aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khilkhilaa"
وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریموہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خموہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہوہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہوہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تروہ تثلیث کی دختر نیک اختروہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیےمداوائے درد جگر جس کو کہیےجوانی سے طفلی گلے مل رہی تھیہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھیوہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہمتاع جوانی پہ فطرت کا پہرہمری حکمرانی ہے اہل زمیں پریہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پرسفید اور شفاف کپڑے پہن کرمرے پاس آتی تھی اک حور بن کروہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویاکہ انداز تھا اس میں جبریل کا ساوہ اک مرمریں حور خلد بریں کیوہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کیوہ تسکین دل تھی سکون نظر تھینگار شفق تھی جمال نظر تھیوہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتوسلیماں کی وہ اک کنیز سبک روکبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھیکبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخیگھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیںسرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیںعجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہکبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہنقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتینظر مجھ کو آتی محبت کی دیویوہ اس وقت اک پیکر نور ہوتیتخیل کی پرواز سے دور ہوتیہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کودوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتیاب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتیسرہانے مرے ایک دن سر جھکائےوہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائےخیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سینہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سیجھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیںجبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیںوہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سےوہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سےلبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہنظر عارفانہ ادا راہبانہمہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھیمرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھیمجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھیجو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھیذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لیلب لعل افشاں سے اک شے چرا لیوہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیےبہشت جوانی کا تحفہ سمجھیےشراب محبت کا اک جام رنگیںسبو زار فطرت کا اک جام رنگیںمیں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہمیں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالمجوانی کا غصہ بکھرنے کا عالمادھر دل میں اک شور محشر بپا تھامگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھاہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کرکہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کرنہیں جانتی ہے مرا نام تک وہمگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہیہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثرکہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
اک پرندہ کسی اک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیںایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانبپوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسےاک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئیآمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچےگوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہےنازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میںاور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلےکوئلیں کوکتی ہیںجامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہےارغنوں بجتا ہے یکجائی کانیم کے پیڑوں میں جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھرساونی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سواور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساریمیں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوںایک ہی کم ہے، وہی چہرہ نہیںآخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کرکیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ ناملو یہ سپنے میں ہیں، اک کہتی ہےباؤلی سپنا نہیں، شہر سے آئے ہیں ابھیدوسری ٹوکتی ہےبات سے بات نکل چلتی ہےٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہابینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولیاور دلہن پہ ہوا کتنا بکھیرکچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرفاتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی، کہ نہیںجس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟کیوں نہیں بہتی، چنبیلی نے کہااور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟وہ بھی قائم ہے ابھی تک یونہیوعدہ کر کے جو حبیبہؔ نہیں آتی تھی کبھیآنکھیں دھوتا تھا ندی میں جاکراور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا
نرم شبنمی بوسےموتیوں کے دانتوں سےکھلکھلا کے ہنستے ہیںرات خوبصورت ہےنیند کیوں نہیں آتی
ایک عجیب خواہش ہےاس زمیں کے کونے میںصرف مہ جبینوں کیسب کی سب حسینوں کیاپنی ایک بستی ہوزندگی جہاں ہر پل کھلکھلا کے ہنستی ہورنگ و نور کی بارشہر گھڑی برستی ہوسب غزال نینوں میںشوخ سی شرارت ہوان کی جنبش لب سےزندگی عبارت ہوخوشیوں کا جھمیلا ہوپلکوں پہ ستارے ہوںروشنی کا ریلا ہوخوشبوؤں کا میلہ ہواور مہ جبینوں کی اس حسین بستی میںایک صرف میرا ہیچوڑیوں کا ٹھیلہ ہو
وہ منتظر تھیمجھے تھکن سے نڈھال دیکھاتو کھلکھلا کر لپٹ گئی مجھ سے بے تحاشامرے بدن کو وہ رنگ بخشاکہ خوشبوؤں میں نہائیں پگڈنڈیاں سہانیوہ نور مجھ کو عطا کیاجگمگا گئیں جنگلوں کی تنہائیاں پرانیہزار صدیاں گزر چکی ہیںمیں آج خود کو ڈبو چکا ہوں حیات کےخیر و شر میں یکسرمگر وہ اب بھی پکارتی ہے مرے لہو کومرے جنم کی وہ منتظر ہےہزار صدیوں سے منتظر ہے
دو ہی کپمنگاتا ہوںآج بھی میں کافی کےدیکھ کر یہ کیفے میںلوگ رونے لگتے ہیںکوئی ایک وہ ٹیبلبک کبھی نہیں کرتاجس پہ میں نے چابی سے ایک دل بنایا تھااور دو نام لکھے تھےہو گیا پرانا پرآج تک نہیں بدلامیز کا وہ اک گلدانپہلے وصل پر جس میںتم نے پھول رکھے تھےمجھ سے کوئی ویٹر ابٹپ بھی تو نہیں لیتاوہ دوکان مالک جوچٹکلے سناتا تھاکھلکھلا کے ہنستا تھادور اب خموشی سے مجھ کو تکتا رہتا ہےاس صلیب پر میرا جسم لٹکا رہتا ہےمیں تمہارے کپ کو وہمجھ کو تکتا رہتا ہےوقت کٹتا رہتا ہے
زندگی سعدیہؔ کے ساتھ کھلےدم بہ دم یم بہ یم حیات کھلےمحو ہو جائے سب گمان نفیاس کے چہرے پہ جب ثبات کھلےلمس سے اس کے ننھے ہاتھوں کےغنچۂ انکشاف ذات کھلےسیپ ہونٹوں میں موتیوں کی قطارجب کھلے گوہر صفات کھلےمسکرائے تو رو میں آئے حیاتکھلکھلا دے تو کائنات کھلےاس کی شفاف نیند میٹھے خوابگھر میں تاروں بھری سی رات کھلےصبح جب آنکھ میں کرن جاگےدور تک سبزۂ حیات کھلےوہ جواں ہو تو شاعری نکھرےاک غزل سعدیہؔ کے ساتھ کھلے
قریب آ کرنظر ملا کروہ کھلکھلا کر ہنسیاور اپنے شریر پوروں سےمیرے کالر کی سختیاں پائمال کر دیںسفید بالوں کے پیچ و خم میںسیاہیوں کی لکیر کھینچینگاہ سے سب خشونتیںاور جبیں سے سب سلوٹیں مٹا دیںمجھے دریچے سے لے کے نکلی
یہ کتھا مری بیویسن کے کھلکھلا اٹھیاور اپنی دن بیتیخود ہی پھر شروع کر دیآج میری ماسی نےپھر گلاس شیشے کاچکنا چور کر ڈالاصرف یہ نہیں بلکہکپڑے دھونے والی نےسلک کا وہ دوپٹہکل ہی جو خریدا تھابور بور کر ڈالامیں نے بھی لگی لپٹیکچھ بچا نہیں رکھیجس قدر تھیں صلواتیںبے نقط سنا ڈالیںاپنی اپنی دن بیتیدونوں جب بھی کہہ چکتےقہقہے لگاتے تھےیوں ہم اپنی غربت کیخود ہنسی اڑاتے تھےوہ سکوں جو غربت کےان دنوں میں حاصل تھاوہ سکوں نہیں ملتاوہ جو گھر کبھی جس میںدل ہمارا لگتا تھااس میں دل نہیں لگتا
پرانے دور میں رہتا تھا اک کسان ایساجو بات بات پہ سب سے سوال کرتا تھاحسین اور ذہین اپنے دونوں بیٹوں کےخود اس نے نام بھی کیا اور کون رکھے تھےبڑا تھا عمر میں کیا اس سے کون تھا چھوٹاشریر دونوں تھے اور قد تھا دونوں کا اونچایہ واقعہ ہے کہ اک روز اپنی حاجت سےضعیف آیا کوئی ان کے باپ سے ملنےکہا یہ دونوں نے اس سے ابھی گئے ہیں کہیںوہ لوٹ آئیں گے جلدی ہمیں ہے اس کا یقیںاگر ہو کام ضروری تو بیٹھیے باباضعیف سوچ کے کچھ ان کے گھر میں بیٹھ گیاسوال اس نے کیا کیا سے کیا ہے نام تراجواب ہنس کے دیا کیا نے کیا ہے نام مراکہا ضعیف نے میں سن سکا نہ نام تراخدا را پھر سے بتا مجھ کو تیرا نام ہے کیاتو کیا نے زور سے فوراً کہا کہ میں کیا ہوںتمہارا بیٹا ہوں بابا تمہارا بیٹا ہوںضعیف سن کے ہوا مشتعل جواب اس کارخ اپنا کون کی جانب پھر اس نے موڑ لیاکیا سوال یہ اس سے ہے بھائی کون تراکہا یہ کون نے کیا میرا بھائی ہے باباضعیف زور سے بولا کہ کیا ہے نام تراکہا یہ کون نے میں کون ہوں مرے باباکیا سوال یہ پھر اس سے تیرا نام ہے کیامرے سوال کو کیا اب بھی تو نہیں سمجھابتا تو کون ہے یہ سن کے کون پھر بولامیں کون ہوں یہ حقیقت ہے اے مرے باباکہا یہ کیا نے مرا نام کیا ہے اے بابانہیں ہے شک کوئی اس میں ہے بھائی کون مراضعیف سن کے یہ آپے سے ہو گیا باہرکہا کہ شرم ہو تم پر شریر و بد اختریہ کہہ کے تیزی سے باہر نکل گیا گھر سےشریر لڑکے مگر کھلکھلا کے ہنستے رہے
میں کوئی خواب لکھوں کہانی میں بیتی کسی رات کاکہکشاؤں کی نگری سے گزرے ہوئےرات اوڑھے ہوئے اک حسین ساتھ کااس گگن کی کتھا بھی لکھوںجس پہ نینوں کے جھلمل دئیے جگمگا اٹھے تھےجس پہ بادل ہماری طرح کھلکھلا اٹھے تھےجس پہ کہرے کی چادر تلے چاند چپ چاپ تھااور کہیں دور مرلی پہ بجتا کوئی ساز تھاوہ جو خواہش سی بہتی ہوئی کاسنی نہر تھیوہ جو آنکھوں سے کوسوں پرے ان چھوئی سحر تھیہاں وہی ہاں وہی ہاں وہی قہر تھیمجھ کو بانہوں میں اپنے چھپائے ہوئےبرف کی سلوٹوں سے سرکتے ہوئےدھند اوڑھے ہوئےدودھیا روشنی سے پرےچاند کی اوٹ میںتیرے پہلو میں سمٹی ہوئیرات خاموش تھیمیں بھی میرا کے جیسی کسی کرشن کی یوگنی تھی مگرمیں بھی نردوش تھی
کسی کے پاؤں کی آہٹ نہیںچوڑیوں اور برتنوں کی کھنکھناہٹ بھی نہیںسوئی دھاگے ایک دوجے سے بھرے بیٹھے ہوئے ہیںدھول میں لپٹی کتابیںمیز پر بکھری پڑی ہیںاور چولھالکڑیوں کی یاد میں گم سمایک کونے میں پڑا ہےاور اک انجانا سایہگھر کی چوکھٹ پر کھڑا ہےاک حسیں تصویر جو دیوار پر لٹکی ہوئی ہےدیکھ کر مجھ کو ملولچپکے چپکے رو رہی ہےاور کالی رات کا پر ہول سناٹاکھلکھلا کر ہنس رہا ہے
گفتگو نے لی کروٹمسکرا اٹھیں کلیاںکھلکھلا اٹھے احساسنفس کے پرندے کی پھر ذرا بڑھی پروازمیں نے پھر اسے چھیڑااس نے پھر مجھے چھیڑاعین چھیڑ خوانی میںجب ہوا جنوں بیدارایک آنکھ دلبر کیٹپ سے گر پڑی نیچے
کتنی اچھی تھی وہ زمیں مائےجہاں تم میرے ساتھ رہتی تھیبستر پر راتوں کو تم مجھ کوسیف الملوک اورپریوں کی کوئی کہانی سناتی تھیآسمان میں پورا چاند دیکھ کرمجھے تامچینی کی تھالی میںتمہاری روٹی یاد آتی تھیمچل کر میں جب روٹی بنانے کیتم سے ضد کرتی تھیتو ہنس کر ٹالتی مجھ کوتم یہ کہتی تھیںپہلے بڑی تو ہو جاؤنور تڑکے سورج کی کرنوں میںتمہاری مسکراہٹ جگمگاتی تھیمجھے بکریوں کے پیچھے بھیج کرجب اپنے کاموں میںتم مجھ کو بھول جاتی تھیتو وادی کی نرم گھاس پر پھدکتےہوا سے باتیں کرتی تھیتتلیوں کو ہولے سے پکڑ کرہمیشہ چھوڑ دیتی تھیتم نے کہا تھا مائے، کسی کو دکھ نہ پہچاناکہ تم اچھی بچی ہوپریاں چڑیوں کے بھیس میں آ کردانہ چگیں گی میری ہتھیلی سےجب کوئی چڑیا چہچہاتی تھیمیں کھلکھلا کر زور سے ہنستیمگر امی اب مجھ کوزمیں کی طرف دیکھ کرڈر سا لگتا ہےوہ کون تھے مائےجنہوں نے میری بکریوں چراگاہوں سے چھین کر مجھ کواندھیروں کے حوالے کر دیا مائےاور وہاں سے بھیجتے وقت مجھے تم سےملنے بھی نہ دیاوہ انسان تو نہ تھے مائےمگر وہانسانوں جیسے دکھتے تھےمیں تو اچھی بچی تھیتم بے شک پوچھ لیناچڑیوں سے تتلی سےہواؤں سے جھیل کناروںکنول کے پھولوں سےسرسراتے ناگ کب آئےتم پوچھنا اس وادی سے پہاڑوں سےمیری بکریوں سے اور ابا سےمجھے تو اس دھرتی سے پیار تھا کتنامیں تمہاری طرح روٹی بناتیجب بڑی ہوتیڈھک کر آنچل سے سر کوپیار سے کھانا کھلاتیبس اتنا ہی تو خواب تھا میرامگر ان لوگوں نےمجھے چیرا تھا مائےآری سے بجلی کے ننگے تاروں متعفن سانسوں سےتمہیں یاد ہے مائےمجھے دوڑتے بھاگتےجب کبھی چوٹ لگتی تھیمیں دوڑ کر آتی تھیتمہیں اپنی چوٹیں دکھاتی تھیدعا پڑھ کر تم پھونک دیتی تھیمگر اس دن نہ آئیں تممیں کتنا تڑپی تھیدعاؤں کے سب حصار کیوں ٹوٹ گئے مائےتم نے کب بتایا تھاکوئی درد ایسا بھی ہوتا ہےجو موت بن کر ڈور کاٹ دے سانسوں کیاور ناسور بن کرتمہارے دل میں ٹھہر جائے
آسمان کے سب کواڑے کھول دواور اس بجھی بجھی دھرتی کوکائناتی کرنوں کیسیمابی روشنیوں سے نہلا دوکامناؤں کے سنہرے تاروں سے جگمگاتالال جوڑا اسے پہناؤخوشیوں کی صندل سے مانگ بھرواور ماتھے پرامید کیجھلملاتی ٹکلی لگا کربے قرار تمناؤں کی چلبلیشریر انگلیوں سےاسے اتنا گد گداؤکہ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑےہمارا انا و اکیلا پنٹوٹنے والا ہےہم نے زہرہ کی پیشانی چوم لی ہےاور چاند کے گلے میں باہیں ڈال دی ہیںمریخ کے برجوں سےاب جنگی نقاروں کی نہیںپیار اور محبتامن اور مسرت کیسریلی شہنائیاںسنائی دینے لگی ہیںانسان کی براتبڑے دھوم سےنکلنے والی ہے
کیچڑ سے آلودہراستے سےگزرتے ہوئےمیں اکثر پھسل گیا ہوںلوگوں کے لئےتماشا بن گیا ہوںاپنے پر جھنجھلایا ہوںرویا ہوںلیکن جب کوئیاسی راستے سے گزرتے ہوئےپھسل جاتا ہےمیں کھلکھلا کرہنس پڑتا ہوں
میں کوئی خواب لکھوں کہانی میں بیتی کسی رات کاکہکشاؤں کی نگری سے گزرے ہوئےرات اوڑھے ہوئے اک حسیں ساتھ کااس گگن کی کتھا میں لکھوںجس پہ نینوں کے جھلمل دئے جگمگا اٹھے تھےجس پہ بادل ہماری طرح کھلکھلا اٹھے تھےجس پہ کہرے کی چادر تلے چاند چپ چاپ تھااور کہیں دور مرلی پہ بجتا کوئی ساز تھاوہ جو خواہش سی بہتی ہوئی کاسنی نہر تھیوہ جو آنکھوں سے کوسوں پرے ان چھوئی سحر تھیہاں وہی ہاں وہی ہاں وہی قہر تھیمجھ کو بانہوں میں اپنی چھپائے ہوئےبرف کے سلوٹوں سے سرکتے ہوئےدھند اوڑھے ہوئےدودھیا روشنی سے پرےچاند کی اوٹ میںتیرے پہلو میں سمٹی ہوئیرات خاموش تھیمیں بھی میرا کے جیسی کسی کرشن کی یوگنی تھی مگرمیں بھی نردوش تھی
بے دھیان لمحوں کےبے یقین آنگن میںکوئی بیج چاہت کاکیسے پھوٹ آتا ہےاک یقیں کی کونپل سےکیسے سیکڑوں شاخیںتن میں پھول جاتی ہیںکچھ سمجھ نہیں آتادو ہتھیلیاں کیسےایک جیسی سوچوں میںموم سی پگھلتی ہیںآگ سی سلگتی ہیںاور خبر نہیں ہوتیکوئی شوخ سی وحشتآتی جاتی سانسوں میںکھلکھلا کے ہنستی ہےایک درد کی راحتپائلوں کو چھنکاتیایک آگ بھڑکاتیساتھ ساتھ چلتی ہےچاہتوں کے آنگن سےہوش کے کواڑوں تکآگ پھیل جاتی ہےآگ پھیل جاتی ہےتب دھیان آتا ہےایک جیسی سوچوں میںموم سے پگھلتے دوہاتھ راکھ ہوتے ہیںتب خیال آتا ہےسینت سینت رکھتے ہیںراکھ چند لمحوں کیاور سوچا کرتے ہیںشوخ سی جو وحشت تھیجانے وہ محبت تھیراکھ جو بٹوری ہےجانے یہ محبت ہے
کھجوروں کے حسیں سائے زمیں پر لہلہاتے تھےستارے جگمگاتے تھے شگوفے کھلکھلاتے تھےفضائیں منتشر اک نکہت مستانہ رہتی تھییہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books