا کے تیرتے ہیںیہ جانتے ہیں یہ حادثےکہ جس سے ان کو،(کسی کو) کوئی مفر نہیں!تمام کندے جو سطح دریا پہ تیرتے ہیں،نہنگ بننا یہ ان کی تقدیر میں نہیں ہے(نہنگ کی ابتدا میں ہے اک نہنگ شاملنہنگ کا دل نہنگ کا دل!)نہ ان کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بننا(درخت کی ابتدا میں ہے اک درخت شاملدرخت کا دل درخت کا دل!)تمام کندوں کے سامنے بند واپسی کیتمام راہیںوہ سطح دریا پہ جبر دریا سے تیرتے ہیںاب ان کا انجام گھاٹ ہیں جوسدا سے آغوش وا کیے ہیںاب ان کا انجام وہ سفینےابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھیاب ان کا انجامایسے اوراق جن پہ حرف سیہ چھپے گااب ان کا انجام وہ کتابیںکہ جن کے قاری نہیں، نہ ہوں گےاب ان کا انجام ایسے صورت گروں کے پردےابھی نہیں جن کے کوئی چہرےکہ ان پہ آنسو کے رنگ اتریں،اور ان میں آئندہان کے رویا کے نقش بھر دےغریب کندوں کے سامنے بند واپسی کیتمام راہیںبقائے موہوم کے جو رستے کھلے ہیں اب تکہے ان کے آگے گماں کا ممکنگماں کا ممکن جو تو ہے میں ہوں!جو تو ہے میں ہوں
اے آفتاب روح و روان جہاں ہے توشیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے توباعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کاہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کاقائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہےہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہےہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہےتیرا یے سوز و ساز سراپا حیات ہےوہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہےدل ہے خرد ہے روح رواں ہے شعور ہےاے آفتاب ہم کو ضيائے شعور دےچشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دےہے محفل وجود کا ساماں طراز تويزدان ساکنان نشيب و فراز توتیرا کمال ہستی ہر جان دار میںتیری نمود سلسلہ کوہسار میںہر چیز کی حیات کا پروردگار توزائيدگان نور کا ہے تاجدار تونے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تریآزاد قيد اول و آخر ضیا تری
تعلقترک کرنا ہےتعلقترککر لینامگرویسے نہیںجیسےزمانہترککرتا ہےدلوں میںفرقکرتا ہےوفا کوغرق کرتا ہیںتعلقترک کرنا ہےتعلقترک کر لینامگراک مشورہ سن لواسے تم التجا سمجھوتمہیں بس اتناکرنا ہےکہ اسانجام سے پہلےمیرا آغاز دہرا دومجھے پھر مجھ سے ملوا دوتمہیں بس اتناکرنا ہےمحبتکے مہینے کیوہی تاریخ چنی ہےوہیاک وقترکھنا ہےوہیکپڑے پہننے ہیںوہیخوشبو لگانی ہےجو پہلے دن لگائی تھیمحبت کیوہپہلیمسکراہٹساتھ لانی ہےاسی کیفے میں آنا ہےاسی ٹیبل کو چننا ہےوہی کافی منگانی ہےکہ جو اس دن منگائی تھیچمکآنکھوں میںوہ ہی ہوکھنکباتوں میںوہ ہی ہوہتھیلی پراسی انداز میںمہندی رچا لیناکہ جواس دن رچائی تھیسنو جاناںمحبت کامرا پہلالفافہوہ گلابی خطاسے تم ساتھ لے آناتمہاراخطکہ جس کے رنگاب تکہو بہ ہو وہ ہیںاسے میں ساتھ لاؤں گالفافے ہمبدل لیں گےتعلقترک کر لیں گےاسی دنکی طرحکیفے سے جاتے وقتمڑ کر دیکھ پاؤ تویہ تم پر چھوڑتا ہوں میںتعلق توڑتا ہوں میںجہاں سےابتدا کی تھیوہیں پرانتہا کرناتعلقترک کرنا ہےتعلقترککر لینامگرویسے نہیںجیسےزمانہترککرتا ہے
1بچھی ہوئی ہے بساط کب سےزمانہ شاطر ہے اور ہماس بساط کے زشت و خوب خانوں میںدست نادیدہ کے اشاروں پہ چل رہے ہیںبچھی ہوئی ہے بساط ازل سےبچھی ہوئی ہے بساط جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا ہےبساط ایسا خلا ہے جو وسعت تصور سے ماورا ہےکرشمۂ کائنات کیا ہےبساط پر آتے جاتے مہروں کا سلسلہ ہےبساط ساکت ہے وقت مطلق
اے لیلیٔ جمہوریتاے دلبر ہندوستاںتجھ سے فروغ شمع شبمحفل میں لو کی ابتدااہل وفا کے دیس میںتاریخ نو کی ابتداظلمت بد اماں خاک پرسورج کی ضو کی ابتداہر لب پہ تیری داستاںزلفیں تری عنبر فشاںاے دلبر ہندوستاںتو اپنے دست ناز میںاک خوش نما پرچم لئےاپنے جلو میں نو بہ نوخوشیوں کا اک عالم لئےمنزل کے راہی کے لئےاک رو لئے اک رم لئےہنستی ہوئی گاتی ہوئیآواز سی دیتی ہوئیسنگیت کی ہر تان میںدرس عمل دیتی ہوئیبن کر امنگوں کا نشاںآئی ہمارے درمیاںاے دلبر ہندوستاںاب جگمگاتی راہ ہےاور رہروؤں کے قافلےاب تیز ہیں سب کے قدماب مٹ رہے ہیں فاصلےاب زندگی ہے وجد میںاب جاگتے ہیں ولولےتھک کر کوئی سوتا نہیںاب پیڑ کے سائے تلےنغمات آزادی کی دھنکتنی جنوں انگیز ہےاب نشۂ مے ہے سوااب ساز کی لے تیز ہےاب روح کو حاصل یہاںصد عشرت پرویز ہےمسرور ہیں پیر و جواںاے دلبر ہندوستاںتیری حد شاداب میںگنگ و جمن آباد ہیںکہسار کے ہیں سلسلےدشت و دمن آباد ہیںاہل یقیں آباد ہیںارباب فن آباد ہیںمہتاب اور تارے لئےنیلے گگن آباد ہیںجنت نشاں کشمیر کےرنگیں چمن آباد ہیںجو ہیں ہماری آبروہیں جمن کے ہم سب پاسباںاے دلبر ہندوستاںآ ہم ترے آنچل تلےپرچم ترا اونچا کریںتیری حفاظت کے لئےسیف و قلم یکجا کریںتجھ کو بنائیں کامراںاے دلبر ہندوستاںمفہوم آزادی ہے کیانور سحر کی جستجوکیا ہے متاع حریتانساں کے دل کی آرزوصد آفریں بر دور مےآزاد ہیں جام و سبوآزاد ہے پائل کی دھنآزاد ہے زلفوں کی بوآزاد ہے سوز جگرآزاد ہے دل کا لہوآزاد ہے ذوق سفرآزاد ہے جینے کی خوجائے نہ کیوں دل کی لگنمحفل بہ محفل کو بہ کوصد مرحبا پوری ہوئیوہ حسرت کیف نموجس کے سبب برباد تھاصدیوں سے اپنا کارواںاے دلبر ہندوستاںتو ظلمتوں کے سیل میںشمع فروزاں بن گئیشب تاب افق پر ہند کےنور درخشاں بن گئیوادیٔ نکہت بیز میںجوئے خراماں بن گئیخوشبو سے جس کی چار سووہ زلف جاناں بن گئیدل کا سکوں آرام جاںاے دلبر ہندوستاں
زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردوزبان شعر میں فطرت کا اک انعام ہے اردوسبھی اس کو سمجھتے ہیں سبھی میں عام ہے اردوزباں کوئی بھی ہو ہر ایک کا انجام ہے اردوگئے وہ دن کہ جب کچھ لوگ ہی اس کو سمجھتے تھےزبانوں میں ابھر آئی ہے طشت از بام ہے اردوکہیں ہے ابتدا اس کی کہیں ہے انتہا مظہرکہیں آغاز ہے اردو کہیں انجام ہے اردویہ با اخلاق قوموں میں سرشتہ ہے اخوت کاسلوک غیر سے بھی آج خوش انجام ہے اردومرقع ہے حسیں تحریک افسانی کے خاکوں کامکمل اجتماع گوہر ایام ہے اردوعروس زندگی کی تاب و زینت جس زباں سے ہےاسی خوش کام فطرت کا اچھوتا نام ہے اردودیار پاک یا ہندوستاں دونوں وطن اس کےزباں ہر ایک جس میں قید ہے وہ دام ہے اردوذرا سی ٹھیس سے بھی شیشۂ دل ٹوٹ جاتا ہےبہت نازک مگر از قسم استحکام ہے اردوبہ ہر عنواں یہی اک پیشوائے حسن و خوبی ہےغلط ہے ایشیا میں مورد الزام ہے اردوممالک غیر میں بھی آج اس کو سب سمجھتے ہیںوطن والوں میں ایک تصویر صد اقوام ہے اردوکسی فرقے کا لیڈر ہو وہ لیڈر بن نہیں سکتانہ سمجھے جب تلک جنتا میں کتنی عام ہے اردوسفارت ہو سنیما ہو کہ ٹی وی ریڈیو سب میںسروں کا نشہ ہے فکر و نظر کا جام ہے اردواسی کو بولنے میں روح کو اب ہے سکوں حاصلزمانے کی زبانوں کے لئے پیغام ہے اردومسلسل ارتقائے آدمیت اس سے مظہر ہےبہ قید نطق ماجدؔ رہبر اقوام ہے اردو
اک فنا اپنی ابتدا جاناںاک فنا اپنی انتہا جاناں
میری تلاش مجھے لے چلی ہے ماضی میںتمہیں بتاؤ میں خود کو کہاں تلاش کروںپگھل پگھل کے صدا امتحاں کی آتش میںوجود ڈھل گیا میرا عجیب سانچوں میںوہ اک وجود جو رشتوں میں کھو گیا ہے کہیںاسی وجود کو پھر سے کہاں تلاش کروںتراشنا ہے نیا اک مجسمہ یا پھرمیں اپنے گمشدہ حصوں کو پھر تلاش کروںتمہیں بتاؤ میں خود کو کہاں تلاش کروںسوال یہ ہے کہ تم سے ہی کیوں مخاطب ہوںچلو بتاؤں تمہیں کم سے کیوں سوال کیاتمہیں پہ آ کے رکا تھا محبتوں کا سفرتمہیں ہو آخری پہچان میرے ہونے کیتو کیوں نہ تم سے شروع ہو یہ واپسی کا سفرتمہارے پیار کے بدلے جو پیار تم کو دیامیری وفاؤں نے جو اختیار تم کو دیاوہ اختیار جو تم نے قفس میں ڈھال دیااسی قفس سے رہائی ہے ابتدا میریتمہارے نام کیا تھا جو عمر کا حصہیہ التجا ہے مری آج مجھ کو لوٹا دوبڑا کٹھن ہے میری جاں یہ واپسی کا سفررہائی دے کے مجھے آج مجھ سے ملوا دو
یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نےیہیں کی جرأت اظہار حرف مدعا میں نےیہیں دیکھے تھے عشوۂ ناز و انداز حیا میں نےیہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نےیہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
محبت زندگی ہےمحبت دل کی تیرہ ساعتوں میں روشنی ہےیہ ویرانوں میں خود رو نغمگی ہےمحبت جرأت اظہار ہے کردار ہےمحبت دیدۂ بے دار ہے پندار ہےایثار ہےمحبت جان دیتی ہےمحبت مان دیتی ہےمحبت بے نشاں رشتوں کو بھی پہچان دیتی ہےمحبت عقل بھی ہےمحبت ماورائے عقل بھی ہےمحبت ہجر بھی ہے وصل بھی ہےمحبت پیش رفت نسل بھی ہےمحبت زخم پر مرہممحبت سربسر ترحممحبت محترم سچ کا علم زور قلممحبت کاوش پیہممحبت راز یزداں کھولتی ہےمحبت ظرف آدم تولتی ہےمحبت خامشی میں بولتی ہےمحبت آرزو ہے جستجو ہے رنگ و بو ہےمحبت جیت کر مٹنے کی خو ہےمحبت ہار کر بھی سرخ رو ہےمحبت ابتدا ہے انتہا ہےمحبت باعث ارض و سما ہےمحبت میں خدا بھی مبتلا ہے
علم اللہ نے فرض ہم پر کیاعلم سے ہم پہ راز حقیقت کھلاعلم سے ہی ملی ہم کو راہ وفاعلم ہے ابتدا علم ہے انتہا
حقیقت اپنی منوائی حقیقت آشنا ہو کرجو اٹھا ابتدا ہو کر تو بیٹھا انتہا ہو کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books