aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "janm"
آج محبت کا جنم دن ہےآج ہم اداسی کی چھری سےاپنے دل کو کاٹیں گےآج ہم اپنی پلکوں پرجلتی ہوئی موم بتی رکھ کےایک تار پر سے گزریں گےہمیں کوئی نہیں دیکھے گامگر ہم ہر بند کھڑکی کی طرفدیکھیں گےہر دروازے کے سامنے پھول رکھیں گےکسی نہ کسی بات پرہم روئیں گے اور اپنے رونے پرہم ہنسیں گےآج محبت کا جنم دن ہےآج ہم ہر درخت کے سامنے سےگزرتے ہوئےٹوپی اتار کر اسے سلام کریں گےہر بادل کو دیکھ کےہاتھ ہلائیں گےہر ستارے کا شکریہ ادا کریں گےہمارے آنسوؤں نےہمارے ہتھیلیوں کو چھلنی کر دیا ہےآج ہم اپنے دونوں ہاتھجیبوں میں ڈال کر چلیں گےاور اگلے برس تک چلتے رہیں گے
ابھی اک سال گزرا ہے یہی موسم یہی دن تھےمگر میں اپنے کمرے میں بہت افسردہ بیٹھا تھانہ کوئی سانولے محبوب کی یادوں کا افسانہنہ ایوان زمستاں کی طرف جانے کی کچھ خواہشکسی نے حال پوچھا تو بہت ہی بے نیازی سےکہا جی ہاں خدا کا شکر ہے میں خیریت سے ہوںکوئی یہ پوچھتا کیوں آج کل کوئی غزل لکھینہ جانے بات کیا ہے ان دنوں کچھ ایسا لگتا ہےتمہاری ہر غزل میں میر کا انداز ملتا ہےہر اک مصرعے سے جیسے دھیمی دھیمی آنچ اٹھتی ہےتمہارے شعر پڑھ کر جانے کیوں محسوس ہوتا ہےکہ کوئی ساز پر مدھم سروں میں گنگناتا ہےمگر اک بات پوچھوں تم خفا تو ہو نہ جاؤگےیہ آخر کیا سبب ہے آج کل نظمیں نہیں لکھتےتمہاری آپ بیتی بھی ابھی تک نا مکمل ہےاسے تو ناقدان فن نے سنتے ہی سراہا ہےمیں سب سنتا مگر یہ دل ہی دل میں سوچتا رہتامرے احباب کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہےمرے افکار پہ یہ کیسی ویرانی سی چھائی ہےبہت کچھ سوچتا ہوں پھر بھی اب سوچا نہیں جاتابہت کچھ چاہتا ہوں پھر بھی کوئی بس نہیں چلتامگر اس بے بسی میں بھی مرے دل کی یہ حالت تھیکبھی جب کوئی اچھی چیز پڑھنے کے لیے ملتیتو پہروں روح پر اک وجد کی سی کیفیت ہوتیرگوں میں میری جیسے خوں کی گردش تیز ہو جاتیلہو کا ایک اک قطرہ یہ کہتا میں تو زندہ ہوںمری پامالیوں میں پل رہی ہے اک توانائییہی عالم رہا تو جانے میں کس روز اٹھ بیٹھوںبسنت آیا تو یوں آیا کہ میں بھی جیسے اٹھ بیٹھاسویرا ہوتے ہی ہر سمت سے جھونکے ہواؤں کےنئی خوشبو لیے مجھ کو جگانے کے لیے آئےجدھر بھی آنکھ اٹھاتا ہوں شفق کی مسکراہٹ ہےوہی سورج ہے لیکن اور ہی کچھ جگمگاہٹ ہےنہ جانے کیسے کیسے پھول اب مجھ کو بلاتے ہیںنہ جانے کتنے کتنے رنگ سے دل کو لبھاتے ہیںفضا میں دور تک پھیلے ہوئے وہ کھیت سرسوں کےیہ کہتے ہیں کہ اب ارماں نکالو اپنے برسوں کےتمہارے سامنے پھیلا ہوا میدان سارا ہےکوئی آواز دیتا ہے کہ آؤ تم ہمارے ہومری دھرتی کے بیٹے میری دنیا کے دلارے ہوتمہاری آنکھ میں جو خواب سوئے ہیں وہ میرے ہیںتمہارے اشک نے جو بیج بوئے ہیں وہ میرے ہیںاسی وادی میں پھر سے لوٹ کر اب تم کو آنا ہےتمہاری ہی یہ بستی ہے تمہیں کو پھر بسانا ہےاب اس بستی میں رکھتے ہی قدم کچھ ایسا لگتا ہےکہ اس کا ذرہ ذرہ پتہ پتہ کچھ نیا سا ہےہر اک رستے پہ جیسے کچھ نئے چہرے سے ملتے ہیںیہی جی چاہتا ہے جو ملے اب اس سے یہ پوچھیںتمہارا نام کیا ہے؟ تم کہاں کے رہنے والے ہوکچھ ایسا جان پڑتا ہے کہ پہلے بھی ملے ہیں ہمرہے ہیں ساتھ یا اک دوسرے کو جانتے ہیں ہماگر تم ساتھ تھے تو تم بھی شاید دوست تھے میرےمجھے یاد آیا دونوں ساتھ ہی کالج میں پڑھتے تھےوہ سارے دوستوں کا جمع ہونا میرے کمرے میںوہ گپ شپ قہقہے وہ اپنے اپنے عشق کے قصےوہ میرس روڈ کی باتیں وہ چرچے خوب رویوں کےکبھی آوارہ گردی اپنی ان ویران سڑکوں کیکبھی باتوں میں راتیں کاٹنا سنسان جاڑوں کیکبھی وہ چاندنی میں اپنا یوں ہی گھومتے رہناکبھی وہ چائے کی میزوں پہ گھنٹوں بیٹھنا سب کاوہ باتیں علم و حکمت کی کبھی شکوہ شکایت کیتمہیں تو یاد ہوگا ان میں ہی اک دوست شاعر تھاذرا دیکھو تو مجھ کو غور سے شاید وہ میں ہی تھابہت دن میں ملے ہیں ہم تو آؤ آج جی بھر کرہنسیں بولیں کہیں آوارہ گردی کے لیے نکلیںچلیں اور چل کے سارے دوستوں کو پھر بلا لائیںسجائیں آج پھر محفل کہیں پینے پلانے کیمیں تم کو آج اپنی کچھ نئی باتیں بتاؤں گامیں تم کو آج اپنی کچھ نئی نظمیں سناؤں گا
ایک نظم کہنی ہےدو اداس آنکھوں پرجیسے گل کھلانا ہوزرد زرد شاخوں پرمیرے کاسۂ فن میں ٹوٹے پھوٹے مصرعے ہیںاور دسترس میں دوست کچھ خیال دھندھلے ہےاور ان خیالوں میں ایک التجا بھی ہےالتجا بھی اتنی بسہونٹوں پے لگی چپ کو آپ تج دیا کیجےایک دو مہینے میں کھل کے ہنس لیا کیجےاور یہ بھی کہنا ہےجس جگہ قدم رکھیں وہ جہاں مبارک ہواک حسین پنچھی کو آسماں مبارک ہوساری خوشیاں مل جائیں جن پے آپ کا حق ہودو اداس آنکھوں کو جنم دن مبارک ہو
کب سے سنسان خرابوں میں پڑا تھا یہ جہاںکب سے خوابیدہ تھے اس وادئ خارا کے صنمکس کو معلوم یہ صدیوں کے پراسرار بھرمکون جانے کہ یہ پتھر بھی کبھی تھے انساںصرف لب دوختہ پربت ہیں جہاں نوحہ کناںنہ در و بام نہ دیوار و دریچہ کوئیکوئی دہلیز شکستہ نہ حریم ویراںشہر کے شہر ہیں پاتال کے دامن میں نہاںکون پہچانتا ظلمت ہیں سیاہی کے نشاںجو نظر ڈھونڈنے اٹھی وہ نظر بھی کھوئیچشم مہتاب بھی شبنم کی جگہ خوں روئی
تمہارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیںجھک کے میری آنکھوں کو چھو رہی ہیںمیں اپنے ہونٹوں سے چن رہا ہوں تمہاری سانسوں کی آیتوں کوکہ جسم کے اس حسین کعبے پہ روح سجدے بچھا رہی ہےوہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں تم جنم لے رہی تھیںوہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں میں جنم لے رہا تھایہ ایک لمحہ بڑا مقدس ہے جس کو ہم جنم دے رہے ہیںخدا نے ایسے ہی ایک لمحے میں سوچا ہوگاحیات تخلیق کر کے لمحے کے لمس کو جاوداں بھی کر دے!
ذہن پہ اک گھٹا سی چھائی ہےلفظوں کی انجانی بوندیں برس رہی ہیںکوئی معنی شاید نکلیں؟زخمی طائر میرے قلم سے لپٹ گیااور اس کے پہلو میں اک ننھا سا تیر ہےتیر میں اک کاغذ بھی ہےاب کے میرے جنم دن پرکس نے مجھ کو یاد کیا ہے؟
اے حسن کوزہ گرتو نے جانا کہ میںجسم و جاں کے تعلق کی روشن گزر گاہ سےاک جہاں کا سفر جھیل کر اسرفاقت کی دہلیز تک آئی ہوں
وہ چاند چہرہ سی ایک لڑکیمحبتوں کی مثال جیسےذہن میں شاعر کے جیسے آئےحسیں غزل کا خیال کوئیوہ چاند چہرہ سی ایک لڑکیکسی جنم میں وہ ماں تھی میریکسی جنم میں بہن بنی تھیمگر وہ اب کے بنی ہے ہمدمتمام رشتے نبھا رہی ہےمجھے بھی جینا سکھا رہی ہےوہ چاند چہرہ سی ایک لڑکی
جب چاہا مجھ کو ایک طوائف بنا دیامقصد ہی میرے جنم کا دل سے بھلا دیاپھولوں کی سیج دی کبھی مجھ کو جلا دیاسیتا بنا کے شعلوں میں مجھ کو بٹھا دیا
بس پہلی بار ڈری بیٹیمیں کتنی بار ڈری بیٹیابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹیمیرا جنم تو ہے بیٹیاور تیرا جنم تیری بیٹی
رات تو نے میری چھاؤں کیا کیجنگل چھوٹا ہےاس لئے تمہیں گہری لگ رہی ہوںگہرا تو میں پرندے کے سو جانے سے ہوا تھامیں روز پرندے کو دلاسہ دینے کے بعداپنی کمان کی طرف لوٹ جاتی ہوںتیری کمان کیا صبح ہےمیں جب مری تو میرا نام رات رکھ دیا گیا
سندریا اپنی مٹھی کھول رہا ہےسنکچھ پتے اور پتوں کے ساتھ کچھ ہوا اکھڑ گئی ہےجنگل کے پیڑ ارادےزمین کو بوسہ دے رہے ہیںچاہتے ہیں دریا کو مٹھی کا جال لگائیںآنکھیں منظر تہہ کرتی جا رہی ہیںسمندر مٹی کو چوکور کر نہیں پا رہے سنگلی لے پہ پھنکار رہی ہےاس میں جلے ہوئے کپڑے پھینکزینے گلیوں میں دھنسے جا رہے ہیںجسموں سے آنکھیں باندھ دی گئی ہیںبہتے ستارے تجھے عکس کر رہے ہیںتیرے پاس کوئی چہرہ نہیںبتاجنگل سے لوٹنے والوں کے پاسمیرے لفظ تھے یا مورتکئی جنم بعد بات دہرائی ہےمیری بات میں جال مت لگا میری بات بتابتابوجھل سائے پہ کتنا وزن رکھا گیا تھاسنموت کی چادر تمہاری آنکھیں ناپنا چاہتی ہےکنچے اس چادر کو چھید چھید کر دیں گےچادر میں پہلے ہی سی کر لائی تھیکیا پیمانہ زنگ آلود تھایہ چادر تمہیں مٹی سے دور رکھے گیایسی حد ایسی حد سے میرا وجود انکار کرتا ہےتمہارا وجود تو پرندے رٹ چکےتمہاری زبان کہیں تمہاری محتاج تو نہیں
دیکھو تم گنتی نمبروں کے حسابکتاب میں مت جاؤسب دکھاوا چھلاوا سا ہےمیں تو ابھی بھی وہی اسٹاپو کھیلنے کی باریکے انتظار میں ہوںگھر پر پیر پٹکتی ننھی بچی سیموٹے موٹے آنسو لئے کونے میں بیٹھی سی ہوںبارشوں میں چھپ چھپ کر مٹی میں سنے پاؤںسے بے پرواہ ہوا سی ہوںکہرے سے بھرے شیشے پر کچھ الٹا کچھسیدھا کچھ سچا جھوٹا لکھتی مٹاتیسی ہوںخیال میںاپنے اس کیسری پرنٹڈ پھولوں سے بھرے فراق میںتتلی کے پیچھے دوڑ لگاتیباؤلی سی ہوتم بار بار جنم دن پر کال کرعمر کا حوالہ نہ دومیرے لئے تو دل ابھی بھی روح کی بائیں طرف ہےجو بیسویں سال میں تھا شاید
اک تاریخجب اس دنیا کی فضا میں میں نےپہلی سانس بھری تھیاورآج ہی مجھ کوموصول ہوئے ہیںکتنی دعاؤں کے چیکاب سارا برسآرام رہے گااور خاص الخاص اککام رہے گاقسمت کے بینک میں جا کرسارے چیککیش کرا کررفتہ رفتہخرچ کروں گاجب یہ دولت کم ہو جائےتب میں تنہا بیٹھ کےیہ دعائیں کروں گاکہ اگلے برس کاانتظارختم ہو جلدی
چراغ نے پھول کو جنم دینا شروع کر دیا ہےدور بہت دور میرا جنم دن رہتا ہےآنگن میں دھوپ نہ آئے تو سمجھوتم کسی غیر آباد علاقے میں رہتے ہومٹی میں میرے بدن کی ٹوٹ پھوٹ پڑی ہےہمارے خوابوں میں چاپ کون چھوڑ جاتا ہےرات کے سناٹے میں ٹوٹتے ہوئے چراغرات کی چادر پہ پھیلتی ہوئی صبحمیں بکھری پتیاں اٹھاتی ہوںتم سمندر کے دامن میںکسی بھی لہر کو اتر جانے دواور پھر جب انسانوں کا سناٹا ہوتا ہےہمیں مرنے کی مہلت نہیں دی جاتیکیا خواہش کی میان میںہمارے حوصلے رکھے ہوئے ہوتے ہیںہر وفادار لمحہ ہمیں چرا لے جاتا ہےرات کا پہلا قدم ہےاور میں پیدل ہوںبیساکھیوں کا چاند بنانے والےمیرے آنگن کی چھاؤں لٹ چکیمیری آنکھیں مرے ہوئے بچے ہیںاور پھر میری ٹوٹ پھوٹسمندر کی ٹوٹ پھوٹ ہو جاتی ہےمیں قریب سے نکل جاؤںکوئی سمت سفر کی پہچان نہیں کر سکتیشام کی ٹوٹی منڈیر سےہمارے تلاطم پہآج رات کی ترتیب ہو رہی ہےمسافر اپنے سنگ میل کی حفاظت کرتا ہےچراغ کمرہ ناپتا ہےاور غم میرے دل سے جنم لیتا ہی ہےزمین حیرت کرتی ہےاور ایک پیڑ اگا دیتی ہے
وہ اک لمحہ بڑا مقدس تھاوہ اک لمحہ کہ جس میںآسماں سب آیتوں کا ورد کرتے تھےستارے ہاتھ میں لے کرجہنم کی سلگتی اور دہکتی آگ کے اوپرفرشتے اپنے اپنے پنکھوں کیبوندیں جھٹکتے تھےخدا نے ایک لمحے کو نگاہیں موند کر اپنیتسلط کی گرہ کو ڈھیلا چھوڑا تھانظام ازل توڑا تھاوہ اک لمحہ کہ جس میںگردشوں کے پار سیاروں نے پہلی بارہالی ڈے منایا تھاوہ اک لمحہ کہ جس میں تم جنم لے رہے تھے
آسماں کی وسعتوں میںمیری نظریںڈھونڈھتی ہیں اس حسیں ماضی کو، جس کییاد کے سائے بھی گھلتے جا رہے ہیں اب ہوا میںاور مری آنکھوں سے اوجھل ہو رہے ہیں لمحہ لمحہ
بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گیساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گیبہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھاناساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانابہو کہے اپنا گھر کیسا یاں تو اپنے بھی ہیں پرائےساس کہے جل بھن کے اسے تو راج محل بھی راس نہ آئےبہو کہے جس کے ہاتھوں ہے ڈوئی اسی کا سب کوئی ہےساس پکارے جاؤ جی جاؤ پاؤں کی جوتی سر پہ چڑھی ہےبہو کہے مجھ جنم جلی کو کس کے پلے باندھ دیا ہےساس کہے اب کون بتائے آگے جو آیا ہے کس کا کیا ہےبہو کہے یہ پوت کی دردی بس جو چلے تو بس ہی کھلا دےساس کہے وہ بات ہے اپنی گالی سنے اور پھر بھی دعا دےبہو کہے اب سر پہ پڑی ہے جیسے بھی ہو گزر جائے گیساس کہے جب دیکھو اس کو دودھ ملیدہ ہی کھائے گیبہو کہے جی جو آتا تھا ساس کے سامنے بول رہی تھیساس بھی لیکن ترکی بہ ترکی بھید بہو کے کھول رہی تھیننھے نے یہ موقع تاڑا جھٹ باورچی خانے پہنچادودھ پہ آئی تھی جو ملائی چپکے سے اس کو کھانے پہنچاکھا کے جو لوٹا راہ میں اس نے کالی بلی جاتے پائیدیکھ کے اس کو ڈر کے مارے زور کی اس نے چیخ لگائیایک ہی چیخ نے اس کی پل میں ساس بہو کا جھگڑا چکایادوڑی بہو مرے لال ہوا کیا ساس پکاری ہائے خدایا
ہم جانتے ہیںیہ دنیا ہمیں جینے نہیں دے گیفاصلے کی دیواریںہم دونوں کے درمیانبڑھتی رہیں گییہ کیسا رشتہ ہےہم دونوں اپنے اپنے احساسات سے واقف ہیںمگر یہ رسم و رواجآدمی سے آدمی کی تفریق کے۔۔۔ہم دونوں محض اپنی آنکھوں کے علاوہایک دوسرے کو چھو نہیں سکتےآب زم زم یا گنگا جلایک رنگ، ایک خمار اور ایک احساسکیوں نہ ہم دونوںایک آفاقی رشتے سےمنسلک ہو جائیںایسے رشتے سےکہ جہاں تلواریں جھک جاتی ہیںاور انگارے بن جاتے ہیں پھولاور نیلا آسمان مسکرا اٹھتا ہےآؤ آجتم میری کلائی میں یہ راکھی باندھ دوہم دونوں اپنی اپنیانوکھی چاہت کے حوالے سےبن جائیں جنم جنم کے ساتھیاٹوٹ ہو جائیں گے جبپھر شاید زمانہ انگلی نہیں اٹھا سکے گا!!
اکیس سال عمر تھی اس کی بسابھی اس نے گویا زندگی کو آنکھ بھر کے دیکھا بھی نہ تھاکھیلنے کودنے کے دن تھے کہ زمانے کی ریت کے مطابقچٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیااور تین سال میں تین بچے بھی پیدا ہو گئےپھر اچانک بیچاری کو وہ بیماری مل گئیجس کے پنجے سے کوئی خوش نصیب ہی چھٹتا ہےمجھے برسوں پہلے گاؤں میں اپنی چتکبری بکری یاد آ گئیجس نے ایک جھولی میں پانچ بچے دیے تھےاور چند روز بعد مر گئی تھیمری ہوئی بکری کے تھنوں سے اس کے پانچوں بچےدودھ کی آخری بوند تک نچوڑ لینے کے چکر میںایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے تھےمیں نے خدا سے کہاغضب کے ستم ظریف ہو تم بھیآدمی کو اتنا کمزور پیدا کیا ہےبکری کا بچہ تو جنم لیتے ہی چار ٹانگوں پر کھڑا ہو جاتا ہےمگر آدمی کا بچہ برس ہا برس تک یتیموں کی طرح سہارے ڈھونڈھتا پھرتا ہےاور پھر تم یہ سہارے بھی چھین لیتے ہوچلو مرحوم باپ کی جگہ تو تم خود پر کر لیتے ہوکہ آسمانی باپ کہلانے کا تمہیں ازل سے شوق ہےلیکن یہ نو مولود اور نوخیز بچوں کو تم ماؤں سے کس کھاتے میں محروم کر دیتے ہوہنسا بہت ہنسامیں کہے بغیر نہ رہ سکا کہ آفرین ہےدوسرے کے دکھ پر اس طرح کھلے بندوں تو سفاک سیاست داں بھی نہیں ہنستےاچانک میرا شانہ جھنجھوڑ کر بولا ذرا میری طرف دیکھومجھے گمان تھا کہ تو رات اور قرآن کے اوراق سے نکل کرایک پر جلال مردانہ پیکر میرے سامنے ہوگامگر وہاں تو ایک ہری بھری عورت کھڑی تھیجس کی چھاتیوں سے دودھ کی دھاریں فوارے کی طرح پھوٹ رہی تھیںقریب تھا کہ میں غش کھا کر گر جاتااسی نے مجھے سنبھالا دیااور دھیرے سے کہامیں باپ بھی ہوں آسمانوں میںمیں ماں بھی ہوں زمین پردوبارہ اس کی جانب دیکھاآنکھوں سے دو گرم گرم آنسو میرے چہرے پر ٹپک پڑےمیں نے کہا پہلے تم ہنس رہے تھےاب تم رو رہی ہوکہا ہنسی اور رونے کا ایک ہی نام ہےزندگیمیں نے کہا تمہارے مردانہ ناموں کا تو شمار نہیںلوگوں کو نناوے کے پھیرے میں ڈال رکھا ہے تم نےمرشدوں سے اسم اعظم پوچھتے پوچھتے بے حال ہو جاتے ہیںاب تمہارے زنانا نام بھی ڈھونڈنے پڑیں گےزیر لب مسکرا کے کہاپیدا ہوتے ہی تم سب کے منہ پر میرا اسم اعظم آ جاتا ہےہر کوئی از خود پکار اٹھتا ہےماںاور پھر اپنی ماں کی چاہت میں سب کی ماں کی بھول جاتا ہےنام بھی یاد نہیں رہتا اس کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books