aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "koThaa"
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
کتنوں کو محلوں اندر ہے عیش کا نظارایا سائبان ستھرا یا بانس کا اساراکرتا ہے سیر کوئی کوٹھے کا لے سہارامفلس بھی کر رہا ہے پولے تلے گزاراکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
میں نے پوچھامنے! تم کیوں اپنی امی جان کو باجی کہتے ہومنا بولاباجی بھی تو نانی جی کو آپا آپا کہتی ہیںاس بازار کا جو کوٹھا ہے اس کی ریت نرالی ہےیہاں تو ماں کو ماں کہہ دینا سب سے گندی گالی ہے
ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں تم ہم کو کہانی کہنے دواس نار کا نام مقام ہے کیا اس بات پہ پردا رہنے دوہم سے بھی تو سودا ممکن ہے تم سے بھی جفا ہو سکتی ہےیہ اپنا بیاں ہو سکتا ہے یہ اپنی کتھا ہو ہو سکتی ہےوہ نار بھی آخر پچھتائی کس کام کا ایسا پچھتانا؟اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
ہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرقہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرقہم ہیں نام وطن کے دیوانےوہ تھے اہل وطن کے پروانےجس نے یوسف کی داستاں ہے سنیجانتا ہوگا روئداد اس کیمصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطرکر دیا وقف ان پہ بیت الماللب تک آنے دیا نہ حرف سوالکھتیاں اور کوٹھے کھول دیےمفت سارے ذخیرے تول دیےقافلے خالی ہاتھ آتے تھےاور بھرپور یاں سے جاتے تھےیوں گئے قحط کے وہ سال گزرجیسے بچوں کی بھوک وقت سحر
ہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہےہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ کس سے ان کے نکاح ہوں گےیہ کس کے بستر کی زینتیں ہیںوہ کون ہوگا جو اپنے ہونٹوں کوان کے جسموں کی آب دے گابھلے محبت کسی کے کہنے پہآج تک ہو سکی نہ ہوگیمگر یہ ہم طے کریں گےان کو کسے بسانا ہے اپنے دل میںہم ان کے مالک ہیںجب بھی چاہیںانہیں لحافوں میں کھینچ لائیںاور ان کی روحوں میں دانت گاڑیںیہ ماں بنیں گیتو ہم بتائیں گےان کے جسموں نے کتنے بچوں کو ڈھالنا ہےہمارے بچوں کے پیٹ بھرنےاگر یہ کوٹھے پہ جا کے اپنا بدن بھی بیچیںتو ہم بتائیں گےکس کو کتنے میں کتنا بیچیںہمیں کو حق ہےکہ ان کے گاہک جو خود ہمیں ہیں سےساری قیمت وصول کر لیںہمیں کو حق ہے کہ ان کی آنکھیںحسین چہرے شفاف پاؤںسفید رانیں دراز زلفیںاور آتشیں لب دکھا دکھا کرکریم صابن سفید کپڑے اور آم بیچیںدکاں چلائیں نفع کمائیںہمیں تو ہیں جو یہ طے کریں گےیہ کس صحیفے کی کون سی آیتیں پڑھیں گییہ کون ہوتی ہیںاپنی مرضی کا رنگ پہنیںاسکول جائیں ہمیں پڑھائیںہمیں بتائیںکہ ان کا رب بھی وہی ہے جس نے ہمیں بنایابرابری کے سبق سکھائیںیہ لونڈیاں ہیں یہ جوتیاں ہیںیہ کون ہوتی ہیں اپنی مرضی سے جینے والیبتانے والے ہمیں یہی تو بتا گئے ہیںجو حکمرانوں کی بات ٹالیںجو اپنے بھائی سے حصہ مانگیںجو شوہروں کو خدا نہ سمجھیںجو قدرے مشکل سوال پوچھیںجو اپنی محنت کا بدلہ مانگیںجو آجروں سے زباں لڑائیںجو اپنے جسموں پہ حق جتائیںوہ بے حیا ہیں
پہلے ناؤں گنیش کا، لیجئے سیس نوائےجا سے کارج سدھ ہوں، سدا مہورت لائےبول بچن آنند کے، پریم، پیت اور چاہسن لو یارو، دھیان دھر، مہادیو کا بیاہجوگی جنگم سے سنا، وہ بھی کیا بیاناور کتھا میں جو سنا، اس کا بھی پرمانسننے والے بھی رہیں ہنسی خوشی دن ریناور پڑھیں جو یاد کر، ان کو بھی سکھ چیناور جس نے اس بیاہ کی، مہما کہی بنائےاس کے بھی ہر حال میں، شیو جی رہیں سہائےخوشی رہے دن رات وہ، کبھی نہ ہو دلگیرمہما اس کی بھی رہے جس کا نام نظیرؔ
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیدن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیچلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیتن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سیتھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسیہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کیکلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سیہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکرجو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھرپیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھرجھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کرسناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کااور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگاچھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگاہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑافراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیجب ایسی سردی ہو اے دل تب روز مزے کی گھاتیں ہوںکچھ نرم بچھونے مخمل کے کچھ عیش کی لمبی راتیں ہوںمحبوب گلے سے لپٹا ہو اور کہنی، چٹکی، لاتیں ہوںکچھ بوسے ملتے جاتے ہوں کچھ میٹھی میٹھی باتیں ہوںدل عیش وطرب میں پلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہو فرش بچھا غالیچوں کا اور پردے چھوٹے ہوں آ کراک گرم انگیٹھی جلتی ہو اور شمع ہو روشن اور تس پروہ دلبر، شوخ، پری، چنچل، ہے دھوم مچی جس کی گھر گھرریشم کی نرم نہالی پر سو ناز و ادا سے ہنس ہنس کرپہلو کے بیچ مچلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیترکیب بنی ہو مجلس کی اور کافر ناچنے والے ہوںمنہ ان کے چاند کے ٹکڑے ہوں تن ان کے روئی کے گالے ہوںپوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال دو شالے ہوںکچھ ناچ اور رنگ کی دھومیں ہوں عیش میں ہم متوالے ہوںپیالے پر پیالہ چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہووہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہودل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہوسب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہوجب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاریآنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگارینام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماریآگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساریپان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاری
پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیرؔپہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میرؔچودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیرروئے بھگت کبیراک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بدھی وانمیٹرو میں جو چائے پلائے بس وہ باپ سمانسب سے اچھا شاعر وہ ہے جس کا یار مدیرروئے بھگت کبیرسڑکوں پر بھوکے پھرتے ہیں شاعر موسیقارایکٹرسوں کے باپ لیے پھرتے ہیں موٹر کارفلم نگر تک آ پہنچے ہیں سید پیر فقیرروئے بھگت کبیرلال دین کی کوٹھی دیکھی رنگ بھی جس کا لالشہر میں رہ کر خوب اڑائے دہقانوں کا مالاور کہے اجداد نے بخشی مجھ کو یہ جاگیرروئے بھگت کبیرجس کو دیکھو لیڈر ہے اور سے ملو وکیلکسی طرح بھرتا ہی نہیں ہے پیٹ ہے ان کا جھیلمجبوراً سننا پڑتی ہے ان سب کی تقدیرروئے بھگت کبیرمحفل سے جو اٹھ کر جائے کہلائے وہ بوراپنی مسجد کی تعریفیں باقی جوتے چوراپنا جھنگ بھلا ہے پیارے جہاں ہماری ہیرروئے بھگت کبیر
کہیں ہے اجتماع تبلیغیوں کا ایک کوٹھی میںتو ہے شیعوں کی مجلس اور رقائم دوسرے گھر میں
سڑک کنارے اسٹیشنوں پرپرانے کوٹھے کی بالکونی میںہوٹلوں کی بہشت تمثال لابیوں میںبڑے بزرگوں کے مقبروںاور ہسپتالوں کے گیٹ کے پاسشب گئے جو کھڑے ہوئے ہیںیہ لوگ کیا ہیں
جانتے ہو میں ہوں کیا میں ہوں ویشیاپتا ہے میں نے ہے کیا کیا کیامیں ناچتی ہوں کوٹھوں پر خوش ہوتی ہوں بس نوٹوں پرہر رات ہر رات میں اپنا جسم بیچتی ہوںاتنا درد میں بس پیسوں کے لئے تو سہتی ہوںمیں لوگوں کی راتیں رنگین کرتی ہوںہر رات یہ اپرادھ سنگین کرتی ہوںمیرا نام عام میں لینے نہیںنوٹ کے علاوہ میری زندگی کا کوئی نایک نہیںزندگی میں میرا نہ ہے استیو نہ کوئی ایمانسماج کے لئے تو میں ہوں ہی نہیں انساناگر ہے تو بس ہے ایک پہچانہوں ایک کوٹھے والی کرتی ہوں اپنا ہی جسم نیلامہر رات میری ایک نئے گراہک کے ساتھ ہوتی ہےہر رات میری آتما اپنی پہچان کھوتی ہےمیری ماں کا بھی تو یہی کام تھا نہیں جانتی میرے پتا کا کیا نام تھاجان کر بھی کیا کر لیتی وہ بھی ایک ویشیا تھیکام ان کا لوگوں کو سکھ دینا تھا چنتا نہیںوراثت میں ان سے بس یہی ایک کام ملاجس کے کارن ہی شاید مجھے جیون میں کچھ نہ ملانہیں نہیں گلتی ان کی نہیں انہوں نے تو پڑھانا چاہا تھاپر کیا کریں مالکن کو یہ بالکل ناگوار تھانہ جائے دیا مجھے اس نرک سے باہر نہ بننے دی کوئی پہچانان کے دباؤ میں ہی تو مجھے کھونا پڑا میرا ایماناب لوگوں کو بھی کیا دوش دوں جو مجھ پر تھوک کر جاتے ہیںنہیں جانتے وہ میرا سچ بس کچھ بھی کہہ جاتے ہیںدکھ تو خوب ہوتا ہے پر اب عادت سی ہو گئی ہےسوچتی ہوں کبھی کیا میری یہ عادت واقعی سہی ہےکیا مجھے جینے کا کوئی موکا ملے گاکیا میرے جیون میں بھی پیار کا پھول کھلے گاہم سفر نہیں بس ایک ہم درد ہی چاہیےپہچان نہیں تھوڑا سا بس پیار ہی چاہیےایمان نہیں تھوڑی سی بس عزت ہی چاہیےارمان ہے بس ایک کوئی ویشیا نہیں نہیں ویشنوی کر بلائےپیسے دیکھ کر نہیں پیار دے کر گلے سے لگائےکسی کے گھر ٹوٹنے کا نہیں جڑنے کا کارن بننا چاہتی ہوںبس ایک بار کسی کے دکھ کا نیوارن بننا چاہتی ہوںکسی کی بیوی نہ سہی بہن بننا چاہتی ہوںہر بار کی طرح ویشیا نہیں ایک انسان بننا چاہتی ہوں
اس ماں کو سنگسار کرنا چاہتی ہوںجس نے بیٹی کے خواب پھاڑ کربیٹے کی کتابوں پر کور چڑھائےاور بیٹی کو بدبو دار شوہر دیتے ہوئےبیٹے سے آتی کوٹھے کی خوشبونظر انداز کر دی
آ مرے اندر آپوتر مہران کے پانیٹھنڈے میٹھے مٹیالے پانیمٹیالے جیون رنگ جلدھو دے سارا کرودھ کپٹشہروں کی دشاؤں کا سب چھلیوں سینچ مجھے کر دے میری مٹی جل تھلترے تل کی کالی چکنی مٹی سےماتھے پر تلک لگاؤںہاتھ جوڑ ڈنڈوت کروںاو من کے بھید سے گہرےہولے ہولے سانس کھینچتےاوم سمان امراو مہان ساگرمیں اتری تیرے ٹھنڈے جل میں کمر کمرتیرے ٹھنڈے میٹھے مہربان پانی سے منہ دھو لوںاور دھو لوں آنسوکھارے آنسوتیرے میٹھے پانی سے دھو لوںاو مہان مٹیالے ساگر آسن مری کتھامیں بڑی ابھاگن بھاگ مرابے درد ہاتھ میں رہا سداٹوٹا مرا مٹی سے ناطہکیسے ٹوٹااک آندھی بڑی بھیانک لال چڑیلمجھے لے اڑیاٹھا کر پٹکا اس نے کہاں سے کہاں!تیرے چرنوں میں سیس جھکاتی ایک اکیلی جانمرے ساتھ مرا کوئی میت نہیںکوئی رنگ روپ' کوئی پریت نہیںمری ان گڑھ پھیکی مرجھاتی بولی میں کوئی سنگیت نہیںمری پیڑھیوں کے بیتے یگ میرے ساتھ نہیںبس اک نردئی دھرم ہےجس کا بھرم نہیںوہ دھرم جو کہتا ہے مٹی مری بیرن ہےجو مجھے سکھاتا ہے ساگر مرا دشمن ہےہاں' دور کہیںآکاش کی اونچائی سے پرےرہتا ہے خدااتنا روکھامٹی سے جوڑ نہیں جس کاسب ناطے پریت اور بیر کے اس کی کارن میں کیسے جوڑوںمیں مٹی مرا جنم مٹیمیں مٹی کو کیسے چھوڑوںاو مٹیالے بلوان مہا ساگرمیں اکھڑی دھرتی سےبھگوان مرا رس سوکھ گیاپھر بھی سنتی ہوں اپنے لہو میں بیتے سمے کی نرم دھمکوہ سمے جو میرے جنم سے پہلے بیت گیامرے کانوں میںاک شور ہے جھرجھر بہتے ندی نالوں کااور کوئی مہک بڑی بے کل ہےجو گونج بنی مری چھاتی سے ٹکراتی ہےاو مہان ساگرجیونःرس دےاپنے تل میں جل پودا بن کر جڑ لینے دےسدا جیےاو مہان ساگر سندھوتو سدا جیےاور جئیں ترے پانی میں پھسلتی مچھلیاںشانت سکھی یوں ہیترے پانی میں ناؤ کھیتےترے بالک سدا جئیںاو پالن ہار ہمارےدھرتی کے رکھوالےان داتاتری دھرتینرم رتیلی مہربان سندھ کی دھرتیسدا جیے
ہم آزادی کے دیوانے یہ دنیا فرزانوں کیاس پاپی سنسار میں بابا کون سنے دیوانوں کیمسجد مندر سب کے اندر راج غلامی کرتی ہےدولت لے کر نام خدا کا گھر گھر دھرنا دھرتی ہےکوٹھی بنگلے گورے سانپوں کی اک ایسی بستی ہےجو بھارت کے بھولے بھالے انسانوں کو ڈستی ہےان سے بچ کر چلنا بابا یہ قاتل زہریلے ہیںصورت کے موہن ہیں بھیتر سے سب نیلے پیلے ہیںشیدا ہوں آزادی کا آزاد نگر میں ڈیرا ہےکیا بتلاؤں میرے بھیا کون جہاں میں میرا ہےوہ میرا جو آزادی کی زلفوں کا دیوانہ ہےوہ میرا جو شمع وطن کا شیدائی پروانہ ہےوہ میرا جو موت کے آگے بے جگری سے تنتا ہےوہ میرا جو آپ نہ ہو کچھ جس کی سب کچھ جنتا ہےوہ میرا جو ہنستے ہنستے پھانسی پر چڑھ جاتا ہےوہ میرا جو موت سے بھی دو چار قدم بڑھ جاتا ہےآزادی کے طالب سن لے موت ہی میری منزل ہےتو دنیا کا بن سکتا ہے میرا بننا مشکل ہے
میں نے اک دن خواب میں دیکھا کہ اک مجھ سا فقیرگردش پیمانۂ امروز و فردا کا اسیرگرچہ بالکل بے گنہ تھا ہو گیا لیکن وزیریعنی اک جھونکا جو آیا بجھ گئی شمع ضمیرمفت میں کوٹھی ملی موٹر ملی پی اے ملاجب گیا پکنک پہ باہر ٹور کا ٹی اے ملا
کبھی دل سوچتا ہے ان طوائف زادیوں کی زندگی لکھوںکہ جن کے روز و شب کوٹھے کی چھوٹی کوٹھری میں ملگجی سی روشنی میں زندگی کی تلخیاں چن کر گزرتی ہیںکہ جن کے پھول سے کومل بدن نے تھوک سے لتھڑے بدن کا فاصلہ سا طے کیا ہو چند لمحوں میںکہ جن کے تن سے لاکھوں وحشیوں نے رات و دن کے ہر پہر میں جانفشانی سے ہوس کی فصل کاٹی ہو
ہمیں ایک دن ختم کرنا پڑے گاہمارے دلوں میں جو کچھ فاصلہ ہےہمیں دھوپ میں خوب چلنا پڑے گامحبت کا بس ایک ہی راستہ ہےہم انسان ہیں اور انساں رہیں گےجو حیوان ہیں ایک دن تنگ آ کرچلے جائیں گے اپنے جنگل میں واپسجہاں وہ رہیں گے وہیں لڑ مریں گےجو باقی بچیں گے وہ شہروں میں آ کرگھروں کو جلانے کی کوشش کریں گےجوانوں کو کھانے کی کوشش کریں گےوہ کالج سے جاتی ہوئی لڑکیوں کواندھیرے میں لانے کی کوشش کریں گےہم انسان ہیں اور انساں کی عزتہمیشہ بچانے کی کوشش کریں گےہمیں کوئی اشلوک آتا نہیں ہےسوامی کا ترشول بھاتا نہیں ہےہماری کویتا، ہماری کتھا ہےہماری کتابیں ہمارا جتھا ہےاگر کوئی دیمک ہمارا اثاثہمٹانے کی آشا لیے آ رہی ہےوہ یہ جان لے کہ ہمارے دلوں میںمحبت کی لو جگمگانے لگی ہےہمیں اپنے سینوں کی سیڑھی بنا کےکسی رات امبر پہ جانا پڑے گادیے کی جگہ پھول رکھنے پڑیں گےپرندوں کے ہم راہ گانا پڑے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books