aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "imdaad"
خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیدل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفتمیری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گیمیں اٹھا لوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پرخدمت قوم و وطن میں جو بلا آئے گیسامنا صبر و شجاعت سے کروں گا میں بھیکھنچ کے مجھ تک جو کبھی تیغ جفا آئے گیغیر زعم اور خودی سے جو کرے گا حملہمیری امداد کو خود ذات خدا آئے گیآتما ہوں میں بدل ڈالوں گا فوراً چولاکیا بگاڑے گی اگر میری قضا آئے گیخون روئے گی سما پر میرے مرنے پہ شفقغم منانے کے لیے کالی گھٹا آئے گیابر تر اشک بہائے گا مرے لاشے پرخاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گیزندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلکؔخلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
بولیں اماں محمد علیؔ کیجان بیٹا خلافت پہ دے دوساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھیجان بیٹا خلافت پہ دے دوگر ذرا سست دیکھوں گی تم کودودھ ہرگز نہ بخشوں گی تم کومیں دلاور نہ سمجھوں گی تم کوجان بیٹا خلافت پہ دے دوغیب سے میری امداد ہوگیاب حکومت یہ برباد ہوگیحشر تک اب نہ آباد ہوگیجان بیٹا خلافت پہ دے دوکھانسی آئے اگر تم کو جانیمانگنا مت حکومت سے پانیبوڑھی اماں کا کچھ غم نہ کرناکلمہ پڑھ پڑھ خلافت پہ مرناپورے اس امتحاں میں اترناجان بیٹا خلافت پہ دے دوہوتے میرے اگر سات بیٹےکرتی سب کو خلافت پہ صدقےہیں یہی دین احمد کے رستےجان بیٹا خلافت پہ دے دوحشر میں حشر برپا کروں گیپیش حق تم کو لے کے چلوں گیاس حکومت پہ دعویٰ کروں گیجان بیٹا خلافت پہ دے دوچین ہم نے شفیقؔ اب نہ پایاجان بیٹا خلافت پہ دے دو
حب قومی کا زباں پر ان دنوں افسانہ ہےبادۂ الفت سے پر دل کا مرے پیمانہ ہےجس جگہ دیکھو محبت کا وہاں افسانہ ہےعشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہےجب کہ یہ آغاز ہے انجام کا کیا پوچھنابادۂ الفت کا یہ تو پہلا ہی پیمانہ ہےہے جو روشن بزم میں قومی ترقی کا چراغدل فدا ہر اک کا اس پر صورت پروانہ ہےمجھ سے اس ہمدردی و الفت کا کیا ہووے بیاںجو ہے وہ قومی ترقی کے لیے دیوانہ ہےلطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاںبر خلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہےنخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میںقابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہےہے گل مقصود سے پر گلشن کشمیر آجدشمنی نااتفاقی سبزۂ بیگانہ ہےدر فشاں ہے ہر زباں حب وطن کے وصف میںجوش زن ہر سمت بحر ہمت مردانہ ہےیہ محبت کی فضا قائم ہوئی ہے آپ سےآپ کا لازم تہ دل سے ہمیں شکرانہ ہےہر بشر کو ہے بھروسا آپ کی امداد پرآپ کی ہمدردیوں کا دور دور افسانہ ہےجمع ہیں قومی ترقی کے لیے ارباب قومرشک فردوس ان کے قدموں سے یہ شادی خانہ ہے
نیا سال تم کو مبارک ہو بچوسدا خوش رہو تم پھلو اور پھولوخدا کی عنایت رہے تم پہ دائمہمیشہ رہو سیدھے رستے پہ قائمترقی کرو علم میں اور ہنر میںبلندی ہو پیدا تمہاری نظر میںغریبوں کی امداد کرتے رہو تمدم ان کی محبت کا بھرتے رہو تمرہو تم ہمیشہ قوی اور توانازمانہ پکارے تمہیں کہہ کے داناجو بگڑے بھی ہوں کام ان کو سنبھالوکبھی آج کا کام کل پر نہ ٹالوبنو نیک نیکی تمہارا چلن ہوبھلائی کی دھن میں ہمیشہ مگن ہورہو سکھ سے دائم نہ دکھ پاس آئےخدا تم کو بیماریوں سے بچائےدعا ہے یہ نیرؔ کی تم نام پاؤاور اس سال میں کچھ نہ کچھ کر دکھاؤ
اس ساحرانہ کشش سے ہار کراپنا تہمد اتار کروہ مردہ پانی میں کود پڑےجل کنبھی سے الجھےتو ہفتے عشرے کے حمل کے مانندنرم اور خام سروں والےگل گتھنے(صداکار میڈکوں کےدم دار بچے)شارک لہروں کے شورسے ڈر کےفرفر ہر طرف بھاگ کھڑے ہوئےاور شیر امداد علی گلے گلے پانی میں تھےاور کنول دور تھا....
سویرے ایسا لگاجیسے کوئی دروازے پر دستک دے رہا ہےاٹھ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھاکھٹ کھٹ کی آواز پر دھیان دیاتو کھڑکی کے پٹ پر بیٹھا نظر آیا ایک پرندہچونچ سے بنا رہا تھا نقش و نگارکیوں بھئی میں نے پوچھا تو کہنے لگاکرائے پر چاہئے ایک ٹہنی جس پر بنا سکوں اپنا گھونسلہاپنی تو جیسے تیسے کٹ ہی جائے گیلیکن بال بچوں کا کیا ہوگاآپ کے بھائی بندوں نے کاٹ ڈالے جنگلاور دے دیا دیس نکالاثواب کی نیت سے بھلے آدمی دالان میں رکھ دیتے ہیں پانی کی کٹوری اور دانہپیٹ کی آگ بجھانے کو تھوڑا سا کھا پی لیتے ہیںچھت بھلے نہ ہو کھانا تو چاہئے ہیکبھی لگتا ہے بجلی کے تار چھو کر خودکشی کر لوںیا اونچے موبائل ٹاوروں سے ٹکرا کر جان دے دوںجیسے کسانوں کو خود کشی کے بعد سرکار کچھ امداد دے دیتی ہےشاید کوئی گوشہ ہمیں بھی الاٹ کر دے بچوں کے لیےیہ سن کر میں تو چکرا گیااس طرف تو سچ مچ میں نے کوئی دھیان نہیں دیا تھاجنگلوں کو کاٹتے سمے کس نے سوچا ہوگا کہیہ بے زبان کہاں جائیں گےمیں نے ہاتھ جوڑ کر کہاان ظالموں کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوںخدا کے واسطے خود کشی کا خیال دل میں نہ لاناجب تک جی چاہے میری کنڈی میں لگے ون روم کچن ہی میں گزارہ کر لوکچھ تنگی سہی لیکن انتظام ہو جائے گااس نے کہامہربانی مگر میں کرایہ ادا کرنے کا اہل نہیںمیں نے کہا صبح شام اپنی میٹھی بولی سنا دیا کرنا بسمجھے اور کچھ نہیں چاہیےاس نے کہامیرے دھنیہ بھاگ کہ آپ جیسے ہمدرد انسان سے ملاقات ہو گئیلیکن ہر کوئی تو آپ جیسا نہیںاور پھر میرے باقی ہم جنسوں کا کیا ہوگامیں نے کہاانہیں بھی کہیں نہ کہیں سر چھپانے کو جگہ مل جائے گیمگر خدارا تم خود کشی کا ارادہ ترک کر دوہم جھاڑ لگائیں گے اور ان کی حفاظت بھی کریں گےیہ سنتے ہی وہ خوشی خوشی تنکے جمع کرنے میں مگن ہو گیااورمیں گھر میں آپ کو یہ سارا ماجرا سنانے چلا آیااس ننھے سے پرندے کی کھٹ کھٹ نے گویا میرے دل و دماغ کےدروازے کھول دئےیہ سن کر یا پڑھ کر آپ بھی اپنے آنگن میں ایک جھاڑ تولگائیں گے نایا کنڈی میں ایک بیج تو بوئیں گے ناکم از کم ایک بیج
میری پیدائش پرقرض خواہوں نے جشن منایامجھےپی ایل 480 کے دانۂ گندم سے بپتسمہ دیا گیااورامداد میں ملنے والے خشک دودھ سے میری پرورش کی گئیمجھےپولیو کی جعلی قطرے پلائے گئےاورکاندھے پر جاں نشینی کی چادر ڈال کرمجھےبوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کا کفیل مقرر کیا گیاابمیں ورلڈ بینک کا محبوباورآئی ایم ایف کا شہزادہ ہوںایشین ڈولپمنٹ بینکمیری دستار بندی کے لیے بیتاب ہےیو ایس ایڈ والےمجھے اپنا روزی رساں سمجھتے ہیںمیں مقروض پیدا ہوا تھااور مقروض ہی مروں گامیری ڈیوٹیاب فقط چھ سات مقروض پیدا کرناتاکہاس صارف معاشرے میں اپنا تشخص برقرار رکھ سکوںمجھےان پڑھ ہونے کی سند امتیاز عطا کی گئیتاکہ میںاپنے حقوق کی یاد داشت تحریر نہ کر سکوںمجھےانتخابات کے دن چھٹی بھی نہ دی گئیتاکہمیںاپنا ووٹ اپنی تقدیر کے حق میں نہ ڈال سکوں
مچا کے گل کوئی امداد تو نہیں کرتےبہت عزیز سہی تم کو سرزمیں اپنیجب آج توپ نہیں ذہن راج کرتے ہیںتمہارے پاس کوئی سوچ ہی نہیں اپنی
وہی بادلوں کے برسنے کے دن تھےمگر وہ نہ برسےمبارک ہو شوریٰ کی صنعت گری کومشقت سے بیجوں کو تیار کر کےاگائی تھی صحرا میں چوہوں کی کھیتیجو آہستہ آہستہ بڑھتے رہےپھر کھڑے ہو گئے اپنی دم کے سہارےکترنے لگے ایسے پیاسی زبانوں کے نوحے جو مشکوں کےاندر امانت پڑے تھےخباثت نے اگلے تھے منحوس بھوتوں کے لشکرکہ چوہوں کی امداد کرتے ہوئے نور کی بستیوں میں وہ داخل ہوئےجو اڑاتے تھے گرد و غبار اپنے سر پرپھٹے طبل کا شور گرتا تھا دل پربھیانک صداؤں میں بازو اٹھا کرچلانے لگے رقص میں تیز پاؤںتعفن میں لپٹے ہوئے سانس چھوڑےبڑھے کچکچاتے ہوئے دانت اپنے ہزاروں طرف سےفرشتوں نے دیکھا تو گھبرا گئے اور خستہ پیالوں کو ریتی سے بھر کرسکڑنے لگے اپنے خیموں کی جانبوہ ریتی کے ذرے جنہیں آب سورج کی کرنوں نے دی تھیمگر وہ نہ برسےوہی بادلوں کے برسنے کے دن تھے
جتنی بار ہمآپریٹر کی مدد سےکسی پڑوسی یا دوست کے لیےہنگامی امداد طلب کرتے ہیںاس سے بہت زیادہ کا بلہر مہینے ہمیں موصول ہوتا ہے
اس باغ میں اک گل ہی نہیں مجھ کو پیاراکرتا ہے ہر اک خار بھی الفت کا اشاراممنون نہ اپنوں کا نہ غیروں کا رہا میںچمکا مری تقدیر کا ہے آپ ستاراہرگز کسی امداد کا محتاج نہیں میںہو جاتا ہے ہر مست قلندر کا گزاراعنوان مری نظم کا ہے عشق و محبتبہتا نہیں ہر سمت مری فکر کا دھاراجاتے ہیں اسی سمت قدم بے خبری میںکس ماہ لقا نے مجھے چلمن سے پکارااب ہند سے پہنچا ہے مرے عشق کا چرچاتا حد کراچی و سمرقند و بخارایکساں جو گل و خار سے اک ربط ہے مجھ کوکرتا نہیں گلشن میں کوئی مجھ سے کناراہیں مجھ سے ملاقات کے مشتاق ہزاروںکیا بات کرے حاسد بد بخت بیچارہجس پھول سے آئی نہ مجھے عشق کی خوشبودل سے بھی نکالا اسے نظروں سے اتارادونوں نے غریبوں کو کیا ایکسپلائٹجچتا مری نظروں میں سکندر ہے نہ دارالیتا نہیں میں کام کبھی ایٹمی بم سےمیں نے جسے مارا اسے احسان سے ماراوہ اور ہیں پھر جاتے ہیں جو عہد سے اپنےجو قول دیا میں نے وہ مر کر بھی نہ ہاراغازیؔ مرے اخلاص کا شانہ تھا کہ جس نےالجھے ہوئے گیسوئے محبت کو سنوارا
مرے دوست نےمجھ کو تحفہ دیاایک سرخ اور سندر گلابمرے جنم دن سے کچھ اس کا تعلق نہ تھایہ تھا شکریے کی نشانیکہ میں نے جو کچھ اس کی امداد کی تھیوہ گل رکھ دیا میں نے اک خوب صورت سے برتن کے اندریہ برتن تھا ویسے بڑا خوب صورتمگر اس گل سرخ جیسا نہ تھایہ کالا تھا بس جیسے کوا پہاڑیوہ تخلیق قدرت کیسندر سہانیمرے دھندلے کمرے میں لائیخوشی کی کرنآفتابی چمک کی پھواراور مست کرتی مہکجس نے ہر آتے جاتے کو مسحور سا کر دیامیں نے اس کو بڑا بے انتہا پیار بخشااس کو پانی دیا دیکھا بھالامیرا دن ہی شروع ہوتا تھااس خوش نما تحفے پرمحبت بھری سرسری نظر ڈالنے سےمگر ان سبھی کے لئےپھر مجھے کیا ملاایک دن جو بلا الوداع ہی کہےپھول مرجھا گیا پھول مر ہی گیا
کتنے اچھے ہیں میرے کالونی والےگھر میں میرے موت نہ ہوتی تو میں تو انجان ہی رہتاان چہروں سےان لوگوں سےفجر تلک جو ساتھ رہے میرے اس شب میںدفنانے کے بعد کے اس پہلے لقمے تککتنے گھروں کے چائے کے برتنپڑے رہے تیجے کے دن تک میرے گھر میںمجھے نہیں معلوم کفن کس کے ذمے تھاکون سا بچہ بیری کی ٹہنی لایا تھاسب اپنے تھےسب میرے تھےسب اچھے تھےاندھا تھا میں آج تلک پہچان نہ پایاان اپنوں کو
یہ خیرات ہی کی کرامت ہے آقایہ پردے ہٹا دےبڑے بادشاہوں کی سنگت ہےسالانہ خیرات کا معاملہ ہےتو تمغے سجا میرے آقا تری حاضری ہےوہ تمغے جو مشرق کے ملبوس پر طنز ہیںوہ تمغے جہادوں کے جن کے پتے جیل خانوں میں فریاد خواں ہیںوہ جنگیں نشاں جن کے سرحد کے اندر کہیں دفن ہیںیہ خیرات ہی کی کرامت ہےاترن سے مانوس ماحول میںریت ایسی چلی ہے کہ ہر مرحلے فکر میںصرف امداد امداد کی گڑگڑاتی صدا ہےہر اک فرد خیرات کے شوق میں سرگراں ہےیہ پردے ہٹا میرے آقاکہ تو بھی فقیر اور میں بھی
وہ ستم ایجاد ہے وہ بانیٔ بیداد ہےحسرتوں کا خون کرتا ہے بڑا جلاد ہےبے مروت ناوک افگن کا کوئی کیا دے نشاننام اس بے درد کا مشہور اب صیاد ہےدام بے دانہ کا پھیلاتا ہے ایسے جعل سےطائر دل آ کے خود پھنستا ہے وہ صیاد ہےذبح کر ڈالا کسی کو نیم بسمل کر دیاکوئی تنہا ہے قفس میں بند خود آزاد ہےکند ہو کتنی چھری رک رک کے گردن پر چلےحکم ہے لیکن نہ سننے پائیں ہم فریاد ہےبرگ گل کو روند ڈالا جب خرام ناز سےبلبلیں چلا اٹھیں فریاد ہے فریاد ہےظلم بے انداز کرتا ہے نئے انداز سےپھر مزہ یہ ہے اسیروں کو اسی کی یاد ہےچال اس کی کوئی شاطر تک سمجھ سکتا نہیںکہتے ہیں سب اپنے فن کا ایک ہی استاد ہےدل میں کچھ عصیاں کا کھٹکا ہے نہ خوف باغباںاور طرہ ہے کہ ہتھکنڈوں پہ اپنے شاد ہےحکمراں فضل خدا سے اک وسیع گلشن کا ہےرحمت باری ہے نازل ہر طرح آباد ہےنغمہ سنجی ہوتی ہے اکثر تو اس حسرت کے ساتھوہ مبارک ہیں کہ جن پر مہرباں صیاد ہےہم صفیروں سے حیا مانع ہے عرض حال سےسب کہیں گے قید میں کتنی زباں آزاد ہےکوئی کیوں ہم جنس کے ظلم و تشدد پر کڑھےورنہ روداد قفس ہم کو سرے سے یاد ہےایک دل اور مشکلیں اتنی کہ مشکل ہے بیاںیا علیؑ آسان کیوں کر ہوں دم امداد ہےقید غم سے مرغ دل کو کیجیے جلدی رہابے طرح اب میمؔ کا مضطر دل ناشاد ہے
پھر تو لاکھوں یہاں کشتیاں آ گئیںلے کے امداد میں روٹیاں آ گئیںفوج والوں کی کل بستیاں آ گئیںاور غریبوں نے پوچھا کہاں آ گئیں
ہم اس مسیحا کی آمد کے آثار کے منتظر ہی رہےپھر سڑکوں پر چند طوائفیں نظر آئیںشاید وہ نظر آ گیا ہےہاں ہاں طوائفوں نے للچائی آواز میں کہاچلو ہمیں اپنی گاڑیوں میں لے چلودرخت آبنوسی خیالوں میں مدغم رہےجب اس نے گلے سے لٹکتے مائکرو فون پر کئی دن تک چیخ چیخ کر کہا میں مسیحا ہوںتو ادارۂ امداد باہمی والوں نے اسے کھانے پر بلایاکھا پی کر اس نے تقریر کیگڑگڑا کر کہا میں مسیحا ہوں مجھے صلیب پر لٹکا دولوگوں نے واپسی کا کرایہ دے کر اسے رخصت کر دیا
اسے میں نے جنا ہےدودھ اپنا دے کے پالا ہےیہ خاکی پیرہن اس کاسیا ہے اپنے ہاتھوں سےستارے اس پہ ٹانکے ہیںجڑے ہیں چاند بھی اس پرمشقت کی ہے دن بھراور اسے پیسے دئےجن سے خریدی ہے کھلونا رائفل اس نےبڑا نٹکھٹ ہےاپنی رائفل میں ڈال کر گولیمری جانب اٹھاتا ہےلبلبی اس کی دباتا ہےدھماکہ سن کے خوش ہوتا ہے
زندگی سے ڈرتے ہو؟!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!زندگی سے ڈرتے ہو؟آدمی سے ڈرتے ہو؟آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیںآدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہےاس سے تم نہیں ڈرتے!حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہآدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہاس سے تم نہیں ڈرتے''ان کہی'' سے ڈرتے ہوجو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہواس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسورجذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books