aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kishor"
راہلؔ کشورؔ گوپیؔکھلیں گے ہم سے ہولی
نہ اس قدر کٹھور پنکہ دوستی خراب ہو
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشادکہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
کہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئیابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہن
جنگ کے اور بھی تو میداں ہیںصرف میدان کشت و خوں ہی نہیں
کہاں سے آیا کدھر گیا ہےیہ کب سے کب تک کا سلسلہ ہے
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایانانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائیخیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
اگر یہ سب کچھ نہیں تو بتلاوہ چاہتیں اب کدھر گئی ہیں
رنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود
تازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاشاور آبادی میں تو زنجيري کشت و نخيل
کہ ان کی سمت کیا ہےکدھر جا رہی ہیں
تخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئی
نہ جانے جاؤں گا کدھرکوئی نہیں جو ٹوک کر
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںجو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
سر پہ رکھ سکتا ہوں تاج کشور نورانیاںمحفل خورشید کو نیچا دکھا سکتا ہوں میں
آج کی شب تو اندھی شب تھی آج کدھر سے نکلا چاند
اور اب سنگ و گل و خشت کے ملبے کے تلےاسی دیوار کا پندار ہے ریزہ ریزہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books