aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khariidaar"
نوعمر خریدار اب کہ نہیںاو دیس سے آنے والے بتا
نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سےتو جنس محبت کا خریدار ازل سے
اتنے یوسف تو نہ تھے مصر کے بازار میں بھیجنس اس درجہ ہے وافر کہ خریدار نہیں
جانے کتنے خریدار تھےبڑھتا جاتا تھا یوسف کا مول
لے کے نکلا ہوں گہر ہائے سخنماہ و انجم کا خریدار ہوں میں
کوئے جفا میں قحط خریدار دیکھناہم آ گئے تو گرمئ بازار دیکھنا
قیمتیں کالی دکانوں پہ کھڑی رہتی ہیںہر خریدار کی جیبوں کو کترنے کے لیے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسےآشنا ملتے ہیں اور چاہے ہیں سب یار اسے
جس نے ہم سب کو خریدار بنا رکھا ہےآ کہ اس فتنۂ زرپوش کو عریاں کر دیں
شوق شہرت ہوس گرمیٔ بازار نہیںدل وہ یوسف ہے جسے فکر خریدار نہیں
اور اگر ہے تو پھر آ تیرے پرستار ہیں ہمجنس آزادیٔ انساں کے خریدار ہیں ہم
لوگ کہتے ہیں کہ کوئی بھی خریدار نہ تھاکون وہ لوگ تھے اب یاد نہیں آتا ہے
خارہائے محن و درد کے تجار بھی ہیںاور گلہائے محبت کے خریدار بھی ہیں
ہر شہر میں ہر ویرانے میںکوئی تو خریدار آئے گا
اصنام امارت کا پرستار ہے عالمسرمایۂ غفلت کا خریدار ہے عالم
میں خزاں میں گرفتار ہوںدیکھو خوابیدہ موجوں خریدار روحوں
ہائے اب طاقت گفتار کہاں سے لاؤںنغمۂ غم کا خریدار کہاں سے لاؤں
جانے کیا بات تھیاس خریدار کی بولی میں
ہمیں تو خریدار بن کے ہی جینا پڑے گا
کہنے کو تو بازار میں ہم جنس گراں ہیںعملاً ہمیں کوڑی پہ خریدار اٹھا لیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books