aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jashn-e-shab"
گھر اے دل بے قرار زنداں سے کم نہیں قید کون کاٹےحسین سرما کا چاند دیوانہ وار کو بلا رہا ہےفسون مہتاب کی قسم ہے پھر آج شب کچھ نہ لکھ سکوں گاپھر آج گھر میں نہ رہ سکوں گاکہ اک جنوں سا ہے مجھ پہ طاریمناظر کوہ و کنج جشن شب منور منا رہے ہیںبلا رہے ہیں مجھے مرے واسطے قیامت اٹھا رہے ہیں
چراغ راہ میں اس کے عمل سے جلنے لگےلو آج صبح شب انتظار آ ہی گئیفضا مہکنے لگی دل نواز پھولوں سےدیار ہند میں فصل بہار آ ہی گئی
مجھے تیرے تصور سے خوشی محسوس ہوتی ہےدل مردہ میں بھی کچھ زندگی محسوس ہوتی ہےیہ تاروں کی چمک میں ہے نہ پھولوں ہی کی خوشبو میںتری تصویر میں جو دل کشی محسوس ہوتی ہےتجھے میں آج تک مصروف درس و وعظ پاتا ہوںتری ہستی مکمل آگہی محسوس ہوتی ہےیہ کیا ممکن نہیں تو آ کے خود اب اس کا درماں کرفضائے دہر میں کچھ برہمی محسوس ہوتی ہےاجالا سا اجالا ہے تری شمع ہدایت کاشب تیرہ میں بھی اک روشنی محسوس ہوتی ہےمیں آؤں بھی تو کیا منہ لے کے آؤں سامنے تیرےخود اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہےتخیل میں ترے نزدیک جب میں خود کو پاتا ہوںمجھے اس وقت اک طرفہ خوشی محسوس ہوتی ہےتو ہی جانے کہاں لے آئی مجھ کو آرزو تیرییہ منزل اب سراپا بے خودی محسوس ہوتی ہےکنولؔ جس وقت کھو جاتا ہوں میں اس کے تصور میںمجھے تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبیقرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہے
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
یہ بڑا چاند چمکتا ہوا چہرہ کھولےبیٹھا رہتا ہے سر بام شبستاں شب کوہم تو اس شہر میں تنہا ہیں، ہمیں سے بولےکون اس حسن کو دیکھے گا یہ اس سے پوچھوسونے لگتی ہے سر شام یہ ساری دنیاان کے حجروں میں نہ در ہے نہ دریچہ کوئیان کی قسمت میں شب ماہ کو رونا کیساان کے سینے میں نہ حسرت نہ تمنا کوئی
اونچا پیڑ صنوبر کاموہوم عصا ہاتھوں میں تھامےجشن شب کو دیکھ رہا تھارنگت اس کی بدلی بدلییوں گویا تھامیں نے دیکھا ہےرات کا راہی وقت سے پہلےاک میلی سی چادر اوڑھےگہری نیند میں ڈوباندی نالے گم صمجھرنے چپ چپمیں نے دیکھااجلا اجلا خیمہ گل کاشاخشجر کاچاندی کا سا تھا پیراہنبھرا ہوا تھا چاندی فر سےشب کا دامن
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
رباب چھیڑ غزل خواں ہو رقص فرما ہوکہ جشن نصرت محنت ہے جشن نصرت فن
جشن آزادیٔ ہند ہے یہدھج ترنگے کی دیکھو نرالی
ذرا یہ جشن آزادیٔ ہندوستان تو دیکھوبڑا دل کش ہے پی ٹی کا نظارا ہم بھی دیکھیں گے
کس طرح نند آندھی کی یلغار میںتم نے اپنی ردا کو سنبھالاکیسے یخ بستہ تنہائیوں میںجشن روح و دل و جاں منایاشعلۂ آرزو میںکیسے حرف و نوا کو تپایاجاگتی رات کی تیرگی کوکس طرح مطلع نور یزداں بنایاکتنے سجدوں سے اپنی جبیں کو سجایا
اب کچھ نہیں تو نیند سے آنکھیں جلائیں ہمآؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!
دل ناتواں ریزہ ریزہ ستاروں کے آنگن میںتحلیل ہوتی ہوئی داستاںمجھ کو امروز وہ استطاعت عطا کرپگھلتا رہوں میں سلگتا رہوںلمحہ لمحہ مسلسل لہو کے تسلسل میں جلتا رہوںاس کے روشن چراغوں میں جشن جمال طلوع سحر تکشفق تا شفق موج در موج شور تلاطم میںجذب جلال فراز سفر تک
اپنی بے چہرگیاوٹ میں نام کی تختیوں کی رہیدل کی تاریکیاںجگمگاہٹ میں ملبوس کی چھپ گئیںلب پہ تنویر جاگیتو ہم نے یہ سمجھاچلو اجنبی اب شناسا ہوئےشہر کے اونچے مینار پرچند مٹی کے رنگیں کبوتر سجےجشن آزادیٔ قوم و ملتمنایا گیااک خلا درمیاں تھاسو قائم رہاگرمی برسات جاڑے کی بدلی رتوں میںہر اک فردپہچان اپنی گنوا کرڈھلا موم کی مورتوں میںہر اک شکل اب جیسے اپنی لگےاور کوئی شکل اپنی نہیںہم ہوئے آج خود اپنے ہی شہر میںنسل ننگ نشاںنسل بے چہرگاں
فریب جنت فردا کے جال ٹوٹ گئےحیات اپنی امیدوں پہ شرمسار سی ہےچمن میں جشن ورود بہار ہو بھی چکامگر نگاہ گل و لالہ سوگوار سی ہے
جشن نوروز بھی ہےجشن بہاراں بھی ہےشب مہتاب بھیجشن مہ تاباں بھی ہےسنتے ہیںآج ہی جشن شہ خوباں بھی ہےآئیے اے دل بربادچلیں ہم بھی وہاںجشن کی رات ہےسوغات تو بٹتی ہوگیاپنے حصے کیچلیں ہم بھی اٹھا لیں سوغاتدرد کیآخری سینے سے لگا لیں سوغاتاور پھر یوں ہوکہ جب شام ڈھلےاوس میں بھیگ کےگل مہر کی خوشبو پھیلےیاد کی چاندنیبے خواب دریچوں پہ گرےپھر اسی جشن کییہ رات مرے کام آئےدرد کی آخری سوغاتمرے کام آئےآخر شبشب آخر ٹھہرےضد پہ آیا ہوا یہ دل ٹھہرےتوڑ دوں شیشہجو ہستی کا بھی پھر جام آئےکام آئےتو یہ سوغات مرے کام آئےجشن کی رات ہےیوں نذر گزاری جائےایک اک آرزو صدقے میں اتاری جائے
جشن نو روز بھی ہےجشن بہاراں بھی ہےشب مہتاب بھیجشن مہ تاباں بھی ہےسنتے ہیں آج ہیجشن شہ خوباں بھی ہےآ اے دل بے تابچلیں ہم بھی وہاںجشن کی رات ہےسوغات تو بٹتی ہوگیاپنے حصہ کی چلیںہم بھی اٹھا لیں سوغاتدرد کی آخری سینے سےلگا لیں سوغاتاور پھر یوں ہو کہجب شام ڈھلےاس میں بھیگ کےگل مہر کی خوشبو پھیلےیاد کی چاندنیبے خواب دریچوں پہ گرےپھر اسی جشن کی یہ راتمرے کام آئےدرد کی آخری سوغاتمرے کام آئےآخری شب شب آخر ٹھہرےضد پہ آیا ہوا یہ دل ٹھہرےتوڑ دوں شیشہ جو ہستی کا بھیپھر جام آئےکام آئے تو وہ سوغاتمرے کام آئےجشن کی رات ہے یوں نذر گزاری جائےایک اک آرزو صدقے میں اتاری جائے
مٹا دو بغض و کینہ فتنہ و شروہ غنچہ ہو کہ کانٹا یا گل تربرابر سب کا حق ہے گلستاں پر
پھر آیا جشن آزادی کا موقعسجے ہیں گھر گلی کوچے دلہن سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books