aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kas"
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
نہ جانے کس کی یہ ڈائری ہےنہ نام ہے، نہ پتہ ہے کوئی:''ہر ایک کروٹ میں یاد کرتا ہوں تم کو لیکنیہ کروٹیں لیتے رات دن یوں مسل رہے ہیں مرے بدن کوتمہاری یادوں کے جسم پر نیل پڑ گئے ہیں''
آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پردیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئےدولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھاخوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئےجو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تکوہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئےکیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کامرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئےبے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیبوہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئےجمہوریت نواز بشر دوست امن خواہخود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئےمذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہےوہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئےہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہیکجہتئ حیات کے آداب کیا ہوئےصحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگیابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئےمجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہواے رہبران قوم خطا کار تم بھی ہو
جب دکھ کی ندیا میں ہم نےجیون کی ناؤ ڈالی تھیتھا کتنا کس بل بانہوں میںلوہو میں کتنی لالی تھییوں لگتا تھا دو ہاتھ لگےاور ناؤ پورم پار لگیایسا نہ ہوا، ہر دھارے میںکچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیںکچھ مانجھی تھے انجان بہتکچھ بے پرکھی پتواریں تھیںاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروندیا تو وہی ہے ناؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےاب کیسے پار اترنا ہےجب اپنی چھاتی میں ہم نےاس دیس کے گھاؤ دیکھے تھےتھا ویدوں پر وشواش بہتاور یاد بہت سے نسخے تھےیوں لگتا تھا بس کچھ دن میںساری بپتا کٹ جائے گیاور سب گھاؤ بھر جائیں گےایسا نہ ہوا کہ روگ اپنےکچھ اتنے ڈھیر پرانے تھےوید ان کی ٹوہ کو پا نہ سکےاور ٹوٹکے سب بیکار گئےاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروچھاتی تو وہی ہے، گھاؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےیہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے
ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شایدیہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگابدن کی اندھی گپھا میں چھپا ہوا ہوگابڑھا کے ہاتھہر اک روشنی کو گل کر دوہوائیں تیز ہیں جھنڈے لپیٹ کر رکھ دوجو ہو سکے تو ان آنکھوں پہ پٹیاں کس دونہ کوئی پاؤں کی آہٹنہ سانسوں کی آوازڈرا ہوا ہے وہکچھ اور بھی نہ ڈر جائےبدن کی اندھی گپھا سے نہ کوچ کر جائےیہیں کہیں اسے ڈھونڈووہ آج صدیوں بعداداس اداس ہےخاموش ہےاکیلا ہےنہ جانے کب کوئی پسلی پھڑک اٹھے اس کییہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگابرہنہ ہو تو اسے پھر لباس پہنا دواندھیری آنکھوں میں سورج کی آگ دہکا دوبہت بڑی ہے یہ بستی کہیں بھی دفنا دوابھی مرا نہیںزندہ ہے آدمی شاید
جھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطرابکھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب
کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہےاتنا تو کڑا سفر نہیں تھاوہ چار قدم کا فاصلہ کیاپھر راہ سے بے خبر نہیں تھالیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹیہ حال تو عمر بھر نہیں تھا
کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرودہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کروجس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیابھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقاباغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاںہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پرتیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پرسخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکرنوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکرجب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطےنوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھےہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھیسچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھیاپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہےکمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہےلوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواںسر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاںدست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تمسرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تمصنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئیموت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئیاللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آجمیر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔکیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہےیاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہےہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہےشیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہےتیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنےکس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنےیاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاںاب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواںتم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہاآج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صداسچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہآج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھییاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھیپوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہےوہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہےاہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سےپوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سےاب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کاآج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صداآج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوںسخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوںاہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں''بینکی'' اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیںلیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تمہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تماہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیںیہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیںآج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیںکیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیںکیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیںدیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میںکیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میںگونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہےخیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہےآج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہےکچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہےسانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگےنوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگےظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگےلگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگےمجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شینکل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔخیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میںوقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیںاک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کیجس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کیوقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیںموت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
ہواصبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سےخواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہناکہ ہم جاگتے ہیںہوا اس سے کہناکہ جو ہجر کی آگ پیتی رتوں کی طنابیںرگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیںانہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیںہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہناکہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافرتجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیںہوا اس سے کہناکہ ہم نے تجھے کھوجنے کی سبھی خواہشوں کواداسی کی دیوار میں چن دیا ہےہوا اس سے کہناکہ وحشی درندوں کی بستی کو جاتے ہوئے راستوں پرترے نقش پا دیکھ کرہم نے دل میں ترے نام کے ہر طرفاک سیہ ماتمی حاشیہ بن دیا ہےہوا اس سے کہناہوا کچھ نہ کہناہوا کچھ نہ کہنا
سنو کہ شاید یہ نور صیقلہے اس صحیفے کا حرف اولجو ہر کس و ناکس زمیں پردل گدایان اجمعیں پراتر رہا ہے فلک سے اب کےسنو کہ اس حرف لم یزل کےہمیں تمہیں بندگان بے بسعلیم بھی ہیں خبیر بھی ہیںسنو کہ ہم بے زبان و بے کسبشیر بھی ہیں نظیر بھی ہیںہر اک اولی الامر کو صدا دوکہ اپنی فرد عمل سنبھالےاٹھے گا جب جام سرفروشاںپڑیں گے دار و رسن کے لالےکوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لےجزا سزا سب یہیں پہ ہوگییہیں عذاب و ثواب ہوگایہیں پہ روز حساب ہوگا
خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہےمجھے مٹی کی لکیر بن جانے دوخدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہےمیری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دوآگ کا ذائقہ چراغ ہےاور نیند کا ذائقہ انسانمجھے پتھروں جتنا کس دوکہ میری بے زبانی مشہور نہ ہومیں خدا کی زبان منہ میں رکھےکبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹازنجیروں کی رہائی دوکہ انسان ان سے زیادہ قید ہےمجھے تنہا مرنا ہےسو یہ آنکھیں یہ دلکسی خالی انسان کو دے دینا
(1)کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریرگویا سر باطل پہ چمکنے لگی شمشیروہ زور ہے اک لفظ ادھر نطق سے نکلاواں سینۂ اغیار میں پیوست ہوئے تیرگرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی روانی بھی سکوں بھیتاثیر کا کیا کہیے ہے تاثیر ہی تاثیراعجاز اسی کا ہے کہ ارباب ستم کیاب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیراطراف وطن میں ہوا حق بات کا شہرہہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہوئی تشہیرروشن ہوئے امید سے رخ اہل وفا کےپیشانئ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر(2)حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیرخاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیرکچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانامردان صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیرکب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کےایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویرمعلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دنظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیرآخر کو سرافراز ہوا کرتے ہیں احرارآخر کو گرا کرتی ہے ہر جور کی تعمیرہر دور میں سر ہوتے ہیں قصر جم و داراہر عہد میں دیوار ستم ہوتی ہے تسخیرہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر(3)کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیرپہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریرہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوتہر گام پہ ہو منزل مقصود قدم گیرہر لحظہ ترا طالع اقبال سوا ہوہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیرہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالاکچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریرہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہاللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
زمین ہند ہے اور آسمان آزادییقین بن گیا اب تو گمان آزادیسنو بلند ہوئی پھر اذان آزادیسر نیاز ہے اور آستان آزادیپہاڑ کٹ گیا نور سحر سے رات ملیخدا کا شکر غلامی سے تو نجات ملیہوائے عیش و طرب بادبان بن کے چلیزمیں وطن کی نیا آسمان بن کے چلینسیم صبح پھر ارجنؔ کا بان بن کے چلیبہار ہند ترنگا نشان بن کے چلیسپاہی دیش کا اپنے ہر اک جوان بنابل ابروؤں کا کڑکتی ہوئی کمان بنانظر نواز ہے رنگ بہار آزادیہر ایک ذرہ ہے آئینہ دار آزادیہے سر زمین وطن جلوہ زار آزادیسروں کے ساتھ ہے اب تو وقار آزادیکہاں ہیں آج وہ شمع وطن کے پروانےبنے ہیں آج حقیقت انہیں کے افسانےحجاب اٹھ گئے اب کس کی پردہ داری ہےغضب کی دیدۂ نرگس میں ہوشیاری ہےکلی نے مانگ بڑے حسن سے سنواری ہےحسین پھولوں میں رنگ خود اختیاری ہےکھٹک کہاں سے ہو اب دل میں کوئی پھانس بھی ہےخدا کا شکر کہ مرضی کی اب تو سانس بھی ہےزمین اپنی فضا اپنی آسمان اپناحکومت اپنی علم اپنا اور نشان اپناہیں پھول اپنے چمن اپنے باغبان اپنااطاعت اپنی سر اپنا ہے آستان اپناجمال کعبہ نہیں یا جمال دیر نہیںسب اپنے ہی نظر آتے ہیں کوئی غیر نہیں
دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہےیا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہےہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہےناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہورلے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نورگزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیوررو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضورجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےدنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھےاجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہےروحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزےپر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیںوہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہحشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہمرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہاب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےکس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہتن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہجاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہروتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےوہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائےہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائےسو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائےرونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےعمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرامفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑاقائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہادونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیاجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفناور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تنکیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدندیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخنجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوںاور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوںکپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموںکمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوںجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑبڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑسب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑکیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہاپھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جداترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوازر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سواجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیرباغ و چمن محل و مکانات دل پزیرہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیرمیری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے
نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیداکسی کے حسن میں شمشیر آفتاب کا حسننگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگےکسی ادا میں ادائے خرام بادصباجسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگےنہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقیجہاں میں بزم گہ حسن و عشق کا میلہبنائے لطف و محبت، رواج مہر و وفایہ کس دیار عدم میں مقیم ہیں ہم تمجہاں پہ مژدۂ دیدار حسن یار تو کیانوید آمد روز جزا نہیں آتییہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تمجہاں پہ شورش رندان مے گسار تو کیاشکست شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی
اور کس موسم میں جب طاعون ہے پھیلا ہواذرہ ذرہ ہے وبا کے خوف سے سمٹا ہوا
ذہن خالی ہےخلا نور سے یا نغمے سےیا نکہت گم راہ سے بھیپر نہ ہواذہن خالی ہی رہایہ خلا حرف تسلی سےتبسم سےکسی آہ سے پر نہ ہوااک نفی لرزش پیہم میں سہیجہد بے کار کے ماتم میں سہیہم جو نارس بھی ہیں غم دیدہ بھی ہیںاس خلا کو(اسی دہلیز پہ سوئے ہوئےسرمست گدا کے مانند)کسی مینار کی تصویر سےیا رنگ کی جھنکار سےیا خوابوں کی خوشبوؤں سےپر کیوں نہ کریں؟کہ اجل ہم سے بہت دوربہت دور رہے؟نہیں ہم جانتے ہیںہم جو نارس بھی ہیں غم دیدہ بھی ہیںجانتے ہیں کہ خلا ہے وہ جسے موت نہیںکس لیے نور سے یا نغمے سےیا حرف تسلی سے اسے ''جسم ''بنائیںاور پھر موت کی وارفتہ پذیرائی کریں؟نئے ہنگاموں کی تجلیل کا در باز کریںصبح تکمیل کا آغاز کریں؟
جون کا تپتا مہینہ تمتماتا آفتابڈھل چکا ہے دن کے سانچے میں جہنم کا شبابدوپہر اک آتش سیال برساتی ہوئیسینۂ کہسار میں لاوا سا پگھلاتی ہوئیوہ جھلستی گھاس وہ پگڈنڈیاں پامال سینہر کے لب خشک سے ذروں کی آنکھیں لال سیچلچلاتی دھوپ میں میدان کو چڑھتا بخارآہ کے مانند اٹھتا ہلکا ہلکا سا غباردیکھ وہ میدان میں ہے اک بگولا بے قرارآندھیوں کی گود میں ہو جیسے مفلس کا مزارچاک پر جیسے بنائے جا رہے ہوں زلزلےیا جنوں طے کر رہا ہو گردشوں کے مرحلےڈھالنا چاہے زمیں جس طرح کوئی آسماںجیسے چکر کھا کے نکلے توپ کے منہ سے دھواںمل رہا ہو جس طرح جوش بغاوت کو فراغجنگ چھڑ جانے پہ جیسے ایک لیڈر کا دماغخشمگیں ابرو پہ ڈالے خاک آلودہ نقابجنگلوں کی راہ سے آئے صفیر انقلابیوں بگولے میں ہیں تپتے سرخ ذرے بے قرارجس طرح افلاس کے دل میں بغاوت کے شرارکس قدر آزاد ہے یہ روح صحرا یہ بھی دیکھکس طرح ذروں میں ہے طوفان برپا یہ بھی دیکھاٹھ بگولے کی طرح میدان میں گاتا نکلزندگی کی روح ہر ذرے میں دوڑاتا نکل
میں رہنمائے قوم ہوں، یہ ہو چکا ہے طےکھاتا رہا ہوں گالیاں ماضی میں پے بہ پےگزری ہے عمر جیل میں لیکن یہ تا بہ کےمیرا جلوس لے کے مری قوم جب چلے''یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے''''یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں''
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books