aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kanastar"
کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقتنا صاحب اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلو بھر کر بھیک کسی کو دے کر
صوفوں پہ خوب کودیں اودھم بہت مچائیںمل جائے جو کنستر پھر ڈھول ہم بجائیں
آٹے کے اور گھی کے کنسترتالے پڑے ہیں ان میں یکسر
کہ بخشش کا خالی کنستربہت بھر گیا تھا
تم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکنار
جسے فن کہتے آئے ہیں وہ ہے خون جگر اپنامگر خون جگر کیا ہے وہ ہے قتال تر اپنا
کنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد
کچھ زخمی خواب تھے کانٹوں پرکچھ خاکستر سے کجرے تھے
جتنی شاموں کا سونا ہےاس کو خاکستر ہونا ہے
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار
زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیں
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا ہوتاکچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
برکھا کے سمے لہراتے ہیںکیا اب بھی کنار دریا پر
کہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میںوہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کر
پھول کیا خار بھی ہیں آج گلستاں بہ کنارسنگریزے ہیں نگاہوں میں گہر آج کی رات
زندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنیخود کو خاکستر خاموش بناتی کیوں ہو
عہد کہ دونوں ایک ہی آگ میں جلتے رہیں گےآگ کہ جس میں جل کر جسم ہوا خاکستر
باندھو رے کنار دریامورے مندر اب کیوں نہیں آئے
خاکستر دل کو ہے پھر شعلہ بجاں ہوناحیرت کا جہاں ہونا حسرت کا نشاں ہونا
چلا آ رہا ہوں سمندروں کے جمال سےصدف و کنار کا غم لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books